پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان میں سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، ریگولٹری ٹیکس کے خلاف شاہراہ قراقرم پر احتجاج چوتھے روز میں داخل ہو گیا ہے۔
تاجروں کا موقف ہے کہ گلگت بلتستان کی حیثیت پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر والی یعنی یہ ایک متنازع خطے کی ہے اور ریاست پاکستان صرف اس کا انتظام سنبھال سکتی ہے مگر ٹیکس نہیں لگا سکتی ہے۔
ان کے مطابق جو ٹیکس عائد کیے گئے ہیں وہ ناقابل قبول ہیں۔ 24 گھنٹے دھرنے کی وجہ سے سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔ ہنزہ میں اس وقت ہوٹل خالی ہو چکے ہیں۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ تاجروں کا معاملہ براہ راست وفاقی حکومت سے ہے۔ اس پر گللگت بلتستان کی حکومت وفاق سے رابطے میں ہے اور امید ہے کہ جلد ہی اس پر مثبت پیش رفت ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹھیک ہے کہ ٹیکس کے نفاذ سے تاجر متاثر ہو رہے ہیں۔ مگر اس وقت سیاحت کا سیزن ہے اور شاہراہ قراقرم بند ہونے سے سیاحوں کو مشکلات کے علاوہ مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس سے لاکھوں لوگوں کو نقصان ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق اس موقع پر ایسا احتجاج کسی بھی طورپر مناسب نہیں ہے۔
تاجر کیوں احتجاج کررہے ہیں؟
گلگت بلتستان چمبر آف کامرس کے صدر محمد اسماعیل کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں تقریبا 25 ہزار لوگوں کا روزگار بارڈر کی تجارت سے جڑا ہوا ہے۔ ریاست پاکستان اس سے پہلے ہی کسٹم ڈیوٹی لے رہی ہے۔
مگر تقریباً ہر سال ہی کوشش کی جاتی ہے کہ خنجراب پاس کے بارڈر سے ہونے والی تجارت پر مختلف قسم کے ٹیکس جس میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ریگولڑی ٹیکس نافذ کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں بارڈر کی تجارت اور سیاحت کے علاوہ دوسرا کوئی روزگار نہیں ہے۔ جب اتنے زیادہ ٹیکس لگائے جائیں گے تو مقامی سطح پر مقامی تاجر نہ صرف متاثر ہوں گے بلکہ مقامی سطح پر اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا جو کہ گلگت بلتستان کے عوام کے لیے ایک بڑا بوجھ ہوگا۔
محمد اسماعیل کا کہنا تھا کہ گذشتہ کچھ عرصے سے ہر سال ہی کوشش کی جاتی ہے کہ خنجراب بارڈر سے ہونے والی تجارت پر سست بارڈر پر ٹیکس نافذ کیا جائے جس پر گذشتہ سال اور اس سے بھی پہلے احتجاج ہوا تھا، جس کے بعد حکومت پاکستان ریونیو ڈپارٹمنٹ نے نوٹیفکیشن کے ذریعے سے سیلز ٹیکس کے لیے گلگت بلتستان سے باہر صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے تھاکوٹ میں چیک پوسٹ قائم کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا اب بھی یہ ہی مطالبہ ہے کہ آپ سست بارڈر اور گلگت بلتستان میں کوئی بھی ٹیکس ماسوائے کسٹم ٹیکس کے وصول نہ کیا جائے اور اس سب کو گلگت بلتستان سے باہر چیک پوسٹ اور اپنے دفاتر قائم کریں۔‘
محمد اسماعیل کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے اپنے گذشتہ سال کے نوٹیکفیشن پر عمل نہ کیا تو یہ احتجاج جاری رہے گا۔
تاجروں کے مطالبات کیا ہیں؟
تاجروں نے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین کی حکومتوں کے درمیان ایک طویل عرصے سے معاہدہ موجود ہے، جس کے تحت گلگت بلتستان کے مستقل رہائشیوں کو سرحدی پاس سسٹم کے ذریعے اشیا کے تبادلے (بارٹر ٹریڈ) کی اجازت ہے۔
اس معاہدے کے تحت، گلگت بلتستان کے ڈومیسائل ہولڈرز کو روایتی بارٹر طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے پاکستان، چین سرحد کے پار آزادانہ تجارت کا حق حاصل ہے۔
گلگت بلتستان، ایک متنازع علاقہ اور جموں و کشمیر کے بڑے خطے کا حصہ ہونے کے ناتے، ایک منفرد قانونی اور آئینی حیثیت رکھتا ہے۔ اس حیثیت کے تحت، گلگت بلتستان کے رہائشی وفاقی ٹیکسوں، بشمول سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، اور دیگر تمام وفاقی محصولات سے مستثنیٰ ہیں۔ کسٹمز ڈیوٹی کو اس اسے استثنیٰ ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی ٹیکس نافذ نہ کیا جائے۔
قانونی استثنا کے باوجود، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور کسٹمز کلیکٹوریٹ گلگت بلتستان کے تاجروں سے غیر قانونی طور پر اور زبردستی سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، اور دیگر ٹیکس وصول کر رہے ہیں۔
یہ عمل علاقے کی قانونی حیثیت اور اس کے عوام کے حقوق کی براہ راست خلاف ورزی ہے، اور پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلوں سے متصادم ہے۔
گلگت بلتستان کے تاجر پاکستانی عدالتوں، بشمول پاکستان کی سپریم کورٹ اور بین الاقوامی فورمز جیسے کہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اور اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں تاکہ ان خلاف ورزیوں کے خلاف انصاف اور ریلیف حاصل کیا جا سکے۔
گلگت بلتستان کی بارٹر ٹریڈ کمیونٹی کو سنگین عملی مشکلات کا سامنا ہے، جن میں شامل ہیں: چھوٹے ترسیلات کے لیے رسمی انوائسز یا پیکنگ لسٹس کا فقدان۔
چین کے شہر کاشغر سے متعدد چھوٹے تاجروں کی طرف سے اشیا کی اجتماعی خریداری۔ غیر معیاری دستاویزات کی وجہ سے ہراسانی یا جرمانے، حالانکہ دونوں ممالک کے ذریعے تسلیم شدہ بارٹر سسٹم کی غیر رسمی نوعیت ہے۔
خصوصی تجارت سہولیاتی پیکج کا مطالبہ علاقے کی منفرد مشکلات اور خصوصی حیثیت کے پیش نظر، گلگت بلتستان کے تاجر درج ذیل مطالبات پیش کرتے ہیں: تمام غیر قانونی ٹیکس وصولی سوائے قانونی کسٹمز ڈیوٹی کے کا فوری خاتمہ۔
گلگت بلتستان کے چھوٹے تاجروں کے لیے خصوصی سہولیاتی پیکج۔ پاکستان اور چین کے درمیان بارٹر ٹریڈ معاہدے کا مکمل نفاذ۔ قومی اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت تاجروں کے حقوق کا تحفظ۔ چھوٹے ترسیلات اور مشترکہ خریداریوں کے لیے الگ میکانزم کا قیام۔