اسرائیلی آباد کاروں نے اتوار سے
مقبوضہ مغربی کنارے میں دو فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں میں محصور کر رکھا ہے۔
ان خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کی ضروری اشیا ختم ہو رہی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی
تنظیمیں حکام سے مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز اسرائیلی
سکیورٹی فورسز نابلس کے قریب قصرہ گاؤں میں قائم یہودی آباد کاروں کی چوکی سے واپس
ہٹ گئی ہیں۔ یہ پیش رفت انتہا پسند آباد کاروں کے ایک ہجوم کے ساتھ جھڑپوں کے بعد
سامنے آئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اب بھی تقریباً ایک درجن آباد کار وہاں موجود ہیں۔
فلسطینی مکان مالکان کی جانب سے
اسرائیلی فوج کو ابتدائی اطلاع دینے کے بعد موقع پر پہنچنے والے پہلے اسرائیلی
فوجیوں کی ویڈیو سامنے آئی، جس میں انھیں آباد کاروں کے ساتھ دعا کرتے ہوئے دیکھا
جا سکتا ہے۔
ابو ریدی اور حسن کے خاندان سوشل
میڈیا پر مدد کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی پانی اور بجلی کی
فراہمی منقطع کر دی گئی ہے جبکہ خوراک کے ذخائر بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے
آئی ہے جب اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے منگل کو نیو یارک میں سلامتی
کونسل کو بتایا کہ ’مغربی کنارے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔‘
بین الاقوامی قانون کے تحت تمام
اسرائیلی آبادیاں غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں۔
فلسطینی سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں
دکھایا گیا ہے کہ آباد کاروں نے اتوار کی شام ابو ریدی خاندان کے گھر کے باہر ایک
دیوار گرا دی اور اسی کے پتھروں سے سڑک بند کر دی۔
اس کے نتیجے میں سات افراد، جن میں
دو کم عمر لڑکیاں بھی شامل تھیں، اپنے گھروں سے باہر نہ نکل سکے جبکہ دوسرے
فلسطینی بھی ان تک نہیں پہنچ سکے۔ یہ خاندان مغربی کنارے کے اُس حصے میں رہتا ہے
جسے ایریا بی کہا جاتا ہے، جہاں انتظامی اختیار فلسطینیوں کے پاس جبکہ سکیورٹی
کنٹرول اسرائیل کے پاس ہے۔
فیس بک پر ابو ریدی نے لکھا کہ
صورتحال انتہائی سنگین ہے، ’خصوصاً اس لیے کہ ہم مکمل طور پر محصور ہو چکے ہیں۔‘
انھوں نے لکھا: ’ہم اپنے ہی گھر اور
اپنی ہی زمین پر رہ رہے ہیں، اور ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہمیں تحفظ اور وقار کے
ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔‘
پیر کے روز اسرائیلی آباد کاروں نے بائیں بازو سے وابستہ اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے صحافیوں کو فلسطینی گھروں تک پہنچنے سے روک دیا۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ جب ان کی گاڑی دو گھنٹے تک روکی گئی تو موقع پر موجود اسرائیلی فوجیوں نے اُس وقت ان کی مدد سے انکار کر دیا تھا۔
اگلے روز اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم یش دین نے اسرائیلی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ سے اپیل کی کہ فوج محصور رہائشیوں کا تحفظ کرے، آباد کاروں کی چوکی خالی کرائے اور انھیں جوابدہ ٹھہرائے۔
منگل کی رات دیر گئے ایک فلسطینی ایمبولینس کو بالآخر خاندانوں تک پہنچنے کی اجازت دی گئی۔ ایمبولینس خوراک لے کر پہنچی اور ایک بچے کو طبی علاج کے لیے وہاں سے منتقل کیا گیا۔
تقریباً اسی وقت اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے ایک بیان جاری کیا جس میں نئی چوکی کے قیام کی مذمت کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی گھروں میں داخل ہونا اور ان پر قبضہ کرنا ’غیر قانونی، قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول عمل‘ ہے۔
بدھ کی صبح جب مرکزی کمان کے سربراہ میجر جنرل اوی بلوتھ اور دیگر اعلیٰ افسران موقع پر پہنچے تو بتایا گیا کہ انھوں نے رہائشیوں سے ملاقات کی اور اپنی ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا۔
اس کے بعد بی بی سی کو فراہم کی گئی فلسطینی سکیورٹی کیمروں کی ویڈیو میں اسرائیلی فوج، بارڈر پولیس اور آباد کاروں کے ایک بڑے ہجوم کے درمیان جھڑپیں دکھائی گئیں۔ سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس اور سٹن گرینیڈ استعمال کیے۔
دیگر ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے وہ سائبان ہٹا دیا جس کے نیچے آباد کار پناہ لیے ہوئے تھے، جبکہ ان کا دیگر سامان وہیں چھوڑ دیا گیا۔
آئی ڈی ایف نے بیان میں کہا: ’بارڈر پولیس فورسز نے خیمہ ہٹا دیا ہے اور وہاں موجود شہریوں کو نکالنے کی کارروائی جاری ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’چند روز قبل مقام پر موجود سکیورٹی اہلکاروں کی دستاویزی تصاویر سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘
قصرہ گاؤں کے میئر عبدالعظیم وادی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی رہائشیوں نے ’قصرہ کو نشانہ بنانے کے ایک واضح اور مسلسل رجحان‘ کا مشاہدہ کیا ہے۔ گذشتہ ماہ ایک نئی تعمیر شدہ مسجد کو آگ لگا دی گئی تھی اور اس کے قریب عبرانی زبان میں نعرے بھی تحریر کیے گئے تھے۔
آباد کاروں کا یہ حملہ ان متعدد واقعات میں سے ایک تھا جو فلسطینی گاؤں تل میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد سامنے آئے۔ اسرائیلی آباد کاروں کے تل پر حملے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی فوجی شامل تھے۔ ان فوجیوں میں سے ایک قریبی اسرائیلی آبادی کا سکیورٹی رابطہ کار تھا۔
جولائی میں آباد کاروں نے قصرہ کے قریب واقع گاؤں جالود میں ایک فلسطینی گھر کا دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک محاصرہ کیے رکھا۔ بعد ازاں مکان مالکان وہاں سے چلے گئے اور آباد کاروں نے اس جائیداد پر قبضہ کر لیا، جہاں وہ اب تک موجود ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے نائب خصوصی رابطہ کار رامز الاکباروف نے منگل کو سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’آباد کاروں کا تشدد غیر معمولی سطح تک پہنچ چکا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ خصوصاً صوبۂ نابلس حالیہ عرصے میں تشدد سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز یا آباد کاروں کے ہاتھوں 76 فلسطینی، جن میں 18 بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی عرصے میں فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں اور مغربی کنارے میں مبینہ طور پر ایک فلسطینی کی جانب سے گاڑی چڑھانے کے واقعے میں تین اسرائیلی ہلاک ہوئے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق جنوری 2023 سے اب تک مغربی کنارے کی 127 فلسطینی آبادیوں کو مکمل یا جزوی بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں سے 47 مکمل طور پر خالی ہو چکی ہیں، جس سے 6390 سے زائد فلسطینی متاثر ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے ریکارڈ کیا ہے کہ 2026 میں آباد کاروں کے تشدد، مکانات کی مسماری اور بے دخلی کے باعث تقریباً 3800 فلسطینی بے گھر ہوئے، جن میں تقریباً نصف بچے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے اقوامِ متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینون نے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ آبادیاں امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ آبادیاں برقرار رہیں گی اور مزید پھیلیں گی کیونکہ ان کے بقول اسرائیل کو اس زمین پر مذہبی، تاریخی اور قانونی حقوق حاصل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو ’ایک سادہ حقیقت سمجھنی چاہیے: ہم کہیں نہیں جا رہے۔‘