شامی باغی ملک کے اہم شہر حمص میں داخل ہو گئے ہیں اور اس وقت شدید لڑائی جاری ہے۔ صدر بشار الاسد نے دمشق چھوڑنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
یہ باغی اس وقت دمشق کے شمال اور جنوب کی طرف سے دارالحکومت کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حمص شہر میں داخل ہو چکی ہیں۔
دوسری طرف شام کے صدر بشاالاسد کے دفتر نے دارالخلافہ سے فرار ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ ان کے دفتر سے جاری ایک بیان میں صدر بشارالاسد کے فرار کی خبروں کو افوا اور جھوٹی خبر ہے کیونکہ صدر بشارالاسد دمشق میں موجود اپنے کام میں مگن میں ہیں۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’شام میں اس وقت بری صورتحال ہے مگر وہ ہمارے دوست نہیں ہیں۔‘
باغی اس وقت کہاں کہاں قابض ہیں؟
جنوبی شام میں باغی فورسز نے ملک کے اہم علاقے درعا کے بیشتر علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سنہ 2011 میں صدر بشار الاسد کے خلاف احتجاجی تحریک نے جنم لیا تھا۔
شام کی جنگ پر نظر رکھنے والے ادارے سیرین آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس کے مطابق ’مقامی گروہ‘ سرکاری فوج کے ساتھ شدید لڑائیوں کے بعد علاقے میں متعدد عسکری مقامات کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق باغیوں سے قریب ذرائع نے انھیں بتایا کہ جنگجوؤں اور شامی فوج کے درمیان ایک معاہدے کے نتیجے میں فوجی اہلکاروں کو علاقے سے نکلنے کا محفوظ راستہ دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ شام کا دارالحکومت اس علاقے سے صرف 100 کلومیٹر دور ہے۔
شامی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی علاقوں میں حمص شہر کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کے اطراف میں فضائی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
جنوبی شام میں باغی فورسز نے ملک کے اہم علاقے درعا کے بیشتر علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سنہ 2011 میں صدر بشار الاسد کے خلاف احتجاجی تحریک نے جنم لیا تھا۔
شام کی جنگ پر نظر رکھنے والے ادارے سیرین آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس کے مطابق ’مقامی گروہ‘ سرکاری فوج کے ساتھ شدید لڑائیوں کے بعد علاقے میں متعدد عسکری مقامات کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق باغیوں سے قریب ذرائع نے انھیں بتایا کہ جنگجوؤں اور شامی فوج کے درمیان ایک معاہدے کے نتیجے میں فوجی اہلکاروں کو علاقے سے نکلنے کا محفوظ راستہ دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ شام کا دارالحکومت اس علاقے سے صرف 100 کلومیٹر دور ہے۔
شامی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی علاقوں میں حمص شہر کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کے اطراف میں فضائی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
سنہ 2017 میں انھوں اس تںظیم کا نام تبدیل کر کے ہیئت تحریر شام رکھ دیا۔