آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

چمن میں پاک افغان سرحد پر آمدورفت کے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف دس ماہ سے جاری دھرنا ختم

افغانستان سے متصل پاکستان کے شہر چمن میں افغانستان کی سرحد پر آمدورفت کے مسئلے پر تقریباً دس ماہ سے جاری دھرنا منتظمین کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے اعلان کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • بنوں میں امن مارچ اور دھرنے کے قائدین نے مذاکرات کے پہلے دور میں انتظامیہ کے سامنے 10 مطالبات پیش کیے گئے ہیں جس میں مظاہرین نے بنوں میں آپریشن عزم استحکام کی پر زور مخالفت کی ہے اورطالبان کے تمام مراکزبند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
  • بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کے بعد سپریم کورٹ نے کوٹہ سسٹم میں تبدیلی کا حکم دیا ہے جس کے مطابق ’1971 کی جنگ میں لڑنے والے فوجیوں کے اہلِ خانہ کو ملازمتوں کا اب صرف پانچ فیصد حصہ ملے گا‘ تاہم مظاہرین نے مارے جانے والے طلبہ کو انصاف ملنے تک ملک گیر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
  • وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بنوں میں ہلاکتوں کے حوالے سے پی ٹی آئی پر ’فائرنگ اور بگھدڑ مچانے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔
  • جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں مظاہرین کی جانب سے پاکستانی قونصل خانے کی عمارت پر پتھراؤ اور پاکستانی پرچم اتارنے کے واقعے کے بعد جرمنی میں پاکستانی سفارتخانے نے ایک مذمتی بیان جاری کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کے بعد ملک گیر کرفیو نافذ، فوج طلب

    بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں پرتشدد مظاہروں میں 35 افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت نے ملک بھر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش میں طلبہ سنہ 1971 کی جنگ آزادی میں حصہ لینے والوں کے خاندان کے افراد کے لیے ملازمتوں کے کوٹے کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    جمعے کو ان مظاہروں کے دوران نرسندگی جیل پر بھی دھاوا بولا گیا جہاں سے سیکڑوں قیدی فرار ہو گئے۔ اس کے بعد وزیر اعظم کے دفتر نے ملک میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا۔ حکومت کے پریس سیکریٹری نعیم الاسلام نے کہا کہ ملک میں امن لانے کی خاطر فوج طلب کر لی گئی ہے۔

    انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حکومت نے سویلین اتھارٹیز کی مدد کے لیے کرفیو کے نفاذ اور فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں میں اب تک 67 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم ملک کے کچھ حصوں میں مکمل کمیونیکشن کا نظام معطل ہونے کی وجہ سے مرنے والوں کی درست تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک میں موبائل انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کا نظام بھی متاثر ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں کے بعد ٹرین سروس بھی روک دی گئی ہے جبکہ ڈھاکہ سے سامنے آنے والی تصاویر میں مظاہروں پر قابو پانے والی پولیس کی بھاری نفری دیکھی جا سکتی ہے۔ بنگلہ دیش میں تعلیمی ادارے تا حکم ثانی بند رہیں گے۔

    مگر اس سب کے باوجود مظاہروں کے سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین نے ملک بھر میں اہم شاہرائیں بند کر دی ہیں۔

    جمعے کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے باہر والدین کی بڑی تعداد کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے طلبہ ’میرٹ، میرٹ‘ کے نعرے لگا رہے تھے اور ’ہم اپنے بھائیوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔‘

    بنگہ دیش کے طلبہ کا یہ کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں کوٹہ سسٹم ان کے حقوق کی نفی کرتا ہے اور انھوں نے میرٹ پر ملازمتیں دینے کے مطالبات کیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس وقت مروجہ کوٹہ سسٹم حکومت کی حمایت کرنے والوں کے فائدے میں جاتا ہے۔ رواں برس جنوری میں شیخ حسینہ واجد چوتھی بار بنگلہ دیش کی وزیراعظم منتخب ہوئی ہیں۔

    جمعے کو ان مظاہرین نے نرسندگی ضلعے کی جیل پر دھاوا بولا جس کے بعد اس جیل سے اطلاعات کے مطابق سینکڑوں قید فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ متعدد عینی شاہدین نے بی بی سی کو اس واقعے کی تصدیق بھی کی ہے۔

    بنگلہ دیش کی اپوزیشن کی جماعت نیشنل پارٹی نے بھی احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ ایکس پر ملک سے باہر بیٹھے ہوئے اس جماعت کے قائمقام چیئرمین طارق الرحمان نے عوام سے ان طلبہ کی حمایت کی اپیل کی ہے۔ احتجاج ختم کرنے سے متعلق ابھی تک مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

  2. بریکنگ, بنوں میں مظاہرین کا 'پرامن' احتجاج کل پھر ہو گا، فائرنگ کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں، بیرسٹر سیف

    خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ بنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف شہریوں کے احتجاجی ’امن مارچ‘ میں فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے اور اس ضمن میں ذمہ داران کا تعین کر کے انھیں قانون کے تحت سزا دی جائے گی۔

    انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے جمعہ کے روز بنوں میں جاری احتجاج میں فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ تمام صورتحال کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ جمعے کو بنوں کی تاجر برادری کی درخواست امن مارچ کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ تاہم جمعے کی دوپہر احتجاجی مارچ میں فائرنگ اور بھگڈر مچنے سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

    بنوں کے امن مارچ پر فائرنگ کے واقعے پر متضاد اطلاعات کے متعلق بات کرتے ہوئے بیریسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بھی ایسی اطلاعات آئی کہ فائرنگ سیکورٹی فورسز کی جانب سے کی گئی اس بارے میں مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جو کوئی بھی ذمہ دار ہو گا اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمائدین کے ساتھ مذاکرات کے بعد صورتحال قابو میں ہے، مظاہرین نے حالات کشیدہ ہونے کے بعد مقامی انتظامیہ سے مذاکرات کرنے کے بعد جمعے کے دن کے لیے دھرنا ختم کر دیا جبکہ مظاہرین سنیچر کو دوبارہ احتجاج کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بنوں میں حالات کشیدہ ہونے کے بعد احتجاج کے منتظمین اور مقامی انتظامیہ کا ایک جرگہ ہوا جس میں حالات کو پر امن رکھنے پر اتفاق ہوا جس کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کابنیادی آئینی اور قانونی حق ہے۔

    ترجمان خیبر پختونخوا حکومت بیرسٹر سیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال ان کے پاس فائرنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی مصدقہ تعداد کے حوالے سے معلومات نہیں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی نے واقعے میں ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کے لیے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔

    اس سے قبل بنوں میں طبی حکام کا کہنا تھا کہ احتجاجی مارچ کے دوران فائرنگ اور بھگدڑ مچنے سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    بنوں شہر کے خلیفہ گل نواز ہسپتال کے ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ اس واقعے کے بعد ایک شخص کی لاش جبکہ 23 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے زیادہ تر کو بھگدڑ کی وجہ سے چوٹ لگی ہے تاہم کچھ گولی لگنے سے بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    خیال رہے کہ احتجاجی مارچ کے شرکا کے مطابق فائرنگ اور بھگدڑ کا واقعہ سپورٹس کمپلیکس کے راستے پر پیش آیا ہے جہاں مارچ کے شرکا جلسے کے لیے جمع ہونے جا رہے تھے۔

    خیبرپختونخوا میں گزشتہ چند ماہ میں یوں تو شدت پسندی کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ سامنے آیا ہے تاہم حالیہ دنوں میں بنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث اس احتجاج کا اعلان کیا گیا۔ دو روز قبل بنوں کینٹ پر اور اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے نواحی علاقے میں مرکز صحت پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد اس امن مارچ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس احتجاج میں حکومت سے شہریوں کو جان و مال اور عزت کا تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

  3. جوڈیشل کمیشن نے جسٹس طارق مسعود اور مظہر عالم کو سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج تعینات کرنے کی منظوری دے دی

    جوڈیشل کونسل آف پاکستان نے جسٹس ریٹائرڈ سردار طارق مسعود اور جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم کی سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

    سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تقرری کے معاملے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ایک سال کے لیے دونوں ججوں کے ناموں کی منظوری دی گئی۔

    یاد رہے پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈہاک ججوں کی تقرری کے لیے چار ریٹائرڈ ججوں، جسٹس (ر) مظہر عالم میاں خیل، جسٹس (ر) مشیر عالم، جسٹس (ر) مقبول باقر اور جسٹس (ر) طارق مسعود کے نام تجویز کیے ہیں تاہم ان میں سے مشیر عالم اور مقبول باقر نے پہلے ہی یہ ذمہ داری سنبھالنے سے معذرت کر لی تھی۔

    دورانِ اجلاس چاروں ناموں میں کسی نام پر اعتراض سامنے نہیں آیا۔ تاہم جسٹس منیب کا کہنا تھا کہ ’سب نام معتبر مگر ایڈ ہاک ججز کی تقرری اصولا نہیں ہونی چاہیے‘ باقی آٹھ ممبران کا کہنا تھا کہ ایڈہاک جج ہونے چاہییں۔

    آٹھ ممبران کا اتفاق تھا کہ جسٹس ریٹائرڈ مشیر عالم اور جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے معذرت کی ہے لہذا ان کی تعیناتی کی بات ختم ہو گئی۔

    دورانِ اجلاس آٹھ ججز نے جسٹس ریٹائرڈ سردار طارق مسعود کے نام پر اتفاق کیا اور کہا کہ ان کی تعیناتی ایک سال کے لیے ہونی چاہیے۔

    آئین کے آرٹیکل 182 کے تحت چیف جسٹس کمیشن سے مشاورت اور صدر مملکت کی منظوری کے بعد ججز سے ایڈہاک ذمہ داریوں کی باضابطہ درخواست کریں گے۔

  4. تحریک لبیک پاکستان اور حکومت میں مذاکرات کامیاب، ٹی ایل پی کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان

    وفاقی حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم فیض آباد میں جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    ٹی ایل پی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے مشیر رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت پہلے ہی مظلوم فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف کوششیں کر رہی ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا کہ ان کوششوں میں اضافہ کیا جائے اور 31 جولائی سے پہلے ایک ہراز ٹن کی امداد فلسطین بھیجی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت پہلے ہی ادویات اور دوسرا امدادی سامان فلسطین بھیج رہی ہے اور اگر ممکن ہوا تو ڈاکٹرز اور طبی عملے کو بھی وہاں بھیجا جائے گا۔ وزیرِ اعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ ’نیتن یاہو ایک دہشت گرد ہے اور جنگی جرائم کا مرتکب ہے، ہمارا اقوامِ عالم سے مطالبہ ہے کہ اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘

    رانا ثنااللہ کا کہنا تھا اسرائیلی مصنوعات یا وہ کمپنیاں جو اس کی افواج کی بالواسطہ یا بلاواسطہ کی کسی بھی صورت میں مدد کر رہی ہیں، ان کمپنیز کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور ان کی مصنوعات کا استعمال روکا جائے گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو اس بات کا تعین کرے گی کہ وہ کونسی مصنوعات ہیں جن کے استعمال کی وجہ سے اسرائیلی فورسز کی مالی طور پر مدد ہو رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر فلسطینی انتظامیہ زخمیوں کو پاکستان بھجوا سکے تو ان کا یہاں ہر ممکن علاج کیا جائے گا۔ حکومتِ پاکستان ایسے فلسطینیوں کو بھی سہولیات فراہم کرے گی جو تعلیم کے لیے پاکستان آنا چاہیں۔

    یاد رہے گذشتہ ایک ہفتے سے تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان فیض آباد فلائی اوور کے اوپر اور نیچے اسلام آباد ایکسپریس وے پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں جس سے جڑواں شہریوں کے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

  5. مخصوص نشستوں کا معاملہ: الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کا فیصلہ، پی ٹی آئی کو نشستیں ملنے میں مزید کیا رکاوٹیں آ سکتی ہیں؟

    الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    تاہم الیکشن کمیشن کے اجلاس میں لیگل ٹیم کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کے کسی پوائنٹ پر عملدرآمد میں رکاوٹ ہے تو اس کی نشاندہی کریں تاکہ مزید رہنمائی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے۔

    اجلاس کے بعد جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک سیاسی پارٹی کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران الیکشن کمیشن کو مسلسل اور بے جا تنقید کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتا ہے۔ کمشین کا کہنا ہے کہ وہ کسی قسم کے دباو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق کام کرتا رہے گا۔

    مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے کسی فیصلے کی غلط تشریح نہیں کی ’الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کو درست قرار نہیں دیا جس کے خلاف پی ٹی آئی مختلف فورمز پر گئی اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔‘ کمیشن کا کہنا ہے کہ چونکہ پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن درست نہیں تھے جس کے قانونی اثرات کی رو سے الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 215 کے تحت بیٹ کا نشان واپس لیا گیا لہذا الیکشن کمیشن پر الزام تراشی انتہائی نامناسب ہے۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جن 39 ایم این ایز کو پی ٹی آئی کا قرار دیا گیا ہے انھوں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی سے اپنی وابستگی ظاہر کی تھی جبکہ کسی بھی پارٹی کا امیدوار ہونے کے لیے پارٹی ٹکٹ اور ڈیکلیریشن ریٹرننگ آفیسر کے پاس جمع کروانا ضروری ہے جو کہ ان امیدواروں نے جمع نہیں کروایا تھا۔ لہذا ریٹرننگ آفیسروں کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ انھیں پی ٹی آئی کا امیدوار قرار دیتے۔

    کمیشن کا مزید کہنا ہے کہ جن 41 امیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کیا گیا ہے انھوں نے نہ تو اپنے کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی کا ذکر کیا، نہ پارٹی سے وابستگی ظاہر کی اور نہ ہی کسی پارٹی کا ٹکٹ جمع کروایا لہذا ریٹرننگ افسروں نے انھیں آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی۔

    کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن جیتنے کے بعد قانون کے تحت تین دن کے اندر ان ایم این ایز نے رضاکارانہ طور پر سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی، سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں آئی جو مسترد کردی گئی۔

    کمیشن کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اس کیس میں نہ تو الیکشن کمیشن میں پارٹی تھی اور نہ ہی پشاور ہائیکورٹ کے سامنے پارٹی تھی اور نہ ہی سپریم کورٹ میں پارٹی تھی۔

    یاد رہے گذشتہ جمعے کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سربراہی میں 13 رکنی بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی اپیل اکثریت رائے سے منظور کر لی تھی۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب امیدواروں کو کسی اور جماعت کا رکن قرار نہیں دیا جا سکتا اور پی ٹی آئی ہی مخصوص نشستوں کے حصول کی حقدار ہے۔ یوں اب تحریک انصاف سیاسی جماعت بن کر حزب اختلاف کی جماعت بن گئی ہے اور ایسی حزب اختلاف کہ جس کے پاس کسی بھی نشستوں کی تعداد کسی بھی جماعت سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

    سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو آٹھ ججز نے منظور کیا جبکہ پانچ ججز نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف جن نشستوں پر دعوے کرتی آ رہی ہے وہ ملنے کی صورت میں قومی اسمبلی میں اس کی 84 نشستیں بڑھ کر 107 ہو جائیں گی اور یوں یہ سب سے زیادہ نشستوں والی جماعت بن سکے گی۔ اس کے مقابلے میں حکومتی جماعت مسلم لیگ ن کے پاس 106، پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس 69، ایم کیو ایم کے پاس 22 اور جمیعت علمائے اسلام کے پاس نو نشستیں ہوں گی۔

  6. ایڈہاک ججز کی تقرری: شبلی فراز کا قاضی فائز عیسیٰ کے نام خط، جوڈیشل کونسل سے ایڈہاک ججز کی تجویز مسترد کرنے کا مطالبہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تقرری کے معاملے پر جوڈیشل کونسل کے اجلاس سے قبل پی ٹی آئی کے رہنما اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام لکھے گئے خط میں ایسے ججوں کی تقرری کی تجویز مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججوں کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جمعے کی شام منعقد ہو رہا ہے۔

    پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈہاک ججوں کی تقرری کے لیے چار ریٹائرڈ ججوں، جسٹس (ر) مظہر عالم میاں خیل، جسٹس (ر) مشیر عالم، جسٹس (ر) مقبول باقر اور جسٹس (ر) طارق مسعود کے نام تجویز کیے ہیں تاہم ان میں سے مشیر عالم اور مقبول باقر نے پہلے ہی یہ ذمہ داری سنبھالنے سے معذرت کر لی ہے۔

    اپنے خط میں شبلی فراز نے کہا ہے کہ ایڈہاک ججز کی تقرری سے یہی تاثر جاتا ہے کہ یہ سب ایک جماعت کے لیے کیا جا رہا ہے اور ایڈہاک ججز کی تقرری سے یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ یہ عدلیہ میں ایک جماعت کے خلاف آرا کو بیلنس کرنے کی کوشش ہے۔

    انھوں نے لکھا ہے کہ مستقل ججز کی تقرری کے بعد زیر التوا مقدمات کو وجوہ بنا کر ایڈہاک ججز کی تقرری نہیں ہو سکتی۔ شبلی فراز نے کہا ہے کہ ایڈہاک ججز تقرری کی تجویز اسی دن آئی جب سپریم کورٹ نے 5-8 سے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا۔

    شبلی فراز نے لکھا ہے کہ ایڈہاک ججز کی سلیکشن کے لیے کوئی شفاف طریقہ کار نہیں اپنایا گیا۔ الجہاد ٹرسٹ کیس کے بعد کسی ایڈ ہاک جج کی تین سال کے لیے تقرری نہیں ہوئی۔ سپریم کورٹ میں مستقل ججز کی تقرری حال ہی میں کی گئی ہے۔

    یہاں یہ بھی یاد رہے کہ قانون کے مطابق کسی ریٹائرڈ جج کو ایڈہاک جج صرف اسی صورت میں مقرر کیا جا سکتا ہے جب اس کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا دورانیہ تین برس سے کم ہو۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 182 کے مطابق ایک ایڈہاک جج کو سپریم کورٹ کے جج کے برابر اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔

    اپنے خط میں سینیٹر شبلی فراز نے دعویٰ کیا کہ جوڈیشل کمیشن کی مشاورت کے بغیر ہی ججز کی سلیکشن کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ شفاف طریقہ کار کے بغیر ججز کی تقرری مزید پریشان کن ہے۔

    انھوں نے لکھا کہ زیر تجویز جج (ر) مقبول باقر نگراں حکومت میں اہم آفس ہولڈر رہے اور زیر تجویز جج (ر)طارق مسعود نے پی ٹی آئی سپورٹرز کی ملٹری کسٹدی کیس کو طول دیا اور زیر تجویز جج (ر) مظہر میاں خیل نے پی ٹی آئی رہنماؤں پر آرٹیکل چھ لگانے کے ریمارکس دیے۔

    شبلی فراز نے خط میں لکھا کہ سپریم کورٹ میں سویلین کا ملٹری ٹرائل، آٹھ فروری الیکشن کیس اور حال ہی میں پی ٹی آئی پر پابندی کے معاملات زیر التوا ہیں۔ ایسی صورت حال ہی میں ریٹائرڈ ججز کی تقرری سے سنجیدہ اور جائز خدشات جنم لینے لگے ہیں۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ موجودہ چیف جسٹس کی قلیل مدت ملازمت میں زیر التوا کیسز میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں آ سکے گی اور زیر التوا کیسز کا معاملہ آنے والے چیف جسٹس پر چھوڑ دیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں عوام، پاکستان بار کونسل اور متعدد بار کونسلز کی ترجمانی کر رہا ہوں اور ایڈہاک ججز کی تقرری میں کوئی شکوک و شبہات نہیں ہونے چاہییں‘۔

    شبلی فراز نے لکھا کہ پاکستانی عوام آزاد اور بغیر مداخلت کے عدلیہ کے سٹیک ہولڈرز ہیں اور ایڈہاک ججز کی تقرری عوام کو عدلیہ میں مداخلت کا تاثر دے رہی ہے۔

  7. ’یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک عورت نے اس ملک پر حملہ کیا، آگ لگائی، انتشار پھیلایا اور آپ کہیں وہ معصوم ہے اسے جیل میں ایک سال ہو گیا ہے‘ مریم نواز

    پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے اگر کوئی بےگناہ خاتون جیل جاتی ہے تو مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے کیونکہ میں بے گناہ جیل بھگت کر آئی ہوں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک عورت نے اس ملک اور اس کی تنصیبات پر حملہ کیا ہے، آگ لگائی ہے اور انتشار پھیلایا ہے اور آپ کہیں کہ وہ معصوم ہے اسے جیل میں ایک سال ہو گیا ہے۔

    لاہور میں ایک تقریب سے خطاب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے جرم کیے ہیں وہ پوری قوم نے ٹی وی پر دیکھے ہیں۔ کس نے نہیں دیکھا کہ انھوں نے آگ لگائی، شہدا کی یادگاروں پر حملے کیے، ان کو جب موقع ملا انھوں نے آگ اور انتشار کا کھیل کھیلا۔‘

    مریم نواز نے اپنی تقریر میں کسی خاتون کا نام تو نہیں لیا تاہم چند روز سے سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی سرگرم کارکن صنم جاوید کی رہائی اور پھر گرفتاری کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

    یاد رہے 14 جولائی کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے صنم جاوید کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے مقدمے سے بری کر دیا تھا۔ تاہم کچھ دیر بعد صنم جاوید کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

    جس کے بعد 15 جولائی کو صنم جاوید کی رہائی کے لیے ان کے والد کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو صنم جاوید کو 18 جولائی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

    تاہم آج ایف آئی اے نے پی ٹی آئی کی کارکن صنم جاوید کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ڈیوٹی جج کی جانب سے صنم جاوید کو ایف آئی اے مقدمے سے ڈسچارج کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ڈسٹرکٹ ایڈیشنل اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے کی جس میں ایف آئی اے پراسیکیوٹر شیخ عامر عدالت کے روبرو پیش ہوئے ۔

    دوران سماعت ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ڈیوٹی مجسٹریٹ کے پاس اختیار ہی نہیں ہے کہ وہ مقدمے سے ڈسچارج کر دیں۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس کیس کا کوئی بھی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچستان اور پولیس مقدمات کے حوالے سے ریکارڈ طلب کیا گیا تھا۔

    پراسیکیوٹر نے دلائل میں کہا کہ ایف آئی اے کا کوئی ریکارڈ اسلام آباد ہائی کورٹ میں طلب نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی ہمارا کوئی نمائندہ ہائی کورٹ پیش ہوا تھا۔بعد ازاں عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 23 جولائی تک ملتوی کر دی۔

  8. بریکنگ, بنوں میں ’امن مارچ‘ کے دوران فائرنگ اور بھگدڑ سے ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی: طبی حکام, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    بنوں میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ بدامنی کے خلاف شہریوں کے احتجاجی مارچ کے دوران فائرنگ اور بھگدڑ مچنے سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

    یہ احتجاج ضلع میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے جمعے کو کیا جا رہا ہے جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔

    احتجاجی مارچ کے شرکا کے مطابق فائرنگ اور بھگدڑ کا واقعہ سپورٹس کمپلیکس کے راستے پر پیش آیا ہے جہاں مارچ کے شرکا جلسے کے لیے جمع ہونے جا رہے تھے۔

    تاحال یہ واضح نہیں کہ فائرنگ کس نے کی اور نہ ہی سرکاری حکام نے اس بارے میں کوئی بیان جاری کیا ہے۔

    شہر کے خلیفہ گل نواز ہسپتال کے ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ اس واقعے کے بعد ایک شخص کی لاش جبکہ 23 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے زیادہ تر کو بھگدڑ کی وجہ سے چوٹ لگی ہے تاہم کچھ گولی لگنے سے بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ بنوں میں گذشتہ چند ماہ کے دوران دہشت گردی اور شدت پسندی کے متعدد واقعات کے بعد اس امن مارچ میں حکومت سے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

  9. بنوں میں شدت پسندی کے خلاف ’امن مارچ‘ میں ہزاروں افراد شریک، اس احتجاج کا مقصد کیا ہے

    بنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف شہر کی تاجر برادری کی درخواست پر جمعے کے روز امن مارچ کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں اس وقت ہزاروں افراد شریک ہیں۔

    خیبرپختونخوا میں گزشتہ چند ماہ میں یوں تو شدت پسندی کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ سامنے آیا ہے تاہم حالیہ دنوں میں بنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث اس احتجاج کا اعلان کیا گیا۔

    دو روز قبل بنوں کینٹ پر اور اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے نواحی علاقے میں مرکز صحت پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد اس امن مارچ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ اس مارچ میں حکومت سے شہریوں کو جان و مال اور عزت کا تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق اس امن مارچ میں بنوں اور گرد و نواح سے لوگ قافلوں کی صورت میں شامل ہو رہے ہیں۔

    عزیز اللہ خان کے مطابق امن مظاہرہ پریٹی گیٹ چوک سے شروع ہوا ہے اور شہر و مضافات سے لوگ قافلے کی شکل میں شریک ہورہے ہیں۔

    امن مظاہرے میں لکی مروت، کرک، شمالی وزیرستان کے عوام بھی ممکنہ طور پر قافلوں کی شکل میں بنوں پہنچیں گے۔

    یاد رہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں اس امن مارچ کا انعقاد کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ بدامنی اور دہشت گردی کی اس لہر کی وجہ سے عمائدین کی جانب سے 19 جولائی کو امن مارچ کی کال دی گئی جس میں تمام سیاسی رہنما، سماجی شخصیات اور تاجر برادری کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

  10. بنوں میں شدت پسندی کے واقعات کے بعد بات ’امن مارچ‘ تک کیسے پہنچی؟, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام - پشاور

    رواں برس خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں دہشت گردی کے متعدد واقعات ہوئے ہیں جن میں چند روز قبل 15 جولائی کو کینٹ پر دہشت گردوں کا حملہ بھی شامل ہے جس میں آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔

    اس واقعے کے اگلے روز 16 جولائی کو ڈیرہ اسماعیل خان کے نواحی علاقے میں مرکز صحت پر دہشت گردوں نے حملہ کیا جس میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے پانچ افراد ہلاک ہوئے جن میں دو لیڈی ہیلتھ ورکرز، دو بچے اور ایک چوکیدار شامل ہیں جبکہ آئی ایس پی آر کے مطابق اس آپریشن میں تمام 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

    بدامنی اور دہشت گردی کی اس لہر کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے مقامی عمائدین کی جانب سے 19 جولائی کو امن مارچ کی کال دی گئی تھی جس میں تمام سیاسی رہنماؤں، سماجی شخصیات اور تاجر برادری کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق گذشتہ روز علما اور مقامی سیاسی قائدین کی جانب سے یہ اعلانات کیے گئے تھے کہ جتنے بھی مسلح افراد بنوں اور اس کے مصافات میں مقیم ہیں وہ فوری طور پر علاقے کو چھوڑ دیں۔

    ایسی اطلاعات ہیں کہ اس اعلان کے بعد بنوں سے کچھ لوگ علاقہ چھوڑ کر گئے بھی ہیں تاہم بی بی سی اردو اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    اس امن مظاہرے میں شرکت کے لیے لکی مروت، کرک، شمالی وزیرستان کے عوام بھی ممکنہ طور پر قافلوں کی شکل میں بنوں پہنچیں گے۔

    امن مارچ کے ایجنڈے کے مطابق مظاہرین پریٹی گیٹ چوک سے نورنگ چوک تک دوپہر دو بجے احتجاجی واک کریں گے۔

  11. پاک چین تعلقات باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کی حمایت کے غیر متزلزل یقین پر مبنی ہیں: آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاک چین تعلقات باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کی حمایت کے غیر متزلزل یقین پر مبنی ہیں۔

    جی ایچ کیو راولپنڈی میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے قیام کی 97 ویں سالگرہ کی تقریب منعقد ہوئی جس کی میزبانی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کی۔

    اپنے خطاب میں آرمی چیف نے چینی مہمانوں کو پی ایل اے کی سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز لبریشن آرمی نے چین کے دفاع، سلامتی اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج اور پیپلز لبریشن آرمی کے تعلقات بے حد مضبوط ہیں جبکہ دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان فوجی تعاون آہنی بھائی چارے کی واضح مثال ہے۔

    واضح رہے کہ جون کے آخر میں وزیراعظم کی زیرِ صدارت نیشنل ایکشن پلان پر مرکزی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں چینی شہریوں کی سکیورٹی کے حوالے سے ایس او پیز وضع کرنے کی بات کی گئی تھی۔

    اجلاس میں پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے لیے ایک نئے فوجی آپریشن ’عزمِ استحکام‘ آپریشن کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے ایک روز قبل اسلام آباد میں ’پاک چین مشاورتی میکانزم‘ نامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہمسایہ ملک چین کے وزیر لیو جیان چاؤ نے پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو اندرونی استحکام اور بہتر سکیورٹی سے مشروط قرار دیا تھا۔

    یاد رہے کہ چینی شہریوں پر پاکستان میں حملوں کے بعد ’پاک چین مشاورتی میکانزم‘ اجلاس سے خطاب میں لیوجیان چاؤ نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان معاہدوں سے ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے لیکن ترقی کے لیے ’اندرونی استحکام ضروری ہے۔‘

    چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اہم رکن اور وزیر نے پاکستان کی تمام سیاسی قیادت کے سامنے یہ واضح کیا کہ ’سرمایہ کاری کے لیے سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانا ہو گا۔‘

    جمعرات کو جی ایچ کیو میں تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ تھے جبکہ چین کے دفاعی اتاشی میجر جنرل وانگ یانگ، چینی سفارتخانے کے حکام اور تینوں مسلح افواج کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    چین کے سفیر نے پیپلز لبریشن آرمی کے قیام کی سالگرہ کی تقریب کی میزبانی کرنے پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا۔

    انھوں نے کہا کہ پاک فوج نے ہمیشہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے آگے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے اور خطے میں قیام امن اور استحکام کے حوالے سے عظیم قربانیاں دی ہیں۔

    چین کے سفیر نے مزید کہا کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، پختہ یقین رکھتے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان اور چین اور دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان آہنی دوستی کو ختم نہیں کر سکتی۔

  12. ’کوئی نہ کوئی آئینی میلٹ ڈاؤن ہونے والا ہے۔۔۔ سرگوشیاں سن رہے ہیں کہ الیکشن (نتائج) منسوخ کرنے کی بات ہو رہی ہے: خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عدلیہ کے حوالے سے ایسی سرگوشیاں سننے کو مل رہی ہیں کہ الیکشن نتائج منسوخ کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

    انھوں نے ہم نیوز کے پروگرام فیصلہ آپ کا میں میزبان اور صحافی عاصمہ شیرازی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سرگوشیاں ایسی بھی ہیں کہ کہا جا رہا ہے کہ اکتوبر آنے دو، الیکشن (آڈٹ) سے متعلق درخواست لگے گی تو اس سے بھی نمٹ لیں گے۔‘

    خیال رہے کہ رواں برس 12 فروری کو سپریم کورٹ میں ایک شہری علی خان کی جانب سے پرائیویٹ پٹیشن بھیجی گئی تھی جس میں مبینہ دھاندلی کے سبب الیکشن کو منسوخ کرنے کا درخواست کی گئی تھی۔ درخواست میں عدالت سے 30 روز میں نئے انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کروانے کی بات کی گئی تھی۔

    اس کے علاوہ سابق وزیرِ اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے رواں سال مارچ میں سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں فروری 8 کے عام انتخابات کا آڈٹ کروانے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست کی تھی جس کے ممبران سپریم کورٹ کے ججز خود ہوں، جن کا کسی بھی فریق کی جانب جھکاؤ نہ ہو۔ پٹیشن میں پنجاب اور وفاق میں حکومتوں کے قیام کو منسوخ کرنے کے حوالے سے بھی بات کی گئی تھی جب تک جوڈیشل کمیشن کے نتائج سامنے نہیں آ جاتے۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ خواجہ آصف کا اشارہ ان ہی درخواستوں کی جانب تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی صورت حال کا بھرپور دفاع کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’الیکشن کے نتیجے میں ہمیں جو سپیس ملی ہے اس کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے، اس سلسلے میں ہمارے پاس جو جو دوا موجود ہے استعمال کریں گے۔‘

    ’کوئی نہ کوئی آئینی میلٹ ڈاؤن ہونے والا ہے، جلد یا بدیر لیکن یہ ہو گا‘

    خواجہ آصف کی جانب سے اس کے علاوہ جیو نیوز کے شو آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں بھی تفصیل سے بات کی گئی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’عدلیہ کا جو 70 سال کا رواج ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے داہنے ہاتھ پر کھڑی رہی ہے، لیکن اب کسی اصول کے تحت کچھ نہیں ہو رہا بلکہ سارے کے سارے اداروں میں سیاست سرایت کر گئی ہوئی ہے اور عدلیہ ان میں سرِ فہرست ہے آپ ان کے ریمارکس دیکھ لیں، اس وقت جو سیاسی طور پر سب سے زیادہ متحرک آئینی ادارہ ہے وہ عدلیہ ہے، ہم لوگ تو بیک سیٹ لے چکے ہیں۔ میں اتفاق کرتا ہوں کہ جتنا سیاسی ایکٹوزم ادھر چھایا ہوا ہے اس سے ہمارا میل بھی نہیں ہے۔‘

    اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ کوئی نہ کوئی آئینی میلٹ ڈاؤن ہونے والا ہے، جلد یا بدیر لیکن یہ ہو گا۔‘

    میزبان شاہزیب خانزادہ نے ان سے پوچھا کہ کیا اس سے آپ کی مراد مارشل لا ہے، تو خواجہ آصف نے جواب دیا کہ ’میں مارشل لا کی بات نہیں کر رہا لیکن ایک آئینی بریک ڈاؤن آپ کو اس وقت بھی نظر آ رہا ہے۔۔۔ میں ابھی وضاحت نہیں کر سکوں گا، دو چار دس دن گزر لینے دیں تو پھر وضاحت کر دوں، نہیں کر سکا، تو بتا دوں گا۔‘

    ’فچ رپورٹ میں 18ماہ میں حکومت کے خاتمے سے متعلق بات میں وزن ہے‘

    اس کے علاوہ خواجہ آصف کی جانب سےفچ کی رپورٹ کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ فچ نے اپنی رپورٹ میں 18ماہ میں حکومت کے خاتمے سے متعلق جو بات کی ہے اس میں وزن ہے، ٹیکنوکریٹ حکومت میں شامل ہونے کے لیے لوگ تیار بیٹھے ہیں۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز معاشی درجہ بندی کے عالمی ادارے ’فچ‘ کی پاکستان کے بارے میں رپورٹ شائع کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ’عدالتوں سے شنوائی کے باوجود عمران خان کے ابھی جیل سے باہر آنے کا امکان نہیں۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت اگلے 18 ماہ تک بھی برسراقتدار رہے گی اور آئی ایم ایف کے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہے گی۔‘

    پروگرام کے دوران خواجہ آصف نے تسلیم کیا کہ تحریک انصاف پر پابندی کا وقت سے پہلے اعلان کر دیا گیا، اتحادیوں سے مشاورت ضروری ہے، ان سے مشاورت نہیں کی گئی اور اس بارے اتفاق رائے سے فیصلہ کریں گے۔

    خیال رہے کہ رواں ہفتے موجودہ حکومت نےعمران خان پر غداری کا مقدمہ بنانے اور ان کی جماعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھاجس کے بعد سے ن لیگ کے سینیئر رہنماؤں سمیت ان کے اتحادیوں نے بھی اس بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

  13. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس میں ریکارڈ کرایا گیا بیان سامنے آگیا ہے۔ اپنے بیان میں اعظم خان نے کہا ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر شہزاد اکبر نے معاملے کو کانفیڈینشل قرار دیتے ہوئے کابینہ سے مںظوری لینے کے لیے ایک فائل ان کے حوالے کی تھی۔
    • سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس میں گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردی ہے۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب اور دیگر نیب افسران کو فریق بنایا گیا ہے۔
    • سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا اظہر مشوانی کے والد قاضی حبیب الرحمٰن نے چیف جسٹس سپریم کورٹ قاضی فاٸز عیسی، سپریم کورٹ کے تمام ججز اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو خط لکھا ہے جس میں حبیب الرحمٰن نے دعوٰی کیا ہے کہ اظہر مشوانی کی سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ سیاسی وابستگی کی وجہ سے اس وقت ان کے دو بھاٸی پروفیسر مظہر الحسن اور پروفیسر ظہور الحسن 6 جون 2024 سے لاپتہ ہیں۔
    • پاکستان تحریکِ انصاف نے ایڈہاک ججز کی تعیناتی کی مخالفت کرتے ہوئے اس معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان کیا ہے۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تعیناتی کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے اور اس سے بداعتمادی مزید بڑھے گی۔‘