صوبہ سندھ میں یومیہ دو ہزار بیرل خام تیل کی پیداوار کرنے والے نئے ذخیرے کی دریافت کا اعلان, تنویر ملک، صحافی
آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ) نے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں واقع بوبی اور دھمراکی مائننگ لیز کے ’بوبی ڈیپ-1‘ کنویں سے تیل اور گیس کی نئی دریافت کا اعلان کیا ہے۔
کمپنی کے مطابق، بوبی اور دھمراکی مائننگ لیز میں 100 فیصد حصہ رکھنے والی او جی ڈی سی ایل نے ’بوبی ڈیپ-1‘ سے ہائیڈروکاربن کے ذخائر دریافت کیے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے متعلقہ ٹیسٹوں کے دوران یومیہ 2,000 بیرل خام تیل اور 1.1 ملین معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہوئی ہے۔اعلامیے کے مطابق ٹیسٹ کے وقت ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر 1,050 پی ایس آئی ریکارڈ کیا گیا۔
او جی ڈی سی کے مطابق کنواں 3,305 میٹر کی گہرائی تک سیمبر فارمیشن میں کمپنی کی اپنی تکنیکی اور آپریشنل صلاحیتوں کے ذریعے کھودا گیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ دریافت بوبی اور دھمراکی مائننگ لیز میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
اعلامیے کے مطابق، اس دریافت سے ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مقامی وسائل کے استعمال کو فروغ ملے گا جبکہ او جی ڈی سی کے ذخائر اور قومی سطح پر ہائیڈروکاربن وسائل میں بھی اضافہ ہو گا۔
تیل و گیس شعبے کے ماہر فرحان محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ موجودہ مالی سال میں پاکستان میں تیل کی دریافت کے اعداد و شمار کے مطابق 24000 بیرل خام تیل کی دریافت ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا تاہم یہ لازمی نہیں کہ جتنی تیل و گیس کی دریافت کا اعلان کیا جائے وہاں پیداوار بھی شروع ہو جائے، جس کی مثال موجودہ مالی سال میں 24000 بیرل میں سے صرف 2000 تک کی اب تک پیدوار کا حاصل ہونا ہے۔
انھوں نے کہا کہ توانائی شعبے کے گردشی قرضوں، سیکورٹی صورتحال اور سسٹم میں درآمدی ایل این جی کی وجہ سے تیل و گیس کی مقامی پیداوار نہیں ہو رہی تھی۔
فرحان نے بتایا کہ ملک کی مجموعی یومیہ 350000 بیرل خام تیل کی ضرورت ہے جب کہ مقامی طور پر صرف 70000 بیرل خام تیل روزا نہ حاصل ہوتا ہے۔