امریکہ اور اسرائیل کے
حملوں کے بعد ایران میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے باعث پیر کو دوسرے روز بھی وہاں سے سڑک کے راستے پاکستانی شہریوں کی واپسی کا سلسلہ جاری رہا۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ دو روز کے دوران طلبا سمیت واپس آنے والے شہریوں کی تعداد 596 تک پہنچ گئی۔
ڈپٹی کمشنر گوادر نے بتایا کہ پیر کو مختلف ایرانی جامعات کے 58 طلبہ سمیت 104 پاکستانی شہری گوادر پہنچ گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان میں زنجان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، المصطفیٰ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، ارزمگان اور کرمان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے طلباء اور طالبات شامل ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ دو روز کے دوران 63 طلبا سمیت 155 افراد گوادر پہنچے جبکہ گبد ریمدان بارڈر عبور کرنے والے دیگر افراد میں تاجر، زائرین اور سیاح شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران کے شہر زاہدان کے راستے دو روز کے دوران 441 پاکستانی شہری ضلع چاغی کے سرحدی شہر تفتان پہنچ گئے۔
تفتان پہنچنے والوں میں بھی ایک بڑی تعداد طلباء اور طالبات کی ہے۔
تفتان میں وفاقی حکومت کے اہلکار نے بتایا کہ تفتان میں دو روز کے دوران پہنچنے والوں میں 395 طلبہ، 28 تاجر اور 18 سیاح شامل ہیں۔
درایں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری صورتحال کے پیش نظر وہاں مقیم پاکستانی شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان وفاقی اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے تاکہ شہریوں کی واپسی کا عمل منظم اور محفوظ انداز میں جاری رکھا جا سکے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سرحدی مقامات پر امیگریشن حکام چوبیس گھنٹے ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں تاکہ آمد و رفت کے عمل کو مؤثر اور منظم بنایا جا سکے اور کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ انسانی ہمدردی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔