گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ
غزہ میں ممکنہ نسل کشی کی بین الاقوامی تحقیق ہونی چاہیے: پوپ فرانسس
مسیحی کیتھولک فرقے کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے یہ تجویز دی ہے کہ بین الاقوامی برادری اس پر تحقیق کرے کہ آیا جو اسرائیلی فوج نے غزہ میں کیا ہے وہ فلسطینی عوام کے نسل کشی کے مترادف تو نہیں ہے؟ یہ پوپ کی طرف سے اسرائیل کی غزہ میں ایک برس سے جاری جنگ پر سب سے سخت تنقید بھی ہے۔ ایک جلد شائع ہونے والی کتاب کے اتوار کو اٹلی کی ایک اخبار ’ڈیلی لا سٹامپا‘ میں شائع ہونے والے چند اقتباسات میں کچھ بین الاقوامی ماہرین کی یہ رائے سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی نے جو کچھ غزہ میں کیا ہے وہ فوجی مہم نسل کشی کی تعریف پر پورا اترتی ہے۔ اس پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے پوپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس پر احتیاط سے تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا جو کچھ اسرائیل نے غزہ میں کیا ہے یہ نسل کشی کی اس تکنیکی تعریف پر پورا اترتا ہے جو بین الاقوامی ماہرین اور اداروں نے کر رکھی ہے۔ اسرائیل نے ابھی تک پوپ کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
انڈیا کا ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ
نئی دہلی نے بڑے پیمانے پر مار کرنے والے ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جس سے انڈین فوج اب جدید اسلحہ رکھنے والی افواج کی صف میں شامل ہو گئی ہے۔ یہ انڈیا کا خود ساختہ میزائل ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کے روز انڈیا نے یہ تجربہ اوڈیشہ میں کیا ہے۔ انڈیا سے قبل ہائپر سونک میزائل بنانے والے ممالک میں چین، روس اور امریکہ شامل ہیں، جنھوں نے بڑے پیمانے پر مار کرنے والے جدید ترین میزائل تیار کیے ہیں۔ انڈین حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ میزائل ان کے سرکاری ادارے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے انڈسٹری پارٹنرز سے مل کر بنایا ہے۔ اس میزائل کو اس طرح تیار کیا گیا کہ اس سے فوج 1500 کلو میٹر سے زائد فاصلے تک پے لوڈ کے ساتھ کسی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بائیڈن کی یوکرین کو روس میں امریکی ساختہ لانگ رینج میزائلوں کے استعمال کی اجازت
امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو روس میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی ساختہ لانگ رینج میزائلوں کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ بی بی سی کی امریکہ میں پارٹنر سی بی ایس نیوز کو اعلیٰ امریکی اہلکاروں کی جانب سے اس حوالے سے تصدیق کی گئی ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی امریکہ کی جانب سے دور تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال پر پابندی ہٹانے کے بارے میں کئی ماہ سے کوششیں کر رہے تھے تاکہ یوکرین کو روس میں اہداف کو نشانہ بنانے کا موقع مل سکے۔ خیال رہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے ماضی میں مغربی ممالک کو اس حوالے سے پابندی ہٹانے کے بارے میں خبردار کیا جاتا رہا ہے۔ انھوں نے رواں برس ستمبر میں کہا تھا کہ روس اسے نیٹو کی اس جنگ میں براہِ راست مداخلت کے طور پر دیکھے گا۔ یہ لانگ رینج میزائل اے ٹی اے سی ایم ایس ہیں جو دراصل امریکہ کی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کی جانب سے بنائے جاتے ہیں۔ ان میزائلوں کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ یہ 300 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں اور انھیں ان کی رفتار کی وجہ سے تباہ کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔