آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران کی مہرستان میں پاکستانی شہریوں پر حملے کی مذمت: ’خطے میں سلامتی و استحکام کو نشانہ بنایا گیا‘

ایرانی سفارت خانہ نے اس واقعے کو ’غیر انسانی اور بزدلانہ مسلح کارروائی‘ قرار دیا ہے۔ خیال رہے کہ ایرانی صوبہ سیستان و بلوچستان میں جن آٹھ پاکستانیوں کو مسلح افراد کی جانب سے قتل کیا گیا، ان کا تعلق صوبہ پنجاب سے بتایا گیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق وہ ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں۔

خلاصہ

  • بلوچستان: ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے
  • اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانہ نے مہرستان میں آٹھ پاکستانیوں کی ہلاکت کے واقعے کو ’غیر انسانی اور بزدلانہ مسلح کارروائی‘ قرار دیا ہے۔
  • وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان کے علاقے مہرستان میں آٹھ پاکستانیوں کے قتل پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی حکومت سے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
  • حماس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے حملے میں غزہ شہر کے اہم طبی مرکز کے انتہائی نگہداشت اور سرجری کے شعبے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. چھ سینئر ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کے ٹیرف کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

    چھ سینئر ڈیموکریٹس نے امریکہ کے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’وفاقی سیکیورٹیز کے قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیوں‘ کی چھان بین کرے۔

    سابق صدارتی امیدوار اور موجودہ سینیٹر الزبتھ وارن کے دستخط شدہ خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہم ایس ای سی پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس بات کی تحقیقات کرے کہ آیا ٹیرف کے اعلانات کے بعد مارکیٹ کا کریش ہونا اور بعد ازاں جزوی بحالی کا کوئی فائدہ ٹرمپ انتظامیہ یا ان کے دوستوں کو پہنچا ہے‘

    خط میں ٹرمپ کی طرف سے عائد کردہ حالیہ ٹیرف کو ’بے ہنگم‘ اور ’فضول‘ قرار دیا گیا ہے تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر کی جانب سے اپنے نام نہاد ’باہمی‘ ٹیرف کے منصوبے کو روکنا ان کی تشویش کا باعث ہے۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہماری قوم کے پاس انسائڈر ٹریڈنگ اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کو روکنے کے لیے سخت قوانین ہیں۔‘

    سینیٹرز کے گروپ نے ایس ای سی پر زور دیا کہ وہ ٹیرف کے اعلانات کی تحقیقات کرے کہ آیا ان سے ٹرمپ یا ان سے وابستہ افراد کو فائدہ پہنچا۔

    اس خط پر چک شومر، رون وائیڈن، مارک کیلی اور روبن گیلیگو اور ایڈم شِف کے دستخط بھی تھے، جنھوں نے 25 اپریل تک ایس ای سی سے جواب دینے کی درخواست کی کہ آیا امریکی صدر کے ٹیرف کے اقدامات کی تحقیقات کا کوئی منصوبہ ہے۔

  2. بلوچستان کے تاجروں کا لک پاس ٹنل سمیت مرکزی شاہراہیں کھلوانے کا مطالبہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لک پاس ٹنل کو آمدو رفت کے لیے کھولے ورنہ صوبے میں اشیا خوردو نوش اور ادویات کی قلت پیدا ہو جائے گی۔

    جمعے کو کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دفتر میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد بن اسد کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ایوب مریانی کا کہنا تھا کہ لک پاس ٹنل کو کھولا جائے اور اگر یہ نہیں کھولی گئی تو صوبے میں کاروبار کے لحاظ سے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ سیاسی معاملات خوش اسلوبی سے حل ہونے چائییں اور اگر یہ معاملات حل نہیں ہوتے تو مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    بلوچستان کے تاجروں کا کہنا تھا کہ صوبے کی مرکزی شاہراہوں کی آئے روز بندش سے ان کو نہ صرف کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ اس بندش سے اشیا خورد و نوش اور ادویات کی قلت پیدا ہو رہی ہے ۔

    چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ کے صدر ایوب مریانی کا کہنا تھا کہ مکران میں کھاد کی گاڑیوں کو جلایا گیا جبکہ عدم تحفظ کی وجہ سے مزدوروں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔

    ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد بن اسد نے کہا بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے لک پاس ٹنل پر جو دھرنا دیا جارہا ہے اس سے عام لوگوں اور کاروباری افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    سرکاری حکام کے موقف کے برعکس بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینیئر نائب صدر ساجدترین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ شاہراہوں کو بی این پی نے بند نہیں کیا ہے بلکہ حکومت نے خود کنٹینر لگا کر ان کو بند کیا ہے ۔

  3. الیون مسک کی ٹیسلا کے چین کے لیے کچھ کاروں کے نئے آرڈرز منسوخ, فاریہ مسعود، بی بی سی نیوز

    ایلون مسک کی الیکٹرک گاڑیوں کی کمپنی ٹیسلا نے اپنی چینی ویب سائٹ پر کچھ ماڈلز کی نئی بکنگ لینا بند کر دی ہے۔

    ٹیسلا کے اس اقدام کے بعد اب چینی صارفین امریکہ میں بننے والی ٹیسلا کے ماڈل ایس(S) اور ماڈل ایکس (X) گاڑیاں آرڈر نہیں کر سکتے۔

    ٹیسلا نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ گاڑیوں کی بکنگ بند کرنے کا قدم بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔

    یہ دونوں ماڈلز گزشتہ سال ٹیسلا کی چھ لاکھ ستاون ہزار سے زائد گاڑیوں کی ترسیل کا صرف صفر اعشارعہ پانچ فیصد حصہ تھیں۔

    ٹیسلا کا ایک پلانٹ شنگھائی میں ہے جو ماڈل 3 اور ماڈل وائی گاڑیاں تیار کرتا ہے۔ یہ پلانٹ ٹیسلا کے ان ماڈلز کو چین میں فروخت کرنے کے علاوہ یورپ جیسی منڈیوں میں برآمد کرتا ہے۔

    چین کی اپنی الیکٹرک کار کمپنیاں بشمول بی وائی ڈی الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں ٹیسلا کے سب سے بڑے حریفوں میں سے ہیں۔

  4. چین کی امریکہ کے ٹیرف کی جنگ سے باہر نکلنے کی کوششیں اور صدر شی جن پنگ کا مصروف شیڈول, سٹیفین مکڈونیل کا تجزیہ

    امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں جہاں شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے وہیں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان ٹیرف (محصولات) میں اضافے اب تقریباً بے معنی ہوتے جا رہے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی درآمدات پر اتنے زیادہ ٹیکس لگا دیے ہیں کہ اب ان کے درمیان تجارت پہلے ہی بڑی حد تک متاثر ہو چکی ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ کا شیڈول دوسرے ممالک کے دوروں اور اہم ملاقاتوں سے بھرا ہوا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ بیجنگ نئی تجارتی راہیں تلاش کرنے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    چین کے صدر نے سپین کے وزیرِ اعظم سے ملاقات کی اور یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ چین کے ساتھ مل کر ٹرمپ حکومت کی ’یکطرفہ اجارہ داری‘ کی مخالفت کرے۔

    اگلے ہفتے وہ ویتنام، کمبوڈیا اور ملائیشیا کا دورہ کریں گے۔

    یاد رہے کہ یہ وہ ممالک ہیں جن پر امریکہ کی جانب سے 90 دن کی مہلت ختم ہونے کے بعد بھاری ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔ بیجنگ اس معاملے پر ڈٹا ہوا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس اور بھی راستے ہیں اور وہ صرف امریکہ پر انحصار نہیں کرتا۔

    جہاں تک چینی صارفین کا تعلق ہے اگر امریکی درآمدی مصنوعات مہنگی ہو جائیں تو وہ باآسانی مقامی برانڈز کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

    چینی کمپنیاں جو خاص طور پر امریکی تجارت سے منسلک ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں، لیکن باقی کے لیے یہ ٹیرف صرف ایک وقتی رکاوٹ ہے۔

    چین کے پاس اس تجارتی جنگ کو برداشت کرنے کی بھرپور صلاحیت دکھائی دے رہی ہے اور یوں لگتا ہے کہ کتنا وقت لگے، اس کے لیے وہ مکمل تیار ہے۔

  5. معاشی مشکلات کے دوران سونا محفوظ سرمایہ کاری کیوں سمجھا جاتا ہے؟, مائیکل ریس، بی بی سی نیوز

    معاشی مشکلات کے دوران سونا ہمیشہ سے ہی محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا رہا ہے۔

    امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں شدت آنے سے دنیا بھر میں سونے کی قیمت ایک بار پھر اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں نے معاشی غیر یقینی صورتحال اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث سب سے قیمتی دھات یعنی سونے میں اپنی سرمایہ کاری کو منتقل کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

    جمعے کے روز سونے کی قیمت 3,200 ڈالر (تقریباً 2,439 برطانوی پاؤنڈ) فی اونس سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ سونا لوگوں کے لیے اپنی رقم محفوظ رکھنے کا ذریعہ کیوں سمجھا جاتا ہے؟

    سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھنے کی وجہ اس کی اصل قدر اور تاریخی اہمیت ہے

    برطانیہ کے سکے بنانے والے ادارے ’رائل منٹ‘ کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار سونے کو استحکام کے لیے چنتے ہیں اور یہ ایک ایسا قیمتی وسیلہ ہے جس پر وہ بھروسا کر سکتے ہیں۔‘

    رائل منٹ کے مطابق کاغذی کرنسی کی قدر مہنگائی یا معاشی بحران کی وجہ سے کم ہو سکتی ہے لیکن سونے کی اصل قیمت قائم رہتی ہے۔

    سونا صدیوں سے انسان کے لیے قیمتی اور نایاب دھات رہا ہے۔ یہ کم درجہ حرارت پر پگھل جاتا ہے اس لیے اسے آسانی سے سکوں یا زیورات میں ڈھالا جا سکتا ہے۔

    چاندی وقت کے ساتھ کالی پڑ جاتی ہے لیکن سونا ویسا ہی رہتا ہے۔اس لیے سونے پر یقین رکھنے والے اس دھات کو ناقابل شکست قرار دیتے ہیں اور آج بھی سرمایہ کار ایسا ہی کر رہے ہیں۔

  6. پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت 10 ہزار روپے اضافے کے بعد تین لاکھ 38 ہزار سے زائد ہو گئی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافے کا رجحان جاری ہے اور جمعے کے روز بھی اس میں اضافہ ریکارڈ کیا کیا جارہا ہے اور سونے کی قیمت میں 10 ہزار روپے فی تولہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو ایک دن میں سونے کی قیمت میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

    دس ہزار روپے کے اضافے کے بعد سونے کی قیمت تین لاکھ، 38 ہزار 800 روپے فی تولہ پر پہنچ گئی جو اس کی ملکی تاریخ میں سب سے بڑی قیمت ہے۔

    گزشتہ روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 7800 روپے فی تولہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    سونے کے تاجر عبداللہ چاند کے مطابق سونے کی قیمت میں اس سے پہلے کبھی ایک دن میں اتنا بڑا اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

    سونے کی قیمت میں ہونے والے اضافے کی وجہ عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمت میں ہونے والا اضافہ ہے جو اس وقت 3171 ڈالر فی اونس پر موجود ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں ایک دن میں 100 ڈالر فی اونس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    گولڈ شعبے کے ماہر احسن الیاس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس وقت امریکی حکومت کے اقدامات نے اس کی کمزور معیشت کو واضح کر دیا ہے جس کی وجہ سے ڈالر میں سرمایہ کاری کم ہورہی ہے اور سرمایہ کار ڈالر فروخت کر کے سونے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

    احسن الیاس نے کہا کہ سونے میں سرمایہ کاری محفوظ سمجھی جاتی ہے اور اس وقت عالمی سطح پر معاشی صورتحال اور تنازعات سرمایہ کاروں کو سونے کی خریداری کی طرف لے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ڈیمانڈ بڑھی ہے اور اس کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے جو جون میں 3500 ڈالر فی اونس تک جانے کی توقع ہے۔

  7. چین کی جانب سے امریکہ پر نئے ٹیرف کے بعد یورپی سٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان, جیمی وائٹ ہیڈ، لائیو پیج ایڈیٹر

    امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    پچھلے ایک گھنٹے میں چین نے امریکہ سے آنے والی درآمدی اشیا پر 125 فیصد نیا ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو ہفتے سے نافذ العمل ہوگا۔

    یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی جنگ میں اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں چین، امریکہ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف میں اضافے کا جواب ویسے ہی ٹیرف بڑھا کر دے رہا ہے۔

    اگرچہ چین کی وزارتِ تجارت نے امریکی ٹیرف کو ’نمبرز کا کھیل‘ اور ’غیر اہم‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’ایک مذاق بن کر رہ جائے گا‘ لیکن اس کے باوجود بیجنگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے مزید کسی ٹیرف کا جواب نہیں دے گا۔

    لیکن کیا امریکہ مزید ٹیرف عائد کرے گا؟ شاید ایسا ہو سکتا ہے۔

    گذشتہ روز وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ کچھ مصنوعات پر 145 فیصد تک ٹیرف لگ سکتا ہے۔ پہلے سے ہی فینٹانائل (ایک خطرناک نشہ آور دوا) بنانے والی کمپنیوں پر 20 فیصد ٹیکس لاگو ہے۔

    چین کے اعلان سے قبل یورپ کی سٹاک مارکیٹوں میں کاروبار کا آغاز احتیاط کے ساتھ ہوا لیکن اب ان میں مندی دیکھنے میں آئی ہے۔

    اس وقت امریکہ کے مشرقی ساحل پر صبح کے پانچ بجے ہیں اس لیے ابھی تک صدر ٹرمپ کی جانب سے صدر شی جن پنگ کے تازہ اقدام پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

  8. بیجنگ صدر ٹرمپ کے دباؤ میں کیوں نہیں آ رہا؟, سٹیفن میکڈونل، بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار

    جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ چین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے جھکنے سے کیوں انکار کر رہا ہے، تو اس کا سادہ جواب یہ ہے: اُسے ایسا کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔

    چینی قیادت کا ماننا ہے کہ وہ کسی دباؤ یا دھمکی کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ خاص طور پر ایسے دباؤ کے جسے وہ بارہا ٹرمپ انتظامیہ کی ’ہٹ دھرمی‘ قرار دے چکی ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ چین کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کی طاقت دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ ہے۔

    ٹیرف (محصولات) کی جنگ شروع ہونے سے پہلے چین کی امریکہ کو برآمدات کی مالیت بہت زیادہ تھی لیکن اگر اسے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے دیکھا جائے تو یہ صرف دو فیصد بنتی ہے۔

    چینی حکومت نے اپنی عوام کو یقین دلایا ہے کہ وہ امریکہ کے معاشی حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ چین کی طرف سے لگائے جانے والے جوابی ٹیرف بھی امریکی برآمد کنندگان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حامیوں سے یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ چین کو ٹیرف لگا کر باآسانی جھکایا جا سکتا ہے لیکن وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہ دعویٰ حقیقت سے بہت دُور تھا۔

    بیجنگ ہتھیار ڈالنے والا نہیں ہے۔

  9. بریکنگ, چین نے امریکی مصنوعات پر ٹیرف 125 فیصد تک بڑھا دیا

    چین نے امریکی درآمدات پر ٹیرف 125 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔

    یہ اضافہ بدھ کو پہلے سے اعلان کردہ 84 فیصد ٹیرف سے زیادہ ہے۔ یہ وہی شرح ہے جو امریکہ اس وقت چینی مصنوعات پر لاگو کر رہا ہے۔

    یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی جنگ میں اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں چین، امریکہ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف میں اضافے کا جواب ویسے ہی ٹیرف بڑھا کر دے رہا ہے۔

  10. امریکہ کی ایرانی تیل کی تجارت میں ملوث انڈین شہری اور چینی ٹرمینل پر پابندیاں

    امریکہ نے ایران سے براہ راست مذاکرات سے قبل اس کے تیل کے تجارتی نیٹ ورک پر نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ایک اعلان کے مطابق چین میں قائم خام تیل کے سٹوریج ٹرمینل کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں مقیم انڈیا شہری جگویندر سنگھ برار پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ جگویندر سنگھ برار ان شپنگ کمپنیوں کے مالک ہیں جن کے بحری بیڑے میں قریب 30 جہاز شامل ہیں۔

    اس کا کہنا ہے کہ ’برار کے جہاز عراق، ایران، متحدہ عرب امارات اور خلیج عمان کے پانیوں میں پیٹرولیم کے خطرناک شپ ٹو شپ ٹرانسفر میں ملوث ہیں۔‘

    ان پابندیوں میں متحدہ عرب امارات اور انڈیا کی دو، دو کمپنیاں شامل ہیں جو مبینہ طور پر نیشنل ایرانی آئل کمپنی اور ایرانی فوج کے لیے ایرانی تیل ٹرانسپورٹ کرتی ہیں۔

    بیان کے مطابق ’ایرانی رجیم برار ان کی کمپنیوں جیسے شپرز اور بروکر پر انحصار کرتی ہیں تاکہ تیل بیچ سکے اور اپنے غیر مستحکم کرنے والی سرگرمیوں کی مالی اعانت کر سکے۔‘

    ان پابندیوں کے ذریعے ان کمپنیوں کے امریکہ میں موجود اثاثے اور کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ عمان میں سنیچر کو امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات شروع ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو ایران ’بڑے خطرے میں‘ پڑ سکتا ہے۔

    امریکہ نے ایک چینی کمپنی پر بھی پابندی کی ہے جو ایرانی تیل کی تجارت کرتی ہے۔ امریکی محکمۂ خزانہ کے سیکریٹری سکاٹ بیسینٹ نے کہا کہ ’امریکہ ایرانی تیل کی برآمد کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، خاص کر وہ عناصر جو اس تجارت سے منافع کماتے ہیں۔‘

    ان کے مطابق اس چینی ٹرمینل نے 2021 سے 2025 کے دوران کم از کم نو بار ایرانی خام تیل حاصل کیا اور اس کے لیے وہ بحری جہاز بھی استعمال کیے گئے جن پر امریکہ نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس ٹرمینل نے کم از کم ایک کروڑ 30 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل برآمد کیا۔‘

    چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے اور یہ امریکی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا۔ چین اور ایران نے تیل کی تجارت کا ایسا نیٹ ورک تشکیل دیا ہے جو چینی کرنسی یوآن پر منحصر ہے اور اس میں امریکی سختیوں سے بچنے کے لیے بروکر استعمال کیے جاتے ہیں۔

    چین نے تاحال ان پابندیوں پر تبصرہ نہیں کیا تاہم گذشتہ ماہ ایک ریفائنری پر پابندی کے بعد واشنگٹن میں چینی سفارتخانے نے کہا تھا کہ چین اِن غیر قانونی اور غیر منصفانہ پابندیوں کے سخت خلاف ہے۔

  11. بیلاروس میں شہباز شریف اور نواز شریف کے استقبال میں ’غیر معمولی گرمجوشی‘

    بیلا روس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بھائی نواز شریف کے اعزاز میں اپنے فارم ہاؤس پر عشائیہ دیا گیا۔

    پاکستانی حکومت کے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق ’صدر لوکاشینکو نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے لیے غیر معمولی گرمجوشی اور محبت کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے پرتپاک استقبال اور شاندار مہمان نوازی پر صدر لوکاشینکو کا شکریہ ادا کیا۔‘

    دفتر خارجہ کے مطابق شہباز شریف صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی دعوت پر 10 سے 11 اپریل تک بیلاروس کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے علاوہ دیگر وزرا اور اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔

    بیان کے مطابق یہ دورہ نومبر 2024 میں صدر لوکاشینکو کے پاکستان کے اہم دورے کے بعد ہو رہا ہے۔ اپنے قیام کے دوران وزیراعظم ’باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے صدر لوکاشینکو سے بات چیت کریں گے۔‘

  12. نیو یارک میں ہیلی کاپٹر دریائے ہڈسن میں گِر کر تباہ، پائلٹ سمیت چھ افراد ہلاک

    حکام کا کہنا ہے کہ تین بچوں سمیت پانچ افراد پر مشتمل ایک سیاح خاندان کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر نیو یارک کے دریائے ہڈسن میں حادثے کا شکار ہوا ہے۔

    نیو یارک کے میئر ایرک ولیمز نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ پانچ افراد کا خاندان سپین سے آیا تھا جبکہ چھٹا فرد پائلٹ تھا۔ یہ تمام افراد حادثے کے وقت ہیلی کاپٹر میں سوار تھے۔

    نیو یارک پولیس کمشنر جسیکا ٹِش نے کہا کہ خاندان کو مطلع کیے جانے کے بعد ہی حادثے میں شکار افراد کی شناخت ظاہر کی جائے گی۔ اس حادثے کی وجہ پر تحقیقات جاری ہیں۔

    حادثے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیلی کاپٹر ہوا میں الٹ کر دریائے ہڈسن میں گِرتا ہے۔

    حکام نے کہا کہ ہیلی کاپٹر جارج واشنگٹن بریج پر مڑنے اور نیو جرسی کے ساحل کی طرف جاتے ہوئے بے قابو ہو گیا تھا۔

    اسے نیو یارک ہیلی کاپٹرز نامی کمپنی آپریٹ کرتی تھی اور اس نے ڈاؤن ٹاؤن سکائی پورٹ سے اڑان بھری تھی۔

    حادثے کے فوراً بعد غوطہ خوروں کو پانی میں بھیجا گیا تھا۔ ریسکیو حکام نے اس خاندان کی زندگی بچانے کی کوشش کی مگر ان کی کوششیں ناکام رہیں۔

    چار افراد نے موقع پر دم توڑ دیا تھا جبکہ دو افراد کو قریبی ہسپتال میں مردہ قرار دیا گیا۔

    یہ ہیلی کاپٹر مین ہیٹن کے مغربی علاقے میں حادثے کا شکار ہوا جہاں سیاحتی مقامات کے ساتھ ساتھ نیو یارک یونیورسٹی کا کیمپس بھی ہے۔

    فیڈرل ایوی انتظامیہ نے کہا ہے کہ نیشنل ٹرانسپورٹ سیفٹی بورڈ کی سربراہی میں اس حادثے کی تحقیقات کی جائے گی۔

    بیل 206 نامی ہیلی کاپٹر اکثر سیاحتی مقاصد، ٹیلی ویژن نشریات یا پولیس حکام کی جانب سے استعمال کیا جاتا ہے۔

    واقعے کے عینی شاہدین میں سے ایک جین لینک نے بتایا کہ ’میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ کچھ لوگ پانی کی طرف بھاگ رہے تھے۔۔۔ پھر مجھے سائرن کی آواز آئی۔‘

    نیو جرسی کی رہائشی اپسیتا نے سی بی ایس کو بتایا کہ ’مجھے لگا یہ دھول مٹی یا پرندوں کی آواز ہے مگر پھر ایمرجنسی گاڑیوں کے سائرن سنائے دیے۔‘

    یہ پہلی بار نہیں جب نیو یارک میں سیاحتی ہیلی کاپٹر گِر کر تباہ ہوا ہو۔ 2018 میں اسی طرح کے ایک واقعے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے مگر پائلٹ بچ گیا تھا۔

    2009 میں اٹلی سے آئے سیاحوں کے ہیلی کاپٹر حادثے میں نو افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

  13. پاکستان نے اب تک افغان سٹیزن کارڈ کے حامل آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد کو واپس بھیجا ہے: طلال چوہدری

    پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری کا کہا ہے کہ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد کو واپس اپنے ملک بھیجا جاچکا ہے۔

    جمعرات کو ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کا انخلا جاری ہے۔۔۔ انخلا کی مدت میں توسیع نہیں ہوگی۔ اب تک غیر قانونی طور پر مقیم غیرملکیوں اور افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے آٹھ لاکھ 57 ہزار 157 کو واپس اپنے ممالک میں بھیجا جاچکا ہے۔‘

    طلال چوہدری نے کہا کہ ملک میں افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے شہریوں کی تعداد 8 لاکھ 15 ہزار 247 پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں۔ پی او آر پروگرام پاکستان میں 2006 سے شروع ہوا اور 2023 تک جاری رہا جس میں 15 لاکھ 69 ہزار 522 افغان شہری رجسٹرڈ ہوئے تھے۔

    انھوں نے واضح کیا کہ ’ملک میں دہشت گردی کے تناظر میں انخلا کا فیصلہ کیا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ون ڈاکومنٹ رجیم میں کسی بھی ملک سے کوئی شخص پاکستان میں آسکتا ہے، کاروبار کرسکتا ہے، رہائش اختیار کرسکتا ہے۔ بالکل اسی طرح افغان شہری بھی اب ویزا پر پاکستان آسکتے ہیں اور جتنے لوگوں کو ہم بھیج رہے ہیں وہ ویزا بنوائیں اور قانونی ڈاکومنٹس کے بعد پاکستان میں آ کر رہیں۔‘

  14. بی بی سی کی نئی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    بی بی سی کی اس لائیو کوریج میں 11 اپریل اور اس کے بعد کی خبریں اور تجزیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

    گذشتوں دنوں کی خبروں کے لیے آپ یہاں کلک کر سکتے ہیں!