آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

خیبر پختونخوا میں لوڈ شیڈنگ کا بحران: ’اگر نیشنل گرڈ کی بجلی کم کی تو وہ بٹن بھی میرے ہاتھ میں ہے‘ علی امین گنڈاپور کی وفاق کو دھمکی

خیبر پختونخوا میں لوڈ شیڈنگ کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور نیشنل گرڈ کے دورے کے موقع پر علی امین گنڈا پور نے وفاق کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر نیشنل گرڈ کی بجلی کم کی تو نیشنل گرڈ والا بٹن بھی میرے ہاتھ میں ہے میں وہ بٹن بھی بند کر دوں گا‘۔

خلاصہ

  • پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک میں آج عید الاضحی مذہبی جوش و جذبے سے منائی جا رہی ہے۔
  • خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں ایک بم دھماکے میں چار افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کے ایک دوسرے واقعے میں دو بھائیوں کو مبینہ طور پر قتل کیا گیا ہے۔
  • وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں چینی سفارت خانے میں سفیر جیانگ زی ڈونگ سے ملاقات کی جس میں سی پیک اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے والے چینی انجینئروں اور عملے کے سکیورٹی پلان سے متعلق انھیں بریفنگ دی گئی۔

لائیو کوریج

  1. پارلیمانی کمیٹی نے تین ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظور دے دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اعلی عدالتوں میں ججز کی تعیناتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے تین ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظور دے دی ہے۔

    جن تین ناموں کی سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے ان میں لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان، سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عقیل احمد عباسی اور لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد بلال شامل ہیں۔

    ان تین ججز کی تیعناتی کے بعد سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 ہو جائے گی۔

    چند روز قبل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ان تین ججز کے ناموں کی منظوری دی گئی تھی جسے حتمی منظوری کے لیے ججز کی تعیناتی کے لیے قائم پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیا گیا تھا۔

    ’عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا اختتام جلد ہو گا‘

    آج اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ انھیں اس بات کا یقین ہے کہ عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا اختتام جلد ہو گا۔

    راولپنڈی میں منعقد تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے کہا کہ عدلیہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے جان چھڑانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’عدلیہ تحریک سے پہلے لوگ کہتے تھے کہ جج ایک بار گھر چلا جائے تو واپس نہیں آتا لیکن عدلیہ تحریک نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بحال کیا، ناممکن کو ممکن کرکے دکھایا، عدلیہ تحریک کی جدوجہد نے مارشل لا کا راستہ بند کیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں مداخلت کا اغاز مولوی تمیز الدین کیس سے ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ ’دو تین دن پہلے ایک جج نے کمپلینٹ بھیجی اور آخر میں کہا کہ میں ان میں سے کسی اقدام سے خوف زدہ نہیں۔ مجھے کسی بھی قسم کی قربانی دینا پڑے میں تیار ہوں مگر کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کروں گا۔‘

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے مطابق ’ان کے ان الفاظ سے میرا خون ڈیڑھ کلو بڑھ گیا۔ ماتحت عدلیہ پر فخر ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہماری جوڈیشری بغیر کسی دباو اور دھمکی میں آئے بغیر اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔‘

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ جب بغیر کسی خوف اور ڈر کے انصاف فراہم کریں گے تو اللہ کی مدد حاصل ہوگی۔

  2. فیصلے ’بڑے صاحب‘ کریں گے تو حکومت سے مذاکرات کا کیا فائدہ، عمران خان کا سوال, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ’جب فیصلے اوپر سے بڑے صاحب کریں گے تو پھر موجودہ حکمرانوں سے مذاکرات کا کیا فائدہ؟‘

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈز کے مقدمے کی سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے بانی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے معاملے پر ’غلط بیانی نہ کی جائے کہ پی ٹی آئی مذاکرات نہیں چاہتی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سیاستدان ہمیشہ مذاکرات میں ہی جاتا ہے‘ تاہم ’جب فیصلے اوپر سے بڑے صاحب کریں گے تو پھر موجودہ حکمرانوں سے مذاکرات کا کیا فائدہ؟‘

    بانی پی ٹی آئی نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی ’اُن کے نمائندے سے مذاکرات کیے، حکومت سے نہیں۔‘

    11 جون کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’آج (منگل کے روز) عمران خان نے پارٹی کو سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کی اجازت دے دی ہے۔‘ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے منگل کے روز ہونے والی ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بتایا کہ ’بانی ٹی پی آئی نے اتحاد کی بنیاد پر محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں ڈائیلاگ کرنے کی اجازت دی ہے۔‘

    مگر اب صحافیوں سے گفتگو کے دوران عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’(ہم نے) سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے کہنے پر پی ڈی ایم (کی حکومت) سے مذاکرات کیے تو کہا گیا بڑے صاحب نے فیصلہ کیا ہے جب تک بندیال سیٹ پر ہیں، الیکشن نہیں ہوں گے۔‘

    کمرہ عدالت میں موجود اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار کے مطابق جب ایک صحافی نے جب عمران خان سے سوال کیا کہ ’خان صاحب آپ کیا چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ مذاکرات کے لیے نمائندہ مقرر کرے، تب آپ مذاکرات کریں گے؟‘ تو اس پر عمران خان جواب دیے بغیر کمرۂ عدالت سے باہر چلے گئے۔

    اس سے قبل عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’جو جج پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو انصاف دینے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔‘

    اس کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’سرگودھا کے جج نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا کہ کیسے خفیہ ادارے نے اس پر دباؤ ڈالا اور اس جج کے گھر کی گیس کاٹ دی گئی۔‘

    احتساب عدالت میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن پر حملے میں ’آئی ایس آئی کے لوگ ملوث تھے۔‘ خیال رہے کہ گذشتہ ماہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت رؤف حسن پر حملے کی سنجیدگی سے تحقیق کرے گی۔

    عمران خان نے پاکستان کے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کروائیں۔ انھوں نے اعتراض اٹھایا کہ ’چیف جسٹس کی موجودگی میں ہی قانونی کی حکمرانی میں مداخلت ہو رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ ملک ’صرف سرمایہ کاری سے بچے گا جو قانونی کی حکمرانی سے ہی آئے گی۔‘

    جیل اہلکار کے مطابق سابق وزیر اعظم صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے تو اس دوران کمرہ عدالت میں ن لیگ کے سابق ایم این اے دانیال چوہدری بھی موجود تھے جنھیں دیکھ کر وہ برہم ہو گئے اور انھوں نے دانیال چوہدری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے ایم این ایز باہر بیٹھے ہیں تم کیسے اندر آ گئے؟‘

    جیل اہلکار کے مطابق ’عمران خان کو غصے میں دیکھ کر بیرسٹر دانیال چوہدری کمرہ عدالت سے باہر چلے گئے۔‘

  3. جبری گمشدگی کے الزام پر اب اداروں کے سربراہان کو طلب کریں گے: جسٹس کیانی, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    جبری گمشدگی کے مقدمے کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات سے لوگوں میں نفرت ’اداروں کے خلاف نہیں بلکہ ریاست کے خلاف بڑھ رہی ہے۔‘

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لاپتہ شہری خواجہ خورشید کی بازیابی کی درخواست پر سیکرٹری داخلہ و سیکرٹری دفاع کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ سیکرٹریز ’آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف آئی اے سے معلوم کر کے رپورٹ جمع کرائیں۔‘

    عدالت نے حکم دیا ہے کہ سیکریٹری دفاع راولپنڈی، اسلام آباد اور کشمیر کے سیکٹر کمانڈرز سے رپورٹ لے کر آگاہ کریں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مسنگ پرسن کی اہلیہ خلیفہ خورشید کی درخواست پر احکامات جاری کیے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ خواجہ خورشید نے نیلم ویلی سے ایم ایل اے کے انتخابات میں حصہ بھی لیا تھا۔

    درخواست گزار کے وکلا نے اس درخواست میں بنائے گئے فریقوں کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا کی تھی جسے جسٹس محسن اختر کیانی نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ جب تک وزارت دفاع اور وزارت داخلہ سے رپورٹ نہیں آجاتی اس وقت تک نوٹس جاری جاری نہیں کیا جاسکتا۔

    انھوں نے کہا کہ پالیسی بنانے والوں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ ’ایک ایکشن کا ری ایکشن بڑا سخت آ رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے عدالتوں کا کام جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی تک ہی محدود رہ گیا ہے۔

    وکیل ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ ایک طالب علم انیس الرحمن کو پانچ جون کو بلوچستان سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا اور ابھی تک ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے پانچ طالب علموں کو ’اٹھایا گیا تھا جن کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ اب گھروں کو پہنچ چکے ہیں۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’چلیں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی لمبی فہرست میں کچھ تو کمی واقع ہوئی ہے۔‘

    ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ ان کے علاوہ ایک اور بلوچستان کے رہائشی راشد حسین کو دوبئی کی حکومت کے پاکستان کی درخواست پر ڈی پورٹ کرکے واپس بھیجا تھا لیکن ابھی تک ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے کہ وہ کہاں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں وزارت خارجہ سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن وہاں سے بھی کوئی جواب نہیں مل رہا۔

    ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ انھوں نے بلوچستان ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ’اگر راشد حسین پاکستان آیا تھا تو اس کی بازیابی حکومت وقت کا کام ہے۔‘

    ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ ’راشد حسین سنہ دو ہزار انیس میں دوبئی سے پاکستان آئے تھے اور اس کے بعد ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے کہا ہے کہ وہ جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے معاملے کو دیکھنے کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیں۔

    انھوں نے کہا کہ جو معاملات نیشنل سکیورٹی سے متعلق ہیں تو ان کی کارروائی کو اِن کیمرا کر دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آئندہ ایسے واقعات میں اٹارنی جنرل یا ایڈشنل اٹارنی جنرل کو نہیں بلائیں گے بلکہ ان اداروں کے سربراہوں کو طلب کریں گے جن پر جبری گمشدگیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اداروں کے وقار میں اضافہ ہونے کی بجائے ان اداروں کے خلاف ’نفرت بڑھ رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی ایک بڑا اچھا ادارہ تھا لیکن ایک ادارے کی مداخلت کی وجہ سے یہ ادارہ بھی صیح طریقے سے کام نہیں کر رہا۔

    انھوں نے کہا کہ ایسے واقعات میں عدالت مایوس ضرور ہوتی ہے لیکن وہ اس مقدمے کو ختم نہیں کرے گی جب تک وہ بازیاب نہیں ہوتے۔

    انھوں نے کہا کہ اداروں نے پرفارم کرنا ہوتا ہے لوگوں کو اٹھانا نہیں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اگر عدالت نے متعقلہ افراد کے خلاف کارروائی کی ٹھان لی تو اس حکومت کے پچاس فیصد افراد کے خلاف کارروائی ہو جائے گی اور سب کو عدالت میں طلب کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی مقامی عدالت نے مزاحمتی شاعر احمد فرہاد کی دو مقدمات میں ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    احمد فرہاد کی وکیل ایمان مزاری کے مطابق احمد فرہاد کے خلاف دو مقدمات درج تھے جن میں سے ایک قابل ضمانت تھا جبکہ دوسرا کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تھا اور ان دونوں کیسز میں ان کی ضمانت ہو گئی ہے۔

  4. یقین ہے عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا اختتام جلد ہو گا، عدلیہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے جان چھڑانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ انھیں اس بات کا یقین ہے کہ عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا اختتام جلد ہو گا۔

    راولپنڈی میں منعقد تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ملک شہزاد احمد خان نے کہا کہ عدلیہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے جان چھڑانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’عدلیہ تحریک سے پہلے لوگ کہتے تھے کہ جج ایک بار گھر چلا جائے تو واپس نہیں آتا لیکن عدلیہ تحریک نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بحال کیا، ناممکن کو ممکن کرکے دکھایا، عدلیہ تحریک کی جدوجہد نے مارشل لا کا راستہ بند کیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں مداخلت کا اغاز مولوی تمیز الدین کیس سے ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ ’دو تین دن پہلے ایک جج نے کمپلینٹ بھیجی اور آخر میں کہا کہ میں ان میں سے کسی اقدام سے خوف زدہ نہیں۔ مجھے کسی بھی قسم کی قربانی دینا پڑے میں تیار ہوں مگر کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کروں گا۔‘

    چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے مطابق ’ان کے ان الفاظ سے میرا خون ڈیڑھ کلو بڑھ گیا۔ ماتحت عدلیہ پر فخر ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہماری جوڈیشری بغیر کسی دباو اور دھمکی میں آئے بغیر اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔‘

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ جب بغیر کسی خوف اور ڈر کے انصاف فراہم کریں گے تو اللہ کی مدد حاصل ہوگی۔

    جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے مزید کہا کہ عدلیہ تحریک سے پہلے لوگ کہتے تھے جج ایک بار گھر چلا جائے تو واپس نہیں آتا۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں مداخلت میں مختلف ادارے ملوث ہیں عدلیہ میں مداخلت کا مقابلہ اس ایمان کے ساتھ کرنا ہے کہ یہ مداخلت جلد ختم ہوگی اور پورا یقین ہے کہ عدلیہ میں مداخلت کا جلد اختتام ہوگا۔

  5. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی مقامی عدالت نے شاعر احمد فرہاد کی دو مقدمات میں ضمانت منظور کر لی, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی مقامی عدالت نے شاعر احمد فرہاد کی دو مقدمات میں ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    احمد فرہاد کی وکیل ایمان مزاری کے مطابق احمد فرہاد کے خلاف دو مقدمات درج تھے جن میں سے ایک قابل ضمانت تھا جبکہ دوسرا کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تھا اور ان دونوں کیسز میں ان کی ضمانت ہو گئی ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے شاعر احمد فرہاد 15 مئی کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔

    اُن کی اہلیہ عین نقوی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے شوہر کو گذشتہ دو سال سے ’سنگین نتائج کی دھمکیاں‘ مل رہی تھیں۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اُن کے شوہر کو کہا جا رہا تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے خلاف لکھنا چھوڑ دیں، ورنہ ان کے حق میں بہتر نہیں ہو گا۔

    حکومت پاکستان کی جانب سے عدالت کو فراہم کی جانے والی تفصیلات کے مطابق احمد فرہاد کو ابتدائی طور پر دھیر کوٹ پولیس نے 29 مئی کو ہی درج ہونے والے ایک مقدمے میں کارِ سرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا تاہم بعدازاں انھیں مظفر آباد میں اقدامِ قتل اور انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت درج ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا

  6. بریکنگ, پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، انڈیکس ملکی تاریخ پہلی بار 77000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں جمعے کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا جب سٹاک مارکیٹ میں 1000پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد مارکیٹ کا انڈیکس 77000 پوائنٹس عبور کر گیا جو انڈیکس کی بلند ترین سطح ہے۔

    سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ روز تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جب انڈیکس میں ایک کاروباری روز میں 3410 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    جمعے کے روز بھی انڈیکس میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے اور انڈیکس میں اب تک ایک ہزار پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    تجزیہ کاروں کی جانب سے تیزی کی وجہ سے وفاقی بجٹ میں سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کرنے پر ٹیکس میں کسی نئے اضافے کو قرار دیا گیا ہے۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’بجٹ سے پہلے یہ خدشات تھے کہ سٹاک مارکیٹ میں منافع پر کیپٹل گین ٹیکس میں اضافہ کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ دباو آئی۔‘

    شہر یار بٹ کے مطابق ’تاہم بجٹ آنے کے بعد سٹاک مارکیٹ پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا جو خوش آئند ثابت ہوا ۔ بجٹ میں میوچل فنڈز پر ٹیکس لگایا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہاں سے بھی پیسہ سٹاک مارکیٹ میں آئے گا۔‘

    ان کے مطابق ’اسی طرح ریئل سٹیٹ پر بھی ٹیکس لگا جس کے بعد امکان ہے کہ وہ اس کا پیسہ بھی سٹاک مارکیٹ میں آئے گا اور اس کی وجہ سے تیزی ہے۔ دوسری جانب کیونکہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی مرضی کے مطابق بنا ہے اور پاکستان نیا پروگرام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا اس لیے اس نے بھی مارکیٹ میں مثبت رجحان کو پیدا کیا۔‘

  7. نکاح کیس میں خاور مانیکا اور ان کے وکیل کو 21 جون کو پیش ہو نے کا حکم ’زندہ رہا تو 10 دن میں فیصلہ کر دوں گا‘ جج افضل مجوکا, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں کی جلد سماعت اور سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے کی۔

    بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا اور ان کے وکیل کو 21 جون کو عدالت پیش ہو نے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ بصورت میں ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کردیا جائے گا۔

    سماعت کے آغاز پر عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان ریاض گل ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ عدالت پیش کردیا۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ روز بانی تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر سیشن کورٹ کو 10 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا تھا جبکہ نکاح کیس کی اپیل کا فیصلہ ایک ماہ میں کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

    عثمان ریاض گل ایڈوکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت عالیہ کی ڈائریکشن آچکی ہے، مقدمے کو کل کے لیے رکھ لیں۔ جس پر جج افضل مجوکا نے کہا کہ کل ممکن نہیں ہے، بہت سی ضمانتوں کی درخواستیں لگی ہوئی ہیں، اگرمیں زندہ رہا تو 10 دنوں میں فیصلہ کر دوں گا۔‘

    جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ اگر دوسری پارٹی پیش نہ بھی ہوئی تب بھی فیصلہ کردوں گا۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے نکاح کیس کی سماعت میں ایک وقفہ کردیا گیا جس کے بعد جج افضل مجوکا نے فریقین کو نوٹس کردیے۔

    بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا اور ان کے وکیل کو 21 جون کو عدالت پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ بصورت میں ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کردیا جائے گا۔ عدالت عدالت نے کیس کی سماعت 21 جون تک ملتوی کردی

  8. ٹیکس کی شرح کو کم کرنا اور ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کرنا اولین ترجیح ہے: شہباز شریف

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں غریب اورمتوسط طبقے پرکم سے کم ٹیکس عائد کیا ہے۔

    ٹیکس اصلاحات، ڈیجٹیلائزیشن اور محصولات میں اضافے کے حوالے سے متعلق اسلام آباد میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اشرافیہ کو ٹیکس دینا ہوگا ۔

    وزیراعظم نے کہا ’ہماری اولین ترجیح ٹیکس کی شرح کو کم کرنا اور ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم ٹیکس چوروں اور ٹیکس ناہندگان اور ان کی معاونت کرنے والے عناصر کا ہر صورت سد ِباب کریں گے۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس دینے کے اہل افراد کو جلد سے جلد ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ پالیسیوں کے مکمل نفاذ سے ملکی آمدنی میں اربوں روپے کا اضافہ ممکن ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ چین کی ڈیجیٹلائزیشن اور آٹو میشن سے ملکی معیشت کی قدر کو دستاویزی شکل دی جا سکے گی۔

    شہبازشریف نے کہا کہ ایف بی آر ملکی معیشت کا اہم ترین ستون ہے اور حکومت انسانی وسائل کی ترقی اور ڈیجیٹلائزیشن کیلئے تمام وسائل مہیا کرے گی ۔

  9. پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 16 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں سولہ کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک زرمبادلہ ذخائر 14 ارب 38 کروڑ چالیس لاکھ ڈالر پر پہنچ گئے ہیں۔ جن میں ایک ہفتے کے دوران سولہ کروڑ اسی لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی تحویل میں زر مبادلہ ذخائر نو ارب دس کروڑ تیس لاکھ ڈالر موجود ہیں، جن میں ایک ہفتے کے دوران ساٹھ لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    ملک کے تجارتی بینکوں کے پاس پانچ ارب 28 کروڑ ڈالر موجود ہیں جن میں ایک ہفتے کے دوران سترہ کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کی گیا۔

  10. ’پیغام ملا کہ آئی ایس آئی کے کوئی صاحب چیمبر میں ملنا چاہتے ہیں‘، انسداد دہشتگردی کے جج کے مراسلے پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کا احوال

    لاہور ہائیکورٹ نے سرگودھا کے انسداد دہشتگردی کی عدالت کے ایک جج کی طرف سے موصول ہونے والے مراسلے پر جمعرات کو از خود نوٹس پر سماعت کی۔

    عدالتی سماعت سے قبل ضلعی عدالت کے جج محمد عباس کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ کو بھیجے گئے دو خصوصی رپورٹس پر نظر دوڑاتے ہیں کہ جج نے ہائیکورٹ کو کیا بتایا۔ جج محمد عباس کی عدالت میں تحریک انصاف متعدد رہنماؤں کے 9 مئی کے مبینہ پرتشدد واقعات سے متعلق مقدمات زیر سماعت تھے۔

    جج کی طرف سے ان رپورٹس کے چند مندرجات لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد نے اپنے تحریری حکمنامے میں بھی درج کیے۔ پہلے جج کو سنتے ہیں اور پھر عدالتی سماعت کے تفصیلی احوال کا رخ کرتے ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ کو موصول ہونے والے جج کے مراسلے میں کیا ہے؟

    لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے سماعت کے بعد تحریری حکمنامے میں لکھا کہ سات جون کو سرگودھا کی انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت کے جج محمد عباس کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو ایک خصوصی رپورٹ موصول ہوئی۔

    اس رپورٹ میں جج محمد عباس نے بتایا کہ انھوں نے رواں برس 25 مئی کو اپنے عہدے کا چارج لیا تو انھیں یہ پیغام ملا کہ ان سے آئی ایس آئی کے کوئی صاحب ان کے چیمبر میں ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ مگر، جج کے مطابق، انھوں نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔

    اس کے بعد جج کے خاندان والوں نے انھیں بتایا کہ کچھ نامعلوم لوگوں نے بہاولپور میں واقع ان کے پرانے گھر کے گیس میٹر کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ گھر جج کو اس وقت الاٹ ہوا تھا جب وہ وہاں پر انسداد بدعنوانی کی عدالت کے جج تعینات تھے۔ ابھی ان کے گھر والے اسی گھر میں رہائش پذیر تھے۔

    جج محمد عباس نے اپنے مراسلے میں بتایا کہ ان کے خاندان والوں کو گذشتہ ماہ کا بجلی کا بل بہت بڑھا چڑھا کر دیا گیا اور ان کے خاندان سے اضافی پیسے بھی وصول کیے گئے۔

    جج کے مطابق یہ بل بظاہر جعلی تھا اور اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ بل ’آئی ایس آئی اور واپڈا کے اہلکاروں کی ملی بھگت‘ سے جاری کیا گیا تھا۔

    جج کے مطابق ان کے خاندان والوں سے ان سے متعلق ذاتی معلومات پوچھ کر انھیں ہراساں کیا گیا۔

    جج نے اپنی رپورٹ میں چھ جون کی رات دو بج کر 15 منٹ پر سرگودھا میں انسداد دہشتگردی کی عدالت کے گیٹ پر گاڑیوں پر آئے ہوئے نامعلوم افراد کی طرف سے بجلی کے ٹرانسفارمر پر فائرنگ کا بھی ذکر کیا۔

    جج اس وقت اس عدالت کے اندر موجود تھے۔ اس واقعے کی ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی۔ جج محمد عباس کی رپورٹ کے مطابق یہ دو گاڑیاں ڈی پی او کے دفتر کی طرف سے آئی تھیں۔ جج کے مطابق ان گاڑیوں میں موجود نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں بجلی کے ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچا۔ جج محمد عباس کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ کو بھیجی جانے والی رپورٹ کے ساتھ اس خراب ہونے والے ٹرانسفارمر کی تصاویر بھی لف کی گئی ہیں۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے مطابق دس جون کو جج محمد عباس کی طرف سے ایک اور رپورٹ لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو موصول ہوئی۔ اس رپورٹ کے مطابق دس جون کو ان کی عدالت کے سامنے 19 بعد از گرفتاری کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر تھیں جبکہ نو مقدمات کے ٹرائل ابھی زیر التوا تھے مگر تھریٹ الرٹ کے نام پر عدالت ہی بند کروا دی گئی۔

    از خود نوٹس پر عدالتی سماعت کا احوال

    انسداد دہشتگردی عدالت سرگودھا کے جج کے آئی ایس آئی سے نہ ملنے کے معاملے پر از خود نوٹس کی سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی۔

    سرگودھا کی انسداد دہشت گردی عدالت میں فائرنگ کے ایک ناخوشگوار واقعے کے سلسلے میں ‏لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب، آر پی او سرگودھا اور ڈی پی او سرگودھا کو ذاتی حیثیت میں طلب کررکھا تھا۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب عثمان انور سے استفسار کیا کہ ’آپ نے عدالت کو کس قانون کے تحت بند کیا۔ آپ نے لوگوں کو آئینی حقوق سے روکا، آپ عدالتوں کی یہ عزت کرتے ہو۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’آئی جی صاحب آپ کا کیا مؤقف ہے۔ آئی جی نے کہا کہ ’یہ انتہائی اہم اور عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے۔ سر آپ کو ایک رپورٹ جمع کرائی گئی ہے جو انتہائی حساس اور خفیہ ہے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’یہ رپورٹ تھریٹ الرٹس سے متعلق ہے۔‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ہمارے جوڈیشل افسر نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کی طرف سے میسج آیا ہے کہ آئی ایس آئی مجھ سے ملنا چاہتی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے آئی جی سے پوچھا کہ کیا ’آپ نے وہ بندہ ڈھونڈا ہے جس نے یہ کہا کہ میں نے جج سے ملنا ہے۔‘ آئی جی نے کہا کہ ’عدالت مجھے مؤقف پیش کرنے کا موقع دے۔ ہمیں سرگودھا کے اس ایریا کی جیو فینسگ کی ضرورت ہے، جہاں جج کو کال ہوئی۔ ہمیں بندہ ڈھونڈنے کے لیے سی ڈی آر بھی چاہیے۔‘

    آئی جی پنجاب نے کہا کہ ’یہ بھی دیکھنا ہے جج کو کال واٹس ایپ پر کی گئی ہے یا کسی اور طریقے سے کال کی گئی ہے۔‘

    آئی جی نے کہا کہ ’عدالت وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے ساتھ ہماری کمیٹی بنا دے۔‘

    آئی جی نے کہا کہ ’ہمیں بھکر، میانوالی اور سرگودھا کے جوڈیشل کمپلیکس سے متعلق تھریٹ ملے تھے۔

    چیف جسٹس نے آئی جی سے کہا کہ ’تھریٹ ہے یا نہیں ہے آپ یہ بتائیں سرگودھا کی عدالت میں وکلا کو جانے سے کیوں روکا گیا۔ مجھے وہ قانون بتا دیں جس کے ذریعے تھریٹ کے نام پر لوگوں کو بنیادی حقوق سے دور رکھا جائے۔ آپ سے راولپنڈی کی اے ٹی سی کے جج مینج نہیں ہوئے آپ نے ان کے ساتھ یہی کیا۔‘

    آئی جی نے کہا کہ ’یہ میرے متعلق نہیں ہے سر، میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ’سرگودھا عدالت کے باہر فائرنگ کے معاملے پر کیا اپ ڈیٹ ہے۔‘ آئی جی نے کہا کہ ’ہمیں وہاں سے 17 گولیوں کے خول ملے ہیں۔ ہم نے یہ معاملہ سی ٹی ڈی کو ریفر کر دیا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’آئی جی پنجاب آپ نے ابھی تک کون سا بندہ گرفتار کیا ہے۔‘ آئی جی نے کہا کہ ’ہمیں جیوفینسنگ کی اجازت دے دیں، ہم جیو فینسنگ کر کے آپ کو رپورٹ دے دیتے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سرگودھا کے اے ٹی سی جج کے گھر کا میٹر بھی توڑ دیا گیا۔ آئی جی نے کہا کہ ’میں نے چیک کرا لیا ہے، ہمیں اس حوالے سے کوئی درخواست نہیں ملی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’آئی جی پنجاب صاحب یہ آپ کے بس کا معاملہ نہیں ہے۔‘

    آئی جی نے کہا کہ ’اس کیس میں عدالت کا حکم چاہیے تا کہ ہمیں وفاقی حکومت سے جیو فینسنگ کی اجازت مل سکے۔‘

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’آئی جی پنجاب ڈی پی او سرگودھا یہ بتائیں کہ کس قانون کے تحت سرگودھا جوڈیشل کمپلیکس کو بند کیا گیا۔‘

    ڈی پی او سرگودھا نے کہا کہ ’وہاں تھریٹ الرٹ تھے، ہم نے سرچ اینڈ سویپ آپریشن کیا۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ نے صرف یہ کام اس لیے کیا کہ جج اے ٹی سی کے پاس جو کیسَز لگے ہیں وہ ان پر کارروائی نہ کر سکیں۔‘

    آئی جی پنجاب کے بار بار بولنے پر چیف جسٹس نے دوران سماعت آئی جی پنجاب کی سرزنش کی اور کہا کہ ’آپ خاموش رہیں۔‘

    چیف جسٹس نے آئی جی کو تنبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کیوں نہ سرگودھا جوڈیشل کمپلیکس بند کرنے پر پولیس کے خلاف توہینِ عدالت کی کاروائی شروع کی جائے۔‘

    ڈی پی او سرگودھا نے کہا کہ ’وہاں ہجوم تھا، سکیورٹی تھریٹ تھے، اس لیے بند کیا گیا۔‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’تھریٹ الرٹ تو پورے پاکستان میں ہیں، پھر سب کچھ بند کر دیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’جج صاحب نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ان کی حفاظت اللہ نے کرنی ہے۔ جج صاحب اپنے کام سے نہیں رکے انھوں نے کہا ہے کہ وہ تھریٹس سے نہیں ڈرتے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا حساب تو انھوں نے لینا ہے جنھیں اپ خوش کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’آئی جی پنجاب صاحب عدالتوں کا مذاق نہ بنائیں۔‘

    چیف جسٹس نو مئی والے بندے اندر ہیں کور کمانڈر کے گھر پر حملہ ہوا کارروائی ہو گئی، وہ تو چلیں عدالتوں نے فیصلے کرنے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے کی سب سے بڑی عدالت پر حملہ ہوا اپ نے ایک بھی بندے کو مقدمے میں نامزد نہیں کیا۔

    آئی جی نے کہا کہ ’آپ نے مجھے خود شاباش دی تھی کہ پولیس نے اچھی کارروائی کی۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’جو جج پسند نہیں آتا ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم شروع ہو جاتی ہے، درخواست آ جاتی ہے، پروگرام ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔`

    عدالت نے سماعت کے بعد اس از خود نوٹس پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    یاد رہے کہ رواں برس مارچ کے تیسرے ہفتے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کی طرف سے بھی خفیہ اداروں کے عدلیہ پر ’دباؤ‘ سے متعلق خط سامنے آیا تھا، جس میں انھوں نے سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا کہ آئی ایس آئی کے نمائندوں کی عدالتی امور میں مسلسل مداخلت پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

    اس خط میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کنونشن سے پتہ چلے گا کہ کیا ملک کی دیگر ہائیکورٹ کے ججز کو بھی اس صورتحال کا سامنا ہے۔

    اس خط میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں رہنمائی نہیں کی گئی کہ ایسی صورتحال میں ججز کیسے رد عمل دیں؟ اور اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں کہ ججز اس طرح کی مداخلت کو کیسے ثابت کریں؟

  11. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 25-2024 کے لیے 6.9 فیصد خسارے کا بجٹ پیش کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں بتایا کہ اگلے مالی سال میں دفاعی اخراجات کے لیے 2112 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جب کہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 1400 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔
    • وفاقی حکومت نئے مالی سال 2024-25 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں 22 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے
    • وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 25-2024 کے لیے 6.9 فیصد خسارے کا بجٹ پیش کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں بتایا کہ اگلے مالی سال میں دفاعی اخراجات کے لیے 2112 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جب کہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 1400 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے
    • وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت ملک کے بڑے ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرے گی اور اسلام آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کو اس سلسلے میں سب سے پہلے آؤٹ سورس کیا جائے گا
    • وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا ہے کہ سولر پینلز تیار کرنے کی غرض سے پلانٹ، مشینری اور اس کے ساتھ منسلک آلات اور سولر پینلز، انورٹرز اور بیٹریوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال اور پرزہ جات کی درآمد پر رعایتیں دی جا رہی ہیں
    • وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کی بدولت ہائیبرڈ اور عام گاڑیوں کے درمیان قیمتوں میں بہت زیادہ فرق کی وجہ سے ہائیبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی میں 2013 میں رعایت دی گئی تھی۔
    • حکومت نے اگلے مالی سال میں پٹرول و ڈیزل کی خریداری پر عوام سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے کی تجویز دی ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت اگلے مالی سال میں ڈیزل اور پٹرول پر اسی روپے تک پٹرولیم لیوی وصول کرے گی۔
    • اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر سیشن کورٹ کو 10 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا ہے جبکہ نکاح کیس کی اپیل کا فیصلہ ایک ماہ میں کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے
  12. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    یہاں آپ کے لیے پاکستان کی سیاسی، سماجی ، معاشی اور اقتصادی خبروں سمیت تمام اہم معاملات سے متعلق تفصیلات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    14 جون سے قبل کی خبروں کو جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔