بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اغوا
کے ایک ہائی پروفائل کیس میں مغوی کمسن طالب علم مصور خان کاکڑ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے
ہوئے کوئٹہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے اغوا کاروں نے ان کو ہلاک کر دیا ہے۔
جمعہ کے روز ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس
و سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے ہمراہ ایک پریس
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچے کو مبینہ طور پر کالعدم شدت پسند تنظیم داعش
نے اغوا کیا تھا اور ان کی بازیابی کے لیے ابتدا میں بارہ کروڑ ڈالر تاوان کا مطالبہ
کیا گیا تھا۔
سرکاری حکام نے ان کے پوسٹ مارٹم رپورٹ
کے حوالے سے بتایا کہ مصور کاکڑ کو اغوا کاروں نے دو گولیاں ماری تھیں۔
مصور خان کاکڑ کو گزشتہ سال نومبر
کے وسط میں سکول سے گھر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا اور ان کے اغوا کے
واقعے کے خلاف تاجروں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند
کا کہنا تھا کہ بچے کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گئے لیکن یہ امر افسوسناک
ہے کہ بچے کی بحفاظت بازیابی ممکن نہیں ہوئی۔
بچے کی اغوا بازیابی کی کوششوں کے بارے میں پولیس حکام نے کیا بتایا؟
اعتزاز گورایہ کا کہنا تھا کہ بچے کے اغوا کے بعد ان کی بازیابی کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی گئی۔
دو ہزار رہائشی گھروں کے علاوہ 12سو سے زائد کرائے کے گھروں کو سرچ کیا گیا جبکہ ایک ہزار سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ دیکھا گیا۔ اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی 17 نومبر کو برآمد کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ اغوا میں کالعدم تنظیم داعش ملوث ہے۔ اغوا کاروں کے ایران اور افغانستان کے نمبروں سے فون آرہے تھے اور اس سلسلے میں پاکستان میں ایران اور افغانستان کے سفارتکاروں سے معاونت حاصل کی گئی۔
اعتزاز گورایہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے جاری تحقیقات میں 25 اور 26 اپریل کو یہ معلوم ہوا کہ مغوی بچے کو کوئٹہ بائی پاس سے دشت منتقل کیا گیا جہاں ایک گھر پر سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ ایک خود کش بمبار نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے آڑایا۔
انھوں نے بتایا کہ اس کارروائی کے بعد اغوا کاروں نے مغوی بچے کو دشت سے اسپلنجی کے علاقے میں منتقل کیا جہاں انھوں نے فائرنگ کرکے ان کو جان سے مار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں کی تلاش کے لئے سرچ آپریشن کیا گیا جس میں ایک ماہ کا وقت لگا۔
اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ 23 جون قبر کا معلوم ہوا اور وہاں سے ایک بچے کی لاش برآمد کرکے کوئٹہ منتقلی کے بعد مصور کے والدین سے ڈی این اے کے لیے نمونے کی درخواست کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ نمونے حاصل کرنے کے بعد لاہور بھیج دیئے گئے جہاں سے آج یہ رپورٹ آئی کہ وہ لاش مصور کاکڑ کی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ واقعے میں ملوث تمام ملزمان کا تعاقب جاری رپے گا اور ان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
مغوی بچے کی پوسٹ مارٹم رہورٹ میں کیا ہے؟
کوئٹہ پولیس کی سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے بتایا کہ بچے کی لاش کی کوئٹہ منتقلی کے بعد اس کا جائزہ لیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بچے کو صرف دو گولیاں ماری گئی تھیں جن میں سے ایک سر اور دوسری سینے میں لگی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے کی موت سر پر لگنے والی گولی کی وجہ سے ہوئی۔
اغوا ہونے والے بچے مصور کاکڑ کا تعلق کوئٹہ شہر سے تھا اور وہ کوئٹہ کے ایک معروف تاجر راز محمد کاکڑ کے بیٹے تھے۔
مصور کاکڑ ایک نجی سکول میں تیسری جماعت کے طالب علم تھے اور وہ اسی سکول میں قرآن بھی حفظ کررہے تھے۔
مغوی بچے کے چچا حاجی ملنگ کاکڑ نے ان کے اغوا کے بعد بی بی سی کو بتایا تھا کہ مصور کاکڑ دو سپارے حفظ کرچکے تھے۔
حاجی ملنگ کاکڑ نے بتایا کہ وہ جانے اور گھر آنے کے لیے ایک نجی وین استعمال کرتا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ گھر سے نکلنے کے بعد مسلح اغوا کاروں نے مصور کاکڑ کو سکول وین سے اتار کر دوسری گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے۔
ان کے اغوا کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا تاہم ان کے لواحقین نے بلوچستان حکومت کی درخواست پر احتجاج کو ختم کیا تھا۔