آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

میر علی خودکش حملے میں 13 اہلکار ہلاک، کلیئرنس آپریشن میں 14 شدت پسند بھی مارے گئے: آئی ایس پی آر

صوبہ خیبرپختونخوا میں شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں دہشت گردوں کے حملے میں سکیورٹی فورسز کے 13 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن کے دوران دہشتگردوں 14 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • گزشتہ روز سیلابی ریلے میں 10 افراد کی ہلاکت کے بعد سوات میں سول سوسائٹی کی جانب سے انتظامیہ اور حکومت کی مبینہ غفلت کے خلاف احتجاج کیا گیا۔
  • خیبرپختونخوا حکومت نے اس واقعے کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ ابتدائی طور پر چار اعلیٰ افسران کو معطل کیا گیا ہے۔
  • پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے بعد پی ٹی آئی نے اپنے ایم پی ایز پر جرمانے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سپیکر نے اس معاملے پر الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجنے کا اعلان کیا۔
  • اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایرانی فوجی افسران اور جوہری سائنسدانوں کی نمازِ جنازہ آج تہران میں ادا کی جا رہی ہیں۔
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر لکھا ہے کہ ’اگر صدر ٹرمپ معاہدہ چاہتے ہیں تو انھیں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بارے میں اپنا ہتک آمیز اور ناقابلِ قبول لہجہ ترک کرنا ہو گا۔‘
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ ’لگتا ہے کہ غزہ میں آئندہ ایک ہفتے کے اندر جنگ بندی ممکن ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے بیان پر امریکی صدر کی تنقید: ’میں نے انھیں ایک بُری اور ذلت آمیز موت سے بچایا‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اسرائیل کے خلاف جنگ جیتنے کا ’جھوٹا‘ دعویٰ کیا ہے۔

    جمعے کو ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ تھا کہ ’ان کا ملک تباہ ہو گیا تھا، تین شیطانی جوہری مراکز ختم ہو چکے تھے اور مجھے معلوم تھا کہ انھوں (آیت اللہ علی خامنہ ای) نے کہاں پناہ لی ہوئی ہے لیکن میں نے پھر بھی اسرائیل اور امریکی افواج کو ان کی زندگی کا خاتمہ نہیں کرنے دیا۔‘

    خیال رہے گذشتہ روز ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران اسرائیل کے خلاف جنگ میں ’فاتح‘ بن کر اُبھرا ہے۔

    انھوں نے اپنے پیغام میں امریکہ اور امریکی صدر پر بھی سخت تنقید کی اور کہا تھا کہ امریکہ براہ راست جنگ میں ’اس لیے داخل ہوا کیونکہ اسے محسوس ہوا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو صیہونی ریاست مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔‘

    آیت اللہ علی خامنہ ای نے مزید کہا تھا کہ امریکہ کو ’اس جنگ سے کوئی فائدہ نہیں ہوا‘ اور ایران نے ’امریکہ کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ مارا ہے۔‘

    ٹرتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں نے انھیں (ایرانی رہبرِ اعلیٰ) ایک بُری اور ذلت آمیز موت سے بچایا اور انھوں نے یہ تک نہیں کہا کہ ’شکریہ، صدر ٹرمپ‘۔‘

  2. مغوی بچے مصور خان کاکڑ کی ہلاکت کی تصدیق: ’کوشش کے باوجود انھیں بازیاب نہیں کروا سکے‘ ترجمان حکومت بلوچستان, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اغوا کے ایک ہائی پروفائل کیس میں مغوی کمسن طالب علم مصور خان کاکڑ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کوئٹہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے اغوا کاروں نے ان کو ہلاک کر دیا ہے۔

    جمعہ کے روز ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس و سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچے کو مبینہ طور پر کالعدم شدت پسند تنظیم داعش نے اغوا کیا تھا اور ان کی بازیابی کے لیے ابتدا میں بارہ کروڑ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    سرکاری حکام نے ان کے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ مصور کاکڑ کو اغوا کاروں نے دو گولیاں ماری تھیں۔

    مصور خان کاکڑ کو گزشتہ سال نومبر کے وسط میں سکول سے گھر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا اور ان کے اغوا کے واقعے کے خلاف تاجروں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا تھا کہ بچے کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گئے لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ بچے کی بحفاظت بازیابی ممکن نہیں ہوئی۔

    بچے کی اغوا بازیابی کی کوششوں کے بارے میں پولیس حکام نے کیا بتایا؟

    اعتزاز گورایہ کا کہنا تھا کہ بچے کے اغوا کے بعد ان کی بازیابی کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی گئی۔

    دو ہزار رہائشی گھروں کے علاوہ 12سو سے زائد کرائے کے گھروں کو سرچ کیا گیا جبکہ ایک ہزار سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ دیکھا گیا۔ اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی 17 نومبر کو برآمد کی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ اغوا میں کالعدم تنظیم داعش ملوث ہے۔ اغوا کاروں کے ایران اور افغانستان کے نمبروں سے فون آرہے تھے اور اس سلسلے میں پاکستان میں ایران اور افغانستان کے سفارتکاروں سے معاونت حاصل کی گئی۔

    اعتزاز گورایہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے جاری تحقیقات میں 25 اور 26 اپریل کو یہ معلوم ہوا کہ مغوی بچے کو کوئٹہ بائی پاس سے دشت منتقل کیا گیا جہاں ایک گھر پر سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ ایک خود کش بمبار نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے آڑایا۔

    انھوں نے بتایا کہ اس کارروائی کے بعد اغوا کاروں نے مغوی بچے کو دشت سے اسپلنجی کے علاقے میں منتقل کیا جہاں انھوں نے فائرنگ کرکے ان کو جان سے مار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں کی تلاش کے لئے سرچ آپریشن کیا گیا جس میں ایک ماہ کا وقت لگا۔

    اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ 23 جون قبر کا معلوم ہوا اور وہاں سے ایک بچے کی لاش برآمد کرکے کوئٹہ منتقلی کے بعد مصور کے والدین سے ڈی این اے کے لیے نمونے کی درخواست کی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ نمونے حاصل کرنے کے بعد لاہور بھیج دیئے گئے جہاں سے آج یہ رپورٹ آئی کہ وہ لاش مصور کاکڑ کی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ واقعے میں ملوث تمام ملزمان کا تعاقب جاری رپے گا اور ان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

    مغوی بچے کی پوسٹ مارٹم رہورٹ میں کیا ہے؟

    کوئٹہ پولیس کی سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے بتایا کہ بچے کی لاش کی کوئٹہ منتقلی کے بعد اس کا جائزہ لیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بچے کو صرف دو گولیاں ماری گئی تھیں جن میں سے ایک سر اور دوسری سینے میں لگی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے کی موت سر پر لگنے والی گولی کی وجہ سے ہوئی۔

    مصور کاکڑ کون تھے؟

    اغوا ہونے والے بچے مصور کاکڑ کا تعلق کوئٹہ شہر سے تھا اور وہ کوئٹہ کے ایک معروف تاجر راز محمد کاکڑ کے بیٹے تھے۔

    مصور کاکڑ ایک نجی سکول میں تیسری جماعت کے طالب علم تھے اور وہ اسی سکول میں قرآن بھی حفظ کررہے تھے۔

    مغوی بچے کے چچا حاجی ملنگ کاکڑ نے ان کے اغوا کے بعد بی بی سی کو بتایا تھا کہ مصور کاکڑ دو سپارے حفظ کرچکے تھے۔

    حاجی ملنگ کاکڑ نے بتایا کہ وہ جانے اور گھر آنے کے لیے ایک نجی وین استعمال کرتا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ گھر سے نکلنے کے بعد مسلح اغوا کاروں نے مصور کاکڑ کو سکول وین سے اتار کر دوسری گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے۔

    ان کے اغوا کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا تاہم ان کے لواحقین نے بلوچستان حکومت کی درخواست پر احتجاج کو ختم کیا تھا۔

  3. امریکہ اور اسرائیلی بمباری سے جوہری تنصیبات کو ’بہت زیادہ اور سنگین‘ نقصان پہنچا: ایرانی وزیر خارجہ کا اعتراف

    ایران کے وزیر خارجہ نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی بمباری میں ملک کے جوہری تنصیبات کو ’بہت زیادہ اور سنگین‘ نقصان پہنچا ہے۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کی شام ایک سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کی جانب سے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

    تاہم چند گھنٹے قبل ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ ’ان حملوں سے ملک کے جوہری پروگرام میں کوئی خلل نہیں پڑا۔‘ خامنہ ای امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا جواب دے رہے تھے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ بموں نے تین جوہری تنصیبات کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا ہے۔

    خامنہ ای نے امفیکی فوج کے حملوں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں کے بعد نشر ہونے والے ایرانی عوام سے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ ’امریکی حملے ’کچھ بھی اہم حاصل کرنے‘ میں ناکام رہے ہیں۔‘

    13 جون کو اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے روپوش رہنے والے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اصرار کیا کہ ٹرمپ نے بموں کے اثرات کو ’بڑھا چڑھا کر‘ پیش کیا ہے اور امریکہ اور اسرائیل کی کامیابی کا اعلان کیا۔‘

    تاہم اب رہبر اعلیٰ کے بیان کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے تبصرے ایک مختلف تاثر پیدا کرتے ہیں۔

    وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ جب اسرائیل نے حملے شروع کیے تو ایران نے مذاکرات کا چھٹا دور منسوخ کر دیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ نئے مذاکرات شروع کرنے کے لئے کوئی معاہدہ یا بات چیت نہیں کی گئی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ’ایرانی عوام کے مفاد‘ میں کیا ہے۔‘

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوشش میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو دفاعی استعمال سے دور رہتے ہوئے توانائی پیدا کرنے والے جوہری پروگرام کی تعمیر کے لئے 30 ارب ڈالر تک رسائی حاصل کرنے، پابندیوں میں نرمی کرنے اور اربوں ڈالر کے محدود ایرانی فنڈز کو بحال کرنے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    لیکن ایران میں ہونے والی پیش رفت اس اقدام میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

    ایران کی پارلیمنٹ نے بدھ کے روز جوہری توانائی کے عالمی نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون روکنے کے بل کی منظوری دے دی۔ اگر اس پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران اب جوہری معائنہ کاروں کو بھی اپنے مُلک میں جوہری تنصیبات اور مقصد کے لیے استعمال ہونے والے مقامات پر جانے کی اجازت نہیں دے گا۔

  4. بلوچ یکجہتی کمیٹی کا رہنماؤں گرفتار میں مزید 15 یوم کی توسیع پر احتجاج جاری, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت الائنس کے دیگر رہنمائوں اور عہدیداروں کی ایم پی او کے تحت گرفتاری میں مزید 15 یوم کی توسیع کی گئی ہے جس کے باعث ان کی رہائی عمل میں نہیں آسکی۔

    بی وائی سی نے رہنمائوں اور عہدیداروں کی گرفتاری اور اس میں چوتھی توسیع کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    خیال رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور کمیٹی کی رہنما بیبو بلوچ کو عید الفطر سے چند روز قبل کوئٹہ سے بلوچستان یونیورسٹی کے قریب دھرنے کے مقام سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    یہ دھرنا ضلع کچھی کے علاقے بولان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کے واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز کی آپریشن میں مارے جانے والے افراد کی لاشوں کو ان کے لواحقین کو حوالے نہ کرنے کے خلاف دیا جارہا تھا۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ اور بیبو بلوچ کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے باعث بی وائی سی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے ڈیڑھ سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے کوئٹہ میں بی وائی سی کے پانچ رہنمائوں سمیت 6 افراد کے سوا باقی تمام افراد کے خلاف ایم پی او کے تحت گرفتاری کے حکمنامے کو واپس لیا تھا جس کے باعث ان کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بیبو بلوچ کے علاوہ جن دیگر لوگوں کے خلاف گرفتاری کے حکمنامے کو واپس نہیں لیا گیا ان میں گلزادی بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور دونوں پیروں سے معذور رہنما بیبرگ بلوچ کے علاوہ بیبو بلوچ کے والد عبدالغفار بلوچ شامل ہیں جن کا تعلق نیشنل پارٹی سے ہے۔

    ان میں سے ایک دو کے سوا باقی تمام لوگوں کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کو تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے۔

    بی وائی سی کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے بتایا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر لوگوں کی گرفتاری کو تین ماہ کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے جس کے بعد ان کا مزید گرفتار رکھنا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب ان کو قانون کے مطابق تین ایم پی او کے تحت گرفتار رکھنے کا کوئی جواز نہیں تو ان کو رہا کیا جانا چاہیے تھا لیکن ان کو رہا نہیں کیا گیا بلکہ مختلف حیلوں اور بہانوں سے ان کو نہیں چھوڑا جارہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’بی وائی سی کی جدوجہد پر امن اور جمہوری ہے لیکن عوام میں اس کی مقبولیت سے حکمران خائف ہیں اس لیے بی وائی سی کے رہنمائوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ تنظیم کو پرامن جدوجہد نہیں کرنے دیا جارہا ہے۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور گرفتار کیے جانے والے دیگر افراد کو رہا کیا جائے۔

    جب اس سلسلے میں کوئٹہ جیل کے سپریٹنڈنٹ حمیداللہ پیچی سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے بی وائی سی کے گرفتار رہنمائوں کی ایم پی او کے تحت گرفتاری میں مزید 15یوم کی توسیع کی گئی ہے۔

    ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کی ایم پی او کے تحت گرفتاری میں توسیع کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بلوچستان کابینہ نے ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی کے دیگر گرفتار افراد کو امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کی توثیق کی تھی۔

  5. دریائے سوات میں سیلاب کا خطرہ، پی ڈی ایم اے کا ہائی الرٹ جاری

    صوبہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے نے دریائے سوات میں خوازہ خیلہ کے مقام پر پانی کی سطح 77,782 کیوسک تک پہنچنے کے بعد دریائے سوات میں انتہائی درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    شدید بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی اس خطرناک صورتحال کے پیش نظر پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ کے اضلاع کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو جاری کردہ مراسلے میں انسانی جانوں، املاک، فصلوں اور مویشیوں کے تحفظ کے لیے فوری احتیاطی اقدامات کی ہدایت دی گئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے صوبہ خیبر پختونخوا کی جانب سے تمام اضلاع کو سیلاب سے متاثر ہونے والے ممکنہ علاقوں اور کمزور مقامات کی فوری نشاندہی کر کے وہاں حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور دیگر ہنگامی اداروں کو نشیبی اور حساس علاقوں میں ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں جبکہ دریائے کابل اور اس کے معاون دریاؤں کے کنارے آباد آبادیوں کو ممکنہ خطرات سے بروقت آگاہ کیا جا رہا ہے۔

    اسی کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں اور ریلیف کیمپوں میں خوراک، ادویات اور رہائش کی سہولیات فوری طور پر مہیا کی جائیں۔

    پی ڈی ایم اے نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ ممکنہ سڑک بندش یا پانی جمع ہونے کی صورت میں مشینری اور دیگر ضروری آلات اہم مقامات پر پہلے سے پہنچائے جائیں تاکہ سیلابی صورتحال کی وجہ سے بند ہو جانے والی اہم شاہراہوں کو کھولنے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔

    پی ڈی ایم اے کا صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر 24 گھنٹے فعال ہے اور شہری کسی بھی ہنگامی صورتحال یا معلومات کے لیے ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

  6. انڈیا کا کشمیر پر دفاعی سربراہ اجلاس میں مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار

    انڈیا نے چین میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے کیونکہ اس میں دہشت گردی کے بارے میں ملک کے خدشات کی عکاسی نہیں کی گئی ہے۔

    انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ انڈیا کے لیے قابلِ قبول نہیں کہ اُس کے خدشات کو نظر انداز کیا جائے۔‘

    اگرچہ انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا، لیکن انڈین میڈیا نے بتایا کہ دہلی نے اس بیان پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اس میں پہلگام حملے کو شامل نہیں کیا گیا تھا، یہ عسکریت پسندوں کی جانب سے ایک انتہائی خطرناک حملہ تھا جس میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں 26 سیاح ہلاک ہوئے تھے۔

    انڈیا نے اپنے ہمسایہ ملک پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک عسکریت پسند گروپ کو پناہ دے رہا ہے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

    چین، روس اور چار وسطی ایشیائی ممالک نے خطے میں مغرب کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے جواب میں سنہ 2001 میں شنگھائی تعاون تنظیم تشکیل دی تھی۔ انڈیا اور پاکستان نے سنہ 2017 میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈیا نے پہلگام حملے کو نظر انداز کرنے کے بعد مشترکہ بیان کو ’پاکستان نواز‘ قرار دیا تاہم اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں عسکریت پسند سرگرمیوں کا ذکر کیا۔

    پاکستان نے انڈیا پر بلوچستان کی تحریک آزادی کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا ہے جس کی انڈیا تردید کرتا ہے۔

    اجلاس کے بعد انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے شنگھائی تعاون تنظیم پر زور دیا کہ وہ سرحد پار دہشت گردی کے مجرموں کا احتساب کرے، تاہم یہاں اس بیان میں انھوں نے واضح طور پر پاکستان کا ذکر نہیں کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’کچھ ممالک سرحد پار دہشت گردی کو پالیسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کے دوہرے معیار کے لئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کو ایسے ممالک پر تنقید کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔‘

    اپریل میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے حملے نے دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کو ایک اور جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔

    مئی میں انڈیا نے پاکستان پر فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا جنھیں وہ ’پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گردوں کہ اہم ٹھکانے‘ قرار دیتا ہے۔

    پاکستان نے اس دعوے کی تردید کی کہ یہ دہشت گردوں کے ٹھکانے تھے اور اس کے جواب میں انڈیا پر میزائل داغے۔

    دونوں ممالک کے درمیان یہ کشیدگی اور حملوں کا سلسلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس اعلان کے بعد ختم ہوئی کہ جس میں انھوں نے کہا تھا کہ انڈیا اور پاکستان نے امریکہ کی ثالثی میں ’مکمل اور فوری جنگ بندی‘ پر اتفاق کیا ہے۔

    تاہم انڈیا امریکہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی مداخلت سے مسلسل انکار کرتا رہا ہے۔

  7. دریائے سوات میں سیلابی ریلے میں ڈوب کر سات افراد ہلاک، چھ لاپتہ اور 15 کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری

    ریسکیو 1122 کے مطابق آج دریائے سوات میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث سات افراد ہلاک، چھ لاپتہ اور 15 کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق بائی پاس ریلکس ہوٹل کے قریب 10 سے زیادہ افراد ڈوبے، انگرو ڈھیرئی میں تین لاشیں نکالی گئیں، امام دھیرئی میں 22 سے زیادہ افراد کو بحفاظت نکالا گیا، غالیگے میں ایک لاش برآمد ہوئی جبکہ سات افراد کو نکالنے کے لیے آپریشن اب بھی جاری ہے۔

    اسی طرح مانیار میں سات افراد پھنسے ہویے ہیں، پنجیگرام میں ایک شخض تاحال پھنسا ہوا ہے جبکہ برا باما خیلہ مٹہ میں 20 سے 30 افراد کو کامیابی سے ریسکیو کیا گیا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بارشوں اور سیلابی ریلے کی تباہ کاریوں اور جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

  8. ایران پر حملے کا موازنہ ہیروشیما ناگاساکی پر ایٹمی حملوں سے کرنے پر ٹرمپ پر جاپان میں تنقید

    جاپان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کے ایران پر حملوں کو ہیروشیما اور ناگاساکی پر دوسری عالمی جنگ کے دوران جوہری بم گرانے سے موازنہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے کہا تھا کہ ’اس حملے نے جنگ کا خاتمہ کر دیا تھا۔ میں ہیروشیما کی مثال نہیں استعمال کرنا چاہتا، میں ناگاساکی کی مثال نہیں استعمال کرنا چاہتا لیکن تب بھی یہی ہوا تھا۔‘

    خیال رہے کہ امریکہ کے اگست، 1945 میں کیے گئے ان ایٹمی حملوں میں ایک لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ دونوں شہروں میں بچ جانے والے افراد ذہنی تناؤ کا شکار ہیں اور ان میں کینسر کا خطرہ بھی زیادہ ہے۔

    ناگاساکی کے میئر شیرو سوزوکی نے کہا کہ اگر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ’ایٹم بم گرانے کے عمل کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی ہے تو یہ بطور شہر ہمارے لیے بہت افسوسناک ہے۔‘

    جاپان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایٹم بم سے متاثرہ میماکی توشیوکی جو ایک نوبیل انعام جیتنے والے گروپ کا حصہ بھی ہیں نے ٹرمپ کے بیان کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔

    اسی گروپ کے ایک اور رکن تیروکو یوکویاما نے کیوڈو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بہت مایوس ہوں، مجھے صرف غصہ آ رہا ہے۔‘

    ہیروشیما میں جمعرات کو متاثرین کی جانب سے ایک مظاہرے میں ٹرمپ سے یہ بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ ہیروشیما میں اراکینِ پارلیمان نے اس حوالے سے ایک مذمتی قرار داد بھی پاس کی۔

  9. ’دریائے سوات میں متعدد افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے، چار لاشیں برآمد، ریسکیو آپریشن جاری‘

    خیبرپختونخوا ککے ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 شاہ فہد کے مطابق دریائے سوات میں سیلابی ریلے کے باعث بہنے والے افراد میں سے تین کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    ان کے مطابق اس بارے میں پانچ مختلف مقامات پر آپریشن جاری ہے جس میں 80 اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

  10. میر عطا الرحمن مینگل کے قتل کی ایف آئی آر میں اسداللہ مینگل اور سردار اختر مینگل کے بیٹے نامزد, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان میں مینگل قبیلے سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیت میر عطاالرحمن مینگل کے قتل کے ایف آئی آر میں مینگل قبیلے کے سربراہ اسداللہ مینگل اور بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے بیٹے میر گورگین مینگل سمیت ضلع خضدار کے علاقے وڈھ سے تعلق رکھنے والے چھ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی نے ایف آئی آر میں لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

    ایف آئی آر محمد جان نامی شخص کی مدعیت میں وڈھ کے علاقے آڑنجی کے لیویز تھانے میں درج کی گئی ہے جس میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان کلاشنکوفوں کے ساتھ آئے اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں میر عطاالرحمان زندگی کی بازی ہار گئے اور ان کا بیٹا مطیع الرحمان زخمی ہو گیا۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ واقعہ کے بعد ملزمان گاڑیوں میں فرار ہو گئے۔ میر عطاالرحمان کو چند روز قبل وڈھ کے علاقے آڑنجی میں قتل کیا گیا تھا جبکہ حملے میں ان کے بیٹے زخمی ہو گئے تھے۔

    اگرچہ میر عطا الرحمان پر حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے نے قبول کی تھی تاہم ایف آئی آر میں سردار اختر مینگل کے بھتیجے، بیٹے اور ان کے دیگر حامیوں کو نامزد کیا گیا ہے۔

    میر عطاالرحمان کا شمار ضلع خضدار کی اہم سیاسی اور قبائلی شخصیات میں ہوتا تھا۔ وہ بلوچستان کے سابق نگراں وزیر اعلیٰ میر نصیر مینگل کے بیٹے اور جھالاوان عوامی پینل کے سربراہ میر شفیق الرحمان مینگل کے بھائی تھے۔

    میر شفیق الرحمان مینگل کا شمار ریاست اور سرکار کے بڑے حامیوں میں ہوتا ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے میر شفیق مینگل، ان کے خاندان کے لوگ اور حامی کالعدم مسلح تنظیموں کے خلاف کھڑے ہوئے۔

    کالعدم تنظیموں کے حملوں میں شفیق الرحمان کے خاندان کے افراد کے علاوہ ان کے متعدد حامی بھی مارے گئے۔

    کالعدم بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کی جانب سے کوئٹہ میں سنہ 2011 میں پہلا خودکش حملہ میر شفیق مینگل کی رہائش گاہ پر کیا گیا تھا جس میں وہ خود محفوظ رہے تھے تاہم ان کے 14حامی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

    جوابی کارروائیوں میں مخالفین کے بھی متعدد لوگ مارے گئے تھے۔ گذشتہ روز وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور کورکمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم وڈھ گئے تھے جہاں انھوں نے سابق نگراں وزیر اعلیٰ میر نصیر مینگل اور میر شفیق مینگل سے تعزیت کا اظہار کیا تھا۔

    دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی نے پارٹی کے سربراہ کے بھتیجے اور بیٹے کے خلاف عطاالرحمان مینگل کے قتل کے مقدمے کے اندراج کی مذمت کی ہے۔

    بی این پی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ نے اس سلسلے میں ایک بیان میں اس مقدمے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ان کا کہنا ہے اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم نے قبول کی ہے۔

    آغا حسن نے اس مقدمے کو پارٹی کی بلوچستان کے حقوق کی آواز کو دبانے کی ایک سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی اس مقدمے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گی۔

  11. انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ، فوج کے ترجمان کا پاکستانی کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ, ریاض مسرور، بی بی سی اردو سرینگر

    انڈین فوج کے مطابق انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں اُدھم پور ضلع کے بسنت گڑھ علاقے میں فوج اور مسلح عسکریت پسندوں کے درمیان جمعرات کی دوپہر شروع ہونے والی جھڑپ شروع ہوئی کے باعث اب تک ایک عسکریت پسند ہلاک ہو چکا ہے۔

    فوج کا دعویٰ ہے کہ بسنت گڑھ کے بِہالی جنگلاتی علاقے میں مزید تین عسکریت پسند محصور ہیں اور آپریشن جاری ہے۔ اُدھم پور جموں کا حساس ترین ضلع ہے کیونکہ یہاں انڈین فوج کی شمالی کمان کا ہیڈکوارٹر ہے۔

    دفاعی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سُنیل برتوال کے مطابق بِہالی میں چار عسکریت پسندوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے کے بعد فوج کی سولہویں کور کے فوجی دستوں اور جموں کشمیر پولیس نے ایک مشترکہ آپریشن شروع کیا لیکن بہالی کے قریب جب عسکریت پسندوں کی کمین گاہ کا محاصرہ کیا گیا تو عسکریت پسندوں نے فائرنگ کر دی۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جوابی کارروائی میں ابھی تک جیش محمد نامی عسکری تنظیم کے ایک کمانڈر کو ہلاک کیا گیا ہے۔‘

    ترجمان کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والا عسکریت پسند ’مولوی‘ نام سے جانا جاتا تھا اور وہ پاکستانی شہری ہے۔

  12. ایرانی رہبرِ اعلیٰ کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن وہ زیرِ زمین بہت گہرائی میں جا چکے تھے: اسرائیلی وزیرِ دفاع

    اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعرات کو مختلف انٹرویوز میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ کا قتل بھی 12 روزہ جنگ کے دوران ہمارے اہداف کا حصہ تھا لیکن انڈرگراؤنڈ جانے کے باعث وہ بچ نکلے۔

    کاٹز نے اسرائیلی سرکاری ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر خامنہ ای ہماری نظروں میں ہوتے تو ہم انھیں بھی قتل کر چکے ہوتے لیکن وہ بہت گہرائی میں زیرِ زمین جا چکے تھے اور اپنے کمانڈرز سے تمام رابطے منقطع کر چکے تھے جس کے بعد ان پر حملہ ’حقیقت پسندانہ نہیں رہا تھا۔‘

    کاٹز کا مزید کہنا تھا کہ ’جنگ کے دوران ہم نے انھیں بہت ڈھونڈا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کا ہدف رجیم چینج نہیں بلکہ ایرانی قیات کو غیر مستحکم کرنا تھا اور تنازع کے درمیان دباؤ بڑھانا تھا۔ یاد رہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم جنگ کے دوران ایرانی عوام کو رجیم چینج کے لیے کہتے رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے اس 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی فوجی قیادت اور جوہری سائنسدانوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق حالیہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کا ایک اسرائیلی منصوبہ یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ کوئی ’اچھا خیال نہیں ہے۔‘

    ٹرمپ کی جانب سے ایک ٹویٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ خامنہ ای کہاں چھپے ہیں لیکن ہم انھیں ہلاک نہیں کریں گے، فی الحال نہیں۔‘

    جب چینل 13 پر کاٹز سے پوچھا گیا کہ اسرائیل نے خامنہ کو ہدف بنانے سے قبل امریکہ سے پوچھا تھا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’ہم ان چیزوں میں اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

    انھوں نے خامنہ ای کو تجویز دی کہ وہ چھپے رہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’میں انھیں یہ تجویز نہیں دوں گا کہ وہ اب سکون سے رہ سکتے ہیں۔ انھیں حزب اللہ رہنما حسن نصراللہ سے سیکھنا چاہیے۔‘

  13. وکیل حامد خان کے اعتراض کے بعد مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں گیارہ رکنی بینچ ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ میں جاری مخصوص نشستوں کے نظر ثانی کیس کی سماعت کے آغاز میں جسٹس صلاح الدین پنہور نے کیس سننے سے معذرت کر لی ہے جس کے باعث کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا ہے۔

    سماعت کے آغاز میں جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد لازم ہے، ضروری ہے کہ کسی فریق کا بینچ پر اعتراض نہ ہو۔

    جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ ’حامد خان نے بینچ میں کچھ ججز کی شمولیت پر اعتراض کیا، جن ججز کی 26 ویں ترمیم کےبعد بینچ میں شمولیت پراعتراض ہوا میں بھی ان میں شامل ہوں، میں ان وجوہات کی بنا پر بینچ میں مزید نہیں بیٹھ سکتا، میں اپنا مختصر فیصلہ پڑھنا چاہتا ہوں۔‘

  14. امریکی وزیرِ خارجہ کی وزیرِاعظم شہباز شریف کو کال، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے مشرقِ وسطی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل یا بنا نہیں سکتا۔‘

    امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دونوں رہنماؤں نے مل کر کام کرتے ہوئے اسرائیل اور ایران کے درمیان پائیدار امن اور خطے میں استحکام کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔‘

  15. اسرائیل کے غزہ میں میزائل حملوں میں مزید 18 فلسطینی ہلاک

    اسرائیل کی جانب سے غزہ میں کیے گئے حملے میں 18 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ایک ڈاکٹر اور عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مبینہ ڈرون حملہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا جب حماس کا ایک پولیس یونٹ ایک مارکیٹ کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی ڈرونز نے حماس پولیس فورس کے ان ممبران پر فائرنگ کی جو سول لباس میں ملبوس تھے، انھوں نے ماسک پہن رکھے تھے اور وہ دکانداروں کو چیزیں مہنگی بیچنے اور امدادی ٹرکوں سے سامان لوٹنے کا الزام لگا رہے تھے۔

    غزہ کی وزارتِ صحت کی جانب سے اس حملے کی مذمت کی گئی ہے اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ایک ’پولیس یونٹ پر حملہ کیا جو عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے وہاں موجود تھی۔

    بی بی سی کی جانب سے اسرائیل فوج سے رابطہ کیا گیا ہے تاہم تاحال جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

    ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ بازار میں لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب پولیس کی جانب سے دکانداروں کو کہا گیا کہ ’یا تو صحیح قیمتوں پر اشیا فروخت کریں ورنہ یہ ان سے لے لی جائیں گی۔‘

    عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ ’کچھ دکانداروں نے پستول نکال اور ایک بندے کے پاس کلاشنیکوو تھی۔‘ مقامی شہر کے مطابق اسرائیلی ڈرونز کی جانب سے اس موقع پر دو میزائل داغے گئے۔

    اس واقعے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زمین پر لاشیں بکھری پڑی ہیں اور دکاندار چیخ رہے ہیں جبکہ ایمبولینسز جائے حادثہ کی جانب پہنچ رہی ہیں۔

    دیرالبلاح کے الاقصیٰ ہسپتال میں موجود ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ 18 لاشیں سردخانے پہنچا دی گئی ہیں۔ تاحال یہ معلوم نہیں ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کتنے پولیس اہلکار شامل تھے۔

  16. اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ساتھ رابطوں کے الزام میں ایران میں پھانسیاں اور گرفتاریاں

    ایرانی حکام نے اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ساتھ رابطوں کے الزامات پر متعدد افراد کو پھانسیاں دی ہیں جبکہ اس ضمن میں گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    یہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب حکام کے مطابق ایرانی سکیورٹی سروسز میں اسرائیلی ایجنٹس بڑے پیمانے پر رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

    حکام کا ماننا ہے کہ اس جنگ کے دوران ایران سے جو معلومات اسرائیل کو دی گئی اس کے باعث ملک میں ہائی پروفائل شخصیات کی ہلاکت ہوئی جن میں پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی افواج کی سینیئر فوجی قیادت اور جوہری سائنسدان شامل تھے۔ ایران کے مطابق یہ ہلاکتیں اسرائیل کی موساد انٹیلیجنس ایجنسی کے ایران میں کام کے باعث پیش آئیں۔

    ان ہلاکتوں کی تعداد اور حملوں کی درستگی سے پریشان حکام کسی بھی ایسے شخص کو نشانہ بنا رہے ہیں جس کے حوالے سے یہ گمان موجود ہے کہ وہ غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے لیے کام کرتا ہے۔

    تاہم اکثر افراد کو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ مخالف آوازوں کو دبانے اور عوام پر اپنا کنٹرول رکھنے کا ایک طریقہ ہے۔

    12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی حکام نے تین افراد کو اسرائیل کے جاسوس ہونے کے الزام میں پھانسی دی۔ بدھ کو سیزفائر سے ایک روز قبل مزید تین لوگوں کو ان ہی الزامات پر پھانسیاں دی گئیں۔

    حکام کی جانب سے اس کے بعد سے غداری کے الزامات پر ملک بھر سے سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کی جانب سے حراست میں موجود ان ملزمان کے مبینہ اعترافی بیان چلائے گئے جن میں وہ مبینہ طور پر اسرائیلی انٹیلیجنس کے ساتھ تعاون کے الزام کی تصدیق کر رہے ہیں۔

    انسانی حقوق کے گروہوں اور سماجی کارکنان نے ان تازہ ترین اقدامات کے حوالے سے خوف کا اظہار کیا ہے۔ ان کی جانب سے ایران کی جانب سے ماضی میں غیر منصفانہ مقدمات چلانے کی روایت اور زبردستی اعترافی بیانات کی مثالیں دی گئی ہیں۔ اس حوالے سے خدشات موجود ہیں کہ مزید پھانسیاں بھی دی جا سکتی ہیں۔

    ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس کا دعویٰ ہے کہ وہ مغربی اور اسرائیلی انٹیلیجنس نیٹ ورکس کے خلاف ’مسلسل جنگ‘ کر رہے ہیں جن میں سی آئی اے، موساد اور ایم آئی سکس شامل ہیں۔

  17. امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہوا، لیکن ہم اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں: ایران

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہاے کہ ’امریکہ کے ساتھ نئے سرے سے مذاکرات کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

    ایران کے سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ’ہم مذاکرات کا فیصلہ ملکی مفادات کی بنیاد پر کریں گے، خالص جذبات کی بنیاد پر نہیں، چاہے وہ مذاکرات کے دوران ہم پر حملہ کیوں نہ کریں۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ نے یہ وضاحت صدر ٹرمپ کے مذاکرات کے اگلے دور کے انعقاد کے بارے میں بیانات کے جواب میں کہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر اندرونی طور پر بات چیت کی جا رہی ہے، لیکن ابھی تک امریکہ کے ساتھ ’کوئی معاہدہ‘ نہیں ہو سکا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ "صاف کہوں تو امریکہ کو مذاکرات میں یورپ کی موجودگی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔"

    عباس عراقچی نے کہا کہ ’یورپ کو امریکہ کے ساتھ ہمارے مذاکرات سے باہر رکھا گیا تھا، اور امریکی یہی چاہتے تھے۔‘ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’یورپ کسی طرح سے مذاکرات میں داخل ہونا چاہتا ہے، اور ہمیں کوئی ممانعت نظر نہیں آتی۔‘

    پارلیمان نے جوہری پروگرام پر آئی اے ای اے تعاون کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا: عباس عراقچی

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کو معطل کرنے کے بارے میں پارلیمنٹ کی قرارداد پر عباس عراقچی نے کہا کہ اس قانون نے راستے کو مکمل طور پر بند نہیں کیا اور اسے سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’رافیل گروسی کی تیار کردہ رپورٹ نے مغربی ممالک کے فیصلے کی راہ ہموار کی اور ہماری رائے میں اس نے ایران پر حملے کی راہ ہموار کی۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہماری رائے میں رافیل گروسی نے ’ایک ایماندارانہ رپورٹ نہیں دی اور جان بوجھ کر 20-25 سال پرانا ایک مدعا اٹھایا‘۔

    ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی قانون کے نقطہ نظر سے جوہری تنصیبات پر حملہ ناقابل معافی جرم ہے۔ آئی اے ای اے کے سربراہ کو ذاتی طور پر اس کی مذمت کرنی چاہیے، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔‘

  18. وسطی افریقہ کے سکول میں بھگدڑ مچنے سے 29 طلبا ہلاک

    وسطی افریقی جمہوریہ کے ایک سکول میں بھگدڑ مچنے کی وجہ سے امتحان دینے والے 29 بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔ بھگدڑ اُس وقت مچی جب سکول کے قریب ہی سے ایک دھماکے کے آواز آئی۔

    بتایا گیا ہے کہ یہ دھماکہ بجلی کے ٹرانسفارمر میں ہوا تھا۔

    مقامی ریڈیو اسٹیشن کے مطابق سکول میں دھماکے کی آواز اور دھوئیں کی وجہ سے سکول کے 6000 طالب علموں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    صدر فاؤسٹن آرچنج توادیرا نے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی حکم دیا کہ کرش میں زخمی ہونے والے 280 سے زائد افراد کو ہسپتال میں مفت علاج فراہم کیا جائے۔

    حکام کا کے کہنا ہے کہ خارجی دروازہ بہت چھوٹا تھا جس کی وجہ بیک وقت بہت سے طلبا ایک ساتھ گُزر نہیں پائی جس کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی۔

  19. ایران کی نگہبان کونسل نے جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کے ساتھ تعاون کے معطلی کی منظوری دے دی, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کی نگہبان کونسل نے ایک ایسے بِل کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد ایران اور جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے درمیان تعاون کو معطل کرنا ہے۔

    اس بِل کے تحت کچھ شرائط پوری نہ ہونے تک ایران اپنے جوہری مقامات تک آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی رسائی کو بند کر سکتا ہے۔

    ان شرائط میں ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے آرٹیکل فور کے تحت یورینیم کی افزودگی کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل ایران کی پارلیمنٹ بھی اس بِل کو منظور کر چکی ہے اور اب نگہبان کونسل کی منظوری کے بعد یہ بِل سرکاری طور پر قانون بن چکا ہے۔

    تاہم اس بِل پر عملدرآمد کا وقت اور تاریخ طے کرنے کا حتمی اختیار ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور رہبرِ اعلیٰ کے پاس ہے۔

    تاہم دوسری جانب آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ اسے ایران کی جانب سے ایسے کسی نئے قانون کے بارے میں اطلاع نہیں دی گئی ہے۔

    آئی اے ای اے نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ ’اب تک اس معاملے پر آئی اے ای کو ایران کی طرف سے کوئی سرکاری پیغام موصول نہیں ہوا ہے۔‘

  20. ایران اسرائیل جنگ میں امریکی مداخلت: بیانیوں کی جنگ, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ پینٹاگون کی جو بریفنگ ہم نے ابھی دیکھی ہے وہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دعووں سے براہ راست متصادم ہے۔

    امریکہ نے کہا ہے کہ ’ایران کے رہنما جو ایک لمبے عرصے تک غائب رہنے کے بعد سامنے آئے ہیں کہتے ہیں کے امریکہ ایران کی اہم جوہری تنصیبات پر اپنے حملوں میں ’کچھ بھی اہم حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘ تاہم اس کے باوجود یہ حملے، خاص طور پر فردو کے سب سے اہم مقام پر ہونے والے حملے، امریکی وزیر دفاع کے مطابق ’ایک تاریخی کامیابی‘ تھی، جس نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ یا ’مکمل طور پر ختم‘ کر دیا۔

    یہ دونوں (یعنی ایران اور امریکہ) صحیح نہیں ہو سکتے۔

    تو آئیے اس معاملے کو کُچھ وقت دیتے ہیں اور اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا ان چھ بڑے بنکرز کو تباہ کرنے والے امریکی بموں، جی بی یو 57 نے فردو کے پہاڑ میں اپنے اہداف کو نشانہ بنایا تھا؟ ہاں۔

    کیا یہ پینٹاگون کی جانب سے برسوں کے محنت طلب مطالعے کا نتیجہ تھا کہ ایران کے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام پر کس طرح حملہ کیا جا سکتا ہے؟ ہاں۔

    کیا انھوں نے حملے کے لیے بہترین وقت اور مقام کا انتخاب کیا یعنی وینٹیلیشن شافٹ، پھر زیادہ سے زیادہ اثر حاصل کرنے کے لئے صحیح گہرائی پر دھماکہ کرتے ہیں؟ ہاں۔

    لیکن یہ پوری کہانی نہیں ہے۔

    ہم صرف یہ نہیں جانتے کہ یہ سینٹری فیوجز اُس زیر زمین ہال میں کس حالت میں ہیں کیونکہ نہ تو امریکہ اور نہ ہی اقوام متحدہ کے انسپکٹر وہاں موجود ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ گمشدہ 408 کلو گرام انتہائی افزودہ یورینیم (ایچ ای یو) کہاں گیا ہے۔

    اور ہم واقعی اس بارے میں نہیں جانتے کیونکہ یہ پینٹاگون کی بریفنگ تھی، انٹیلی جنس کا جائزہ نہیں تھا کہ ایران کے پاس کتنا جوہری مواد اور اس کے استعمال سے متعلق علم موجود ہے جسے وہ ممکنہ طور پر اور پہلے کی ہی طرح خفیہ انداز میں اپنے پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    لہٰذا مختصراً یہ کہ خالصتاً ٹیکٹیکل نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بی ٹو پائلٹس جنھوں نے 13 ٹن وزنی بنکر بسٹنگ بموں کو گرانے کے لیے 37 گھنٹے کا غیر معمولی مشن کیا تھا، انھوں نے خط میں اپنے مشن کو پورا کیا۔

    لیکن جب اس سوال کی بات آتی ہے کہ آیا ایران کا مشتبہ جوہری پروگرام واقعی تباہ ہو گیا ہے (جیسا کہ امریکہ کا دعویٰ ہے) یا محض پیچھے ہٹ گیا ہے تو اس پر ابھی بھی بہت کُچھ کہنا اور سمجھنا باقی ہے۔