تقریباً 60 ممالک سے امریکہ کو درآمد کی جانے والی اشیا پر ٹیرف
نافذ ہو گیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا الزام ہے کہ یہ ممالک امریکی اشیا پر زیادہ
ٹیرف لگاتے ہیں یا دیگر طریقوں سے امریکی اقتصادی اہداف کو نقصان پہنچانے کی کوشش
کرتے ہیں۔
سب سے محصولات چینی مصنوعات پر عائد کیے گئے ہیں۔ چین کو اب
104 تک کے ٹیرف کا سامنا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری
مرتبہ صدر بننے سے قبل چینی مصنوعات کی امریکہ درآمد پر 20 فیصد ٹیرف عائد تھا جسے
گذشتہ ہفتے بڑھا کر 54 فیصد کر دیا گیا۔ اس ٹیرف میں 50 فیصد کا مزید اضافہ پچھلے چند
گھنٹوں میں کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اضافہ چین کی جانب سے امریکی اشیا
پر جوابی ٹیرف واپس نہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی ٹیرف کے نفاذ کے بعد ایشیا کی بیشتر سٹاک مارکیٹوں
میں ایک بار پھر مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔
جاپان کی نکئی 225 انڈیکس میں 4.3
فیصد کی کمی دیکھی گئی جبکہ جنوبی کوریا کے حصص بازار کوسپی میں 1.4 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ہانگ کانگ کے ہانگ سینگ میں 1.5 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
تاہم چین جسے سب سے زادہ ٹیرف کا سامنا ہے، اس کی مارکیٹ ابتدائی
طور پر نقصان میں جانے کے بعد اب 0.2 فیصد کے اضافے پر موجود ہے۔
کیا چین امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے 104 فیصد ٹیرف کا
مقابلہ کر سکتا ہے؟
امریکہ نے کئی چینی مصنوعات پر محصولات بڑھا کر 104 فیصد تک کر دیا ہے۔
تاہم چین سے گاڑیوں، سیمی کنڈکٹرز، سٹیل اور المونیم کی درآمد پر ٹیرف کی شرح کم ہے۔
بیجنگ اب بھی ہار مانتا دکھائی نہیں دے رہا۔ چین نے اعلان کیا
ہے کہ وہ امریکی مصنوعات پر محصولات عائد کرے گا۔
لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی محصولات سے چین کو سخت
مقصان ہوگا اور اسے اپنی معیشت کی تشکیل نو کرنی پڑے گی اور مقامی کھپت پر بہت زیادہ انحصار
کرنا پڑے گا۔
یوریشیا گروپ کنسلٹنسی سے تعلق رکھنے والی ڈین وانگ کہتی ہیں کہ
درحقیقت 35 فیصد سے زائد کے ٹیرف کے نتیجے میں چینی کاروباروں کو امریکہ یا جنوب
مشرقی ایشیا مصنوعات برآمد کرنے سے ہونے والا منافع ختم ہو جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ 35 سے زیادہ کوئی بھی ٹیرف محض علامتی ہے۔
وانگ کہتی ہیں کہ ٹیرف کے نتیجے میں چین اپنے سالانہ ترقی کے
تقریباً 5 فیصد کے ہدف کو شاید حاصل نہ کر پائے۔
کے ایم سی ٹریڈ سے تعلق رکھنے والے ٹم واٹرر کہتے ہیں کہ چینی
معیشت میں برآمدات پر انحصار کو دیکھتے ہوئے یہ صاف ظاہر ہے 104 فیصد کے درآمدی ٹیکس
سے چین کو بہت نقصان ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مختصر مدت میں تو شاید چین صورتحال
کو سنبھال لے لیکن طویل مدت میں ان ٹیرف سے نمٹنے کے لیے چین کو اپنی معیشت کے
بنیادی ڈھانچوں میں تبدیلیاں لانی پڑیں گی۔