لاہور کے قریب مریدکے کے رہائشی محمد یونس شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انڈیا کی جانب سے داغے گئے چار میزائل ننگل ساھداں میں قائم ایجوکیشنل کمپلیکس پر گرے ہیں جہاں ایک مسجد بھی واقع تھی جو تباہ ہو گئی ہے۔
خیال رہے مریدکے میں قائم مرکز طیبہ اب پاکستانی حکومت کے کنٹرول میں ہے، جہاں سکول، کالج اور مدرسے موجود ہیں۔
ننگل ساھداں کے رہائشی محمد یونس مزید کہتے ہیں کہ ’یہاں بچوں کے سکول اور کالج ہے، ہاسٹل اور میڈیکل کمپلیکس ہے۔ اس پر حملہ ہوا ہے، پہلے تین میزائل پے در پے آئے ہیں جبکہ چوتھا میزائل پانچ، سات منٹ کے وقفے سے آیا ہے۔
ان کے مطابق ’یہاں رہائشی علاقہ ہے جہاں فیمیلیز رہتی ہیں، انھوں نے مسجد کو بھی تباہ کر دیا ہے۔‘
محمد یونس کہتے ہیں کہ علاقے میں ابھی بھی خوف و ہراس ہے اور سارے لوگ یہاں سے محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے ہیں۔ یہاں ابھی حکومتی مشینری موجود ہے، ریسکیو والے، فائر بریگیڈ اور پولیس والے یہاں موجود ہیں۔‘
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں انڈیا کے میزائل حملے کے نشانہ بننے والی بلال مسجد سے متصل رہائشی محمد وحید نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں گہری نیند سو رہا تھا جب پہلے دھماکے نے میرے گھر کو ہلا کر رکھ دیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں دوڑ کر باہر سڑک پر نکل آیا، جہاں پہلے ہی لوگ باہر نکلے ہوئے تھے۔ اس سے پہلے کہ ہم پتہ چلاتے کہ کیا ہو رہا ہے اسی دوران تین اور میزائل داغے گئے، جس سے بڑے پیمانے پر خوف و ہراس اور افراتفری پھیل گئی۔‘
ان کے مطابق خواتین سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہاں کے لوگ انھیں سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کر رہے ہیں، جو یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے۔ ان کے مطابق ’ہم مظفرآباد شہر کے بالکل قریب ہیں۔‘
پولیس اور سکیورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ ہماری مقامی مسجد کو کیوں نشانہ بنایا گیا ہے۔‘
عینی شاہد محمد وحید نے بتایا کہ ’یہ ایک عام محلے کی مسجد تھی، جہاں ہم دن میں پانچ وقت کی نماز ادا کرتے تھے۔ ہم نے اس کے آس پاس کبھی کوئی مشکوک سرگرمی نہیں دیکھی۔‘
انھوں نے کہا کہ اب صورتحال یہ ہے کہ ’بچے رو رہے ہیں، خواتین جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگ رہی ہیں۔‘
محمد وحید کے مطابق ’ہم خوفزدہ ہیں، اور ہم نہیں جانتے کہ کیا کرنا ہے۔ لوگ اپنے گھروں سے بھاگ رہے ہیں، اور بے یقینی کا احساس بہت زیادہ ہے۔‘