آبنائے ہرمز کی بندش: دو ہزار بحری جہازوں کے 20 ہزار کارکُنوں کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے: سربراہ آئی ایم او
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے چند روز قبل لندن میں ہونے والے ایک اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک نے عالمی جہازرانی میں ایران کی مداخلت کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔
اجلاس میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (یعنی آئی ایم او) جو اقوامِ متحدہ کا جہازرانی سے متعلق خصوصی ادارہ ہے کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد منظور ہوئی جس میں کہا گیا کہ ’ایران نے مال بردار بحری جہازوں کے عملے کے ارکان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا، انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ پیدا کیا اور سمندری ماحول کو سنگین نقصان کے خدشات سے دوچار کیا۔‘
تاہم ووٹنگ کے بعد آئی ایم او کے سربراہ آرسینیو ڈومینگیز نے زور دیا کہ توجہ سیاسی بیانات اور قراردادوں کے بجائے عملی امداد پر مرکوز رہنی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں اس طریقۂ کار پر کسی حد تک مایوسی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جس کے تحت ہم ان مسائل کو دیکھ رہے ہیں۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ بحث، طریقہ کار اور ووٹنگز ان 20 ہزار ملاحوں کی کس طرح مدد کرتی ہیں جو گزشتہ نو ہفتوں سے پھنسے ہوئے ہیں، جب کہ دو ہزار جہاز بھی مختلف مقامات پر رکے ہوئے ہیں۔‘
آئی ایم او سربراہ کے مطابق اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے اُن بحری جہازوں کے عملے کے ارکان کو درپیش مشکلات کے عملی حل تلاش کرنے کی ہے، نہ کہ محض سیاسی بیانات تک محدود رہنے کی۔‘