لائیو, سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں کسی فوجی کارروائی کا فی الحال کوئی امکان نہیں: پاکستان

پاکستان نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسلام آباد کی جانب سے کسی فوجی کارروائی پر فی الحال کوئی بات چیت نہیں ہوئی، تاہم اس نے یہ بھی کہا کہ ’وقت آنے پر پاکستان معاہدے کے تحت اپنا کردار ادا کرے گا۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. مخا بندرگاہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    بندرگاہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنحوثیوں نے اگست 2026 میں بھی المخا بندرگاہ پر بڑا حملہ کیا تھا (فائل فوٹو)

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے یمنی حکومت کے تین عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں نے جمعرات کو ’مخا بندرگاہ‘ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

    مخا بندرگاہ یمن کے صوبے تعز کے مغرب میں واقع ہے۔ یہ آبنائے باب المندب سے تقریباً 65 سے 75 کلومیٹر شمال اور ’تعز‘ شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

    یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق مخا بندرگاہ اس بین الاقوامی بحری گزرگاہ سے صرف تقریباً چھ کلومیٹر دور ہے، جو بحرِ ہند اور بحیرۂ عرب کو بحیرۂ احمر اور نہرِ سویز سے ملاتی ہے۔

    حوثیوں نے گذشتہ ماہ (دس اگست) کو بھی مخا بندرگاہ پر بڑا حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں آٹھ یمنی فوجی ہلاک اور 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

    اُس حملے کے بعد حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا تھا کہ ’حملے میں مخا میں موجود سعودی افواج کے اسلحے کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔‘ تاہم یمنی فوج کا کہنا تھا کہ ’حملے رہائشی علاقوں پر کیے گئے، جبکہ یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق بندرگاہ کے اندر شہری اور اقتصادی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔‘

    یاد رہے کہ حوثی بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہوں پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اور مخا بندرگاہ کا کنٹرول حاصل کرنے کا اقدام آبنائے باب المندب میں حوثیوں کا کنٹرول مزید مضبوط کر سکتا ہے۔

    جمعرات کے روز بھی حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی فضائیہ نے یمن میں اُن (حوثیوں) کے اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں۔

    کشیدگی میں اس حالیہ اضافے کے بعد سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع خمیس مشیط شہر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

    المخا شہر اور بندرگاہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    حوثیوں کی جانب ’مخا‘ کا کنٹرول سنبھالنے کے دعوے کے بعد یہ بندرگاہ ایک مرتبہ پھر سے خبروں میں ہے۔

    مخا بندرگاہ لمخا شہر ہی میں واقع ہے جس کی شہرت اس کی ’کافی‘ کی پیداوار کی وجہ سے ہوئی۔ 16ویں صدی سے مخا بندرگاہ یمن کی اہم ترین بندرگاہوں میں شمار ہونے لگی، جہاں یمن کے پہاڑی علاقوں میں پیدا ہونے والا اناج لایا جاتا اور پھر انڈیا، مشرقی افریقہ، سلطنتِ عثمانیہ اور یورپ کو برآمد کیا جاتا تھا۔

    17ویں اور 18ویں صدی میں ڈچ، برطانوی اور فرانسیسی تجارتی کمپنیوں نے بھی شہر میں اپنے تجارتی مراکز قائم کیے۔ وقت کے ساتھ ’مخا‘ کا نام عالمی منڈیوں میں یمنی ’کافی‘ کے مترادف بن گیا۔ بعد میں یہی نام اس ’کافی‘ اور ’چاکلیٹ‘ سے بننے والے مشروب کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جو آج دنیا بھر میں ’موکا‘ کے نام سے معروف ہے۔

    بندرگاہ کی سرگرمیاں صرف ’کافی‘ تک محدود نہیں تھیں۔ یہاں سے لوبان، گوندِ مُر، ایلوویریا اور عرق سمیت مختلف اشیا برآمد کی جاتی تھیں، جبکہ انڈیا، مشرقی ایشیا اور افریقہ کا مشرقی علاقہ سے کپڑے، مصالحہ جات، مویشی اور دیگر مصنوعات درآمد کی جاتی تھیں۔

    مخا شہر میں واقع المخا بندرگاہ

    یورپی نوآبادیوں میں ایشیا اور امریکہ کے مختلف علاقوں میں ’کافی‘ کی کاشت شروع ہونے کے بعد المخا کی بندرگاہ اپنی اہمیت کھونے لگی۔ اس کے بعد سنہ 1839 میں برطانیہ کے ہاتھوں عدن پر قبضے اور عدن کی بندرگاہ کے عروج کے ساتھ ساتھ حدیدہ بندرگاہ کی ترقی نے بھی المخا کی تجارتی حیثیت کو مزید متاثر کیا۔

    ان تبدیلیوں کے نتیجے میں المخا کا وہ کردار تقریباً ختم ہو گیا جو اسے صنعاء اور وسطی یمن کے لیے ایک اہم تجارتی راستے کے طور پر حاصل تھا۔

    مخا بندرگاہ کو جدید بنانے کا کام سنہ 1950 کی دہائی میں شروع جدید نوعیت کی تنصیبات سے آراستہ کیا گیا، جبکہ سنہ 1970 کی دہائی میں ان کی دوبارہ تعمیر اور توسیع کی گئی۔

    بندرگاہ کو ایسے بنایا گیا ہے کہ یہاں سالانہ تقریباً 15 لاکھ ٹن سامان رکھنے کی گنجائش موجود ہے، تاہم اس کے بحری راستے کی گہرائی 7.2 سے 7.8 میٹر کے درمیان ہے، جس کے باعث یہاں بڑے کنٹینر بردار جہازوں اور بڑے ٹینکروں کی آمد ممکن نہیں۔

    اس کے علاوہ بندرگاہ کو سامان کی نقل و حمل کے آلات اور عملے کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ سمندری راستے کی مسلسل ڈریجنگ اور مرمت بھی ضروری ہے۔

    یمن میں سنہ 2014 کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد بندرگاہ کی معمول کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔ بعد ازاں مغربی ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی پیش قدمی کے دوران بندرگاہ پر ان کا قبضہ ہو گیا، تاہم جنوری سنہ 2017 میں حکومت کے حامی فورسز نے اسے دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

    اس وقت بندرگاہ ’نیشنل ریزسٹنس فورسز‘ کے کنٹرول میں تھی۔

    ستمبر 2021 میں بندرگاہ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا تھا۔

  2. ایران نے پیٹرولیم مصنوعات لے جانے والے غیر ملکی جہازوں پر عائد 10 فیصد فریٹ چارج معطل کر دیا

    iran oil

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران نے تیل، گیس اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات لے جانے والے غیر ملکی بحری جہازوں پر عائد 10 فیصد فریٹ (مال برداری) فیس کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ ایرانی فریٹ پر اضافی محصول موصول کر رہا تھا اور یہ 10 فیصد کی کمی اسی اضافی محصول پر کی گئی ہے۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی سمندری راستے سے تیل برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔

    فارس نے جمعرات کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایرانی حکام کی جانب سے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس چارج کی وصولی اُس وقت تک روک دی جائے جب تک حکومت ان مصنوعات کی فہرست کی منظوری اور اشاعت نہیں کر دیتی جن پر یہ اضافی فیس لاگو ہو گی۔

    رپورٹ کے مطابق اس اضافی چارج نے تیل، گیس اور دیگر مائع مصنوعات کی نقل و حمل کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا تھا۔ حکام کا خیال ہے کہ اس کی معطلی سے ترسیلی اخراجات میں کمی آئے گی اور غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کو ایران آنے یا ایران سے سامان لے جانے کی مزید ترغیب ملے گی۔

  3. جرمنی میں بینک سپہ کی شاخ کو ’مالی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر‘ قرار دے دیا گیا

    ایران کے سرکاری بینک، بینک سپہ، کی جرمن شاخ کو جرمن حکومت کی جانب سے قرضوں اور مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے قاصر قرار دے دیا گیا ہے۔

    جرمنی کے وفاقی مالیاتی نگران ادارے نے آج اس خبر کا اعلان کیا ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ جرمنی میں بینک سپہ اب ’اپنے صارفین کی جمع شدہ رقوم واپس کرنے کے قابل نہیں رہا۔‘

    بینک سپہ کی جرمن شاخ فرینکفرٹ میں واقع ہے، جسے یورو زون کا مالیاتی دارالحکومت اور سب سے بڑا بینکاری مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یورپی مرکزی بینک بھی اسی شہر میں واقع ہے۔

    جرمنی کے وفاقی مالیاتی نگران ادارے نے تقریباً ایک دہائی قبل نومبر 2017 میں اعلان کیا تھا کہ فرینکفرٹ میں قائم بینک سپہ کی شاخ کو اگلے حکم تک اپنے صارفین کو قرضے جاری کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

    اس وقت یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ وفاقی مالیاتی نگران ادارے کی تشویش بینک کی جانب سے دیے گئے قرضوں کے ممکنہ حجم سے متعلق تھی یا معاملہ صارفین کے قرضوں کی واپسی کے معاہدوں سے متعلق تھا۔

  4. چین: مال برادر جہاز میں آگ لگنے سے کم از کم 20 افراد ہلاک

    جہاز

    ،تصویر کا ذریعہXinhua

    مشرقی چین میں ایک غیر ملکی پرچم بردار مال بردار جہاز میں آگ لگنے کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق جہاز میں سوار 42 افراد میں سے 12 کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ پانچ افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے اس سے قبل تلاش اور امدادی کارروائیوں کو پوری طاقت کے ساتھ جاری رکھنے کی ہدایت کی، جبکہ وزیر اعظم لی چیانگ نے پھنسے ہوئے افراد کو فوری طور پر بچانے پر زور دیتے ہوئے ثانوی حادثات سے بچنے کی ضرورت پر بھی تاکید کی۔

    یہ جہاز چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں واقع ایک شپ یارڈ میں مرمت کے عمل سے گزر رہا تھا جب مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 11:15 بجے آگ بھڑک اٹھی۔

    سی سی ٹی وی کے مطابق آگ پر تین گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت میں قابو پالیا گیا۔

  5. سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں کسی فوجی کارروائی کا فی الحال کوئی امکان نہیں: پاکستان

    پاکستان نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسلام آباد کی جانب سے کسی فوجی کارروائی پر فی الحال کوئی بات چیت نہیں ہوئی، تاہم اس نے یہ بھی کہا کہ ’وقت آنے پر پاکستان معاہدے کے تحت اپنا کردار ادا کرے گا۔‘

    اسلام آباد میں جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس وقت ایسی کوئی بات زیرِ غور نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا ’فی الحال اس بارے میں کوئی گفتگو نہیں ہو رہی۔ جب وقت آئے گا تو ہم معاہدے کے تحت کارروائی کریں گے۔‘

    یہ سوال اس تناظر میں اٹھایا گیا تھا کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان گذشتہ ماہ طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسلام آباد اپنی ذمہ داریاں کس طرح پوری کرے گا۔

    اس مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ، تینوں پر حملے کے مترادف سمجھا جائے گا۔

    یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب ایران کی حمایت یافتہ حوثی جماعت نے اس ہفتے سعودی شہروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ جمعرات تک یہ حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دوسرا محاذ بن چکے تھے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوششوں میں مصروف پاکستان نے ان حملوں کی مذمت تو کی، تاہم یہ نہیں بتایا کہ دفاعی معاہدے کی شرائط کے تحت وہ کیا ردعمل دے سکتا ہے۔

    سجاد حیدر خان نے یہ بھی کہا کہ مکہ اتحاد کو مزید وسعت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، جبکہ امریکا خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی سپلائی پر بھی پڑے ہیں۔

  6. بریکنگ, رپورٹس کے مطابق یمن کے حوثیوں نے مخا بندرگاہ پر قبضہ کر لیا

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے یمنی حکومت کے تین عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں نے مخا بندرگاہ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

    حوثی بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہوں پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اس اقدام سے آبنائے باب المندب پر ان کا کنٹرول مزید مضبوط ہو سکتا ہے، جو بحیرۂ احمر میں عالمی جہازرانی کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

    اس سے قبل یمن میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز اور حوثیوں کے درمیان شدید جھڑپوں نے جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھا دیے تھے۔

    ادھر سعودی عرب نے اپنی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے جواب میں یمن کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے بھی کیے ہیں۔

    کشیدگی میں اضافے کے بعد سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع خمیس مشیط شہر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

  7. چینی صدر شی جن پنگ 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے لیے انڈیا جائیں گے

    چینی صدر شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ صدر شی جن پنگ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا کے دار الحکومت دہلی جائیں گے۔

    12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں 18واں برکس سربراہی اجلاس منعقد ہوگا۔

    چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی دعوت پر شی جن پنگ 12 اور 13 ستمبر کو برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا کا دورہ کریں گے۔

    اس موقع پر دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق دہلی پولیس نے کہا ہے کہ تغلق روڈ کے علاقے میں تقریباً 500 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

    برکس دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی بڑی معیشتوں کے ایک گروپ کا نام ہے۔

    برکس انگریزی حروف B, R, I, C, S سے مل کر بنا ہے، جن میں ہر حرف ایک ملک کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ممالک برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ ہیں۔

  8. آج سعودی عرب کی فضائیہ کی جانب سے درجنوں حملے کیے گئے: یمن کے حوثیوں کا دعویٰ

    سعودی عرب کی افواج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یمن کے حوثیوں نے آج دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی افواج نے تقریباً 40 فضائی حملے کیے ہیں۔

    یہ حملے حالیہ کشیدگی میں اضافے اور ایران کے حمایت یافتہ اس گروہ کی جانب سے سعودی عرب پر کیے گئے حملوں کے بعد کیے گئے ہیں۔

    حوثیوں سے وابستہ خبر رساں ایجنسی سبأ کے مطابق، ’سعودی دشمن کی فضائیہ نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران تعز، الحدیدہ، الجوف اور مأرب صوبوں میں تقریباً 40 فضائی حملے کیے ہیں۔‘

    دونوں فریقوں کے درمیان حالیہ ہفتوں میں جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے رؤٹرز نے آج رپورٹ کیا تھا کہ حوثی باب المندب کی آبنائے پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے مزید قریب ہو گئے ہیں۔

    باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے تجارتی سامان بردار جہاز گزرتے ہیں۔

  9. ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے آگ پر پٹرول چھڑکنے کا کام کیا: میر رضا کمیشن, ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    میر رضا

    ،تصویر کا ذریعہInstagram/@chaipapa_podcast

    سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے میر رضا علی کی موت کے معاملے میں منصفانہ، آزادانہ اور شفاف انکوائری کو یقینی بنانے کے لیے سندھ حکومت کے عزم کو ایک مرتبہ پھر واضح طور پر دہرایا۔

    ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ سماعت کے دوران ایک غلط فہمی پیدا ہوئی تھی اور یہ حکومت کی ہدایت نہیں تھی کہ کمیشن کو بتایا جائے کہ اسے اپنی کارروائی کس طرح چلانی ہے اور نہ ہی یہ حکومت کی ہدایت تھی کہ خاندان کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات دینے میں کوئی رکاوٹ پیدا کی جائے۔

    ضیاالحسن لنجار جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ میں میر رضا کیس کے کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کے روبرو پیش ہوئے بعد میں کمیشن کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کمیشن معزز وزیر کا نوٹس کا فوری جواب دینے اور نہایت خوش اسلوبی سے کمیشن اور عوام کو حکومت کے بلا تعطل، مسلسل اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرانے پر شکر گزار ہے۔

    میر رضا کے خاندان کے وکیل مسٹر جبران ناصر نے بھی کمیشن سے درخواست کی کہ خاندان کی جانب سے مسٹر لنجار کی جانب سے دیئے گئے بیان اور وضاحت پر ان کی قدردانی کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے، اس طرح ایڈووکیٹ جنرل اور کمیشن کے سربراہ میں اختلاف رائے حل ہوگیا۔

    کمیشن نے اپنی کارروائی پیر، 14 ستمبر صبح 11 بجے دوبارہ شروع کرے گا، جس کے لیے پولیس سرجن سمیعہ سید، ایس ایچ او عدیل افضل کو مذکورہ روز حاضر ہونے کے لیے نوٹس جاری کیا جائے۔

    کمیشن کو ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کا جواب موصول ہو گیا ہے، جس کو غیر تسلی بخش اور مبہم قرار دیا اور ڈاکٹر اسامہ کو 15 ستمبر کو حاضر ہوکر اپنے جواب کی وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

    اس سے قبل صوبائی وزیر داخلہ ضیالحسن لنجار اور کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کے درمیان مکالمہ ہوا، جسٹس عمر سیال نے انھیں مخطاب ہوکر کہا کہ آپ کے دفتر کی عزت ہے، فیملی کی وجہ سے آپ کو کورٹ میں بلایا ہے، ان کی معلومات کے مطابق کمیشن فریال تالپور کے کہنے پر بنایا گیا ہے کیونکہ فریال تالپور صاحبہ بھی ایک ماں ہیں۔

    یاد رہے کہ کراچی میں میر رضا علی کی پُراسرار موت کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کی کارروائی اُس وقت رک گئی تھی جب سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے خاندان کے وکیل کے سوالات پر اعتراض کیا۔ منگل کی سماعت کے دوران کمیشن نے اس اعتراض کو کارروائی میں مداخلت قرار دیتے ہوئے سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار کو طلب کر لیا ہے تاکہ وہ واضح کریں کہ آیا متاثرہ خاندان کو کمیشن کے سامنے سوالات کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔

    جسٹس عمر سیال کا کہنا تھا کہ اہلخانہ کے بہت سارے سوالات ہوتے ہیں، آپ نے کئی دفعہ کہا ہے کہ شفاف انکوائری ہو، وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے بھی شفاف انکوائری کا کہا گیا ہے، جو قابلِ تعریف ہے، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھا انھوں نے انھیں تعینات کیا لیکن اہلخانہ کا اعتماد بہت ہی کم ہے یہ بہت مشکل کام ہے کہ ان کا اعتماد بحال ہو۔

    اہلخانہ کو کہا ہے کہ وکیل سوالات کرسکتا ہے ’ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے آگ پر پٹرول چھڑکنے کا کام کیا ہے، اس قدر کہ ایک ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے میرے سٹاف کو کہا کہ یہ غلط ہورہا ہے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا رویہ تضحیک آمیز تھا۔ آپ کو بلانے کا مقصد عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے، آپ پلیز بتائیں، سندھ حکومت کا وہی ویژن ہے۔‘

    صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لنجار نے انھیں کہا کہ ’آپ بہت سینیئر جج ہیں، آپ پر اعتماد ہے۔ کیس کسی طرف جائے، حکومت ملزمان تک پہنچنا چاہتی ہے یہ کمیشن کا اختیار ہے وہ جسے چاہے سوال کرنے کی اجازت دے، ایک والد کی حیثیت سے انھیں اہلخانہ کے دکھ کا احساس ہے۔‘

    انھوں نے واضح کیا کہ کمیشن جو کارروائی کرے، حکومت سندھ ان کے ساتھ ہے، وہ کمیشن کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنا نہیں چاہتے، انھوں نے کمیشن سے معذرت بھی کی۔

    سماعت کے دوران میر رضا علی کے خاندان کے وکیل جبران ناصر نے آگاہ کیا کہ کہا کہ بزنس پارٹنر احمد کی جانب سے کمیشن پر الزامات لگائے گئے ہیں اس کے علاوہ احمد کے وکیل نے بھی اس حوالے سے کچھ انکشافات کیے ہیں لہذا احمد کو دوبارہ طلب کیا جائے تاکہ اگر وہ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں تو اپنا مؤقف پیش کرسکیں۔ ’

    کمیشن نے جبران ناصر سے کہا کہ اس حوالے سے باقاعدہ درخواست جمع کرائی جائے جس پر جبران ناصر نے جواب دیا کہ وہ اس حوالے سے درخواست جمع کرا دیں گے۔

  10. امریکہ کی جنگ پسندی مشرق کی جانب طاقت کی منتقلی کا سبب بنی ہے: یحییٰ رحیم صفوی

    ایران کے رہبرِ اعلٰی کے عسکری مشیر یحییٰ رحیم صفوی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کی جنگ پسندی، طاقت کے توازن اور اقتصادی جغرافیے کی مشرق کی جانب منتقلی کے لیے بہترین محرک ثابت ہوئی ہے۔‘

    میجر جنرل صفوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’فتح کا تاثر دینے کی کوشش، دراصل شکست کی علامت اور بین الاقوامی طاقت و سلامتی کے کثیر قطبی نظام کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔‘

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے بقول اس جنگ کا مقصد ایران کا خاتمہ کرنا تھا۔

  11. مکہ دفاعی معاہدے میں فی الحال کسی اور ملک کی شمولیت زیرِ غور نہیں، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان

    Foreign Office Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہForeign Office Pakistan

    ’پاکستان، سعودی عرب اور ترکی ایک دوسرے سے مشاورت کر رہے ہیں لیکن اس وقت مکہ معاہدے میں کسی اور ملک کو شامل نہیں کیا جا رہا ہے، نہ ہی اس حوالے سے کسی قسم کی بات چیت ہو رہی ہے۔‘

    یہ کہنا تھا دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان سجاد حیدر کا جو جمعرات کو اسلام آباد میں ایک بریفنگ کے دوران سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔

    مکہ دفاعی معاہدے میں دیگر ممالک کی شمولیت کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان، سعودی عرب اور ترکی، جو اس وقت اس اتحاد کا حصہ ہیں، باقاعدگی سے ملاقاتیں اور مختلف سطحوں پر مشاورت کر رہے ہیں اور مسلسل رابطے میں ہیں۔ تاہم فی الحال مکہ معاہدے میں توسیع یا نئے ممالک کو شامل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے ان تینوں ممالک کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت اپنے موجودہ تعاون اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ہے، جس کے بعد مستقبل میں ایسے دیگر ممالک کے لیے اتحاد میں شامل ہونے کا دروازہ کھل سکتا ہے جو یکساں نقطہ نظر اور ضروریات رکھتے ہوں۔

    ان کے مطابق اس بارے میں فیصلہ بعد میں متعلقہ تینوں ممالک باہمی مشاورت سے کریں گے۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ فی الوقت اس موضوع پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، اس لیے اس مرحلے پر نئے ممالک کی شمولیت کا سوال بھی قبل از وقت ہے۔

  12. ٹرمپ ہر بالغ امریکی شہری کو 5000 امریکی ڈالر دینے کا وعدہ کیوں کر رہے ہیں؟

    ریپبلکن پارٹی کے پہلے وسط مدتی انتخابی کنونشن میں روایتی صدارتی انتخابی سال کے اجتماعات جیسا ماحول دیکھنے میں آیا۔ چمکدار ملبوسات میں ملبوس حامی، امیدواروں کی تقاریر کا سلسلہ، اور انتخابی مہم سے متعلق اشیا فروخت کرنے والے دکاندار اس کا حصہ تھے۔

    تاہم ایک عام کنونشن کے برخلاف، ڈلاس میں ہونے والی اس تقریب میں پارٹی کے کسی باضابطہ کاروبار کو انجام نہیں دیا گیا۔ اس کے بجائے یہ اجتماع ریپبلکن رہنماؤں کے لیے ایک جلسے کی حیثیت رکھتا تھا، جو نومبر میں کانگریس کا کنٹرول برقرار رکھنے اور ووٹرز کی شرکت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جن کا پارٹی پر اثر و رسوخ بدستور مکمل طور پر قائم ہے، نے بدھ کو دو روزہ تقریب کی افتتاحی شام ایک طویل کلیدی خطاب کیا۔ انھوں نے ان بہت سے موضوعات پر بات کی جن پر وہ رواں سال بار بار اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں، تاہم اس دوران چند غیر متوقع اعلانات بھی کیے گئے۔

    ٹرمپ طویل عرصے سے اپنے جلسوں میں غیر روایتی تجاویز پیش کرتے رہے ہیں۔ بدھ کی شب انھوں نے اعلان کیا کہ اگر ریپبلکن نومبر میں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5,000 ڈالر (3,700 پاؤنڈ) دینے کی کوشش کریں گے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ اس منصوبے کی صرف ایک شرط ہو گی: یہ رقم امریکہ ہی میں خرچ کرنا ہو گی۔

    تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ منصوبہ کیسے نافذ کیا جائے گا، اس کے لیے رقم کہاں سے آئے گی، یا امریکی حکومت یہ کیسے جانچے گی کہ یہ رقم کہاں خرچ کی گئی۔

    ڈیموکریٹس نے فوری طور پر اس اعلان کو "کھوکھلا وعدہ" قرار دیا، جبکہ بعض ناقدین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا ایسا وعدہ قانونی طور پر ممکن بھی ہے یا نہیں۔

    امریکہ میں تقریباً 27 کروڑ بالغ افراد موجود ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اگر ہر شخص کو 5,000 ڈالر دیے جائیں تو اس پر امریکی حکومت کو تقریباً 1.3 کھرب ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے۔

    یہ منصوبہ قابلِ عمل ہے یا نہیں، بظاہر اس سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ اس اعلان کا حاضرین پر کیا اثر ہوا۔ کنونشن میں اس تجویز پر زوردار تالیاں بجائی گئیں اور ٹرمپ اس ردِعمل سے خاصے محظوظ دکھائی دیے۔

  13. ایرانی میزائل حملوں سے اردن میں امریکی فضائی اڈے پر کئی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: سی بی ایس نیوز

    reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کے مطابق بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق اردن میں واقع موفق سلطی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے والے ایرانی میزائل حملوں میں کئی امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا۔

    ذرائع کے مطابق تقریباً آٹھ ایف-15 طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا اور مرمت کے بعد انھیں دوبارہ فضائی بیڑے میں شامل کر دیا گیا۔ معاملے کی حساسیت کے باعث ان ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔

    ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اے-10 تھنڈربولٹ حملہ آور طیارہ، جو وار تھاگ کے نام سے معروف ہے، میزائل حملے کے نتیجے میں اپنے ایک ونگ سے محروم ہو گیا۔

    سی بی ایس سے بات کرنے والے انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ان حملوں میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا۔

    یہ حملے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد ہوئے جب امریکہ نے کہا تھا کہ اس نے امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز پر ایرانی حملوں کے جواب میں پانچ ایرانی تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے آٹھ امریکی تیل بردار ٹینکروں اور دو جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں اردن کا موفق سلطی فضائی اڈہ بھی شامل ہے۔

    سی بی ایس نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ اردن میں تعینات امریکی افواج نے ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے 30 سے زیادہ پیٹریاٹ میزائل داغے۔

    یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سی بی ایس اس سے قبل امریکی حکام کے حوالے سے یہ خبر دے چکا ہے کہ کئی ماہ سے جاری لڑائی کے بعد امریکی پیٹریاٹ میزائلوں اور بعض دیگر جدید ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    پینٹاگون کے حکام نے تاحال موفق سلطی اڈے پر موجود طیاروں کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات کی نہ تو باضابطہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔

  14. پاکستان میں پانچ روز میں پٹرول 21.88 اور ڈیزل 14.62 روپے فی لیٹر مہنگا ہو گیا

    پاکستان میں پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں پانچ روز کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 5 ستمبر کے مقابلے میں 10 ستمبر تک پٹرول کی قیمت 21.88 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 14.62 روپے فی لیٹر بڑھ گئی ہے۔

    10 ستمبر 2026 سے پٹرول کی قیمت 367.75 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 392.67 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

    اس سے ایک روز قبل، 9 ستمبر کو پٹرول 364.35 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 385.95 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔

    اور 8 ستمبر کو پٹرول کی قیمت 358.77 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 381.77 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔

    اس سے پہلے 5 ستمبر کو پٹرول 345.87 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 378.05 روپے فی لیٹر کا تھا۔

    اعداد و شمار کے مطابق 5 ستمبر سے 10 ستمبر کے درمیان پٹرول کی قیمت میں 21.88 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 14.62 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خلیجی خطے میں تیل بردار جہازوں پر حملوں اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بدھ کو خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100 ڈالر (74 پاؤنڈ) فی بیرل تک پہنچ گئی۔

    گذشتہ روز امریکہ نے کہا تھا کہ اس نے ایران کی جانب سے ایک جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کے جواب میں پانچ ایرانی ٹینکروں پر حملہ کیا، جبکہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ انھوں نے جوابی کارروائی میں آٹھ ٹینکروں اور دو جنگی جہازوں کے علاوہ اردن میں واقع ایک امریکی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔

    پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی کہا کہ وہ جہاز رانی کے لیے ایک نئے ممنوعہ زون کے قیام کا منصوبہ رکھتے ہیں جو آبنائے ہرمز سے آگے بحیرہ عرب تک پھیلا ہوا ہوگا۔

    حوثیوں کا کہنا ہے کہ یمن میں سعودی عرب نے درجنوں حملے کیے ہیں۔ اس سے قبل حوثیوں کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کی کئی تیل تنصیبات میں آگ لگ گئی تھی۔

    بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت جولائی کے اواخر کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ بدھ کی دوپہر برینٹ خام تیل 100.70 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا تھا، جو منگل کے مقابلے میں 2.83 فیصد زیادہ ہے۔

    فروری میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے سے قبل برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر (52 پاؤنڈ) فی بیرل تھی۔

    تاہم تجارتی جہازرانی پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث خلیج میں واقع آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہو گئی ہے، جہاں سے دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔

    ادھر حوثی جولائی سے بحیرۂ احمر میں سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور تیل بردار جہازوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔

    تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے نتیجے میں دنیا کے مختلف ممالک میں صارفین کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

  15. سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں، سعودی اتحاد کا دعویٰ

    ایک نئے بیان میں یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کے لیے بنائے گئے سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثی ملیشیا سعودی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔

    سعودی فوج کے ترجمان نے کہا کہ بدھ (9 ستمبر) کو حوثیوں نے خمیس مشیط، ابھا اور جیزان کے شہروں پر بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے حملے کیے۔

    ترکی المالکی نے زور دیا کہ اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان سعودی خودمختاری، قومی بنیادی ڈھانچے اور اثاثوں کے ساتھ ساتھ شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے ان حملوں کا ذمہ دارانہ انداز میں جواب دے گی۔

    یہ بیان جنوبی سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں کی لہر کے بعد سامنے آیا ہے، جن کے بارے میں سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف شہر اور توانائی کی تنصیبات تھیں اور ان کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

    بدھ کے روز ہی ایران کی وزارتِ خارجہ نے یمن میں حوثیوں کو کسی بھی قسم کی فوجی یا آپریشنل معاونت فراہم کرنے کی تردید ایک بار پھر دہرائی اور مارکو روبیو کے ان تبصروں کو مسترد کر دیا جن میں انھوں نے حوثیوں کو ایران کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔

  16. سیریک، میناب اور قشم کے قریب دھماکوں کی آوازیں

    ایران کے سرکاری میڈیا کی جانب سے قشم میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع دیے جانے کے چند منٹ بعد، بدھ کی نصف شب سیریک اور میناب میں بھی اسی نوعیت کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

    یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بدھ کی شب مقامی وقت کے مطابق دیر گئے ممکنہ نئے حملوں یا جھڑپوں کے بارے میں تاحال کوئی اعلان جاری نہیں کیا ہے۔

  17. ایران کے جزیرہ قشم پر دھماکے کی آواز سنی گئی ہے

    ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم پر ایک ’شدید دھماکے‘ کی آواز سنی گئی ہے، تاہم دھماکے کی نوعیت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا سمیت مختلف میڈیا اداروں نے کہا ہے کہ دھماکے کی درست جگہ (خشکی پر ہو یا پانی میں) کا تعین نہیں کیا جا سکا۔

  18. امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے ’فوراً بعد‘ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو جائے گی: امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ٹیکساس روانگی سے قبل صحافیوں کو بتایا کہ ایران کے خلاف جنگ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔

    امریکہ میں بی بی سی نیوز کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران پر وسط مدتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

    سی بی ایس نیوز کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد جنگ ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ (ایران) اب مزید مقابلہ نہیں کر سکتا۔‘

    ’وہ انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے بے چین ہیں تاکہ یہاں (امریکہ میں) ایک نرم اور کمزور گروہ آ جائے، جو انہیں تنہا چھوڑ دے اور انہیں جوہری ہتھیار حاصل کرنے دے۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’ان کی ساری خواہش صرف جوہری ہتھیار حاصل کرنا ہے اور اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار آ گئے تو پوری دنیا شدید خطرے میں پڑ جائے گی۔‘

    ان دعوؤں کے باوجود ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے قبل مستقبل قریب میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے خواہش مند نہیں ہیں۔

    ’سچ پوچھیں تو ہم اس کی کوشش ہی نہیں کر رہے۔ ابتدا میں میں ایک معاہدہ کرنا چاہتا تھا۔ اب ہم اس مرحلے سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔‘

    ’مذاکرات ممکنہ طور پر ہو سکتے ہیں، لیکن فی الحال ہم اس پر غور نہیں کر رہے۔‘

  19. جوہری توانائی ایجنسی نے ’امریکہ اور اتحادیوں کے دباؤ‘ میں ایران کے خلاف قرارداد منظور کی: تہران کا دعویٰ

    ایران نے اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے منظور کی گئی اس قرارداد کی مذمت کی ہے، جس میں جوہری ’عدم تعاون‘ کے معاملے پر ایران کے معاملے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سپرد کیا گیا ہے۔

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) میں ایران کے نمائندے رضا نجفی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’یہ قرارداد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے سیاسی دباؤ کے تحت منظور کی گئی ہے اور ہمارے نزدیک اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور نہ ہی اس سے کوئی نتیجہ نکلے گا۔‘

    نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے جوہری تنصیبات کی تباہی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے اور پھر ان تک رسائی حاصل کرنے کی ضرورت کا دعویٰ کرتا ہے۔

    غریب آبادی نے ایکس پر لکھا: ’وہ پہلے ایران کی ان جوہری تنصیبات پر حملہ کرتے ہیں جو حفاظتی نگرانی کے نظام کے تحت قائم ہیں، معمول کے تصدیقی عمل میں خلل ڈالتے ہیں اور پھر اسی خلل کو بورڈ آف گورنرز میں قرارداد پیش کرنے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔‘

    انہوں نے مزید کہا ’ان من گھڑت دعوؤں کے ذریعے آپ نہ تو اپنی پالیسیوں اور اقدامات کی ناکامی کی تلافی کر سکتے ہیں اور نہ ہی سلامتی کونسل میں کوئی مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔‘

  20. ٹرمپ نے نٹالی ہارپ سمیت تین معاونین کو 45، 45 ہزار ڈالر کے نقد تحائف دیے، سرکاری دستاویز, برنڈ ڈیبسمن جونیئر، بی بی سی نیوز

    Natalie Harp

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ کی قریبی معاون نٹالی ہارپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے عملے کے چار ارکان کو قابلِ ذکر نقد تحائف دیے ہیں، جن میں ان کی قریبی معاون نٹالی ہارپ بھی شامل ہیں جنھوں نے 45,000 ڈالر وصول کیے۔ یہ بات ان کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی گوشواروں میں سامنے آئی ہے۔

    دستاویزات کے مطابق عملے کے دو دیگر ارکان کو بھی ہارپ کے برابر رقم ملی، جبکہ ٹرمپ کے طویل عرصے سے معاون اور اوول آفس آپریشنز کے ڈائریکٹر والٹ ناوٹا کو 22,000 ڈالر دیے گئے۔

    دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے کسی اور ملازم نے صدر کی جانب سے دیے گئےتحائف کا اندراج نہیں کروایا۔ وفاقی ملازمین کو اپنی سرکاری ذمہ داریوں کے بدلے بیرونی معاوضہ وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

    وائٹ ہاؤس نے ان تحائف کو ذاتی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا عملے کے ارکان کے سرکاری کام سے کوئی تعلق نہیں تھا اور یہ امریکی قانون کے تحت جائز ہیں۔

    بی بی سی کو فراہم کیے گئے ایک بیان میں وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ صدر ’اپنے حلقۂ اثر میں شامل افراد کو کرسمس کے تحائف دینے کی ایک دیرینہ روایت رکھتے ہیں، جن میں بعض اوقات سرکاری ملازمین اور معاونین بھی شامل ہوتے ہیں، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اس وقت کے ہوں جب ٹرمپ نجی شعبے سے وابستہ تھے۔‘

    عہدیدار نے مزید کہا کہ ’زیرِ بحث یہ تحائف ان افراد کی کسی بھی سرکاری ذمہ داری سے متعلق نہیں ہیں اور متعلقہ قانونی اور اخلاقی معیارات کے تحت مکمل طور پر جائز ہیں۔‘

    157,000 ڈالر مالیت کے یہ نقد تحائف نوٹا، ہارپ اور دو دیگر عہدیداروں، یعنی کمیونیکیشنز کے مشیر مارگو مارٹن اور وائٹ ہاؤس کے معاون چیمبرلین ہیرس، جو ٹرمپ کے ایگزیکٹو اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں، کے لیے ’تعطیلات کے موقع پر نقد تحفہ‘ کے طور پر دستاویزات میں درج ہیں۔

    وائٹ ہاؤس نے بی بی سی کے اس علیحدہ سوال کا جواب نہیں دیا کہ فہرست میں شامل دیگر 91 ملازمین کو یہ تحائف کیوں نہیں دیے گئے۔

    نقد تحائف وصول کرنے والے چاروں افراد کو امریکی صدر کے قریبی حلقے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

    35 سالہ نٹالی ہارپ کا شمار ٹرمپ کے لیے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والوں اور انتہائی وفادار معاونین میں ہوتا ہے۔ ان کی ذمہ داریوں میں ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل کی پوسٹس کو تحریری شکل دینا بھی شامل ہے۔

    گذشتہ ماہ وہ اس وقت قومی توجہ کا مرکز بنی تھیں جب ان کا نام ان چند افراد میں شامل تھا جو ترکی سے روانگی کے وقت ٹرمپ کے ساتھ موجود رہے، جب وہ خفیہ طور پر ایک طیارے سے دوسرے طیارے میں منتقل ہوئے تھے۔

    والٹ ناوٹا، جو امریکی بحریہ کے سابق اہلکار ہیں، بھی طویل عرصے سے ٹرمپ کے قریبی ساتھی ہیں۔ وہ ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے دوران وائٹ ہاؤس میں فوجی معاون کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے اور بعد ازاں ٹرمپ کے عہدہ چھوڑنے کے بعد فلوریڈا میں واقع ان کی مار-اے-لاگو رہائش گاہ پر معاون کے طور پر ان کے ساتھ کام کرتے رہے۔

    جون 2023 میں ان پر ٹرمپ کے ساتھ قومی سلامتی سے متعلق دستاویزات کے غلط استعمال کے الزامات میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی، تاہم یہ مقدمہ بعد میں خارج کر دیا گیا۔

    تیسری شخصیت، مارگو مارٹن، سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی سرگرمیوں کی دستاویزی کوریج کے لیے جانی جاتی ہیں۔

    جبکہ چوتھے شخص، 26 سالہ چیمبرلین ہیرس، باضابطہ طور پر صدر کے ایگزیکٹو اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ فروری میں انہیں امریکی کمیشن برائے فنونِ لطیفہ کا رکن بھی مقرر کیا گیا تھا، جو وائٹ ہاؤس کے بال روم اور واشنگٹن میں ٹرمپ کی ہدایت پر جاری دیگر منصوبوں کی تعمیر کی نگرانی کرتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں خدمات انجام دینے والے عملے کو کسی حاضر سروس امریکی صدر کی جانب سے نقد تحائف دیے جانے کی کوئی دوسری معروف مثال موجود نہیں ہے۔

    تاہم بہت سے صدور ماضی میں اپنے عملے کو یادگاری تحفے میں دیتے رہے ہیں۔

    مثال کے طور پر صدر براک اوباما نے اپنے سابق پریس سیکریٹری رابرٹ گِبز کو ایک فریم میں جڑی ہوئی ٹائی تحفے میں دی تھی، جسے انہوں نے 2004 کے ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن سے قبل ایک موقع پر گِبز سے ادھار لیا تھا۔