مخا بندرگاہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ادارے روئٹرز نے یمنی حکومت کے تین عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں نے جمعرات کو ’مخا بندرگاہ‘ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
مخا بندرگاہ یمن کے صوبے تعز کے مغرب میں واقع ہے۔ یہ آبنائے باب المندب سے تقریباً 65 سے 75 کلومیٹر شمال اور ’تعز‘ شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔
یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق مخا بندرگاہ اس بین الاقوامی بحری گزرگاہ سے صرف تقریباً چھ کلومیٹر دور ہے، جو بحرِ ہند اور بحیرۂ عرب کو بحیرۂ احمر اور نہرِ سویز سے ملاتی ہے۔
حوثیوں نے گذشتہ ماہ (دس اگست) کو بھی مخا بندرگاہ پر بڑا حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں آٹھ یمنی فوجی ہلاک اور 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
اُس حملے کے بعد حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا تھا کہ ’حملے میں مخا میں موجود سعودی افواج کے اسلحے کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔‘ تاہم یمنی فوج کا کہنا تھا کہ ’حملے رہائشی علاقوں پر کیے گئے، جبکہ یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق بندرگاہ کے اندر شہری اور اقتصادی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔‘
یاد رہے کہ حوثی بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہوں پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اور مخا بندرگاہ کا کنٹرول حاصل کرنے کا اقدام آبنائے باب المندب میں حوثیوں کا کنٹرول مزید مضبوط کر سکتا ہے۔
جمعرات کے روز بھی حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی فضائیہ نے یمن میں اُن (حوثیوں) کے اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں۔
کشیدگی میں اس حالیہ اضافے کے بعد سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع خمیس مشیط شہر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
المخا شہر اور بندرگاہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
حوثیوں کی جانب ’مخا‘ کا کنٹرول سنبھالنے کے دعوے کے بعد یہ بندرگاہ ایک مرتبہ پھر سے خبروں میں ہے۔
مخا بندرگاہ لمخا شہر ہی میں واقع ہے جس کی شہرت اس کی ’کافی‘ کی پیداوار کی وجہ سے ہوئی۔ 16ویں صدی سے مخا بندرگاہ یمن کی اہم ترین بندرگاہوں میں شمار ہونے لگی، جہاں یمن کے پہاڑی علاقوں میں پیدا ہونے والا اناج لایا جاتا اور پھر انڈیا، مشرقی افریقہ، سلطنتِ عثمانیہ اور یورپ کو برآمد کیا جاتا تھا۔
17ویں اور 18ویں صدی میں ڈچ، برطانوی اور فرانسیسی تجارتی کمپنیوں نے بھی شہر میں اپنے تجارتی مراکز قائم کیے۔ وقت کے ساتھ ’مخا‘ کا نام عالمی منڈیوں میں یمنی ’کافی‘ کے مترادف بن گیا۔ بعد میں یہی نام اس ’کافی‘ اور ’چاکلیٹ‘ سے بننے والے مشروب کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جو آج دنیا بھر میں ’موکا‘ کے نام سے معروف ہے۔
بندرگاہ کی سرگرمیاں صرف ’کافی‘ تک محدود نہیں تھیں۔ یہاں سے لوبان، گوندِ مُر، ایلوویریا اور عرق سمیت مختلف اشیا برآمد کی جاتی تھیں، جبکہ انڈیا، مشرقی ایشیا اور افریقہ کا مشرقی علاقہ سے کپڑے، مصالحہ جات، مویشی اور دیگر مصنوعات درآمد کی جاتی تھیں۔
مخا شہر میں واقع المخا بندرگاہ
یورپی نوآبادیوں میں ایشیا اور امریکہ کے مختلف علاقوں میں ’کافی‘ کی کاشت شروع ہونے کے بعد المخا کی بندرگاہ اپنی اہمیت کھونے لگی۔ اس کے بعد سنہ 1839 میں برطانیہ کے ہاتھوں عدن پر قبضے اور عدن کی بندرگاہ کے عروج کے ساتھ ساتھ حدیدہ بندرگاہ کی ترقی نے بھی المخا کی تجارتی حیثیت کو مزید متاثر کیا۔
ان تبدیلیوں کے نتیجے میں المخا کا وہ کردار تقریباً ختم ہو گیا جو اسے صنعاء اور وسطی یمن کے لیے ایک اہم تجارتی راستے کے طور پر حاصل تھا۔
مخا بندرگاہ کو جدید بنانے کا کام سنہ 1950 کی دہائی میں شروع جدید نوعیت کی تنصیبات سے آراستہ کیا گیا، جبکہ سنہ 1970 کی دہائی میں ان کی دوبارہ تعمیر اور توسیع کی گئی۔
بندرگاہ کو ایسے بنایا گیا ہے کہ یہاں سالانہ تقریباً 15 لاکھ ٹن سامان رکھنے کی گنجائش موجود ہے، تاہم اس کے بحری راستے کی گہرائی 7.2 سے 7.8 میٹر کے درمیان ہے، جس کے باعث یہاں بڑے کنٹینر بردار جہازوں اور بڑے ٹینکروں کی آمد ممکن نہیں۔
اس کے علاوہ بندرگاہ کو سامان کی نقل و حمل کے آلات اور عملے کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ سمندری راستے کی مسلسل ڈریجنگ اور مرمت بھی ضروری ہے۔
یمن میں سنہ 2014 کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد بندرگاہ کی معمول کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔ بعد ازاں مغربی ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی پیش قدمی کے دوران بندرگاہ پر ان کا قبضہ ہو گیا، تاہم جنوری سنہ 2017 میں حکومت کے حامی فورسز نے اسے دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
اس وقت بندرگاہ ’نیشنل ریزسٹنس فورسز‘ کے کنٹرول میں تھی۔
ستمبر 2021 میں بندرگاہ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا تھا۔










