آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان عام قیدی نہیں، نیب ترامیم کیس کی کارروائی لائیو دکھانا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں، جسٹس اطہر من اللہ

جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ ’سابق وزیر اعظم عمران خان کی پیشی والا نیب ترامیم کیس براہ راست نشر کرنا بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے ضروری ہے۔ نیب ترامیم کیس پہلے براہ راست نشر ہو چکا ہے۔‘ واضح رہے کہ 30 مئی کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت کو لائیو سٹریمنگ کے ذریعے براہ راست دکھانے کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

خلاصہ

  • وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ چین قرضوں کے لیے نہیں بلکہ ترقی اور کاروبار کے لیے آئے ہیں۔ یاد رہے کہ شہباز شریف وفد کے ہمراہ اس وقت چین کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔
  • وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں واضح کمی آئی ہے، حکومت کی توجہ اقتصادی اصلاحات پر ہے۔
  • سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی جماعتی انتخابات کروا لیتی تو آج نشستوں والا مسئلہ ہی نہ ہوتا۔
  • وزیراعظم محمد شہبازشریف چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کیانگ کی دعوت پر چین کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کا دفتر فوری طور پر ڈی سیل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
  • وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف سائفر کا معاملہ بری ہونے والا کیس نہیں تھا۔ سائفر کیس میں عمران خان کا شک کی بنیاد پر بری ہونا پورے عدالتی نظام کا بٹھہ بٹھانے والی بات ہے۔
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیر کو سائفر کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ان کی سزاؤں کو کالعدم قرار دیا ہے۔
  • بلوچستان کے ضلع کوئٹہ میں ایک کوئلہ کان میں حادثے کے باعث 9 کانکنوں سمیت 11 افراد ہلاک ہوگئے۔
  • سائفر کیس کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اپنی عدلیہ سے گزارش کرتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کے خلاف جھوٹے مقدّمات جلد از جلد نمٹائے جائیں اور انھیں جیلوں سے رہا کیا جائے۔‘

لائیو کوریج

  1. کوئٹہ کے قریبی علاقے سنجدی میں کوئلہ کان میں دھماکہ، 11 افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کوئٹہ میں ایک کوئلہ کان میں حادثے کے باعث 9 کانکنوں سمیت 11 افراد ہلاک ہوگئے۔

    سرکاری حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ ایک نجی کان میں گیس بھر جانے کے باعث پیش آیا۔

    چیف انسپیکٹر مائنز عبدالغنی بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ سنجدی کے علاقے میں اُس وقت پیش آیا کہ جب ایک نجی کان میں گیس بھر جانے کی وجہ سے دھماکہ ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا اس وقت کوئلہ کان میں 11 افراد موجود تھے جن میں 9 کانکن، مائن مینیجر اور ایک ٹھیکیدار شامل تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ کام کے دوران کان میں گیس بھر گئی جس کی وجہ سے دم گھٹنے سے یہ تمام افراد ہلاک ہو گئے۔

    چیف انسپیکٹر مائنز کا کہنا تھا کہ کان حادثے میں مارے جانے والے ان تمام افراد کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقوں سوات اور شانگلہ سے تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو تدفین کے لیے آبائی علاقوں کو روانہ کردیا جائے گا۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کوئٹہ کے علاقے میں کول مائن میں دم گھٹنے سے 11 کانکنوں کے ہلاک ہونے کے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کےشریک ہیں۔‘

    صوبائی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ مائنز نے ریسکیو کارروائیوں کا آغاز کردیا۔

    تاہم صوبہ بلوچستان کے حکومتی ترجمان شاہد رند کے مطابق صوبائی حکومت نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر کارروائی کا حکم بھی دیا ہے۔

    واضح رہے کہ سنجدی کوئٹہ شہر سے جنوب مشرق میں اندازاً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    اس علاقے میں کوئلے کی کانیں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اس علاقے میں پہلے بھی کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے حادثات کی وجہ سے کانکن ہلاک اور زخمی ہوتے رہے ہیں۔

    بلوچستان میں دیگر جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانکنی یہاں کی سب سے بڑی صنعت ہے۔

    بلوچستان کے جن اضلاع میں کوئلہ کی کانیں بڑی تعداد میں ہیں ان میں کوئٹہ، کچھی، ہرنائی اور دکی شامل ہیں۔ ان علاقوں میں کوئلے کی کانوں سے ہزاروں افراد کا بالواسطہ اور بلاواسطہ روزگار وابستہ ہے۔

    پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل لالا سلطان کا کہنا ہے کہ ’بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں سیفٹی کے جدید انتظامات نہیں ہیں جس کہ وجہ سے ان میں ہر سال بڑی تعداد میں کانکن ہلاک اور زخمی ہوتے رہتے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’جہاں کانکنوں کو کانکنی کی مناسب تربیت نہیں دی جاتی وہاں ٹھیکیداری کا نظام بھی حادثات کی ایک بڑی وجہ ہے۔‘

    لالا سلطان کا کہنا ہے کہ ’جن لوگوں کے نام کان الاٹ ہوتے ہیں وہ خود ان پر کام کرنے کی بجائے انھیں ٹھیکداروں کے حوالے کرتے ہیں۔‘

    لالا سلطان کے بقول ’چونکہ ٹھیکیدار کو زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے سے غرض ہوتا ہے اس لیے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سیفٹی کے انتظامات کو یقینی بنانے کی بجائے زیادہ سے زیادہ کوئلہ نکالے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’کوئلہ کانوں میں متبادل راستوں اور تازہ ہوا پہنچانے کا انتظام کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے حادثے کی صورت میں کانکنوں کے بچنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔‘

    لالا سلطان نے بتایا کہ ’کوئلہ کانوں میں کانکنوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کرکے کان مالکان کو خود کام کرنے کا پابند بنانے کے علاوہ کانوں میں سیفیٹی کے جدید انتظامات اور کانکنوں کی تربیت کو یقینی بنایا جائے۔‘

  2. بلوچستان میں تین مختلف مقامات پر پولیو ٹیم پر تشدد کے باعث تین سکیورٹی اہلکار زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں پیر کے روز تشدد کے باعث پولیو کی ٹیموں کی سکیورٹی پر مامور تین اہلکار زخمی ہوگئے۔

    سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پولیو کی ٹیموں کو چمن میں تین مختلف مقامات پر لوگوں کی ہجوم نے کام سے روک دیا۔

    خیال رہے کہ رواں سال بلوچستان میں تین سال بعد چمن سمیت تین علاقوں میں پولیو کے تین کیس رپورٹ ہوئے۔ پیر کے روز سے پولیو کے خلاف چمن سمیت بلوچستان کے 14 اضلاع میں 7 روزہ مہم شروع کی گئی۔

    چمن میں پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ جب شہر میں پولیو کی ٹیمیں کام کے لیے نکلیں تو لوگوں کی ہجوم نے تین مقامات پر ان کو کام سے روک دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس دوران بعض لوگوں نے پولیو کی ٹیموں کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر تشدد کیا جس کی وجہ سے پولیس کے ایک اور لیویز فورس کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔

    تاہم ڈپٹی کمشنر چمن اطہر عباس راجہ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دو خواتین پولیو ورکرز کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پولیو کی ٹیموں پر حملے میں مبینہ طور پر چمن میں جاری دھرنے سے تعلق رکھنے والے لوگ ملوث تھے۔

    یہ دھرنا گزشتہ سال 21 اکتوبر سے چمن سے افغانستان آمد و رفت کے لیے حکومتِ پاکستان کی جانب سے پاسپورٹ کی شرط عائد کرنے کے خلاف دیا جارہا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نے الزام عائد کیا کہ ’دھرنا کمیٹی کی جانب سے یہ انتہائی غلط اقدام کیا گیا۔ اس میں ملوث لوگوں کے خلاف نہ صرف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا بلکہ ان کے خلاف کاروائی بھی کی جائے گی۔‘

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ’پولیو کے خلاف مہم جاری رہے گی اور پولیو ٹیموں کو مزید سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔‘

    بلوچستان کے وزیر داخلہ نے متعلقہ حکام کو پولیو ٹیموں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس میں ملوث لوگوں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند بتایا کہ ’پرامن احتجاج ہر ایک کا حق ہے لیکن اگر کوئی تشدد کا راستہ اختیار کرے گا تو ریاست رد عمل ظاہر کرے گی۔‘

  3. سائفر کیس میں بریت: عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کے مقدمات نمٹائے جائیں اور انھیں رہا کیا جائے، تحریک انصاف

    پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں بریت کے فیصلے پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

    پی ٹی آئی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اپنی عدلیہ سے گزارش کرتے ہیں کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کے خلاف جھوٹے مقدّمات جلد از جلد نمٹائے جائیں اور انھیں جیلوں سے رہا کیا جائے۔‘

    چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے سائفر کیس میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف اور شاہ محمود قریشی کے بریت کے فیصلے پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’آج عوام نے دیکھا کہ حق کا فیصلہ ہوا ہے، انصاف کا علم بلند ہوا اور جو بانی پی ٹی آئی پر بے بُنیاد کیس بنایا گیا تو وہ بھی آج ختم ہو گیا۔ اس دوران عمران خان نے تقریباً دس ماہ کا وقت گُزارا آج وہ مُشکل وقت ختم ہوا اور دُنیا نے دیکھا کہ ناحق مقدمہ ختم ہوا اور وہ دن دور نہیں ہے کہ جب عمران خان جیل سے باہر ہوں گے۔‘

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شبلی فراز نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سائفر کیس پر آنے والے فیصلے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’اللہ نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو بے بنیاد مقدموں سے سرخ رو کیا ہے، یہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں تھے اور آج قوم نے دیکھا کہ یہ سب بے بُنیاد مقدمات ختم ہوتے جا رہے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اب ہمیں اُمید اسی بات کی ہے کہ اب جب ایک مرتبہ انصاف کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو ایک اور جو مقدمہ مخصوص نشستوں کا عدالت میں چل رہا ہے اُس میں بھی ہمیں بہت جلد انصاف ملے گا۔‘

  4. سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزا کالعدم، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بری کر دیا, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف رہنما شاہ محمود قریشی کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ان کی سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

    عدالت کی جانب سے سوموار کے دن مختصر فیصلہ سنایا گیا جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ خصوصی عدالت کے جج ابولحسنات ذوالقرنین نے اس سال جنوری میں سائفر مقدمے میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو دس دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

    سوموار کے دن اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے ان اپیلوں پر فیصلہ سنایا تو عمران خان کی دونوں بہنوں کے علاوہ شاہ محمود قریشی کی اہلیہ اور ان کی بیٹیاں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے متعدد رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے اپیلوں کو منظور کرنے کے باوجود عمران خان اور شاہ محمود قریشی جیل سے رہا نہیں ہو سکیں گے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان کو عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے جبکہ پنجاب پولیس نے 9 مئی کے ایک مقدمے میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی گرفتاری ڈال رکھی ہے۔ پولیس نے متعقلہ عدالت سے شاہ محمود قریشی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا تاہم عدالت نے ملزم کو لاہور لیکر جانے کی پولیس کی استدعا مسترد کر دی تھی۔

    عدت کے دوران نکاح کا مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج شاہ رخ ارجمند کی طرف سے مقدمہ کسی دوسری عدالت میں منتقل کرنے سے متعلق دائر درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا کی عدالت میں بھیج دیا ہے اور قانونی ماہرین کے مطابق مذکورہ جج از سر نو اس مقدمے کی سماعت کریں گے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کے مقدمے میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور بشری بی بی کی ضمانتیں منظور کر رکھی ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے توشہ خانہ سے تحائف حاصل کرنے کے باوجود انھیں اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر درج کیے گئے مقدمے میں بھی ایڈیشنل سیشن جج کی طرف سے دی گئی تین سال کی سزاکے فیصلے کو بھی اسلام آباد ہائیکورٹ معطل کر چکی ہے۔

    اسی فیصلے کے بعد عمران خان کو گزشتہ برس 5 اگست کو لاہور سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 180 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ تاہم اسلام آباد میں درج ہونے والے دس مقدمات میں متعقلہ عدالتیں سابق وزیر اعظم کو بری کر چکی ہیں جبکہ توڑ پھوڑ کے ایک مقدمے میں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کو 28 جون کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے۔

  5. سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت: جس چیز کا ہمیں پتہ ہی نہیں ہم نے دیکھا ہی نہیں اس کا ہم کیا کریں، پتہ تو چلتا جو افسانہ ہے وہ افسانہ ہے کیا؟ چیف جسٹس

    سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اپیلوں پر سماعت کر رہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی جانب سے سلمان صفدر و دیگر عدالت میں موجود ہیں۔

    سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس کی جانب سے پوچھا گیا کہ آج اس کیس میں دلائل کون دے گا؟

    چیف جسٹس ہائیکورٹ کی جانب سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس کیس کی وجہ سے ریگولر ڈی بی کینسل کی گئی ہے اور اس کے باوجود وکلاء ہی موجود نہیں ہیں۔

    عمران خانُ کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے جواب الجواب دلائل کا آغاز ہوا تو اُن کا کہنا تھا کہ ’ایف آئی اے پرسکیوٹر کی جانب سے کہا گیا کہ ہم نے 342 میں گناہ تسلیم کیا ہے۔ سیکرٹ رولز کے مطابق اعظم خان جوابدہ ہیں ان سے پوچھا جانا چاہیے۔ سیکرٹ رولز کا ذکر حامد علی شاہ نے یہاں نہیں کیا۔‘

    جس کے بعد وکیل سلمان صفدر کی جانب سے سپریم کورٹ کی مختلف عدالتی نظیروں کا حوالہ دیا گیا اُن کا کہنا تھا کہ ’رات 12 بجے تک بیانات قلم بند کیے جاتے ہیں اور صبح 8 بجے ملزمان کے 342 کے بیان کے لیے بلا لیا جاتا ہے۔ جب 342 کا بیان ریکارڈ ہو اس دن فیصلہ بھی سنا دیا گیا۔‘

    جس پر سرکاری وکیل کی جانب سے جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’11:30 پر 342 کا بیان ریکارڈ ہونا شروع ہو اور 1 بجے تو جاری رہا۔‘

    اس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’کیا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد دلائل دیے گے؟‘

    جسٹس میاں گُل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’دو کونسلز جنھوں نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ٹرائل کورٹ میں جرح کی انھوں نے کبھی کریمنل کیس لڑا ہے؟ اگر انھوں نے کیسز لڑے ہیں تمام کیسز کی لسٹ تیار کر کے عدالت میں جمع کروا دیں۔‘

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’لاپرواہی کا الزام جوعمران خان پر لگا ہے یہ الزام ان ہر لگتا ہی نہیں۔ 4 گواہان کے مطابق سائفر کی حفاظت اعظم خان کی ذمہ داری تھی۔ دو سال تحقیات ہوئیں اس کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی، باقی آٹھ کاپیاں بھی وآپس ہوئیں۔ جو 8 کاپیاں لیٹ آئیں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔‘

    سلمان صفدر کا مزید کہنا تھا کہ ’جب ثبوت کو ضائع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو 201 لگتی ہے سائفر تو انکے پاس موجود ہے۔ حامد علی شاہ گزشتہ تین سماعت پر موجود نہیں تھے۔ مزید ثبوت جمع کروانے کے متفرق درخواست بھی مسترد کی گئی۔ حامد علی شاہ نے ڈیڑھ ماہ عدالت میں دلائل دیتے رہے ہیں۔ ثبوت بعد میں لائے گئے اس کا مطلب کے ہم کیس ثابت نہیں کر سکے۔ عدالت نے کئی سوالات پوچھے شاہ صاحب نے کہا اس کا جواب بعد میں دوں گا اب شاہ صاحب عدالت میں ہی نہیں۔‘

    اس پر چیف جسٹس عامر فاروق کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ ’سلمان صفدر صاحب آپ اس پر کیا کہنا چاہتے ہیں وہ بتا دیں۔‘

    جس پر عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ’آج ہمیں اس کیس میں تین ماہ ہو گئے ہیں ہم بہت اگے نکل گئے ہیں۔‘

    عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ‏ایف آئی اے پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے دلائل کا آغاز کیا۔

    ذوالفقار عباس نقوی کے دلائل کے آغاز پر ہی عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ’آپ خالی یہ کہہ رہے ہیں ’تعلقات خراب ہو سکتے تھے‘ قانون کی منشا یہ نہیں۔ آپ نے کسی کو سزائے موت دینی ہے۔ دس سال کے لئے کسی کو جیل میں رکھنا صرف اس پر کیا ہو سکتا ہے کہ ’تعلقات خراب ہو سکتے تھے۔‘

    عدالت کی اسپیشل پراسیکیوٹر کو ہدایت کی گئی اور کہا گیا کہ ’فائیو ون سی پڑھیں آپ کا کیس یہ ہے۔ جان بوجھ کر سائفر کاپی بانی پی ٹی آئی نے اپنے پاس رکھی اس سے متعلق بتائیں۔‘

    ‏چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’کیا وزیراعظم کو بتایا گیا تھا اس ڈاکومنٹ کو واپس کرنا ہے؟ سائفر کو جو کنٹینٹ ہے وہ عدالت کو بتانا چاہیے تھا ناں۔ کورٹ میں کوئی دستاویز کلاسیفائیڈ نہیں ہوتی۔ جس چیز کا ہمیں پتہ ہی نہیں ہم نے دیکھا ہی نہیں اس ہم کیا کریں۔ پتہ تو چلتا جو افسانہ ہے وہ افسانہ ہے کیا؟‘

  6. عمران خان اور شاہ محمود قریشی سمیت متعدد تحریک انصاف رہنما دو مقدمات میں بری

    اسلام آباد کی ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی سمیت متعدد رہنماؤں کو آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ سے متعلق دو مقدمات میں بری کر دیا ہے۔

    سوموار کے دن اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ احتشام عالم نے پی ٹی آئی قیادت کے خلاف آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر درج دو مقدمات کی سماعت کی جس کے دوران پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان اور اسد عمر عدالت کے روبرو پیش ہوئے جبکہ تمام ملزمان نے بریت کی درخواستیں دائر کیں۔

    عدالت نے اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی، اسد عمر، علی محمد خان اور مراد سعید کو مقدمات سے بری کر دیا۔

    یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی و دیگر رہنماؤں کے خلاف تھانہ گولڑہ میں یہ دونوں مقدمات درج ہوئے تھے۔

  7. ایک کاغذ کے ٹکڑے سے کیسے مان لیں سنی اتحاد کونسل میں پی ٹی آئی کی شمولیت ہو گئی، چیف جسٹس سپریم کورٹ, شہزاد ملک، نمائندہ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ایک کاغذ کے ٹکڑے سے کیسے مان لیں سنی اتحاد کونسل میں پی ٹی آئی کی شمولیت ہو گئی۔

    واضح رہے کہ سوموار کے دن کیس کی سماعت معطل ہونے سے قبل کارروائی کے دوران ایک موقع پر چیف جسٹس نے ججوں کے سوالات پر تحریک انصاف کے وکیل فیصل صدیقی کو جواب دینے سے روکتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ اپنے دلائل نہیں دینگے تو مجھے کیا سمجھ آئے گی کہ آپ کی جانب سے کیا لکھنا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم آپ کو سننے بیٹھے ہیں، ہم اپنا فیصلہ کر لیں گے۔ اس پر بینچ میں شامل جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک غیرذمہ دارانہ بیان ہے، فل کورٹ میں ہر جج کو سوال پوچھنے کا اختیار اور حق حاصل ہے اور اس قسم کا غیرذمہ دارانہ بیان تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ فیصل صاحب آگے بڑھیں میں نے ہلکے پھلکے انداز میں بات کی تھی۔

    سماعت کے دوران بینچ میں شامل جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ بلے کے نشان والے فیصلے پر لوگوں کو مس گائیڈ کیا گیا، آزاد امیدوار پی ٹی آئی میں بھی شامل ہو سکتے تھے کوئی پابندی نہیں تھی۔

    چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا ریکارڈ دکھائیں تو فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا ریکارڈ کچھ دیر تک جمع کرا دیتے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ دکھا دیں کس روز پی ٹی آئی نے درخواست کی اور سنی اتحاد کونسل نے منظور کی۔ اس پر سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے جواب دیا کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا تمام ریکارڈ دے دیتے ہیں۔

    اس موقعے پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے سے کیسے مان لیں کہ سنی اتحاد کونسل میں پی ٹی آئی کی شمولیت ہو گئی۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ سیاسی جماعت کے حقوق عوام کے حقوق ہوتے ہیں جبکہ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن خود آزاد امیدواروں کو سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے کی اجازت دے چکا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی کے امیدوار تھے تو سنی اتحاد کونسل میں کیسے جاسکتے تھے، عوام نے تو پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا سنی اتحاد کونسل کو نہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت پر اعتراض نہیں کیا تو مخصوص نشستوں پر کیسے ہوسکتا ہے، یا تو الیکشن کمیشن پہلے کہہ دیتا کہ آپکو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی جب سنی اتحاد کونسل میں ضم ہو گئی پھر کہا گیا مخصوص نشستیں نہیں ملیں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ہم حقیقت کو کیوں نہ دیکھیں، سنی اتحاد کونسل ہمارے سامنے اس لیے ہے کہ اس میں پی ٹی آئی کے جیتے لوگ شامل ہیں۔

  8. احمد فرہاد بازیابی کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری حکم نامہ جاری کر دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے شاعر احمد فرہاد کی بازیابی اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے مقدمے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے گذشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا۔

    عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے بتایا گیا کہ احمد فرہاد اب تک گھر نہیں پہنچے ہیں، وکیل کے مطابق احمد فرہاد تھانہ صدر مظفرآباد میں درج مقدمے میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں، احمد فرہاد کے اہل خانہ کی ان سے ملاقات کروائی گئی ہے۔

    حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ وکیل نے بتایا کہ طبی وجوہات کی بنا پر احمد فرہاد کی صحت ٹھیک نہیں ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق احمد فرہاد دو جون تک جسمانی ریمانڈ پر ہیں، احمد فرہاد کے جسمانی ریمانڈ پر ہونے کے باعث درخواست غیر مؤثر ہوچکی ہے۔

    حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ درخواست میں احمد فرہاد کو اغوا کرنے والوں کی تشخیص اور ان کے خلاف کارروائی کی استدعا بھی کی گئی تھی، لا افسر کے مطابق احمد فرہاد کی بازیابی کے بعد یہ استدعا اب مؤثر نہیں رہی، تاہم احمد فرہاد کے اسلام آباد ہائی کورٹ پیش ہونے تک عدالت لا افسر کے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی۔

    درخواست گزار وکیل کے مطابق احمد فرہاد کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کردی گئی ہے۔

    حکم نامے کے مطابق وکیل نے بتایا کہ کچھ روز میں احمد فرہاد کے ضمانت پر رہا ہونے کے امکانات ہیں، ان تمام محرکات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کی سماعت سات جون 2024 تک ملتوی کی جاتی ہے۔

    واضح رہے کہ 31 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست نمٹانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سماعت سات جون تک ملتوی کر دی تھی۔

    یاد رہے کہ 29 مئی کو وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران چند روز سے لاپتا شاعر احمد فرہاد کی گرفتاری ظاہر کردی تھی۔

    اٹارنی جنرل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ احمد فرہاد گرفتار اور دھیرکوٹ میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کی حراست میں ہیں۔

    یاد رہے کہ 16 مئی کو فرہاد علی شاہ کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا جس کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ لوہی بھیر میں درج کیا گیا تھا۔

  9. ’ہماری نظروں کے سامنے ایک دریا کا قتل ہوا ہے‘

    ’کچھ سال پہلے تک اس سارے علاقے میں پانی ہی پانی ہوتا تھا۔ اب جتنا پانی نظر آرہا ہے اس سے تو یہ دریا لگتا ہی نہیں بلکہ کوئی چھوٹی موٹی ندی محسوس ہوتی ہے۔‘

    انڈیا سے منسلک پاکستانی سرحدی علاقے میں اگر آپ دریائے روای کے کنارے کھڑے ہو کر یہ منظر دیکھیں تو وہاں رہنے والے کسان بابا حیدر علی کی یہ بات زیادہ بہتر سمجھ سکیں گے۔

  10. عدت کے دوران نکاح کا معاملہ منتقل کرنے کی درخواست منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے عدت میں نکاح کے مقدمے کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا کی عدالت میں منتقل کر دیا ہے۔

    اس سے قبل سیشن جج شاہ رخ ارجمند اس معاملے میں اپیلوں کی سماعت کر رہے تھے اور انھوں نے 29 مئی کو فیصلہ سنانا تھا تاہم بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے ان پر عدم اعتماد ظاہر کیا تھا۔

    اس اعتراض کے بعد شاہ رخ ارجمند نے فیصلہ نہیں سنایا تھا اور ایک خط کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ سے مقدمہ کسی اور عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔

    خیال رہے کہ عدت کی مدت کے دوران نکاح کے معاملے میں سول جج قدرت اللہ نے عمران خان اور بشری بی بی کو سات، سات برس قید اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

    عمران خان اور بشری بی بی کی طرف سے اس فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی تھیں جن پر سماعت کے بعد سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

  11. بریکنگ, سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت شروع

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی اپیلوں پر سپریم کورٹ میں براہ راست سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ معاملے کی سماعت کر رہا ہے۔

    ‏سلمان اکرم راجا اور فیصل صدیقی ایڈوکیٹ روسٹرم پر آگئے ہیں اور فیصل صدیقی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے گزشتہ سماعت کا عدالتی حکم نامہ پڑھ کر سنایا۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 14 مارچ کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے ساتھ ساتھ یکم مارچ کا الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے محروم کرنے کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔

    یاد رہے کہ چار مارچ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کر دیں تھی۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے 28 فروری کو درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 53 کی شق چھ، الیکشن ایکٹ کےسیکشن 104 کےتحت فیصلہ سناتے ہوئے مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی سنی اتحاد کونسل کی درخواست کو مسترد کیا ہے۔

  12. بلوچستان: دکی میں نامعلوم افراد کے حملے میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے دو مزدور ہلاک، ایک زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے علاقے دکی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے دو مزدور ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔

    دکی پولیس کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ حملہ ٹرائیبل کول مائنز ایریا میں کیا گیا۔ فائرنگ سے دو مزدور ہلاک ہو گئے جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔

    ہلاک ہونے والوں میں کوئلہ کان کا ایک انجن ڈرائیور بھی شامل ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کریم اللہ، نعیم اور زخمی کی شناخت فضل الرحمن کے نام سے ہوئی۔

    دکی میں گذشتہ ماہ بھی کوئلہ کانوں کے علاقے میں دو بم دھماکے ہوئے تھے۔ ان دھماکوں میں سی ٹی ڈی کا ایک اہلکار سمیت دو افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے تھے۔

    اس سے قبل نو مزدوروں کو اغوا بھی کیا گیا تھا جن میں سے سات کو بعد میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

  13. چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 13 رکنی بینچ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر آج سماعت کرے گا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس پر آج چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 13 رکنی لارجر بینچ کرے گا۔

    جسٹس مسرت ہلالی علالت کے باعث بینچ کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کے علاوہ سپریم کورٹ کے تمام 13 ججز اس بینچ کا حصہ ہوں گے۔

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے گذشتہ سماعت پر حکومتی اتحاد کو دی گئی اضافی نشستیں معطل کر دی تھیں۔

  14. جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم کا مقدمہ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ آج سماعت کرے گا, شہزاد ملک بی بی سی اردو اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم اور فیملی کا ڈیٹا لیک کرنے پر توہین عدالت کیس آج یعنی تین جون کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں لارجر بینچ آج سماعت کرے گا۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان بھی بینچ میں شامل ہوں گے۔ اس مقدمے میں عدالت نے ایف آئی اے، پی ٹی اے اور آئی بی سے رپورٹس طلب کر رکھی ہیں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی سمیت لارجر بینچ کے تمام ججز اور جسٹس بابر ستار اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان چھ ججوں میں سے ہیں جنھوں نے ملک کے انٹیلی جنس ادارے کی طرف سے عدالتی امور میں مداخلت کی تحریری شکایت بھی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے کر رکھی ہے۔

    رجسٹرار آفس نے پہلے چھ جون اب کل تین جون کے لیے کیس مقرر کر دیا ہے۔

    اس سے قبل 23 مئی کو جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر توہین عدالت کیس کی کازلسٹ جسٹس محسن اختر کیانی کی رخصت کے باعث منسوخ کردی گئی تھی۔

    14 مئی کو سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے تھے کہ اس کیس میں ہمیں انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلیجنس بیورو (آئی بی)، ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) سمیت تمام خفیہ اداروں کے کردار کو دیکھنا ہے۔

    6 مئی کو جسٹس بابر ستار نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں انھیں نشانہ بنانے والی سوشل میڈیا مہم کے بارے میں بتایا تھا۔ خط میں انھوں نے انکشاف کیا کہ آڈیو لیکس کیس میں مجھے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔

    28 اپریل کو جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعلامیہ جاری کیا تھا۔

    اعلامیے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس بابر ستار کے گرین کارڈ، بچوں کی امریکی شہریت، امریکی جائیدادوں اور فیملی بزنس پر وضاحت دی تھی۔

    اعلامیے کے مطابق جسٹس بابر ستار نے آکسفورڈ لا کالج اور ہارورڈ لا کالج سے تعلیم حاصل کی، انھوں نے امریکا میں پریکٹس کی اور سنہ 2005 میں جسٹس بابر ستار امریکی نوکری چھوڑ کر پاکستان آگئے اور تب سے پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔

    اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ جسٹس بابر ستار کے پاس اس وقت پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں۔

    جسٹس بابر ستار کے گرین کارڈ کا اس وقت کے چیف جسٹس کو علم تھا۔ جسٹس بابر ستار کے جج بننے کے بعد ان کے بچوں نے پاکستان میں سکونت اختیار کی۔

    اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ جسٹس بابر ستار کی پاکستان اور امریکا میں جائیداد ٹیکس ریٹرنز میں موجود ہے۔ مزید کہا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر جسٹس بابر ستار کے خلاف ہتک آمیز اور بے بنیاد مہم چلائی جا رہی ہے۔

    سوشل میڈیا پر جسٹس بابر ستار کی خفیہ معلومات پوسٹ اور ری پوسٹ کی جا رہی ہیں۔ جسٹس بابر ستار، اُن کی اہلیہ اور بچوں کے سفری دستاویزات سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جا رہے ہیں۔

  15. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ!

    • وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان سے کوئی بات نہیں ہو سکتی، اصل بحران پاکستان میں نہیں پی ٹی آئی کے اندر ہے۔
    • جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما حافظ حمداللہ نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اٹل فیصلہ ہے کہ جے یو آئی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔
    • اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم اور فیملی کا ڈیٹا لیک کرنے پر توہین عدالت کیس کل یعنی تین جون کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔
    • بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ گوادر میں باڑ لگانے کے حوالے سے ریاست کے خلاف عوام کو ورغلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
  16. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج میں خوش آمدید! اس لائیو کوریج کے دوران ہم آپ کو پاکستان کی سیاست، سکیورٹی، عدلیہ، معیشت اور دیگر امور سے متعلق آگاہ رکھیں گے۔

    گذشتہ دونوں کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔