کوئٹہ کے قریبی علاقے سنجدی میں کوئلہ کان میں دھماکہ، 11 افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع کوئٹہ میں ایک کوئلہ کان میں حادثے کے باعث 9 کانکنوں سمیت 11 افراد ہلاک ہوگئے۔
سرکاری حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ ایک نجی کان میں گیس بھر جانے کے باعث پیش آیا۔
چیف انسپیکٹر مائنز عبدالغنی بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ سنجدی کے علاقے میں اُس وقت پیش آیا کہ جب ایک نجی کان میں گیس بھر جانے کی وجہ سے دھماکہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا اس وقت کوئلہ کان میں 11 افراد موجود تھے جن میں 9 کانکن، مائن مینیجر اور ایک ٹھیکیدار شامل تھا۔
انھوں نے بتایا کہ کام کے دوران کان میں گیس بھر گئی جس کی وجہ سے دم گھٹنے سے یہ تمام افراد ہلاک ہو گئے۔
چیف انسپیکٹر مائنز کا کہنا تھا کہ کان حادثے میں مارے جانے والے ان تمام افراد کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقوں سوات اور شانگلہ سے تھا۔
انھوں نے بتایا کہ نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو تدفین کے لیے آبائی علاقوں کو روانہ کردیا جائے گا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کوئٹہ کے علاقے میں کول مائن میں دم گھٹنے سے 11 کانکنوں کے ہلاک ہونے کے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کےشریک ہیں۔‘
صوبائی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ مائنز نے ریسکیو کارروائیوں کا آغاز کردیا۔
تاہم صوبہ بلوچستان کے حکومتی ترجمان شاہد رند کے مطابق صوبائی حکومت نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر کارروائی کا حکم بھی دیا ہے۔
واضح رہے کہ سنجدی کوئٹہ شہر سے جنوب مشرق میں اندازاً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس علاقے میں کوئلے کی کانیں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اس علاقے میں پہلے بھی کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے حادثات کی وجہ سے کانکن ہلاک اور زخمی ہوتے رہے ہیں۔
بلوچستان میں دیگر جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانکنی یہاں کی سب سے بڑی صنعت ہے۔
بلوچستان کے جن اضلاع میں کوئلہ کی کانیں بڑی تعداد میں ہیں ان میں کوئٹہ، کچھی، ہرنائی اور دکی شامل ہیں۔ ان علاقوں میں کوئلے کی کانوں سے ہزاروں افراد کا بالواسطہ اور بلاواسطہ روزگار وابستہ ہے۔
پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل لالا سلطان کا کہنا ہے کہ ’بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں سیفٹی کے جدید انتظامات نہیں ہیں جس کہ وجہ سے ان میں ہر سال بڑی تعداد میں کانکن ہلاک اور زخمی ہوتے رہتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’جہاں کانکنوں کو کانکنی کی مناسب تربیت نہیں دی جاتی وہاں ٹھیکیداری کا نظام بھی حادثات کی ایک بڑی وجہ ہے۔‘
لالا سلطان کا کہنا ہے کہ ’جن لوگوں کے نام کان الاٹ ہوتے ہیں وہ خود ان پر کام کرنے کی بجائے انھیں ٹھیکداروں کے حوالے کرتے ہیں۔‘
لالا سلطان کے بقول ’چونکہ ٹھیکیدار کو زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے سے غرض ہوتا ہے اس لیے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سیفٹی کے انتظامات کو یقینی بنانے کی بجائے زیادہ سے زیادہ کوئلہ نکالے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’کوئلہ کانوں میں متبادل راستوں اور تازہ ہوا پہنچانے کا انتظام کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے حادثے کی صورت میں کانکنوں کے بچنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔‘
لالا سلطان نے بتایا کہ ’کوئلہ کانوں میں کانکنوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کرکے کان مالکان کو خود کام کرنے کا پابند بنانے کے علاوہ کانوں میں سیفیٹی کے جدید انتظامات اور کانکنوں کی تربیت کو یقینی بنایا جائے۔‘