آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایرانی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قآنی کے منظرعام پر آنے سے ان کی موت کی قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں

اسماعیل قآنی کے حوالے سے بعض ذرائع ابلاغ میں سے خبریں پھیلائی گئیں کہ وہ لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں تاہم منگل کے روز وہ پاسداران انقلاب کی سبز فوجی وردی پہنے عباس نیلفروشن کے تہران میں ادا کی جانے والی نماز جنازہ کے اجتماع میں دکھائی دیے۔

خلاصہ

  • ایرانی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قآنی کے منظرعام پر آنے سے ان کی موت کی قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں۔
  • قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے اسرائیل پر مغربی کنارے اور لبنان میں ’تشدد کو بڑھاوا‘ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس کی آڑ میں پنے پہلے سے تیار کردہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے۔
  • اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جبالیہ کو امداد فراہم کرنا اب بھی ناممکن ہے۔
  • ایران کے طاقتور فوجی دستے پاسداران انقلاب کے آپریشن کمانڈر عباس نیلفروشن کی نمازجنازہ کی ادائیگی کے لیے ایران کے دارالحکومت تہران میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہے۔
  • اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کی رات گئے اپنے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ پر ’بغیر رحم کھائے‘ حملے جاری رکھے گا۔

لائیو کوریج

  1. حزب اللہ کے حملے میں چار افراد کی ہلاکت کے بعد بیروت کے رہائشی اسرائیلی ردعمل سے خوفزدہ, تھامس کوپلینڈ، بی بی سی

    گزشتہ رات ایک حزب اللہ کے ایک ڈرون حملے میں چار اسرائیلی فوجییوں کی ہلاکت کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے مہلک حملوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

    اس حملے کے بعد بیروت میں رہنے والے اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی اور رد عمل کی توقع کر رہے ہیں اور ان میں خوف اور بے یقینی کی کیفیت پائی جا رہی ہے۔

    لبنان کے رہائشی حسن عودہ کہتے ہیں،’ہر کوئی خوفزدہ ہے کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ ان کا اگلا ہدف کون اور کہاں ہوگا۔‘

    ’میرے دوست صرف خبریں سنتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ وہ اب آگے کہاں حملہ کریں گے؟ کیا وہ نئے علاقوں کو نشانہ بنانے جا رہے ہیں؟‘

    35 سالہ حسن عودہ نے گزشتہ ہفتے اسرائیل کے حملے کے بعد اپنے خاندان کو بیروت کے جنوبی مضافات سے باہر منتقل کر دیا تھا اور اس کے بعد سے وہ گھر واپس نہیں لوٹے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’آپ کو کچھ نہیں معلوم کہ آپ پر کب بمباری ہو سکتی ہے۔‘

    ان کے پڑوسیوں نے انھیں بتایا کہ ان کا گھر ابھی تک موجود ہے۔

    عودہ نے بتایا کہ ’میں تین ماہ قبل لبنان واپس آیا تھا، اس امید میں کہ آخرکار میں یہاں بس جاؤں گا اور اپنے خاندان کے ساتھ زندگی بسر کروں گا۔ اب میں بغیر کسی خواہش کے صرف زندہ ہوں اور بس یہ چاہتا ہوں کہ کسی طرح ہم محفوظ رہ سکیں۔‘

  2. برطانیہ کا اہم ایرانی فوجی شخصیات پر پابندیوں کا اعلان

    برطانیہ نےایرانی فوج کے اہم عہدیداران اور فوجی تنظیموں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

    برطانیہ نے یہ اعلان یکم اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے تناظر میں کیا ہے۔

    اس فہرست میں ایرانی فوج کے کمانڈر اور ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے رکن عبدالرحیم موسوی اور ایران کی فضائیہ کے کمانڈر حامد وحیدی شامل ہیں۔

    برطانیہ کے دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان شخصیات کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے اور ان پر سفری پابندیاں بھی عائد کی جائیں گی۔ جبکہ ایرانی خلائی ایجنسی کے اثاثے بھی منجمد کیے جائیں گے۔

    خلائی ایجنسی بیلسٹک میزائل میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز پر بھی کام کرتی ہے۔

    یاد رہے کہ ایران نے یکم اکتوبر کو اسرائیل کی سمت 180 سے زائد بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے۔

    تاہم اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ زیادہ تر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا اور اس حملے کے نتیجے میں مقبوضہ مغربی کنارے میں صرف ایک فلسطینی شخص ہلاک ہوا تھا۔

  3. جنگ کے آغاز کے بعد سے شمالی لبنان پر پہلا اسرائیلی حملہ، 18 افراد ہلاک, جوناتھن ہیڈ، بی بی سی نیوز بیروت

    ریڈ کراس کے مطابق شمالی لبنان کے پہاڑوں پر واقع ایطو نامی ایک قصبے پر اسرائیلی فضائی حملے میں 18 افراد مارے گئے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں گاؤں کے اوپر سرمئی دھوئیں کا مرغولہ اٹھتا دکھایا گیا ہے جبکہ کئی تصاویر میںں لاشیں اور زخمی افراد کو زمین پر پڑے دکھایا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ ایطو پہاڑ پر واقع ایک ایسا گاؤں ہے جہاں عیسائی آبادی بڑی تعداد میں آباد ہے۔ یہاں کئی گرجا گھر اور تقریباً ایک ہزار کی مقامی رہائشی آبادی ہے۔

    تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ لبنان میں جنگ سے بے گھر ہونے والے بہت سے لوگ وہاں رہ رہے ہیں۔

    اس سے قبل مقامی رپورٹس میں بتایا جا رہا تھا کہ اس حملے میں کم از کم نو ہلاکتیں ہوئی ہیں تاہم اب لبنانی ریڈ کراس نے ہلاکتوں کی تعداد 18 بتائی ہے۔

    گزشتہ سال سات اکتوبر کو حماس کے حملوں کے بعد سے لڑائی کے دوران یہ پہلا موقع ہوگا جب اسرائیل نے مسیحی اکثریتی علاقے کو نشانہ بنایا ہے۔

    اس حملے کے حوالے سے اسرائیل نے تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

  4. اسرائیل غزہ جنگ: گزشتہ 24 گھنٹوں کی صورت حال کا خلاصہ

    • اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ہمیں حزب اللہ کے ڈرون حملے سے سبق سیکھنا چاہیے۔ یہ بات اسرائیلی وزیر دفاع نے حیفہ بندرگاہ سے 33 کلومیٹر جنوب میں واقع اس اڈے کے دورے کے دوران کہی جہاں پر حزب اللہ کے ڈرون حملے میں چار فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
    • اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ہرزی حلوی نے فوجی اڈے پر حملے اور اس سے ہونے والے نقصان پر رد عمل میں اپنے بیان میں کہا ہےکہ ’ہم حالت جنگ میں ہیں، ایک تربیتی اڈے پر عقب سے حملہ کرنے کے نتائج تکلیف دہ ہوں گے۔
    • شمالی غزہ میں واقع جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فوج کے حملے میں 10 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
    • لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں اتوار کو ملک بھر میں 51 افراد ہلاک جبکہ 170 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔
    • اسرائیلی افواج نے اپنے بیان میں لبنان میں حزب اللہ کے 200 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔آئی ڈی ایف کے بیان کے مطابق جنوبی لبنان اور غزہ دونوں میں ’شدت پسندوں کے بنیادی ڈھانچے اور ان کے کارکنوں کے خلاف آپریشنل سرگرمیاں‘ کی جا رہی ہیں۔
    • غزہ کے وسطی علاقے میں بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دینے کے لیے استعمال ہونے والے ایک سکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
  5. جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فوج کے حملے میں 10 افراد ہلاک، 30 زخمی

    شمالی غزہ میں واقع جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فوج کے حملے میں 10 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں خوراک کی تقسیم کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    مقامی طبی ماہرین کے مطابق حملے میں دس افراد کے ہلاک اور 30 افراد زخمی ہوئے تاہم آئی ڈی ایف نےاس حوالے سے تایال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  6. ’ایک انسان آپ کی آنکھوں کے سامنے زندہ جل رہا ہے اور آپ انھیں بچا نہیں سکتے‘

    اس مضمون میں بعض تفصیلات تکلیف کا باعث بن سکتی ہیں۔

    اسرائیل کی جانب سے اتوار کے روز وسطی غزہ میں الاقصیٰ ہسپتال کمپلیکس پر ایک اسرائیلی فضائی حملے کے بعد وہاں کے مکینوں میں مایوسی کا غلبہ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

    الاقصی ہسپتال کمپلیکس میں بہت سے بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے۔

    عونی خطاب بھی انھی پناہ گزینوں میں شامل ہیں جنھوں نے اس فضائی حملے میں اپنا خیمہ اور بچا کچھا سامان کھو دیا۔

    انھوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پناہ گزینوں میں سے کچھ آگ میں پھنس گئے اور ہم انھیں باہر نکالنے میں ناکام رہے۔‘

    انھوں نےکہا کہ ’ا یک انسان آپ کی آنکھوں کے سامنے زندہ جل رہا ہے، اور آپ انھیں بچا نہیں سکتے۔‘

    اس جگہ پر پناہ لینے والے ایک اور شخص کا کہنا ہے: ’میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہاں کوئی محفوظ جگہ نہیں چاہے وہ ہسپتال ہو، سکول ہو یا کوئی بھی جگہ۔ تقریباً پانچ دن پہلے، انھوں نے ایک سکول کو نشانہ بنایا اور آج وہ خیموں پر حملہ آور ہوئے۔‘

    دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ شدت پسندوں کے ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شہریوں کے لیے خطرے کو کم کرنے کے لیے ’متعدد اقدامات‘ کیے ہیں۔

  7. بنوں میں پولیس لائنز پر شدت پسندوں کے حملے میں چار پولیس اہلکار ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پشاور

    صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس لائنز پر شدت پسندوں کے حملے میں چار پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ایک شہری زخمی ہوا ہے۔

    ضلعی پولیس افسر بنوں کے مطابق پولیس لائنز میں جاری آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور تمام پانچ حملہ آور ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

    مقامی انتظامیہ کے مطابق پیر کے روز بنوں شہر کے اس علاقے سے شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں جہاں پولیس لائنز واقع ہے جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔

    یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پشتون تحفظ موومنٹ کے زیر انتظام پشتون قومی جرگہ ایک روز پہلے ہی اختتام پزیر ہوا ہے ۔ اس جرگے میں تعدد مطالبات کیے گئے ہیں جن میں ایک مطالبہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پشتون علاقوں میں امن کے قیام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

    اس سے قبل بنوں میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ (ایم ٹی آئی) کے ترجمان محمد نعمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بنوں میں تین پولیس اہلکاروں کی لاشیں اور ایک شہری کو زخمی حالت میں لایا گیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ شہر میں تمام ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام عملے کو حاضر ہونے کا کہا گیا ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے پولیس لائنز پر حملے میں اہلکاروں کی ہلاکت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پولیس لائنز پر حملہ کرنا انتہائی بزدلانہ فعل ہے۔‘

    بنوں کے ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نے کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور ایک چنگ چی رکشہ میں سوار تھے جنھوں نے برقعے پہن رکھے تھے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے پولیس لائن کے گیٹ پر تعینات اہلکاروں پر حملہ کیا جس میں تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ چار حملہ آور مارے جا چکے ہیں۔ یاد رہے کہ آج صبح بنوں پولیس لائنز میں بکا خیل میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کی نماز جنازہ ادا کی گئی تھی۔ پولیس افسران کے مطابق یہ واقعہ نماز جنازہ کے بعد پیش آیا۔

    بنوں سے منتخب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور صوبائی وزیر پختون یار خان نے ایک بیان میں کہا ہے بنوں پولیس لائنز پر حملہ ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کی نماز جنازہ کے بعد پیش آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا بنوں پولیس لائن پر حملے کے بعد علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    بنوں میں رواں سال کے آغاز کے بعد سے پولیس اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے بعد بنوں میں تاجر اور مقامی لوگوں نے بنوں پاسون کے نام سے ایک تحریک شروع کی تھی جس میں انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ بنوں میں مسلح افراد سر عام گھوم رہے ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی جس پر یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلح تنظیم سے وابستہ گڈ یا بیڈ طالبان کے خلاف کارروائی کی جائے اور علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن پولیس اور سی ٹی ڈی کے اہلکار کریں۔

  8. حزب اللہ کے ڈرون حملے سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے: اسرائیلی وزیر دفاع

    اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ہمیں حزب اللہ کے ڈرون حملے سے سبق سیکھنا چاہیے۔

    یہ بات اسرائیلی وزیر دفاع نے حیفہ بندرگاہ سے 33 کلومیٹر جنوب میں واقع اس اڈے کے دورے کے دوران کہی جس پر حزب اللہ کے ڈرون حملے میں چار فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ اس حملے کی نہ صرف مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے بلکہ ہمیں اس سے ہمیں سبق بھی سیکھنا ہو گا۔ کا کہنا ہے کہ ان کی افواج اس ملک کے فوجی اڈے پر حزب اللہ کے ڈرون حملے سے سبق سیکھیں گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ڈرون حملوں کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو تیزی سے مرکوز کیا ہے۔

  9. آئی ڈی ایف کا حزب اللہ کے 200 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی افواج نے اپنے بیان میں لبنان میں حزب اللہ کے 200 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    آئی ڈی ایف کے بیان کے مطابق جنوبی لبنان اور غزہ دونوں میں ’شدت پسندوں کے بنیادی ڈھانچے اور ان کے کارکنوں کے خلاف آپریشنل سرگرمیاں‘ کی جا رہی ہیں

    آئی ڈی ایف کے مطابق اس نے لبنان میں موجود حب اللہ کے 200 اہداف کو فضائی حملوں سے نشانہ بنایا جبکہ زمینی افواج نے قریب سے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ غزہ میں اس کے دستے حماس کے ہتھیاروں اور سرنگوں کا پتہ لگا رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ لبنان میں حکام کے مطابق اتوار کے روز اسرائیلی حملوں میں 51 افراد ہلاک ہوئے جب کہ غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 62 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  10. ڈرون حملہ شدید اور تکلیف دہ تھا،ہم حالت جنگ میں ہیں: اسرائیلی ملٹری چیف

    اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ہرزی حلوی نے فوجی اڈے پر حملے اور اس سے ہونے والے نقصان پر رد عمل میں اپنے بیان میں کہا ہےکہ ’ہم حالت جنگ میں ہیں، ایک تربیتی اڈے پر عقب سے حملہ کرنے کے نتائج تکلیف دہ ہوں گے۔‘

    اسرائیلی فوج کے کمانڈر نے اعتراف کیا کہ فوجی تربیتی اڈے پر حزب اللہ کا ڈرون حملہ ایک بڑا دھچکا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اتوار کی رات اسرائیلی فضائیہ نے حزب اللہ کے دو ڈرونز کا سراغ لگایا جن میں سے ایک کو حیفہ کے قریب ساحل پر مار گرایا گیا اور اس دوران فوج نے دوسرےکا سراغ کھو دیا۔

    رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ’یہ سمجھا گیا کہ ایئر فورس کے ریڈاروں سے گرنے کے بعد وہ ڈرون گر کر تباہ ہو گیا تھا یا اسے روک دیا گیا۔‘

    یاد رہے اسرائئل پر حزب اللہ کے ڈرون حملے میں چار فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ مارے جانے والوں کی عمریں 19 سال تھیں۔

    اس حملے میں درجنوں دیگر زخمی بھی ہوئے۔

  11. بظاہر لگتا ہے کہ حزب اللہ کے ڈرونز نے الارم کے نظام کو فعال نہیں کیا, وائر ڈیویز، بی بی سی نیوز یروشلم

    اتوار کی شام سے ہی ٹیلی ویژن کے بلیٹن، سوشل میڈیا پوسٹس اور آن لائن رپورٹنگ میں ہیلی کاپٹر سمیت ہنگامی سروسز فراہم کرنے والی گاڑیوں کی بھرمار دکھائی دے رہی تھی جو شمالی اسرائیل میں زخمی ہونے والے افراد کو ہسپتال منتقل کر رہی تھیں۔

    گو کہ اسرائیلی سنسر شپ کے قوانین کے باعث ابتدائی طور پر میڈیا اور نشریاتی اداروں نے اس واقعہ کی تفصیلات فراہم نہیں کیں پھر آخر کار، فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ حملوں کا ہدف بنیامینہ میں ایک فوجی اڈہ تھا۔ ترجمان نے کہا کہ خزب اللہ کے اس حملے میں اس کے چار فوجی مارے گئےہیں۔

    جنگ کے آغاز کے بعد سے حملے کواسرائیلی مقام پر ہونے والے سب سے بڑے حملوں میں سے ایک کہا جا رہا ہے۔

    اس حملے میں حزب اللہ نے ایک نچلی سطح کا ڈرون لبنان سے لانچ کیا ۔ یہ ایک نسبتاً غیر نفیس ہتھیار سمجھا جاتا ہے جو بظاہر قبل از وقت وارننگ کے الارم کو فعال نہیں کر سکا۔

    گو کہ اس واقعے کی تفصیلات ابھی تک کچھ زیادہ فراہم نہیں کی گئیں تاہم بہت سے زخمیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس وقت ایک کینٹین میں موجود تھے جب حیران کن طور پر حزب اللہ نے یہ حملہ کیا۔

  12. آئینی مسودے پر کافی ہم آہنگی ہو چکی، اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں: مولانا فضل الرحمان

    جمیعت العلما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آئینی مسودے پر کافی ہم آہنگی ہو چکی ہے اور اب ہم اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

    ٹنڈو آلہ یار میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’آئینی ترمیم کے لیے لمبی چوڑی اور طویل مشاورت کے بعد اب آخر کار ہم آہنگی کی جانب بڑھ چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’جو مسودہ حکومت کی طرف سے لایا گیا تھا ہم نے مسترد کردیا تھا، اس مسودے سے عدلیہ کمزور ہوجاتی اور انسانی حقوق تباہ ہوجاتے تاہم مسودے پر کافی ہم آہنگی ہوچکی ہے۔‘

    مولانا فضل الرحمان نے کہا ’اس سلسلے میں ایک سے دو روز میں بلاول بھٹو، نواز شریف اور پی ٹی آئی کی قیادت سے بھی بات کروں گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اسمبلی میں اس لیے نہیں کہ عوام کے مفاد کے خلاف قانون پاس کریں۔اٹھارویں ترمیم کو لانے میں بھی ہمیں نو ماہ لگے تھے تو جلدی کس بات کی ہے۔

    ان کے مطابق ’آج کیا مسئلہ ہے جو ہم پر جلدی مسلط کی گئی ہے۔ کم ازکم نو دن تو دیئے جائیں۔‘

    انھوں نے دعوی کیا کہ جو چیزیں ہم نے مسترد کیں وہ واپس ہو چکی ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف سے اپیل ہے کہ ایس سی او کے دوران احتجاج کو ملتوی کریں۔ پہلے بھی اس کے اچھے نتائج نہیں آئے تھے۔

  13. چین کے وزیرِ اعظم شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گئے

    چینی وزیراعظم شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ اسلام آباد کی نور خان ائیر بیس پر اُن کا استعقبال کیا گیا۔

    چین کے وزیراعظم لی چیانگ کا استقبال وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ، پاکستان میں چین کے سفیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔

    چینی وزیراعظم کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ 11 سال کے بعد چین کے کسی بھی وزیراعظم کا یہ پہلا دورہِ پاکستان ہے۔

    واضح رہے شنگھائی تعاون تنظیم کا دو روزہ اجلاس 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے جارہا ہے جس میں مختلف ممالک کے وزرائے اعظم سمیت اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔

  14. ماہ رنگ بلوچ نے سندھ ہائیکورٹ میں بیرونِ مُلک جانے سے روکے جانے پر درخواست دائر کر دی, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    سندھ ہائیکورٹ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن ماہ رنگ بلوچ کی پاسپورٹ چھیننے سے متعلق انکوائری کی درخواست کی سماعت پر سماعت ہوئی۔

    ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی جانب سے اُن کے وکیل جبران ناصر نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ’ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ٹائم میگزین کی جانب سے امریکہ میں دعوت دی گئی تھی، تاہم انھیں بغیر کسی وجہ کے کراچی ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا۔‘

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ’کراچی ایئرپورٹ کے باہر پولیس افسران نے درخواست گزار سے زبردستی پاسپورٹ اور موبائل فون بھی چھین لیا۔‘

    ماہ رنگ بلوچ کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست پر عدالت نے ایس ایس پی سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 21 اکتوبر کو جواب طلب کرلیا ہے۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل کراچی کے ایک شہری نے ماہ رنگ بلوچ کے خلاف ملک میں بدامنی پھیلانے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا۔

    ماہ رنگ بلوچ کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ وہ اور ان کے ساتھی ’پڑھے لکھے مرد و خواتین کو ورغلا کر نامعلوم مقامات پر پناہ دینے کے بعد سکیورٹی اداروں پر الزامات لگا کر سنگین نوعیت کی دھمکیاں دیتے اور ہمارے انصاف کے ایوانوں میں ان اداروں کو نیچا دکھانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔‘

    دوسری جانب اپنے خلاف ایف آئی آر پر ردِ عمل میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ ’ایسا تمام سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو دیوار سے لگانے کے لیے کیا جاتا ہے۔‘

    ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ ’یہ سب ہمیں بین الاقوامی سطح پر پہچان ملنے کے بعد ہمیں مقصد سے ہٹانے اور ڈرانے کی ایک بوگس کوشش ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’میرا پاسپورٹ چھینے جانے پر میری ایف آئی درج نہیں کی گئی۔ لیکن الٹا مجھ پر ایف آئی آر درج کر دی گئی۔‘

  15. اتوار کو اسرائیلی حملوں میں 51 افراد ہلاک ہوئے: لبنانی وزارتِ صحت

    لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں اتوار کو ملک بھر میں 51 افراد ہلاک جبکہ 170 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

    ہلاک ہونے والوں میں سے 22 کا تعلق ملک کے شمال میں واقع ماؤنٹ لبنان کے علاقے سے تھا جبکہ 10 افراد جنوبی نباتیہ کے علاقے میں اسرائیلی حملوں میں مارے گئے۔

    بیفورٹ کیسل کے مغرب میں واقع گاؤں مائفاڈون پر چھاپے میں پانچ دیگر ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

  16. چین کو فوجی مشقوں کی وجہ سے اشتعال انگیزی سے باز رہنا چاہیے: تائیوان

    تائیوان کی جانب سے چین پر الزام لگایا ہے کہ وہ خطے میں سلامتی کی صورتحال کو نقصان پہنچا رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے۔

    تائیوان کے صدر ولیم لائی کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’چین کو ’تائیوان کے آزاد اور جمہوری طرز زندگی کے انتخاب کا احترام کرنا چاہیے اور فوجی مشقوں کی وجہ سے اشتعال انگیزی سے باز رہنا چاہیے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آبنائے تائیوان کے دونوں جانب امن اور استحکام کو برقرار رکھنا ایک ’مشترکہ ذمہ داری‘ ہے۔‘

    تائیوان کے صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہماری حکومت جمہوریت اور آزادی کے ہمارے آئینی نظام کا دفاع جاری رکھے گی۔ ہم قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پراعتماد بھی ہیں اور اس کی مکمل اہلیت بھی رکھتے ہیں۔‘

    تائیوان کی جانب سے اپنی مسلح افواج کو کسی بھی قسم کی جارہیت سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا ہے۔ تاہم اس کے خفیہ ادارے چینی میزائلوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    تائیوان کی وزارتِ دفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’جزیرے کے باہر کے دفاعی علاقوں کو ’ہائی الرٹ‘ پر رکھا گیا ہے اور ہوائی جہاز اور بحری جہاز تعینات کر دیے گئے ہیں۔‘

    وزارت نے تائیوان کے لوگوں کو بھی کہا ہے کہ وہ کسی بھی سُنی سُنائی بات پر یقین نہ کریں اور ممکنہ غلط معلومات سے ہوشیار رہیں۔

    واضح رہے کہ چین اور تائیوان کے درمیان حالت تب کشیدہ ہوئے کہ جب چین کی جانب سے تائیوان کے اطراف میں اپنی فوجی مشقوں کا آغاز کیا۔ چینی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نقشہ میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح سے چین کی جانب سے جاری فوجی مشقوں نے جزیرے کو کس طرح گھیرا ہوا ہے۔

    تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ تائیوان کے ارد گرد چین کی فوجی مشقوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔

    انتظامیہ نے کہا کہ لائی کی تقریر کے بعد مشقوں کا کوئی جواز نہیں، اور چین کو ایسے مزید اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس سے خطے میں امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہو۔

  17. پشتون قومی جرگے کا مطالبہ: ’فوج اور دہشت گرد دو ماہ میں ہمارے علاقے سے نکل جائیں‘

    ضلع خیبر میں ہونے والے پشتون تحفظ موونٹ کا دو روزہ جرگہ اتوار کی شب اختتام کو پہنچا۔ پی ٹی ایم کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس جرگے میں باجوڑ، وزیرستان کوئٹہ، ڈی آئی خان، ژوب سمیت خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

    اس جرگے کے اختتام پر شاملیں کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کو نکات کی شکل دی گئی اور تمام شرکا کے سامنے پیش کرنے کے بعد متفقہ طور پر ان کی منظوری دی گئی۔

    جرگے کے اختتام پر نکات پیش کرنے سے قبل اس جرگے سے متعلق کہا گیا کہ یہ تمام پشتون قوم کا جرگہ تھا۔ اس جرگے کی مہمان نوازی کرنے پر کوکی خیل قوم کا شکریہ ادا کیا گیا اور اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ جرگہ کے مقام پر پشتون قوم کا ایک دفتر بنایا جائے گا۔

    جرگے کے اختتام پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’تمام اقوام کے مشران اور تمام پارٹیوں کے نمائندہ گان نے یہاں جرگے میں مشاورت کی، میں بحثیت وزیراعلیٰ آئین اور قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اِن تجاویز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی بھر پور کوشش کرونگا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جو مطالبات صوبائی حکومت کے دائرہ کار میں نہیں ہیں اُن کو متعلقہ وفاقی حُکام کے سامنے اُٹھایا جائے گا۔ وفاق اور دیگر حکام کے ساتھ بیٹھ کر اِن مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائیگی۔ حکومت اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ عوامی اُمنگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، مسائل کو حل کرکے اُن کو مطمئن کریں۔‘

    پشتون تحفظ موونٹ کے دو روزہ جرگے میں سامنے آنے والے نکات:

    فوج اور دہشت گرد تنظیموں کو دو مہینوں کا وقت دیا گیا کہ وہ علاقے کو خالی کر دیں۔ اگر دو مہینے میں یہ ایسا نہ ہوا تو پھر جرگہ فیصلہ کرے گا کہ اب کیا کرنا ہے اور علیقے کو کیسے خالی کروانا ہے۔

    جرگے میں فیصلہ ہوا کہ اس پختون زمین پر جو وسائل ہیں اس کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا۔ ہلاک شدگان اور زمین پر قبضہ کرانے والوں کے خلاف وکیلوں کی ایک ٹیم تیار کی جائے گی۔

    جرگے نے فیصلہ کیا کہ بجلی قبائلی علاقوں میں مفت اور دیگر علاقوں میں 5 روپے فی یونٹ دی جائے، لوڈ شیڈنگ کی صورت میں تمام صوبوں کے کنکشن کاٹ دیے جائیں گے۔

    جرگے نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ڈیورنڈ لائن پر تمام تجارتی راستوں کو پرانے قوانین کے مطابق بحال کیا جائے۔

    جرگے نے فیصلہ کیا کہ قبیلوں کے درمیان مسائل کے حل کے لئے امن کمیٹی قائم کی جائے گی۔ مزید یہ کہ تمام آئی ڈی پیز جرگے کے ذریعے واپس اپنے علاقوں میں آئیں گے۔

    جرگے میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ دوسرے صوبوں میں پختون قوم کے ساتھ جو امتیازی سلوک کرے گا اُس کے خلاف بھی آواز بلند کی جائے گی۔ مزید یہ کہ موجودہ آئین پاکستان کے تحت فوج سیاست میں حصہ نہیں لے سکتی۔

    جرگے میں فیصلہ ہوا کہ بجلی، قدرتی گیس اور پانی سے متعلق صوبہ خیبر پختونخوا کو ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائیں گے۔ مزید یہ کہ بلاک شدہ شناختی کارڈ بحال کیے جائیں گے اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔

    جرگے نے فیصلہ کیا کہ اگر کسی نے اس جرگے کی بنیاد پر کسی کے خلاف کارروائی کی تو جرگے کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آئے گا۔

    جرگے میں شامل افراد کی جانب سے وزیراعلی سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان تمام مطالبات کے لئے قومی اسمبلی سے بل پاس کروائے اور جرگہ کے مقام پر ہونے والے تصادم اور ہلاک شدگان سے متعلق تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن قائم کی جائے۔

  18. غزہ میں پناہ گزینوں سے بھرے ایک سکول پر اسرائیل کی بمباری سے 15 افراد کی ہلاک

    غزہ کے وسطی علاقے میں بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دینے کے لیے استعمال ہونے والے ایک سکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کے روز نصرات کیمپ کے مقام پر توپ خانے سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

    تاہم اسرائیل کی دفاعی افواج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ سکول پر ہونے والے اس حملے سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہیں۔

    اس سے قبل شمالی غزہ میں ایک سڑک کنارے کھیلتے پانچ بچے اسرائیلی افواج کے ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

    شہری دفاع کے ایک ترجمان نے کہا کہ المفتی سکول پر حملے میں کم از کم 50 افراد زخمی ہوئے اور ایک درجن سے زیادہ ہلاک ہوئے۔

    حالیہ دنوں میں غزہ کا شمالی علاقہ سب سے زیادہ جنگ سے متاثر ہوا ہے، جہاں اسرائیلی افواج ایک بڑے زمینی آپریشن کے حصے کے طور پر ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے حملوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔ غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اب تک سیکڑوں افراد ان زمینی کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

    بیت حنون، جبالیہ اور بیت لہیا کے رہائشیوں نے بتایا ہے کہ ان کا غزہ شہر سے رابطہ منقطع ہے جبکہ علاقے کے سب سے بڑے شہر کے مضافات میں اسرائیلی ٹینک دیکھے گئے ہیں۔

    علاقے کے ہسپتالوں میں اشیائے ضروریہ کی قلت ہے تاہم عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ریڈ کراس کے ساتھ مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں نو دن کی کوششوں کے بعد کُچھ ہسپتالوں تک ادویات اور دیگر ضروری اشیا پہنچائی گئی ہیں۔

    حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے گزشتہ ایک سال کے دوران 42 ہزار سے زیادہ افراد کے ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    تاہم غزہ کی 24 لاکھ کی آبادی میں سے تقریبا 19 لاکھ افراد جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔

  19. اسرائیلی فوجی اڈے پر حزب اللہ کا ڈرون حملہ، چار فوجی ہلاک، 60 سے زائد زخمی

    اسرائیل کی دفاعی افواج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی اسرائیل میں ایک فوجی اڈے پر ہونے والے ڈرون حملے میں چار فوجی ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ آئی ڈی ایف نے مزید کہا کہ حیفہ کے جنوب میں تقریبا 33 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک قصبے بنیامینہ سے متصل ایک اسرائیلی فوجی اڈے پر حملے میں سات فوجی شدید زخمی ہوئے ہیں۔

    حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی فوجی اڈے پر ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس نے تل ابیب اور حیفہ کے درمیان واقع علاقے میں اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) گولانی بریگیڈ کے تربیتی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    مسلح گروپ کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ جمعرات کو جنوبی لبنان اور بیروت میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں کیا گیا۔

  20. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    گذشتہ روز کی اہم خبروں پر ایک نظر

    • ضلع خیبر میں ہونے والے پشتون تحفظ موونٹ کا جرگہ جاری ہے اور دوسرے روز یعنی اتوار کو صوبے کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور پنڈال پہنچے اور شرکا سے خطاب کیا۔ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ’یہاں پر سیاسی بات نہیں کریں گے بلکہ روایات اور حق کی بات کریں گے۔ حق کے لیے یا اپنا سر پھاڑیں گے یا پہاڑ چیریں گے۔‘
    • کراچی پریس کلب کے باہر سے اتوار کے روز گرفتار روادرای مارچ کے شرکا کو رہا کردیا گیا اور صوبائی وزیر داخلہ ضیا لنجار نے ایک اعلامیے میں کہا کہ خواتین پر پولیس تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
    • صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے کوہستان کے ضلع کوالئی پالس میں فریقین میں تصادم پر کم از کم چار افراد ہلاک اور چار زخمی ہوچکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق پالس کے علاقے میں گھاس کاٹنے پر تصادم کا آغاز ہوا۔ ڈسڑکٹ پولیس افسر امجد حسین کے مطابق واقعہ آج صبح تھانہ گزپارو کی حدود میں پیش آیا جہاں پر ایک ہی قوم اور برداری سے تعلق رکھنے والوں میں تصادم ہوا۔
    • سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب لبنان اور غزہ میں اسرائیل فوج کے حملوں میں 44 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔