آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان کا افغانستان میں ’29 مقامات پر‘ فضائی حملوں کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری لڑائی میں امریکہ مداخلت کر سکتا ہے لیکن ’میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے۔‘

خلاصہ

  • پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے جمعے کی شب افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف مزید فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں جبکہ دونوں اطراف سے سرحد پار فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں
  • امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق وہ اس لڑائی میں مداخلت کر سکتے ہیں ’لیکن میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے‘
  • پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ یہ ’اعلان جنگ نہیں‘ مگر افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی
  • اب تک پاکستان اور افغانستان نے اِن جھڑپوں میں اپنے 12، 12 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی سرحدی چوکیوں کو تباہ کرنے، اُن پر قبضہ کرنے اور ایک دوسرے کے درجنوں فوجیوں کی ہلاکت کے دعوے کیے ہیں
  • افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’ہم ابھی بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں‘
  • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اُن کا ملک پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کروانے کے لیے تیار ہے
  • اقوامِ متحدہ اور مسلم ممالک کے رہنماؤں نے افغانستان اور پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور تحمل کا مظاہرہ کریں

لائیو کوریج

  1. پاکستان کی شکایت جائز مگر افغانستان کی خودمختاری اور داخلی مشکلات کا احترام بھی ضروری ہے: مولانا فضل الرحمان

    پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکطرفہ عسکری مہم جوئی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگی کا سبب بنے گی۔

    جے یو آئی کے میڈیا سیل سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کی شکایت جائز ہے تاہم افغانستان کی خودمختاری اور داخلی مشکلات کا احترام بھی ضروری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جذباتی رویے دونوں ممالک کے لیے پیچیدگیوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ دوطرفہ مفادات، قابل اعتماد سکیورٹی فریم ورک اور بین الاقوامی مسلمہ ضابطوں کو بروئے کار لایا جائے کیونکہ سفارتی مہم جوئی مسئلے کا پائیدار حل تلاش کر سکتا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے دونوں ممالک سے تحمل، برداشت اور ذمہ دارانہ رویوں کو اپناتے ہوئے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

  2. پاکستان اور افغانستان میں اہم پریس بریفننگ اب سے کچھ دیر بعد

    پاکستان اور افغانستان میں حکام کی جانب سے مسلسل دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے حوالے سے تفصیلات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    بی بی سی کی ٹیمیں بھی مسلسل گراؤنڈ پر موجودہ صورتحال کے حوالے سے آگاہ کر رہی ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق چار بجے پریس کانفرنس کریں گے۔

    اسی طرح افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد مقامی وقت کے مطابق تین بجے تفصیلی صورتحال سے آگاہ کریں گے۔

  3. پاکستان اور افغانستان کے مابین جاری تصادم، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    پاکستان اور افغانستان کے مابین جمعرات کی شب شروع ہونے والے تصادم کا سلسلہ جاری ہے اور فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

    جمعے کی دوپہر افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت متعدد شہروں میں فضائی کارروائی کی گئی ہے تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک کے تین شہروں میں چھوٹے ڈرونز سے حملوں کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔

    افغان وزارتِ دفاع نے جمعے کی دوپہر ایکس پر جاری کیے گئے پیغام میں دعویٰ کیا کہ 'فضائیہ کی مدد سے کیے گئے حملوں میں اسلام آباد، نوشہرہ اور ایبٹ آباد میں فوجی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔'

    ان دعوؤں کے بعد پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر ہی اپنے پیغام میں کہا کہ 'فتنہ الخوارج دہشت گردوں نے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز لانچ کرنے کی کوشش کی۔'

    انھوں نے مزید لکھا کہ 'یہ واقعات ایک بار پھر افغان طالبان حکومت اور پاکستان میں دہشت گردی کے براہِ راست تعلق کو بے نقاب کرتے ہیں۔'

    اس سے قبل پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے جمعے کو علی الصبح دعویٰ کیا تھا کہ افغان طالبان کی جانب سے 'بلا اشتعال' حملوں کے بعد پاکستان نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا جس میں افغان طالبان کے 133 اہلکار ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ اور نو پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں افغان طالبان کے دو کور ہیڈ کوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز، دو ایمو نیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈ کوارٹر، دو سیکٹر ہیڈ کوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینک، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کر دی گئی ہیں۔

    بی بی سی آزادانہ ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان کی طرف سے دارالحکومت کابل کے کچھ مقامات، پکتیکا اور قندھار میں بمباری کی گئی ہے۔ تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    بعد ازاں افغانستان کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ گذشتہ رات پاکستانی فضائیہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کے نتیجے میں افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور دو بچے شامل ہیں۔

    بی بی سی ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    اس سے پہلے افغان طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ چند روز قبل پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی کارروائی کے جواب میں جمعرات کی شب آٹھ بجے افغانستان نے جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔

    افغان طالبان کے مطابق پکتیکا، پکتیا، خوست، ننگرہار، کنڑ اور نورستان کے قریب سرحد پر پاکستانی فوج کے ساتھ چار گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں 55 پاکستانی فوجی مارے گئے جن میں سے کچھ کی لاشوں کو افغانستان منتقل کر دیا گیا ہے۔

    افغان وزارتِ دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں پاکستانی فوج کے دو اڈے اور 19 چوکیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ فوجی ٹرکوں سمیت بھاری فوجی سازو سامان بھی تحویل میں لیا گیا ہے۔

    بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کے آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ ننگرہار کے پناہ گزین کیمپ پر پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 33 افراد زخمی ہوئے۔

  4. پاکستان اور افغانستان کی عسکری صلاحیتوں میں واضح فرق

    پاکستان اور افغان طالبان کی فوجی صلاحتیوں میں کافی نمایاں فرق ہے۔

    پاکستانی مسلح افواج، جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے، دنیا کی 15 بڑی فوجی طاقتوں کی فہرست میں شامل ہے۔ جبکہ دوسری جانب افغان طالبان کے پاس نہ تو کافی فوجی وسائل ہیں اور انھیں دیگر مشکلات کا سامنا بھی ہے۔

    طالبان کے پاس موجود فوجی ہتھیاروں کی بڑی تعداد تین ذرائع سے آتی ہے: سابق افغان فوج کے چھوڑے گئے ہتھیار، غیر ملکی افواج کے انخلا کے وقت چھوڑے گئے ہتھیار، اور ایسے نئے ہتھیار جو طالبان نے مختلف ذرائع بشمول بلیک مارکیٹ سے حاصل کیے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی کی سرحدی جھڑپوں کی ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان افواج نے زیادہ تر ہلکے ہتھیار پاکستانی افواج کے خلاف استعمال کیے ہیں۔

    تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کو گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔

    اس حوالے سے بی بی سی اُردو نے حال ہی میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جسے ذیل میں دے گئے لنک پر کلک کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔

  5. پاکستان کے فضائی حملے: ’پکتیا میں تین افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے،‘ افغان نیشنل ٹی وی

    افغانستان کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ گذشتہ رات پاکستانی فضائیہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کے نتیجے میں افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور دو بچے شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق صوبہ پکتیا ہی میں شہری علاقے میں گرنے والے ایک بم کے نتیجے میں سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ بی بی سی ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتا ہے۔

  6. اسحاق ڈار کا ترک ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ: ’دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا‘

    پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے آگاہ کیا ہے کہ انھوں نے افغانستان کے ساتھ جاری تنازع پر اپنے ترک ہم منصب حکان فیدان کے ساتھ بات چیت کی ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق إسحاق ڈار نے ترکی کے وزیر خارجہ فیدان کو بتایا کہ پاکستانی افواج نے ’افغانستان کی بلا اشتعال جارحیت‘ کا فوری جواب دیا ہے ۔

    اعلامیے کے مطابق ’دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا اور بدلتی ہوئی صورتحال پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔‘

  7. پشاور میں سکیورٹی ہائی الرٹ، نواحی اور مضافاتی پولیس چوکیوں پر اینٹی ڈرون گنز فعال, بلال احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    پاک افغان سرحدی کشیدگی کے تناظر میں کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے ضلع بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے۔ نواحی اور مضافاتی پولیس چوکیوں پر اینٹی ڈرون گنز کو فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ مزید مؤثر بنا دی گئی ہے۔

    پشار سٹی پولیس کے ترجمان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ بھرپور کوآرڈینیشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ نمازِ جمعہ کے موقع پر حساس مقامات اور مساجد کی سکیورٹی کو خصوصی طور پر سخت رکھا گیا، اور ڈویژنل ایس پیز و ایس ڈی پی اوز براہِ راست انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    تجارتی مراکز اور بازاروں میں امن و امان یقینی بنانے کے لیے پولیس گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ خصوصی موبائل ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ اہم شاہراہوں پر بکتر بند گاڑیاں، ایلیٹ فورس، سٹی پٹرولنگ سکواڈ، ابابیل سکواڈ اور مقامی پولیس ہمہ وقت گشت کر رہی ہے۔

    شہر بھر میں سنیپ چیکنگ اور ناکہ بندیوں کے دوران گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کی کڑی نگرانی جاری ہے۔ قیامِ امن کے لیے ضلع بھر میں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز بھی مسلسل جاری ہیں۔

    کیپٹل سٹی پولیس پشاور کا کہنا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

  8. ماہ رمضان کے دوران پاکستان اور افغانستان کے مابین تصادم تکلیف دہ ہے: ملائیشین وزیرِ اعظم انور ابراہیم

    ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے پاکستان اور افغانستان کے مابین جاری تصادم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماہ رمضان کے دوران یہ لڑائی تکلیف دہ ہے۔

    ایکس پر جاری اپنے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ اس تصادم کے دوران دونوں طرف ہونے والا جانی نقصان دُکھ کا باعث ہے۔

    انور ابراہیم کا کہنا تھا کہ ’میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مخاصمت میں اضافے کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھتا ہوں، جس میں حالیہ دنوں میں سرحد پار سے فوجی آپریشنز اور دو ہمسایہ مسلم ممالک کے درمیان کھلے عام تنازعات کے اعلانات دیکھے گئے ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ملائیشیا پاکستان اور افغانستان دونوں پر زور دیتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تمام فوجی آپریشن فوری طور پر بند کر دیں۔

    انور ابراہیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح افغانستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔ یہ دونوں تقاضے متضاد نہیں ہیں۔ ان پر مذاکرات کی میز پر ہی بات ہو سکتی ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہم اس تنازعہ کی زد میں آنے والے شہریوں کے لیے دُعا گو ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ دونوں طرف کے رہنما فہم و فراست کا مظاہرہ کریں گے۔

  9. افغان طالبان کا پاکستان میں فضائی حملوں کا دعویٰ، پاکستان کی تین مقامات پر ڈرون گرانے کی تصدیق

    افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت متعدد شہروں میں فضائی کارروائی کی گئی ہے تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک کے تین شہروں میں چھوٹے ڈرونز سے حملوں کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔

    افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے جمعے کی دوپہر ایکس پر جاری کیے گئے پیغام میں کہا گیا کہ ’فضائیہ کی مدد سے کیے گئے حملوں میں اسلام آباد، نوشہرہ اور ایبٹ آباد میں فوجی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    پوسٹ میں دعوی کیا گیا کہ ’یہ حملے کامیاب رہے۔‘

    طالبان حکومت کی وزراتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاکستان کی جانب سے ان کی حدود میں فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

    ان دعووں کے بعد پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر ہی اپنے پیغام میں کہا کہ ’فتنہ الخوارج دہشت گردوں نے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز لانچ کرنے کی کوشش کی۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’اینٹی ڈرون سسٹمز نے تمام ڈرونز کو مار گرایا۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ واقعات ایک بار پھر افغان طالبان حکومت اور پاکستان میں دہشت گردی کے براہِ راست تعلق کو بے نقاب کرتے ہیں۔‘

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی میں حکام نے ایک چھوٹا ڈرون گرنے کی تصدیق کی ہے۔

    حکام کے مطابق یہ ڈرون ایک سکول کے قریب گرا اور اس واقعے میں ایک بچی زخمی ہوئی ہے۔

    صوابی کے ضلعی پولیس افسر وقاص رفیق نے بتایا ہے کہ اگرچہ یہ ڈرون آبادی کے قریب گرا ہے لیکن اس سے کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بظاہر اس حملے میں سکول نشانہ نہیں تھا۔

    عسکری ذرائع نے نوشہرہ میں چھاؤنی کے علاقے میں واقع ریلوے سٹیشن کے قریب بھی ڈرون گرائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ڈرون آرمی سکول کے قریب ڈرون گرا اور اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس بارے میں شواہد جمع کیے جا رہے ہیں کہ یہ ڈورن کہاں سے آیا تھا۔

  10. اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب سے رابطہ، پاکستان افغانستان سرحد کی صورتحال پر تبادلہِ خیال

    پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے خطے کی حالیہ صورتحال، بشمول پاکستان-افغانستان سرحد کی صورتحال پر گفتگو کی۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے ایکس پر کی گئی پوسٹ کے مطابق پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے اپنے سعوی ہم منصب کو پاکستان کے ’بلا اشتعال افغان جارحیت‘ کے خلاف سخت ردعمل سے آگاہ کیا۔

    انھوں نے سعودی وزیر کو بتایا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ’آپریشن غضب للحق‘ کے تحت کامیاب اور ہدفی کارروائیاں کیں۔‘

    دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا اور قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

  11. مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع ختم کیا جائے: چین کا پاکستان اور افغانستان سے مطالبہ

    چین نے افغانستان اور پاکستان دونوں سے مطالبے کیا ہے کہ تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور دشمنی ختم کرنا دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہے۔

    چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ افغانستان اورپاکستان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتا ہے اور دونوں ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ "’ختلافات اور تنازعات کو مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔‘

    وزارت نے مزید کہا کہ چین اس تنازع پر ’اپنے ذرائع کے ذریعے ثالثی کے لیے کام کر رہا ہے اور کشیدگی کم کرنے اور دوطرفہ تعلقات بہتر بنانے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

    چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا کہ ’بطور ہمسایہ اور دوست، چین اس کشیدگی پر گہری تشویش رکھتا ہے اور اس تنازع میں ہونے والے جانی نقصان پر افسردہ ہے۔ کسی بھی قسم کی کشیدگی دونوں جانب نقصان اور خسارہ پہنچائے گی۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ دشمنی ختم کرنا ’دونوں ممالک اور عوام کے بنیادی مفاد میں ہے اور اس سے خطے کو پُرامن اور مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔‘

  12. بریکنگ, پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملوں میں 50 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے: افغان طالبان کا دعویٰ, یما باریز، کابل میں افغان سروس کے نمائندے

    افغانستان میں طالبان حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے مشرقی اور جنوب مشرقی سرحدی علاقوں میں پاکستانی چوکیوں پر جوابی حملے کیے ہیں۔

    طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان فورسز نے 19 پاکستانی سرحدی چوکیوں کو تباہ کر دیا ہے اور متعدد پاکستانی فوجیوں کو گرفتار کیا ہے۔

    انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ 50 سے زیادہ پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    تاہم ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے افغان طالبان کی 27 سرحدی چوکیوں کو تباہ کر دیا ہے اور طالبان فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے۔

  13. ’ہمیں لگا کہ زلزلہ آیا ہے، پھر ایک زور دار دھماکہ سنائی دیا‘, محفوظ زبیدے، نیوز پروڈیوسر

    کابل کے ضلع 6 کے دشتِ برچی علاقے کے ایک رہائشی، جو گذشتہ رات کے مبینہ پاکستانی فضائی حملے کے مقام کے قریب رہتے ہیں انھوں نے بتایا کہ ان کے گھر کو ایک دھماکے کے باعث شدید جھٹکا لگا۔

    انھوں نے کہا کہ ’پہلے ہمیں لگا کہ یہ زلزلہ ہے، کیونکہ چند دن پہلے کابل میں زلزلہ آیا تھا۔ پھر ہم نے ایک زور دار دھماکہ سنا۔‘

    کابل کے رہائشی جن کا نام حفاظتی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کیا جا رہا، نے مزید بتایا کہ دشتِ برچی کے لوگ فوراً باہر نکل آئے اور ساری رات جاگتے رہے۔

    ’اس کے بعد کوئی نہیں سویا۔ سب خوفزدہ تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ دھماکے کے کچھ دیر بعد کابل کے اوپر جیٹ طیارے پرواز کرتے نظر آئے۔

    ’جب ہم نے اوپر جیٹ دیکھے تو ہمیں اندازہ ہوگیا کہ یہ پاکستانی طیارے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ حملے نشانہ بننے والا علاقہ ان کے گھر سے تقریباً 4 سے 5 کلومیٹر دور تھا۔

    ’میری بیوی اور والدین بہت خوفزدہ تھے۔ ہم سب پوری رات جاگتے رہے۔‘

  14. پاکستانی فوج کی جانب سے کابل میں کیے جانے والے فضائی حملوں کی فوٹیج

  15. افغانستان اور پاکستان بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں: اقوامِ متحدہ کے رہنماؤں کی اپیل

    پاکستان اور افغاستان کے درمیان تازہ ترین کشیدہ صورتحال اور جھڑپوں پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اظہارِ خیال کیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی سختی سے پابندی کریں۔

    دوسری جانب، انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے سرحدی جھڑپوں اور مہلک فضائی حملوں کے بعد افغانستان اور پاکستان سے مسائل کے حل کے لیے باہمی بات چیت کی اپیل کی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے ’بلا اشتعال‘ حملوں کے بعد پاکستان نے کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا جس میں افغان طالبان رجیم کے 133 اہلکار ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    بی بی سی آزادانہ ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی طرف سے دارالحکومت کابل کے کچھ مقامات، پکتیکا اور قندھار میں بمباری کی گئی ہے۔ تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کی فورسز کے درمیان جھڑپیں جمعرات کی رات کو شروع ہوئی تھیں اور دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں تاحال کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

    جمعرات کی رات کو افغانستان میں طالبان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ افغان طالبان نے اسے چند روز قبل پاکستان کی جانب سے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بمباری کا جواب قرار دیا تھا۔

    طالبان کے سرکاری عہدیداروں نے جمعرات کی شام کے حملوں کو پکتیکا، خوست اور ننگرہار میں اس ہفتے کے شروع میں پاکستانی فضائی حملوں کا ’بدلہ‘ قرار دیا، جن میں طالبان حکام کے مطابق کم از کم 18 افراد مارے گئے تھے۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ افغان طالبان نے پاکستان کی متعدد پوسٹس اپنے قبضے میں لے لی ہیں اور ان کی کارروائیوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

  16. بریکنگ, ایران کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کروانے کی پیشکش

    ایران نے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت کروانے کے لیے تیار ہے۔

    ایکس پر ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’ماہِ مبارک رمضان میں، جو ضبطِ نفس اور عالمِ اسلام میں یکجہتی کو مضبوط کرنے کا مہینہ ہے، یہ مناسب ہے کہ افغانستان اور پاکستان موجودہ اختلافات کو حسنِ ہمسائیگی کے دائرے میں اور مکالمے کے راستے سے سنبھالیں اور حل کریں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایران ہر قسم کی مدد کے لیے تیار ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مکالمے کو آسان بنایا جا سکے اور باہمی تفاہم و تعاون کو تقویت دی جا سکے۔

    ایران نے اس سے پہلے بھی دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی جب سرحدی کشیدگی بڑھ رہی تھی۔

  17. سعودی اور پاکستانی وزرائے خارجہ کا علاقائی کشیدگی پر تبادلہِ خیال

    سعودی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

    سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ’خطے کی صورتحال‘ اور ’کشیدگی کم کرنے کے طریقوں‘ پر بات کی۔

    سعودی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا جو چند گھنٹے پہلے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری کیا گیا۔

    اسحاق ڈار اس وقت سرکاری دورے پر سعودی عرب میں موجود ہیں۔

  18. افغان پناہ گزینوں کے کیمپ پر راکٹ حملے میں 9 افراد زخمی

    افغانستان میں طالبان حکومت کے مقامی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے ننگرہار صوبے میں عمری نامی پناہ گزین کیمپ پر گذشتہ رات کیے گئے حملوں میں کم از کم نو افراد زخمی ہو گئے، جس میں پاکستان سے واپس آنے والے پناہ گزین رہائش پذیر ہیں۔

    ننگرہار کے صحت عامہ کے ڈائریکٹر امین اللہ شریف نے بتایا کہ تمام زخمیوسات خواتین اور دو مرد واپس آنے والے پناہ گزین ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

    طالبان فورسز نے کل رات ڈیورنڈ لائن کے قریب پاکستانی فوج کی چوکیوں پر جوابی حملے شروع کیے، جس سے پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دارالحکومت سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنایا۔

    دونوں فریقوں نے دوسری جانب جانی نقصان کا دعویٰ کیا ہے تاہم آزادانہ طور پر درست تعداد کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔

  19. حالات پرسکون ہو گئے ہیں: کابل کے رہائشی, حفیظ اللہ، معروف بی بی سی افغان سروس

    میں نے کابل کے متعدد رہائشیوں اور مقامی حکام کے علاوہ قندھار اور ننگرہار صوبوں کے لوگوں سے بات کی ہے۔

    انھوں نے مجھے بتایا کہ وہاں کی صورتحال اب پرسکون دکھائی دیتی ہے، اگرچہ سرحد کے دونوں جانب ہائی الرٹ برقرار ہے۔

    طالبان کے ایک فوجی ترجمان نے مجھے بتایا کے ’اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو ہم جواب دیں گے، لیکن فی الحال ہم جھڑپیں شروع نہیں کریں گے۔‘

    اب کابل میں صبح ہو چکی ہے اور رہائشی کہتے ہیں کہ اب جہازوں کی آواز نہیں آ رہیں۔

    پاکستان کی فضائی کارروائیوں کے بعد شہر اب قدرے پرسکون محسوس ہورہا ہے۔

    اب تک ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے، جو قندھار اور پکتیا میں بھی کیے گئے تھے۔

  20. صوبہ خیبرپختونخوا میں سرحد پر افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں: سرفراز بگٹی

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے افغانستان کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں کیے جانے والے حملوں کی مذمت کی ہے۔

    پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں فوری اور مؤثر جواب دے کر دشمن کو واضح پیغام دیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘