پاکستان اور افغانستان کے مابین جمعرات کی شب شروع ہونے والے تصادم کا سلسلہ جاری ہے اور فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
جمعے کی دوپہر افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت متعدد شہروں میں فضائی کارروائی کی گئی ہے تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک کے تین شہروں میں چھوٹے ڈرونز سے حملوں کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔
افغان وزارتِ دفاع نے جمعے کی دوپہر ایکس پر جاری کیے گئے پیغام میں دعویٰ کیا کہ 'فضائیہ کی مدد سے کیے گئے حملوں میں اسلام آباد، نوشہرہ اور ایبٹ آباد میں فوجی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔'
ان دعوؤں کے بعد پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر ہی اپنے پیغام میں کہا کہ 'فتنہ الخوارج دہشت گردوں نے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز لانچ کرنے کی کوشش کی۔'
انھوں نے مزید لکھا کہ 'یہ واقعات ایک بار پھر افغان طالبان حکومت اور پاکستان میں دہشت گردی کے براہِ راست تعلق کو بے نقاب کرتے ہیں۔'
اس سے قبل پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے جمعے کو علی الصبح دعویٰ کیا تھا کہ افغان طالبان کی جانب سے 'بلا اشتعال' حملوں کے بعد پاکستان نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا جس میں افغان طالبان کے 133 اہلکار ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ اور نو پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں افغان طالبان کے دو کور ہیڈ کوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز، دو ایمو نیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈ کوارٹر، دو سیکٹر ہیڈ کوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینک، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کر دی گئی ہیں۔
بی بی سی آزادانہ ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان کی طرف سے دارالحکومت کابل کے کچھ مقامات، پکتیکا اور قندھار میں بمباری کی گئی ہے۔ تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
بعد ازاں افغانستان کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ گذشتہ رات پاکستانی فضائیہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کے نتیجے میں افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور دو بچے شامل ہیں۔
بی بی سی ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
اس سے پہلے افغان طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ چند روز قبل پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی کارروائی کے جواب میں جمعرات کی شب آٹھ بجے افغانستان نے جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔
افغان طالبان کے مطابق پکتیکا، پکتیا، خوست، ننگرہار، کنڑ اور نورستان کے قریب سرحد پر پاکستانی فوج کے ساتھ چار گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں 55 پاکستانی فوجی مارے گئے جن میں سے کچھ کی لاشوں کو افغانستان منتقل کر دیا گیا ہے۔
افغان وزارتِ دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں پاکستانی فوج کے دو اڈے اور 19 چوکیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ فوجی ٹرکوں سمیت بھاری فوجی سازو سامان بھی تحویل میں لیا گیا ہے۔
بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کے آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ ننگرہار کے پناہ گزین کیمپ پر پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 33 افراد زخمی ہوئے۔