روس اور امریکہ ایک بار پھر مذاکرات کر رہے ہیں جبکہ دوسری
جانب یورپ کے رہنما اور سفارتکار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان پر زبردستی نافذ کیے گئے مشکل انتخاب پر غور کر رہے ہیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ کی یوکرین اور اپنے مغربی
اتحادیوں کو دی جانے والی دھمکیوں سے ان کے اتحاد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا
ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی امریکی انتظامیہ کے رویے میں تبدیلی
سے کافی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ زیلنسکی کو پہلی ہی
اس بات کا اعادہ ہونا چاہیے تھا خاص طور پر ایسے میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے سے پہلی
ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ بائیڈن انتظامیہ کی پالیسیوں کو جاری نہیں رکھیں گے۔
زیلنسکی جب اپنے حالیہ دورے پر ترکی پہنچے تو وہ یہ شکایت
کرتے نظر آئے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں اس فریق کو شامل نہیں کیا گیا ہے جو
روسی جارحیت سے براہِ راست متاثر ہے۔
یوکرین کے شمال مشرقی علاقے کا موسم ریاض کے ان ایئر کنڈشنڈ
کمروں سے یکسر مختلف ہے جہاں روسی اور امریکی مذاکرات کاروں کی ملاقات ہوئی تھی۔
روس کی سرحد کے نزدیک برف سے ڈھکے گاؤں اور جنگلوں میں واقع اگلے
مورچوں پر موجود یوکرینی فوجی معمول کے مطابق اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں – ان کا کام جنگ جاری رکھنا ہے۔
یوکرین کے سرحدی علاقے سمی کے نزدیک ایک زیرِ زمین بنکر میں میری
ملاقات ایک یوکرینی کمانڈر سے ہوئی۔ ان کے پاس خبروں کے لیے وقت نہیں۔ ان کے لیے
ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی بات چیت شور شرابے سے زیادہ کچھ نہیں۔
شاید ان کے لیے اس سارے سیاسی عمل کو نظر انداز کرنا ہی
بہتر ہے تاکہ وہ محاذِ جنگ پر اپنی توجہ مرکوز کر سکیں جہاں ان کے سپاہی ایک بار پھر جنگ میں
شامل ہونے جا رہے ہیں۔
جہاں ہماری ملاقات ہوئی اس ورکشاپ کی شیلف پر سینکڑوں ڈرون
رکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ہر ایک ڈرون تقریباً 300 ڈالز مالیت کا تھا۔
کچھ سپاہی ان ڈرونز کو اگلے مورچوں پر استعمال کے لیے ڈبوں میں پیک کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب یہ ڈرون ہتھیاروں سے لیس ہوں
اور انھیں ایک ماہر پائلت اڑا رہا ہو تو ہر ایک ڈرون ایک ٹینک تباہ کرنے کی صلاحیت
رکھتا ہے۔
چند گھنٹے قبل ہی ان کے ڈرونز نے دن دیہاڑے روسی فوج کی ایک
یونٹ کو تباہ کیا تھا۔ یوکرینی فوجیوں نے مجھے جو ویڈیوز دکھائیں ان میں نظر آ رہا
تھا کہ کچھ گاڑیوں پر روسی جھنڈے کی جگہ سویت یونین کے بینر لگے ہوئے تھے۔
دن کے وقت تو سمی میں زندگی رواں دواں رہتی ہے تاہم رات ہوتے ہی ایٹی ایئر کرافٹ بندوقیں یہاں سے گزرنے والے روسی ڈرونز کو نشانہ بنانے کے لیے متحرک ہو جاتی ہیں۔
شہر میں سویت دور کی بنی عمارتوں میں سے ایک رہائشی عمارت کے بیچوں بیچ ایک بڑا سا سوراخ ہے جو روسی ڈرون حملے کی نشانی ہے۔ تقریباً دو ہفتے قبل ہونے والے اس حملے میں 11 افراد ہلاک ہو گَئے تھے۔ مخدوش ہونے کی وجہ سے اس عمارت کو خالی کروا لیا گیا ہے۔
لیکن آس پاس ایسی ہی مخدوش عمارتوں میں لوگ رہ بھی رہے ہیں۔
50 سالہ مائکولا اپنے بیٹے کے ساتھ گھر جا رہے تھے جب وہ ہم سے بات کرنے کے لیے رکے۔ وہ اس تباہ شدہ عمارت کے ساتھ بنی ایک عمارت میں رہائش پذیر ہیں۔
میں نے ان سے پوچھا کہ یوکرین میں قیامِ امن کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے۔
مائکولا کا کہنا تھا کہ ہمیں امن کی ضرورت ہے۔ ’یہ ضروری ہے کیونکہ جنگ کا کوئی فائدہ نہیں۔ جنگ سے کچھ نہیں حاصل ہوتا۔ اگر آپ دیکھیں کہ روس اب تک کتنے علاقے پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا ہے تو آپ کو انداہ ہو جائے گا کہ انھیں یوکرین کے دارالحکومت تک پہنچنے کے لیے 14 سال تک لڑنا پڑے گا۔ اس سے صرف لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔ اسے ختم ہونے کی ضرورت ہے۔‘
تاہم مائکولا کا کہنا ہے کہ زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کی غیر موجودگی میں ہونے والی ٹرمپ اور پوتن ملاقات سے اس مسئلے کا کوئی حل نکلتا دکھائی نہیں دیتا۔
33 سالہ یولیا بھی اسی علاقے کی رہائشی ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ امن ممکن ہے ’لیکن اس کے لیے پہلے انھیں ہم پر بمباری بند کرنی ہوگی۔ امن تب ہی ہو سکتا ہے جب وہ ایسا کرنا بند کر دیں۔ اس کی شروعات ان کی طرف سے ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ انھوں نے ہی اس تباہی کا آغاز کیا تھا۔
’لیکن آپ پوٹن پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔‘
سورج ڈھل رہا تھا جب ہماری 70 سالہ بورس سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک ریٹائرڈ کرنل ہیں جنھوں نے سوویت فوج میں 30 سال خدمات انجام دی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا اور پوتا دونوں یوکرین کے لیے لڑ رہے ہیں۔
بورس کہتے ہیں کہ امن ممکن تو ہے ’لیکن میں اس پر یقین نہیں رکھتا۔‘
ان کو یقین ہے کہ یوکرین کو انصاف ملے گا لیکن وہ کہتے ہیں کہ یوکرین کو محتاط رہنے کی ضروت ہے۔
’جب تک پوٹن موجود ہیں، آپ روسیوں پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ وہ پوتن پر اس طرح یقین رکھتے ہیں جیسے وہ ایک مذہب ہو۔ آپ ان کی سوچ نہیں بدل سکتے۔ اس کے لیے وقت کی ضرورت ہے۔‘
تو اس کا حل کیا ہے – جنگ جاری رکھنا یا امن معاہدہ؟
بورس کہتے ہیں کہ یوکرین کو امن کے بارے میں سوچنا ہوگا ’لیکن ہمیں ہتھیار نہیں ڈالنے چاہیئیں۔‘
’ہم تب تک لڑیں گے جب تک کہ ہم مضبوط نہیں ہو جاتے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے یورپ ہماری مدد کے لیے تیار ہے۔ ہتھیار ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر قائل ہیں کہ پراپرٹی کے کاروبار کے اصولوں کے ذریعے جنگ ختم کی جا سکتی ہے۔ لیکن جلد ہی انھیں احساس ہو جائے گا کہ امن قائم کرنا محض جنگ بندی کروانے اور یہ فیصلہ کرنے سے کہ کونسا فریق کتنی زمین رکھے گا سے کہیں زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔
صدر پوتن واضح کر چکے ہیں کہ وہ یوکرین کی خودمختاری اور ایک آزاد ریاست کے طور اس کی حیثیت ختم کرنا چاہتے ہیں۔
اس بات سے قطع نظر کہ زیلنسکی امریکی صدر کی طرف سے لگائی گئی مذاکراتی میز پر بیٹھیں گے یا نہیں، وہ اس بات سے تو کسی صورت اتفاق نہیں کریں گے۔
اگر دیرپا امن قائم کرنا ممکن ہے تو یہ ایک طویل اور سست رفتار عمل ہے۔
اگر ڈونلڈ ٹرمپ امن کے فوری ثمرات چاہتے ہیں تو انھیں کہیں اور کوشش کرنی ہوگی۔