بلوچ یکجہتی کمیٹی نے حکومت سے مذاکرات کے بعد 11 روز سے گوادر میں جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ جمعے کے روز گوادر سے تربت کی جانب مارچ کریں گے۔
بلوچ یک جہتی کمیٹی کی ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’آج حکومتی وفد نے دھرنے کے مطالبات منظور کر لیے ہیں۔ مطالبات پر عمل درآمد ہونے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنا دھرنا ختم کرے گی۔
ایکس پر جاری بیان کے مطابق ’’دھرنا ختم ہونے کے بعد جمعہ کی صبح گوادر میں راجی سوگندی دیوان (قومی حلف) ہوگا جس کے بعد یہ کاروان تربت کی جانب مارچ کرے گا۔‘
یاد رہے کہ اس اعلان کے باوجود ابھی تک تسلیم شدہ مطالبات کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
واضح رہے کہ جولائی آخری ہفتے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گوادر میں دھرنا دیا تھا۔
مکران ڈویژن میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بھی رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا حکومت اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران معاملات طے پا گئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے دوسرے دور کے مذاکرات بلوچستان کے سینیئر وزیر میر ظہور بلیدی کی سربراہی میں ہوئے تھے جبکہ اس سے قبل بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو وہاں مذاکرات کے لیے پہنچے تھے۔
کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ گوادر میں دھرنے کے شرکا جمعے کی صبح دس بجے کے بعد تربت کے لیے روانہ ہوں گے۔
'بلوچ راجی مچی ایک تحریک ہے'
جمعرات کی شب میرین ڈرائیو پر دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ بلوچ راجی مچی ایک پروگرام یا جلسہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے
’ہم یہ حلف اٹھاتے ہیں کہ ہم نے بلوچوں کو دوسو سال کی غلامی کے خلاف اکٹھا کرنا ہے۔ یہ تحریک بلوچوں کو ایک طاقت بنانے کی تحریک ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’گزشتہ 11 روز میں حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور ہم نے ان کو بتایا کہ آپ کے فورسز نے مبینہ طور پر ہمارے تین نوجوانوں کو ہلاک کیا ہے اور خواتین پر لاٹھیاں اٹھائیں۔‘
گوادر میں جلسے کو بطور احتجاج دھرنے میں تبدیل کیا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے 28جولائی کو گوادر میں بلوچ راجی مچی یعنی بلوچ قومی اجتماع کے نام سے جلسہ منعقد کرنےکا اعلان کیا گیا تھا۔
اس اجتماع میں ایران اور افغانستان کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں مقیم بلوچوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق گوادر میں اس اجتماع کا مقصد مبینہ بلوچ نسل کشی ، جبری گمشدگیوں ، انسانی حقوق کی پامالی اور بلوچوں کے وسائل کے استحصال کے خلاف لائحہ عمل طے کرنا تھا۔
تاہم حکومت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کو گوادر میں اس جلسے کی اجازت نہیں دی تھی جس کے باعث 27 جولائی سے حکومت نے بلوچستان میں ان تمام شاہراہوں کو بند کیا تھا جن کے زریعے لوگ گوادر پہنچ سکتے تھے۔
شاہراہوں کی بندش کی جواز کے حوالے سے سرکاری حکام نے یہ کہا تھا کہ یہ اقدام لوگوں کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جلسے کے لیے گوادر کے انتخاب پر سوالات اٹھاتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اس کا مقصد سی پیک کے دوسرے مرحلے کی ترقیاتی منصوبوں اور گوادر میں سرمایہ کاری کوسبوتاژ کرنا تھا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ نہ صرف گوادر کے اجتماع میں لوگوں کو شرکت سے روکا گیا بلکہ لوگوں پر مبینہ طور پر گولیاں بھی چلائی گئیں جن میں تین افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔
دوسری جانب سرکاری حکام نے تشدد کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے کہا کہ مظاہرین کی تشدد سے گوادر میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 16زخمی ہوگئے ۔
گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے ایف آئی آر میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ سمیت چار افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
بلوچ یکجتی کمیٹی نے گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں دھرنے کی شرکا پر مبینہ تشدد اور دھرنے کے شرکاء کو گوادر جانے سے روکنے اور اس سلسلے میں گرفتاریوں کے خلاف میرین ڈرائیو پر جلسے کو دھرنے میں تبدیل کیا تھا جو کہ 11روز تک جاری رہا۔