فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس: نو مئی کے ملزمان آرمی ایکٹ کے دائرہ کار میں آتے ہیں، وکیل وزارت دفاع
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
منگل کے روز دورانِ سماعت وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے ملزمان آرمی ایکٹ کی شق 2 ون ڈی ون کے دائرہ کار میں آتے ہیں اور ان کا ٹرائل خصوصی کورٹ میں ہی ہوگا۔
خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا عدالتی فیصلوں میں خصوصی کورٹ تسلیم شدہ ہیں جہاں آرمی ایکٹ کے تحت جرم کا ٹرائل ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں بات سویلین کے ٹرائل کی نہیں ہے، اگر آرمی ایکٹ کے تحت جرم کا گٹھ جوڑ ہو تو ملٹری ٹرائل ہوگا۔
دوران سماعت وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے 21ویں ترمیم کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا جس پر جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ 21ویں ترمیم مخصوص حالات میں کی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ کنٹونمنٹ ایریا میں آرمی سکول پر حملہ ہوا تب بھی خصوصی عدالت میں ٹرائل ممکن نہیں تھا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ دہشتگردوں کا مقدمہ خصوصی عدالت میں چلانے کے لیے آئین میں ترمیم کرنا پڑی تھی۔
انھوں نے سوال کیا کہ کیا آرمی پبلک سکول واقعے میں گٹھ جوڑ موجود تھا؟
اس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ اے پی ایس حملے کے وقت گٹھ جوڑ بالکل موجود تھا۔
جسٹس جمال مندوخیل کے سوال پر کہ کیا اے پی ایس حملے کے وقت آرمی ایکٹ موجود تھا، خواجہ حارث نے بتایا کہ اس وقت آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ دونوں موجود تھے۔
جسٹس جمال مندوخیل کی جانب سے ایک اور سوال پر کہ ایسی کیا وجہ تھی کہ گٹھ جوڑ اور آرمی ایکٹ کے ہوتے ہوئے بھی ٹرائل خصوصی عدالت میں نہیں چلا اور اس کے لیے آئین میں ترمیم کیوں کرنا پڑی؟
خواجہ حارث نے دعویٰ کیا کہ ترمیم اس لیے کی گئی کیونکہ اے پی ایس ملزمان آرمی ایکٹ کی شق 2 ون ڈی ون کے جرائم میں نہیں آتے تھے۔
دورانِ سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ دہشت گرد گروہ یا مذہب کے نام پر دہشت گردانہ کارروائیوں پر ٹرائل کہاں چلے گا۔
وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ آرمی ایکٹ کے تحت دہشت گرد گروہ یا مذہب کے نام پر دہشت گردی کے واقعات پر ٹرائل خصوصی کورٹ میں چلے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے بغیر بھی ایسے جرائم کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چل سکتا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ اگر کوئی دہشت گرد تنظیم تاوان کیلئے کسی سکیورٹی فورس کے اہلکارکو اغوا کرے تو اس کا ٹرائل کہاں چلے گا۔
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ فرض کریں ٹرائل خصوصی کورٹ میں نہیں چل سکتا، تو ایسے میں اس کیس پر کیا اثر پڑے گا۔
عدالت نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں کیسز کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جمعرات کے روز تک ملتوی کردی۔
وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔