آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نو مئی: سپریم کورٹ نے آٹھ مقدمات میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی ضمانت منظور کر لی

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی نو مئی کے واقعات سے متعلق درج کیے گئے آٹھ مقدمات میں ضمانت منظور کرلی ہے۔ یاد رہے کہ ان آٹھ مقدمات میں ضمانت ملنے کے باوجود عمران خان جیل سے رہا نہیں ہو سکیں گے کیونکہ انھیں ایک سو نوے ملین پاؤنڈ میں چودہ سال قید کی سزا ہو چکی ہے جبکہ توشہ خانہ ٹو میں ان کی گرفتاری ڈالی جاچکی ہے

خلاصہ

  • سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو 9 مئی سے متعلق آٹھ مقدمات میں ضمانت دینے کے فیصلے کو پی ٹی آئی نے اپنی 'فتح' قرار دیا ہے
  • سپریم کورٹ نے عمران خان کی نو مئی کے واقعات سے متعلق درج آٹھ مقدمات میں ضمانت منظور کر لی
  • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اندر قائم بلال مسجد کی جی پی ایس لوکیشن انڈین خفیہ ایجنسی کو فراہم کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
  • کراچی سمیت سندھ میں حالیہ بارشوں میں گزشتہ دو روز کے دوران 12 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں بارش برسانے والا سلسلہ اس وقت بھی موجود ہے جس کے زیر اثر آج بھی موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

لائیو کوریج

  1. غزہ شہر پر قبضے کا منصوبہ: اسرائیلی فوج نے 60 ہزار ریزرو فوجی اہلکار طلب کر لیے

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ غزہ شہر کے تمام علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے بنائے جانے والے منصوبہ پر عملدرآمد کے لیے زمینی کارروائی شروع کرنے سے قبل تقریباً 60 ہزار ریزرو فوجی اہلکاروں کو طلب کرنے جا رہی ہے۔

    ایک فوجی عہدیدار نے بتایا کہ یہ ریزرو فوجی ستمبر میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے تاہم فرنٹ لائن پر زیادہ تر موجودہ حاضر سروس فوجی اہلکار ہوں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کی تیاریوں کے حصے کے طور پر زیتون اور جبالیہ کے علاقوں میں اسرائیلی فوجی پہلے ہی اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے منگل کو منظوری دی تھی اور اسے اس ہفتے کے آخر میں سکیورٹی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

    توقع ہے کہ غزہ شہر میں لاکھوں فلسطینیوں کو نقل مکانی کرنے اور جنوبی غزہ کی پناہ گاہوں میں جانے کا حکم دیا جائے گا۔

    اسرائیل کے بہت سے اتحادیوں نے اس منصوبے کی مذمت کی ہے جبکہ اقوام متحدہ اور غیر سرکاری تنظیموں نے متنبہ کیا ہے کہ 22 ماہ کی جنگ کے بعد ایک اور جارحانہ اور مزید بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا ’ان علاقوں میں رہنے والوں پر خوفناک اثر‘ پڑے گا۔

    اسرائیل کی حکومت نے گذشتہ ماہ حماس کے ساتھ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر بالواسطہ بات چیت کے بعد پوری غزہ پٹی پر قبضہ کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا تھا۔

    ٭ غزہ کے معاملے میں منقسم اسرائیل: ’جنگ مکمل طور پر سیاسی ہو چکی ہے جو نتن یاہو کی بقا کے سوا کچھ نہیں‘

    تاہم اس سب کے بیچ ثالثوں کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق ایک معاہدہ کرنے کی کوشش میں ہیں جس میں انھوں نے 60 روزہ جنگ بندی اور غزہ میں قید 50 یرغمالیوں میں سے تقریباً نصف کی رہائی کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی، جسے حماس نے سوموار کے روز قبول کر لیا ہے۔

    مگر اسرائیل کی جانب سے تاحال اس تجویز سے متعلق کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا لیکن اسرائیلی حکام نے منگل کو یہ بیان ضرور سامنے آیا تھا کہ اب کسی جزوی معاہدے کو قبول نہیں کریں گے اور اس کے برعکس ایک جامع معاہدے کا مطالبہ کیا ہے جس میں تمام یرغمالیوں کی رہائی کا کہا گیا ہے۔

    اسرائیل کی دفاعی افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’آپریشن گیڈونز رتھس کے اگلے مرحلے‘ کی تیاریوں کے سلسلے میں بدھ کے روز 60 ہزار ریزرو فوجی اہلکاروں کو طلب کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

    اس کے علاوہ 20،000 ریزرو فوجی جنھیں پہلے ہی طلب کیا جا چکا ہے کو ان کے موجودہ آرڈرز میں توسیع کا نوٹس دیا جائے گا۔

    عہدیدار کے مطابق توقع ہے کہ پانچ ڈویژن اس حملے میں حصہ لیں گے۔

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود باسل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ شہر کے زیتون اور سبرا کے علاقوں میں صورتحال ’انتہائی خطرناک اور ناقابل برداشت‘ ہے۔

    ایجنسی کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز غزہ میں اسرائیلی حملوں اور فائرنگ سے 21 افراد ہلاک ہوئے۔

    فلسطینی خبر رساں ادارے وفا نے خبر دی ہے کہ غزہ شہر کے مغرب میں واقع شتی پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر بمباری کے نتیجے میں تین بچے اور ان کے والدین ہلاک ہو گئے۔

    اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے کے جواب میں غزہ میں ایک مہم شروع کی تھی جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 دیگر کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

    حماس کے زیر انتظام علاقے کی وزارت صحت کے مطابق اس وقت سے اب تک غزہ میں کم از کم 62,122 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  2. وزیراعظم پاکستان کا خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ، بحالی کے کام کو تیز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا وفاقی وزرا اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ سوات، بونیر، شانگلہ اور صوابی کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کا دورہ کیا۔

    وزیراعظم اور آرمی چیف کے صوبہ خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ دورے کے حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس دوسرے کے دوران وزیراعظم اور آرمی چیف کو ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

    اعلامیے کے مطابق سیلاب متاثرین سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے انھیں وفاقی حکومت اور فوج کی جانب سے اس نازک وقت میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    وزیر اعظم کا بحالی کے اقدامات کو تیز کرنے اور متاثرہ علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال کرنے کے لیے قومی وسائل کے ہر ممکن استعمال کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

    وزیراعظم نے غیر قانونی تجاوزات، لکڑی مافیا اور دریاؤں و ندی نالوں میں مائننگ اور کرشنگ کی سرگرمیوں کی جانب بھی توجہ دلائی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ سرگرمیاں جانی و مالی نقصانات میں بڑی حد تک اضافہ کرتی ہیں۔ پاکستان کو ایک سخت ریاست کے طور پر عمل کرنا ہوگا جہاں کوئی قانون سے بالاتر نہ ہو اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔‘

    چیف آف آرمی سٹاف نے بھی ریسکیو سرگرمیوں میں مصروف افواج، پولیس اور سول انتظامیہ کے عملے سے ملاقات کی اور متاثرین کی مدد کو سراہا۔

    آرمی چیف نے زمینی فارمیشنز کو ہدایت کی کہ ’وہ اس ذمہ داری کو انتہائی لگن کے ساتھ نبھائیں اور سیلاب زدہ خاندانوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ شہریوں کی جانوں کا تحفظ اور ان کی مدد اولین ترجیح ہے۔‘

  3. بلوچستان میں گزشتہ دو روز سے جاری بارشوں سے دو افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کچھی میں سیلابی ریلوں کے باعث ایک اہم پُل کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے سبی کے راستے کوئٹہ اور سندھ کے درمیان شاہراہ پر ہیوی ٹریفک دوسرے روز بھی معطل رہی۔

    ہرنائی اور ضلع کچھی میں بولان کے پہاڑی علاقوں میں تیز بارشوں سے دریائے بولان میں طغیانی سے قومی شاہراہ این 65 پر بی بی نانی پُل کو نقصان پہنچا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر ضلع کچھی کے اعلامیہ کے مطابق شاہراہ کو چھوٹی گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا جبکہ بھاری ٹریفک پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔

    اعلامیہ میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس شاہراہ پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور متبادل راستہ اختیار کریں۔

    بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق ہرنائی میں بارشوں کی وجہ سے گزشتہ دو روز کے دوران تین افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک خاتون اور دو بچیاں شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ خضدار، جھل مگسی، حب، آواران، قلات، سبّی اور سُوراب میں بارشوں کی اطلاع ملی ہے۔

    سوراب کے علاقے میں فصلوں جبکہ ضلع سبی میں لہڑی کے علاقے میں گھروں کو بارش اور سیلابی پانی سے نقصان پہنچا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق آج خضدار، آواران، حب اور لسبیلہ کے علاوہ ساحلی بیلٹ میں تیز بارشوں کا امکان ہے۔

  4. کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    کراچی کے مختلف علاقوں میں ایک مرتبہ پھر بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق بدھ کے روز دن دو بجے کے بعد موسلا دھار بارش کی پیشگوئی کی گئی تھی۔

    تاہم دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہریوں کو گھر سے نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔

    محکمہ موسمیات پاکستان کی جانب سے بدھ تین بجے جاری ہونے والے ایک الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ’کراچی اور گردونواح میں آئندہ دو سے تین گھنٹوں کے دوران بیشتر مقامات پر درج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اور کہیں پر تیز اور موسلا دھار بارش کا بھی امکان ہے جس کے باعث اربن فلڈنگ میں اضافے کا خطرہ ہے۔‘

    واضح رہے کہ کراچی میں منگل کے روز بارشوں سے متعلقہ واقعات میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کی جانب سے منگل کے روز یہ بتایا گیا تھا کہ بارش کے دوران مختلف حادثات اور واقعات میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ اموات دیوار گرنے، کرنٹ لگنے اور گٹر میں گرنے کی وجہ سے ہوئیں۔

    کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کی جانب سے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کراچی کی سڑکوں سے گزشتہ روز ہونے والی بارش کے پانی کی نکاسی کے کام کو مکمل کر لیا گیا ہے۔

    ابھی مئیر کراچی کی پریس کانفرنس جاری تھی کہ اسی دوران ایک بار پھر کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

    وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے کراچی میں گزشتہ روز سے جاری بارش کے سلسلے اور شہر کی صورتحال پر جارے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’لوکل باڈیز، پولیس اور انتظامیہ کام کرتے نظر آرہی ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’کراچی کے نکاسی ٓاب کا نظام اتنی بھاری بارش کے لیے ڈیزائن نہیں کیا ہوا۔ اگر اب 100 ملی میٹر کی بارش کے نکاسی کا نظام بنانا ہے تو پورا شہر پھر کھودنا ہوگا۔‘

    کراچی میں بارش اور زیر آب آنے کے بعد شہر کے کئی تجارتی مراکز بدھ کے روز بند ہیں، شہر کی ہول سیل مارکیٹ جوڑیا بازار، میڈیسن مارکیٹ، اناج منڈی، کلاتھ مارکیٹ میں آج کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں ان بازار گنجان گلیوں میں واقع ہیں جہاں ابھی بھی پانی موجود ہے۔

    گروسری ہول سیل مارکیٹ کے رہنما رؤف ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس وقت مارکیٹں بند ہیں اگر آج شدید بارش نہیں ہوتی تو پھر جمعرات کو مارکیٹیں کھل سکتی ہیں تاہم یہاں سے پانی کی نکاسی میں کئی روز لگ سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جب تک سڑکوں کے ساتھ بارش کی پانی کی نکاسی کا مناسب نظام نہیں ہوگا مارکیٹیں اور شہر اسی طرح ڈوبتے رہیں گے۔‘

    دوسری جانب نرسری پر واقع فرنیچر مارکیٹ بارش سے شدید متاثر ہوئی ہیں جہاں متعد دکانیں ہل پارک سے آنے والے پانی سے متاثر ہوئی ہیں گزشتہ سال بھی یہ مارکیٹ متاثر ہوئی تھی اور دکانداروں کا مالی نقصان ہوا تھا۔ لیاقت مارکیٹ بھی بارش سے متاثر ہوئی تاہم پانی کی نکاسی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

    اس وقت ایم اے جناح روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، ایئرپورٹ جانے والی شاہراہ فیصل سے پانی کی نکاسی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے تاہم بعض مقامات پر ابھی بھی پانی موجود ہے۔

    شہر کے کئی علاقوں سے بجلی کی معطلی کی بھی شکایت آئیں تاہم کے الیکٹرک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’شہر میں پانی کی نکاسی کے بعد ان کی ٹیموں نے کام کیا اس وقت 2100 میں سے 2000 فیڈر پر بجلی بحال کردی گئی ہے تاہم کچھ علاقوں سے انفرادی شکایات ہیں جن پر کے الیکٹرک کے اہلکار کام کر رہے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس خراب موسم اور بارش میں کے الیکٹرک کے اہلکاروں کے لیے ’فالٹ‘ یا نقص والی جگہوں تک رسائی بھی ایک مُشکل کام اور بڑا چیلینج ہے۔

  5. عمران خان نے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا

    سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی جبکہ اعظم خان سواتی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا ہے۔

    اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے اس بات کی تصدیق کی کہ بانی پی ٹی آئی نے عمران خان نے عمر ایوب کی جگہ اب قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی جب کہ سینٹ میں شبلی فراز کی جگہ اعظم خان سواتی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا ہے۔

    سلمان اکرم راجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’عمران خان نے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی پر چھوڑ دیا ہے، سیاسی کمیٹی کا اجلاس بدھ کی شام کو ہوگا، جس میں کمیٹی کے ارکان فیصلہ کریں گے کہ آئندہ ملک بھر میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا جائے گا یا نہیں۔‘

    تاہم سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ ’بانی پی ٹی آئی نے عمران خان نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے لیے پانچ نام مانگے ہیں جن میں سے ایک کا انتخاب وہ خود کریں گے اور انھیں ہی اپوزیشن لیڈر نامزد کیا جائے گا۔‘

    یاد رہے کہ 5 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نو مئی کے کیسز میں انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں سے سزائیں پانے والے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے نو اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دیا تھا۔

    5 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز شبلی فراز اور عمر ایوب خان بھی نااہل قرار دیے گئے اراکین پارلیمان میں شامل تھے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل قرار دیے گئے ارکان میں ایک سینیٹر، 5 ارکان قومی اسمبلی اور 3 ارکان پنجاب اسمبلی شامل تھے۔

    الیکشن کمیشن نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرز شبلی فراز، عمر ایوب سمیت،حامد رضا، رائے حیدر، رائے حسن، رائے مرتضیٰ، زرتاج گل، انصر اقبال اور جنید افضل کو نااہل قرار دیا تھا۔

  6. خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈ سے 377 افراد ہلاک، 100 سے زائد تاحال لاپتہ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد 377 ہو گئی ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق مختلف علاقوں میں اب بھی لگ بھگ 100 افراد لاپتہ ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبہ میں ہونے والی بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 377 افراد ہلاک اور 182 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ادارے کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق، مرنے والوں میں 294 مرد، 50 خواتین اور 33 بچے شامل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث اب تک صوبے میں مجموعی طور پر 1377 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں سے 355 گھر مکمل منہدم ہوئے۔

    اعدادوشمار کے مطابق، خیبر پختونخوا میں سیلاب سے زیادہ ضلع بونیر متاثر ہوا ہے جہاں اب تک مجموعی طور پر 228 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    صوبے کے دیگر متاثرہ اضلاع میں سوات، باجوڑ، مانسہرہ، شانگلہ، دیر لوئر، بٹگرام اور صوابی شامل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ان کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے اور عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    صوابی میں کلاؤڈ برسٹ سے ہلاکتوں کی تعداد 33 ہو گئی

    خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات کے بارے میں فوکل پرسن امجد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صوابی میں کل رات اور آج صبح مزید لاشیں نکالی گئی ہیں جس کے بعد کلاؤڈ برسٹ سے ہلاکتوں کی تعداد 33 ہو گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بونیر، صوابی اور شانگلہ کے کچھ علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

    صوابی کی تحصیل ٹوپی میں دالوڑی میں مقامی لوگوں نے زرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ صبح کے وقت علاقے میں بادل آئے اور پھر اچانک ایسا پانی آیا کہ انھیں سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔

    خیال رہے کہ اس علاقے میں موبائل فون سروس کام نہیں کرتی اور گاؤں تک پہنچنے کے لیے پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔

    فوکل پرسن امجد خان کا کہنا تھا کے حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ کتنے لوگ لاپتہ ہیں تاہم ایک اندازے کے مطابق اب بھی 100 کے لگ بھگ افراد لاپتہ ہو سکتے ہیں۔

    بارشوں، کلاوڈ برسٹ اور سیلاب سے اب تک ضلع بونیر میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق، بونیر میں اب تک 228 ہلاک ہو چکے ہیں۔

    بونیر سے مقامی صحافی سلطان بونیری نے بتایا کہ سب سے زیادہ نقصان بشونئی میں ہوا ہے، اس کے علاوہ قدر نگر اور چغرزئی میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ گذشتہ روز چغرزئی اور قریبی دیہات کا راستہ بحال کر دیا گیا ہے جس کے بعد وہاں ریسکیو اور ریلیف کا کام جاری ہے۔

    دوسری جانب، بونیر کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری ایک نوٹیفیکیشن میں مقامی حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مقامی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کسی کو بھی بونیر میں امدادی سامان تقسیم کرنے یا بحالی کے کام میں حصہ لینے نہ دیا جائے۔

    مقامی طور پر بتایا گیا ہے کہ بحالی کام میں متحرک افراد کو مقامی انتظامیہ سے رابطہ کرنا ہوگا اور اجازت کے بعد ہی وہ بحالی کے کام میں شریک ہو سکتے ہیں۔

    نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد حقیقی متاثرہ افراد میں امدادی سامان کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔

  7. اسرائیل کی جانب سے تمام یرغمالیوں کی ایک ساتھ رہائی کے مطالبے کے بعد غزہ جنگ بندی معاہدہ خطرے میں پڑ گیا

    اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں قید تمام یرغمالیوں کی ایک ساتھ رہائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد غزہ میں 60 روز کے لیے جنگ بندی کا امکان کم ہو گیا ہے۔

    یاد رہے کہ سوموار کے روز حماس نے کہا تھا کہ مصر اور قطر کی جانب سے تجویز کردہ غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کا معاہدہ اسے قبول ہے۔

    مصر اور قطر کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ معاہدے کے تحت تقریباً نصف یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آنی تھی۔ قطر کا کہنا ہے کہ نیا جنگ بندی معاہدہ اس سے قبل امریکہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے معاہدے جیسا ہی ہے جس پر اسرائیل نے رضامندی ظاہر کی تھی۔

    اسرائیل نے قطر اور مصر کی جانب سے پیش کیے گئے معاہدے کو مسترد تو نہیں کیا ہے تاہم اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی حکومت کسی جزوی ڈیل میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

    مینسر کا کہنا ہے کہ ’اب چیزیں تبدیل ہو رہی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے غزہ کے مستقبل کے لیے ایک نیا منصوبہ ترتیب دیا ہے۔‘

    فلسطینی ذارئع کے مطابق، نئے معاہدے کے تحت 10 زندہ یرغمالیوں کے علاوہ 18 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کی جائیں گی۔ اس دوران دونوں فریق مزید یرغمالیوں کی رہائی اور مستقل جنگ بندی کے لیے بات چیت کو آگے بڑھائیں گے۔

    اسرائیل کا ماننا ہے کہ 22 ماہ سے جاری جنگ کے بعد اب 50 میں سے محض 20 یرغمالی زندہ ہیں۔

  8. ایران سے واپس آنے والے افغان پناہ گزینوں کی بس کو ہرات میں حادثہ، 79 افراد ہلاک

    افغانستان کے مغربی صوبے ہرات میں ہائی ٹریفک حادثے میں 79 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    مقامی حکام کے مطابق، یہ حادثہ ہرات اور کابل کو جوڑنے والی ہائی وے پر منگل کی سہ پہر کو پیش آیا۔

    وزارت داخلہ کے ترجمان مفتی عبدالمتین قانی نے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب 79 تک پہنچ گئی ہے جبکہ دو افراد زخمی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایک شخص میں ہے اور دوسرا شدید زخمی ہے۔‘

    صوبہ ہرات کے ترجمان محمد یوسف سعیدی نے اے ایف پی کو بتایا، ’حادثے کا شکار ہونے والی بس میں سوار تمام افراد پناہ گزین تھے جو اسلام قلعہ بندرگاہ سے روانہ ہوئے تھے۔‘

    ہرات پولیس کا کہنا ہے کہ حادثہ بس ڈرائیور کی تیز رفتاری اور لاپرواہی کے باعث پیش آیا۔

    اس سے قبل ہرات میں طالبان حکومت کے اطلاعات و ثقافت کے سربراہ احمد اللہ متقی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ایران سے واپس آنے والے پناہ گزینوں کو لانے والی ایک بس ایک موٹر سائیکل اور پھر ایندھن لے جانے والی ایک گاڑی سے ٹکرا گئی۔

    احمد اللہ متقی کا کہنا ہے کہ تصادم کے بعد گاڑیوں میں آگ لگ گئی جس سے بس میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ مرنے والوں میں 17 بچے بھی شامل ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ دوسری گاڑی میں سوار دو افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تصادم کے بعد مسافر بس میں آگ لگی ہوئی ہے اور سکیورٹی اہلکار =اس پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  9. کراچی میں بارش سے متعلقہ واقعات میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    کراچی میں منگل کے روز بارشوں سے متعلقہ واقعات میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق، بارش کے دوران مختلف حادثات اور واقعات میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ اموات دیوار گرنے، کرنٹ لگنے اور گٹر میں گرنے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب گذشتہ روز کی شدید بارش کے بعد آج صوبائی حکومت نے کراچی میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے آج دوسرے روز بھی بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں 165 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

    وزیر اعلی مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب گذشتہ رات شہر میں پانی کی نکاسی کے کام کی نگرانی کے لیے گشت کرتے رہے جس کے بعد شارع فیصل، ایم اے جناح روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ سے پانی کی نکاسی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

    ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، اس وقت طارق روڈ انڈر پاس، ڈرگ روڈ انڈر پاس، ناظم آباد نمبر 1، ناظم آباد نمبر 2 انڈر پاس، لیاقت آباد انڈر پاس، سہراب گوٹھ انڈر پاس زیر آب ہیں جہاں سے ٹریفک کو متبادل راستے پر موڑا جا رہا ہے۔

    بارش کے بعد ملیر ندی میں پانی کے بہاؤ میں تیزی کی وجہ سے کورنگی کاز وے کو بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے کورنگی جانے والی ٹریفک کی آمد رفت متاثر ہو رہی ہے۔

  10. امریکہ سے شمالی کوریا ہتھیار سمگل کرنے کے الزام میں چینی شہری کو آٹھ سال قید کی سزا

    امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ ایک چینی شہری کو آتشیں اسلحہ اور دیگر فوجی سازوسامان شمالی کوریا سمگل کرنے کے جرم میں آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    سوموار کے روز محکمے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، 42 سالہ شینگوا وین کو شمالی کوریا کے حکام کی جانب سے کیلیفورنیا سے یہ سازوسامن بھیجنے کے لیے تقریباً 20 لاکھ ڈالرز موصول ہوئے تھے۔

    امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اونٹاریو کے رہائشی وین کو دسمبر 2024 میں حراست میں لیا گیا تھا۔ انھوں نے جون میں بین الاقوامی ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کی خلاف ورزی کی سازش اور غیر ملکی حکومت کا غیر قانونی ایجنٹ ہونے کا اعتراف کیا تھا۔

    وین کا کیس ان مختلف طریقوں پر روشنی ڈالتا ہے جن کے ذریعے بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود شمالی کوریا ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

    امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ وین 2012 میں سٹوڈنٹ ویزا پر امریکہ میں داخل ہوئے اور دسمبر 2013 میں ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی وہ ملک میں ہی رہے۔

    ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ’امریکہ میں داخل ہونے سے پہلے، وین نے چین میں شمالی کوریا کے سفارت خانے میں شمالی کوریا کی حکومت کے عہدیداروں سے ملاقات کی تھی۔‘

    ’ان سرکاری اہلکاروں نے وین کو شمالی کوریا کی جانب سے سامان خریدنے کی ہدایت کی تھی۔‘

    محکمہ انصاف کے مطابق، 2022 میں شمالی کوریا کے دو اہلکاروں نے ایک آن لائن میسجنگ پلیٹ فارم کے ذریعے وین سے رابطہ کیا اور ان سے امریکہ سے شمالی کوریا آتشیں اسلحہ اور دیگر سامان سمگل کرنے کا کہا۔

    2023 میں وین نے پورٹ آف لانگ بیچ سے آتشیں اسلحے کے کم از کم تین کنٹینرز چین بھیجے، جن کی حتمی منزل شمالی کوریا تھی۔ انھوں نے کنٹینر کے مواد کے بارے میں غلط برآمدی معلومات درج کراوئی تھیں۔

    ایسا ہی ایک کنٹینر، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس میں ریفریجریٹر ہے، شمالی کوریا کے نامپو بھیجے جانے سے پہلے جنوری 2024 میں ہانگ کانگ پہنچا تھا۔

    اس کے علاوہ، وین پر الزام ہے کہ انھوں نے شمالی کوریا کے اپنے ایک کانٹیکٹ سے ملنے والی رقم سے ہیوسٹن میں آتشیں اسلحہ کا کاروبار بھی خریدا، اور ہتھیاروں کو ٹیکساس سے کیلیفورنیا لے کر گئے جہاں سے انھیں بھیجنے کا انتظام کیا گیا تھا۔

    گذشتہ برس ستمبر میں، وین نے نائن ایم ایم کے تقریباً 60,000 راؤنڈ خریدے جنھیں وہ شمالی کوریا بھیجنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

  11. خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 500 تک پہنچ سکتی ہے: وزیر اعلی علی امین گنڈاپور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ صوبے میں مون سون بارشوں اور سیلاب سے متعلقہ واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 500 تک پہنچ سکتی ہے۔

    منگل کے روز وزیرِ اعلی کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ اب تک بارشوں اور سیلاب سے متعلقہ واقعات میں ہونے والی اموات کی تعداد 340 سے زائد ہے جبکہ 127 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خدشہ ہے کہ صوبے میں اموات کی تعداد 500 تک جائے گی۔

    بیان کے مطابق، وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے سیلاب سے متاثرہ ضلع صوابی کے دورے کے دوران میڈیا کو بتایا صوابی میں کلاوڈ برسٹ سے 28 افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں سات افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ علی امین گنڈاپور نے بتیا کہ متاثرہ علاقے تک رابطے سڑکوں کو بحال کردیا گیا ہے جس کے بعد امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ خاندانوں کو تیار راشن کے بجائے نقد رقم دیں گے تاکہ وہ اسے اپنی ضروریات کے مطابق استعمال کر سکیں۔

    وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ان قدرتی آفات میں مرنے والوں کے اہل خانہ اور زخمیوں کو معاوضوں کی ادائیگی کا عمل جاری ہے جبکہ نجی املاک کے نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے سروے کیا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کے نقصانات سو فیصد پورے کیے جائیں گے۔

    وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت صوبے میں آبی گزرگاہ کی صفائی اور کشادگی کا ایک بڑا منصوبہ شروع کرنے جا رہی ہے۔

    علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا کہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے خطرات سے مستقل دوچار آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔

  12. سندھ اور بلوچستان میں مزید بارشوں کا امکان، کراچی میں عام تعطیل

    پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے شدید مون سون ہوائیں ملک کے بیشتر علاقوں خصوصا جنوبی حصوں میں مسلسل داخل ہو رہی ہیں جس کے زیر اثر اگلے دو روز کے دوران سندھ اور بلوچستان میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق، سندھ میں کراچی، حیدرآباد، مٹھی، تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد، ٹھٹھہ، بدین، سجاول، ٹنڈواللہ یار، ٹنڈو محمد خان، سانگھڑ، جامشورو میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے اکثر مقامات پر بارش اور کہیں کہیں موسلا دھار بارش کا امکان ہے جبکہ نشیبی علاقوں کے زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے۔

    اس عرصے کے دوران بلوچستان کے علاقوں بارکھان، موسیٰ خیل، لورالائی، سبی، ژوب، قلعہ سیف اللہ، خضدار، لسبیلہ، آواران، کیچ، گوادر اور پنجگور میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔

    کراچی میں 172 ملی میتر بارش ریکارڈ

    محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق، منگل کے روز کراچی کے مختلف علاقوں میں 172 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔

    سب سے زیادہ 172 ملی میٹر گلشنِ حدید میں ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ اولڈ ایئرپورٹ کے علاقے میں 158 ملی میٹر، جناح ٹرمینل پر 152.8 ملی میٹر، ناظم آباد میں 149.6 جبکہ سرجانی ٹاؤن میں 145.2 ملی ٘میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

    کراچی میں عام تعطیل، لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت

    منگل کے روز وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت کراچی کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بدھ کو کراچی میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور عوام کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’مزید بارشوں کا امکان ہے اس لیے عام تعطیل کی ہے تاکہ عوام کو تکلیف نہ ہو۔‘

  13. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • گذشتہ روز کی شدید بارشوں کے بعد کراچی میں نظامِ زندگی مفلوج، سندھ حکومت کا آج کراچی میں تعطیل کا اعلان
    • محمکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگلے دو روز کے دوران سندھ اور بلوچستان میں شدید بارشوں کا امکان ہے
    • امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یوکرین میں امریکی فوجی نہیں بھیجے جائیں گے۔
    • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 365 تک پہنچ گئی ہے اور 181 افراد زخمی ہوئے۔
  14. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔