فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں
پر سماعت کے دوران وزاتِ دفاع کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ کو بنیادی حقوق
کی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس
جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم
اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل سات رکنی آئینی بینچ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف اپیلوں کی سماعت کر رہا ہے۔
بدھ کے روز وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آرمی ایکٹ کے
تحت ملٹری ٹرائل کے طریقہ کار پر دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ ٹرائل سے پہلے جج ایڈووکیٹ
جنرل حلف اٹھاتا ہے کہ وہ غیر جانبداری کو برقرار رکھے گا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ خصوصی ٹرائل کرنے والا جج تو اتھارٹیز کے ماتحت ہوتا ہے۔
اس پر وزارتِ دفاع کے وکیل نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کوئی شواہد ہیں تو بات کریں، محض تاثر پر اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ انھیں کسی پر کوئی شک ہے نہ اعتراض ہے، سوال یہ ہے کہ خصوصی عدالتوں میں ٹرائل کرنے والے کون ہیں، اس لیے پوچھا۔
دورانِ سماعت انھوں نے سوال کیا کہ خصوصی
ٹرائل کی بنیاد پر چیلنج ہو سکتا ہے۔ جس پر خواجہ آحارث نے بتایا کہ اگر مجاز
عدالت نہ ہو، بدنیتی پر مشتمل کارروائی چلے یا اختیار سماعت سے تجاوز ہو تو ٹرائل
چیلنج ہو سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ کو بنیادی حقوق کی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
خواجہ حارث نے بتایا کہ اگر خصوصی ٹرائل کے دوران کوئی ملزم
اقبال جرم کرلے تو اسے اسلامی قوانین کے تحت رعایت ملتی ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ بظاہر نو مئی کے واقعات
میں سیکورٹی آف سٹیٹ کا معاملہ نہیں لگتا۔ ان کا کہنا تھا کہ نو مئی واقعات کے ملزمان کا خصوصی ٹرائل
بہت تفصیل سے چلایا گیا۔
انھوں نے سوال کیا کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ یہ تمام ریکارڈ پبلک
کر دیا جائے تاکہ عوام ان ملزمان کی مذمت کر سکے۔
خواجہ حارث نے جواب دیا کہ یہ اتھارٹیز نے طے کرنا ہے۔
وزارتِ دفاع کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین میں عدالتوں کے قیام
کا ذکر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بہت سارے ممالک میں خصوصی عدالتوں کے قیام کی
نظیر ملتی ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کی جانب سے سوال کیا گیا کہ عام طور
پر ملزم عدالت کا فیورٹ چائلڈ ہوتا ہے، کیا خصوصی عدالت میں بھی ایسا ہی ہے؟
وزارتِ دفاع کے وکیل نے بتایا کہ آرمی ایکٹ رولز کے تحت
ملزم کو مکمل تحفظ فراہم جاتا ہے۔
دورانِ سماعت جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ انھوں نے بطور
چیف جسٹس بلوچستان خصوصی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف اپیلیں سنی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے محض ایک سادے کاغذ
پر لکھ کر نہیں دیے جاتے کہ ملزم قصور وار ہے یا بے قصور۔
جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا کہ جب ہائی کورٹ میں اپیل
آتی ہے تو جی ایچ کیو کی جانب سے پورا ریکارڈ فراہم کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریکارڈ میں پوری عدالتی کارروائی ہوتی
ہے، جس میں شواہد سمیت پورا طریقہ کار درج ہوتا ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ اگر کسی عام شہری کا
خصوصی ٹرائل ہو تو کیا وہاں صحافیوں اور ملزم کے رشتے داروں کو رسائی دی جاتی ہے۔
اس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ قانون میں رشتہ داروں اور
صحافیوں کو رسائی کا ذکر تو ہے لیکن سکیورٹی وجوہات کے سبب انھیں رسائی نہیں دی
جاتی۔
عدالت نے مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔