آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

قومی اسمبلی کا اجلاس پیر تک ملتوی، آئینی ترمیم کا بل پیش نہ ہو سکا

قومی اسمبلی کا اجلاس اتوار کو بار بار موخر ہونے کے بعد رات قریب 11 بجے سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا۔ تاہم سپیکر نے اسے کچھ ہی منٹ بعد پیر کی صبح ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے آئینی ترمیم پیش کرنے میں تاخیر کی وجہ مشاورتی عمل کو قرار دیا ہے۔ ادھر مولانا فضل الرحمان کی جماعت جے یو آئی ف نے حکومت کو جلد بازی نہ کرنے کی تجویز دی ہے۔

خلاصہ

  • قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو ساڑھے 12 بجے تک ملتوی
  • جمیعت علمائے اسلام ف نے حکومت کو آئینی ترامیم سے متعلق اجلاس موخر کرنے کا مشورہ دیا تھا
  • اتوار کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی ترمیم پیش کیے جانے کا امکان تھا مگر مشاورتی عمل کے باعث اس میں تاخیر ہوئی
  • وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق یہ تاثر غلط ہے کہ کسی خاص شخصیت کے لیے آئینی ترمیم لائی جا رہی ہیں
  • بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے مجوزہ آئینی ترامیم کی مکمل حمایت کے لیے دو ہزار لاپتہ افراد کی بازیابی کی شرط پیش کی ہے
  • تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر علی خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت عدالتی اصلاحات کے ذریعے عدلیہ کے اختیارات کم کرنا چاہتی ہے

لائیو کوریج

  1. خیبر پختونخوا میں دہشتگردی: وفاقی حکومت جرگہ تشکیل دے کر افغانستان سے بات چیت کرے، علی امین گنڈاپور

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبے میں بڑھتی دہشتگردی کے تناظر میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت جرگہ تشکیل دے کر پڑوسی ملک افغانستان سے بات چیت کرے۔

    علی امین گنڈاپور نے یہ بات جمعرات کی رات پشاور میں تعینات افعان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکی سے ملاقات کے دوران کی۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے دونوں اطراف کے لوگ مشکلات سے دوچار ہوئے لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں ہونی چاہیے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ علاقائی امن پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں ہے اور ضرورت ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت اس سلسلے میں جرگہ تشکیل دے کر پڑوسی ملک کے ساتھ بات چیت کرے۔

    واضح رہے کہ اس سے دو روز قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے ایپکس کمیٹی میں بتایا کہ پولیس اور عوام کا اعتماد ختم ہو چکا لہذا افغانستان سے بات کرنے دی جائے لیکن کسی کو پرواہ ہی نہیں۔‘

    علی امین گنڈاپور نے کہا تھا کہ وہ افغانستان سے خود براہ راست بات کریں گے کیونکہ صوبے کے عوام کی زندگیاں بچانا وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

    افعان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکی نے بھی وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے دوران کہا کہ ترقی کے لیے امن و امان بنیادی ضرورت ہے۔

  2. وزیر اعظم کا وفاقی وزیر داخلہ، گورنر خیبرپختونخوا کے ساتھ مل کر صوبے کا امن و امان یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کا فیصلہ

    پاکستان کے وزیر اعظم نے وفاقی وزیر داخلہ اور گورنر خیبرپختونخوا کے ساتھ مل کر صوبے کا امن و امان یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے گورنر ہاؤس سے جمعرات کی رات جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

    گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبائی حکومت قیام امن اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔

    انھوں نے وزیراعظم کو یہ بھی بتایا کہ صوبے میں سرکاری ملازمین کے اغوا اور پولیس پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے لکی مروت، بنوں، ڈی آئی خان اور باجوڑ سمیت متعدد اضلاع میں پولیس اہلکار احتجاج کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت، بنوں اور باجوڑ میں بھی پولیس اہلکاروں کا اپنے ساتھیوں کی ٹارگٹ کلنگ اور مسلح افراد کے حملوں کے خلاف احتجاج کئی روز سے جاری ہے۔

    لکی مروت اور باجوڑ میں احتجاج کرنے والے پولیس اہلکاروں کا مطالبہ ہے کہ اُن کے اضلاع میں ’فوج کو محدود کیا جائے اور پولیس کے اختیارات واپس کیے جائیں‘ جبکہ بنوں میں احتجاج کرنے والے اہلکار تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    گورنر خیبرپختونخوا نے وزیراعظم کو مزید بتایا کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے والی پولیس خود عدم تحفظ کا شکار ہو چکی ہے اور امن و امان کی دن بدن بگڑتی صورتحال سے عوام بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

  3. آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 25 ستمبر کو شیڈول، پاکستان کے لیے قرض پروگرام منظوری کا جائزہ لیا جائے گا

    آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 25 ستمبر کو شیڈول کر دیا گیا ہے جس میں پاکستان کے لیے قرض پروگرام منظوری کا جائزہ لیا جائے گا۔

    آئی ایم ایف کی ترجمان جولی کوزیک کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جولائی 2024 میں 37 ماہ کا سٹاف سطح کا معاہدہ طے پایا تھا۔

    آئی ایم ایف کی ترجمان نے بریفنگ میں بتایا کہ آئی ایم ایف پاکستان نے ترقیاتی شراکت داروں سے درکار ضروری مالی یقین دہانیاں حاصل کرلی ہیں جو 2023 کے نو ماہ پر محیط سٹینڈ بائی معاہدے کے کامیاب نفاذ کے بعد بورڈ کی طرف سے منظوری کے تابع ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ ’تسلسل سے کی جانے والی پالیسی میکنگ کی وجہ سے پاکستانی معیشت میں استحکام آیا ہے اور خاص طور سے معاشی بڑھوتی کے اشارے دیکھ ے جا رہے ہیں۔‘

    یاد رہے اس بورڈ آئی ایم ایف آئی ایم ایف بورڈ اجلاس میں پاکستان کے لیے قرض پروگرام منظوری کا جائزہ لیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ جمعرات کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ’آئی ایم ایف سے بات چیت مثبت طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے۔‘

    ’امید کی جانی چاہیے کہ جب یہ پروگرام ختم ہو جائے تو شرح نمو کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔‘

    واضح رہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نےآج ہی شرح سود میں دو فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔ سٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق اس کمی کے بعد اب پالیسی ریٹ 19.5 سے کم ہو کر 17.5 پر پہنچ گیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے شرح سود میں دو فیصد کمی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پالیسی ریٹ میں کمی سے معیشت کو فائدہ ہو گا۔

  4. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے فوجی عدالت میں ممکنہ ٹرائل سے متعلق وفاقی حکومت سے 16 ستمبر تک جواب طلب کر لیا۔
    • اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے دس ارکان کے آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ آرڈر کو معطل کر دیا۔
    • اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں عمران خان کی درخواست بریت مسترد کر دی۔
    • سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں دو فیصد کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ سٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق اس کمی کے بعد اب پالیسی ریٹ 19.5 سے کم ہو کر 17.5 پر پہنچ گیا ہے۔