آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

احمد فرہاد گمشدگی کیس: ’عدالت کا یہ کہنا کہ فوج کے سینیئر افسران مطمئن نہ کر پائے تو وزیرِاعظم اور کابینہ کو عدالت میں بٹھایا جائے گا، یہ عدالتوں کا مینڈیٹ نہیں‘

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میڈیا میں احمد فرہاد کی مبینہ گمشدگی کیس سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جو ریمارکس رپورٹ ہوئے ہیں ان سے تکلیف ہوئی۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’جبری گمشدگیوں کے معاملے میں وزیر اعظم کو بھی طلب کیا گیا لیکن بظاہر اس سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔‘

خلاصہ

  • کرغزستان سے پروازوں کے ذریعے پاکستانی طلبہ کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ لاہور ایئر پورٹ پہنچنے والے طلبہ کو وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ریسیو کیا۔
  • وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو کرغزستان کے شہر بشکیک بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ’پاکستانی طلبہ کی وطن واپسی کے حوالے سے جائزہ لیا جائے۔‘

لائیو کوریج

  1. بجلی اور گیس کی ٹیرف ریشنلائزیشن کے لیے صنعتوں سے مشاورت کی جائے: وزیراعظم کی ہدایت

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت صنعتی شعبے کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

    اجلاس کو صنعتوں و گھریلو صارفین کو فراہم کی جانے والی بجلی و گیس کے نرخوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صنعتی ترقی اور برآمدات بڑھانے کے لیے صنعتوں کو کم لاگت پر بجلی و گیس کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ انھوں نے ہدایت کی کہ صنعتی شعبے کو درپیش مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر حل تلاش کیا جائے۔

    وزیراعظم نے برآمدی شعبے کی صنعتوں کے لیے ٹیرف ریشنالائیزیشن کے حوالے سے حکمت عملی فی الفور تیار کرنے کی ہدایت کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ برآمدی شعبے کی صنعتوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صنعتوں کے فروغ اور ملک میں موجود پیداواری استعداد کو برؤے کار لانے کے لیے ہر ممکنہ کوشش اور اقدام اٹھائے جائیں گے۔

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بجلی اور گیس کی ٹیرف ریشنلائشیشن کے لیے صنعتوں سے مشاورت کی جائے۔ اجلاس کو صنعتوں و گھریلو صارفین کو فراہم کی جانے والی بجلی کے نرخوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔اس اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب اور دیگر وزرا اور حکام نے شرکت کی۔

  2. قومی ہاکی ٹیم کی آرمی چیف سے ملاقات: ’آپ کی شاندار کارکردگی سے قوم کا سر فخر سے بلند ہوا، آپ سے تعاون جاری رکھیں گے‘

    پاکستان کی ہاکی ٹیم نے راولپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوارٹر، جی ایچ کیو، میں آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقات کی۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ آپ کی شاندار کارکردگی سے پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ قومی ہاکی ٹیم کی جامع حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں تا کہ مستقبل میں بھی قومی ہاکی ٹیم مزید کامیابیاں حاصل کرسکے۔

  3. تحریک انصاف کے بھی کچھ لوگوں کو بہت کھلی چُھوٹ حاصل ہے، میں ٹویٹ بھی کروں تو دو نئے مقدمات قائم ہو جاتے ہیں: فواد چوہدری

    سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اپنے خلاف قائم مقدمات میں مقامی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’تحریک انصاف کے بھی کچھ رہنماؤں کو بہت کھلی چُھوٹ حاصل ہے، میں ٹویٹ بھی کروں تو دو نئے مقدمات قائم ہو جاتے ہیں۔‘

    فواد چوہدری جو دو بار جیل میں رہنے کے بعد متعدد مقدمات میں ضمانت پر ہیں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کل 47 مقدمات قائم ہیں، جن میں سے آٹھ میں تفتیش مکمل ہو گئی ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’جب جواب سے پہلے ہی تفتیش بنا دی گئی ہو تو پھر کیسے جواب سے مطمن ہو سکتے ہیں۔‘

    پہلی بار رہائی ملنے کے بعد فواد چوہدری نے سیاست سے کچھ عرصے کے لیے وقفہ لینے کا اعلان کیا تھا مگر اس کے کچھ دنوں بعد ہی انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

  4. بجلی کا مسئلہ 15 دن میں حل نہ کیا تو بجلی کا بٹن میں آن آف کروں گا: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ بجلی کا مسئلہ 15 دن میں حل نہ کیا تو بجلی کا بٹن میں آن آف کروں گا۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’پی ٹی آئی حکومت 16 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت چھوڑ کر گئی تھی، میں اپنے عوام کے لیے چور کا لفظ برداشت نہیں کروں گا، چور کون ہے سب جانتے ہیں، بات نہ سنی گئی تو خیبرپختونخوا میں واپڈا دفاتر پر قبضہ کرکے دکھاؤں گا۔‘

    علی امین نے نگران دور کے تمام اقدامات کی تحقیقات کروانے کا اعلان بھی کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نگران دور میں انتظامی اور معاشی اقدامات کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نگران حکومت کا دورانیہ بڑھنے کی وجہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تھی، جو بھی پی ڈی ایم نے کیا وہ ان کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اپوزیشن کا نگران حکومت کے بجٹ کے خلاف بیان دینا خود پر تنقید کرنے کے برابر ہے۔

    ’مسئلے حل ن کیے تو غیرذمہ داری ایک چھوٹا لفظ بن جائے گا‘

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کا رویہ ناقابل برداشت ہے، ہمیں اس وقت کا جو 50 ارب روپے بقایا ہے وہ دو مہینے کے اندر چاہیے، آپ کہتے ہیں کہ میں غیر ذمہ دارانہ بیان دیتا ہوں تو اپنے لوگوں کی حق کی بات کرنا غیر ذمہ داری ہے تو میں ہوں غیر ذمہ دار، ہم چپ نہیں ہوں گے، ہم حق لینا جانتے ہیں، ہم نے حق لے کے دکھایا بھی ہے، ہماری تاریخ عیاں ہے، بار بار درخواست نہیں کی جاتی ہے، اس کی بھی حد ہوتی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کا پیسہ صوبے کو نہیں ملا، ہمیں ہمارا حق دیا جائے، مجبور نہ کیا جائے۔‘

    علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے سلوک پر سیاسی جماعتوں کوایک نہ ایک دن ندامت ہوگی۔

    وزیراعلیٰ نے سوال کیا کہ کشمیر میں ایک دن میں آپ کی ہوا نکل گئی، ہم آگئے تو تمھارا کیا ہوگا؟ ہمیں اس بات پر نہیں لائیں، بیٹھے اور مسئلے کا حل کریں، ورنہ غیر ذمہ داری ایک چھوٹا لفظ بن جائے گا، جب آپ کی برداشت ختم ہوجائے گی تو ہم کہیں گے کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے، فاٹا اور پاٹا میں مجھ سے بات کیے بغیر کسی کا باپ بھی ٹیکس نہیں لگا سکتا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں چھوٹ دیں، بجلی کی چوری کون کروارہا ہے؟ واپڈا کے بغیر کوئی بجلی چوری نہیں کرسکتا، چوری بھی خود کراؤ اور چور مجھے کہو اور کہا کہ یہ غیر ذمہ دار وزیر اعلیٰ ہے یہ چپ ہوجائے گا تو ان کو اندازہ نہیں کہ ان کا پنگا غلط شخص سے پڑ گیا ہے۔‘

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے کے معاملات صوبے کے ساتھ بیٹھ کے حل ہوں گے، جو بھی ہوگا اس میں ہماری رضامندی ہوگی، عوام میری طاقت ہے، وہ میری ٹیم ہے، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے کے کام کی دیکھ بھال کریں۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ آئین اور قانون کی بات کرتے ہیں تو ذمہ داریاں بھی پوری کریں، خیبر پختونخوا کو وفاق سے 300 ارب روپے کم ملے، میں ریکارڈ کے مطابق بات کر رہا ہوں، اس کے بعد آئی ایم ایف کے شرائط کے مطابق 96 ارب روپے ہمیں وفاق کو دینے ہیں تو ہمیں ہمارے ہی پیسے نہیں مل رہے، لیکن تب بھی میں اپنا فرض پورا کروں گا اور یہ پیسے دوں گا، پر کیا پنجاب اور سندھ اس فرض کو پورا کریں گے؟

    وزیراعلیٰ کہا کہ ’آئین بھی آپ توڑتے ہیں اور آئین کا لیکچر بھی آپ دیتے ہیں، غیر جمہوری ہو کر آپ جمہوریت کا لیکچر بھی دیتے ہیں۔‘

  5. فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو شوکاز نوٹسز جاری: ’بادی النظر میں توہین عدالت ہوئی ہے‘ سپریم کورٹ

    سینیٹر فیصل واوڈا کو توہین عدالت کے معاملے میں سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفی کمال کو شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے ان سے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے۔

    عدالت نے اپنے حکمنامے میں دونوں کو پانچ جون کو ذاتی حثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے پیمرا سے پریس کانفرنس کی ویڈیو ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5 جون تک ملتوی کر دی ہے۔

    آج سپریم کورٹ میں سینیٹر فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

    جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان بنچ میں شامل تھے۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پریس کانفرنس سنی ہے؟ کیا پریس کانفرنس توہین آمیز ہے؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جو کانفرنس انھوں نے سنی ہے اس میں الفاظ میوٹ تھے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میرے خلاف اس سے زیادہ گفتگو ہوئی ہے لیکن نظرانداز کیا۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ نظرانداز کرنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوچا کہ ہم بھی تقریر کر لیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ برا کیا ہے تو نام لے کر مجھے کہیں، ادارے کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ادارے عوام کے ہوتے ہیں اور اداروں کو بدنام کرنا ملک کی خدمت نہیں۔

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ مارشل لا کی توثیق کرنے والوں کا کبھی دفاع نہیں کروں گا، اگر میں نے کچھ غلط کیا ہے تو اس کی سزا دیگر ججز کو نہیں دی جا سکتی۔

    جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ بندوق اٹھانے والا سب سے کمزور ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا، ان کا کہنا تھا کہ دوسرے درجے کا کمزور گالی دینے والا ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک کمشنر نے مجھ پر الزام لگایا اور سارے میڈیا نے اسے چلا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہذب معاشروں میں کوئی ایسی بات نہیں کرتا اس لیے وہاں توہین عدالت کے نوٹس نہیں ہوتے۔

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ چیخ و پکار اور ڈرامے کرنے کی کیا ضرورت ہے، تعمیری تنقید ضرور کریں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فیصل واووڈا کے بعد مصطفی کمال بھی سامنے آ گئے۔ دونوں ہی افراد پارلیمنٹ کے ارکان ہیں، ایوان میں بولتے، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ایسی گفتگو کرنے کے لیے پریس کلب کا ہی انتخاب کیوں کیا؟

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں بھی ججز کے کنڈکٹ پر بات نہیں کی جا سکتی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اوپر تلے پریس کانفرنسز کی بھرمار ہو رہی ہے،کوئی درجن بھر لوگ پریس کانفرسز کر چُکے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ لوگوں کا ادارہ ہے آپ اس کا وقار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ اسی عدالت نے مارشلاوں کی بھی آئینی توثیق کی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ باپ کے گناہوں کا ذمہ دار بیٹا نہیں ہو سکتا، اگر ایک ایم این اے غلط ہے تو سارے پارلیمان کو غلط نہیں کہہ سکتے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میڈیا میں بھی اچھے اور برے صحافی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پتہ ہے ہماری عدلیہ کون سے نمبر پر ہے،گالیاں دینا مناسب نہیں، گالی گلوچ سب رپورٹ کرتے ہیں اچھی باتیں کوئی رپورٹ نہیں کرتا۔

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو ہم زندہ تو نہیں کر سکتے، لیکن غلطی تو مان لی۔ چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ اگر توہین عدالت کی کاروائی چلائی تو کیس میں استعاثہ کون ہو گا، ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ اٹارنی جنرل ہوں گے۔

    چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اب وزن اپ کے کندھوں پر ہے۔

    کیا شوز کاز نوٹس ہونا چاہیے یا صرف نوٹس ہونا چاہیے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک کا ہر شہری عدلیہ کا حصہ ہے، جرمنی میں ہٹلر گزرا ہے وہاں آج تک کوئی رو نہیں رہا۔ انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ غلطیاں ہوئیں انھیں تسلیم کر کہ آگے بڑھیں۔ سکول میں بچے غطی تسلیم کرے تو استاد کا رویہ بدل جاتا ہے۔

  6. نان فائلرز کی سمیں بلاک کرنے کا معاملہ: نجی کمپنیوں کے خلاف کارروائی سے روکنے کے حکم کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے نان فائلزرز کی سمیں بلاک کرنے سے متعلق نجی کمپنیوں کے خلاف کارروائی سے روکنے کے حکم کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹمیں موبائل سمیں بلاک کرنے سے روکنے کے کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران کیس میں دیے گئے حکم امتناع خارج کروانے کے لیے حکومتی متفرق درخواستیں پیش کی گئی۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔

    اس موقعے پر چیف جسٹس نے میڈیا سے کہا کہ ’پچھلی بار کا آرڈر جو رپورٹ ہوا تھا وہ ایسے نہیں تھا۔‘

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’سیکشن 144 مکمل جواب فراہم کرتا ہے جو ٹیکس سے متعلق ہے ، جس کی آمدنی کم ہوگی ظاہر ہے وہ اپلائی بھی نہیں کرے گا، این ٹی این نمبر سے متعلق بھی چیزیں واضح ہیں۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے کہا ’ٹیکس نیٹ سے متعلق جو عام مزدور ہیں جس کا کھوکھا ہے ظاہر ہے وہ تو اس میں شامل نہیں ہوں گے۔‘

    اٹارنی جنرل نے کہا ’جی بالکل ان کو تو نوٹس جائے گا ہی نہیں۔‘

    چیف جسٹس نے کہا ’اس میں ڈر یہ ہوتاہے کہ ایف بی آر والے ہر ایک کو اپنی لوپ میں لے لیتے ہیں، اب ہر بندہ جا جا کر بتاتا رہے کہ ایسے نہیں ہے۔ اب کون کون جائے گا ایف بی آر کے پاسکوئی رول ریگولیشن بھی تو دیں ناں‘۔

    ’اگر کوئی ٹیکس پیئر نہیں ہے اس کے نام پر سم اس کا بچہ یا بچی استعمال کر رہا ہے تو اس کا کیا کریں گے، مزدور غریب آدمی کیا کرے گا جس نے خود کو رجسٹرڈ ہی نہیں کروایا۔‘

    اٹارنی جنرل نے پھر یقین دہانی کروائی کہ ’نوٹس کسی غریب کو جائے گا ہی نہیں ، نان فائلز کو نومبر 2023 سے نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں ، اگر کوئی شخص نوٹس جاری ہونے کے بعد جواب جمع کروائے گا، یا ایف بی آر کو مطمئن کرے گا تو ری سٹور ہو جائے گا۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’سمیں بلاک کرنے سے نہیں روکا صرف نجی کمپنی کے خلاف کارروائی سے روکا تھا‘۔

    اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ عدالت نے جو حکم امتناعی جاری کیا اسے خارج کیا جائے ۔

    اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ پہلے نوٹس کر دیتے ہیں ویسے بھی مرکزی کیس 27 مئی کو مقرر ہے۔

    عدالت نے حکومت کی متفرق درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 مئی تک جواب طلب کرلیا۔

  7. شاعر فرہاد علی شاہ کی بازیابی کی درخواست پر سیکریٹری دفاع سے رپورٹ طلب, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے گھر کے باہر سے اغوا کیے گئے شاعر فرہاد علی شاہ کی بازیابی کی درخواست پر سیکریٹری دفاع سے رپورٹ طلب کی ہے۔

    تحریری حکمنامے کے مطابق عدالت نے کہا کہ ’سیکٹر کمانڈر سے معلومات لے کر رپورٹ دیں۔ ’وزارت دفاع کا افسر پیر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’نامعلوم افراد کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ 24 گھنٹے میں سبق یاد کرا کے بھجوا دیتے ہیں اور بندہ آ کر کہتا ہے کہ ناران کاغان گیا تھا۔ جبری گمشدگیوں پر سزائے موت ہونی چاہیے۔

    عدالت نے پولیس کو مغوی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ چیک کر کے بھی رائے قائم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے شاعر فرہاد علی شاہ کی بازیابی کے لیے ان کی اہلیہ سیدہ عروج زینب کی درخواست پر سماعت کی۔ ایس ایس پی آپریشنز نے تفتیش میں پیش رفت سے آگاہ کیا کہ سپیشل انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ ’جیو فینسنگ ہو گئی ہے، اس کی رپورٹ آنے میں کچھ ٹائم لگے گا۔ ملک بھر کے تمام آئی جیز کو اور تمام خفیہ اداروں کو بھی خطوط لکھے ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ ایک بڑی گاڑی جو پیچھے سے اوپن تھی اس میں گھر کے باہر سے بٹھا کر لے جایا گیا۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ’بات ڈالے والی ہی ہے۔ عدم بازیابی پر سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری دفاع ذمہ دار ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو وزیر اعظم کو بھی بلاؤں گا۔ اگر یہ اغوا کاروں کا تعین نہیں کریں گے تو گھر جائیں گے۔

    ’اگر بندہ بازیاب نہ ہوا تو سب کے خلاف کارروائی کے لیے لکھوں گا۔‘

    ایس ایس پی آپریشنز نے مزید بتایا کہ سیف سٹی کیمروں کی کوریج نہیں تھی۔ ’سی سی ٹی وی فوٹیج سےعلاقے میں ایسی گاڑیوں کی موومنٹ چیک کی۔ رات ہونےکی وجہ سے نمبر پلیٹ نہیں پڑھی جارہیں۔ نمبرٹریس کرنے کے لیے ابھی بھی کام جاری ہے۔ سی ڈی آر پر بھی کام ہو رہا ہے۔‘

    عدالت نے کہا ’جب آپ ان اداروں کو لکھتے ہیں تو کیا کوئی جواب آتا ہے؟ ہم نےکہا تھا کہ جہاں انوسٹیگیشن رُکے گی تو ہم سیکریٹری دفاع کو نوٹس کریں گے۔‘

    ایس ایس پی نے کہا ’کبھی مثبت جواب نہیں آیا لیکن ابھی انوسٹی گیشن چل رہی ہے۔ موقع سے فنگر پرنٹس بھی لیے گئے ہیں۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ’میں آپ کو ابھی بتا دوں کہ فنگر پرنٹس نادرا ریکارڈ میں کسی سے میچ ہی نہیں کریں گے۔ کیا باقی لا اینڈ انفورسمنٹ ایجنسیز کو خط لکھنے سے معاملہ حل ہو جائے گا؟‘

    ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے کہا ’خفیہ ادارے کے حوالے سے ہم نے اپنی پٹیشن میں لکھا ہے۔ وہ شاعر کس طرح کی شاعری کرتے تھے اور کریٹیکل تھے۔ پولیس کو اس اینگل سے بھی تفتیش کرنی چاہیے۔ وہ اٹھائے گئے لوگوں سے متعلق بات کرتے تھے۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’لاپتہ افراد پر بات کرنے کی وجہ سے وہ مسنگ ہیں۔ سارا دن ٹوئٹر، ٹک ٹاک پر لوگوں کی عزتیں اچھالی جا رہی ہیں۔ ایک آدمی کی وی لاگ پر باتیں بُری لگ جاتی ہیں تو اٹھا لیتے ہیں۔ اس سال اٹھائے گئے افراد کے حوالے سے جتنے بھی پرچے ہوئے ہیں کسی میں بھی ابھی تک تفتیش مکمل نہیں ہوئی۔ جتنے لوگ غائب ہوتے ہیں اس کا الزام ایک ہی ادارے پر کیوں جاتا ہے؟

    ’وقت آگیا ہے کہ سیکریٹری دفاع اور سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔ یا تو یہ کہیں کہ را کے ایجنٹ آئے تھے اور اٹھا کر لے گئے ہیں یا یہ بتائیں کہ کسی نے تاوان کے لیے اغوا کیا۔ پیسوں کی خاطر اغوا کرنے والوں کے لیے سزا موت ہے۔ جبری گمشدگیوں کے جرم پر بھی سزائے موت ہونی چاہیے۔ نامعلوم افراد کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ 24 گھنٹے میں سبق یاد کرا کے بھجوا دیتے ہیں۔

    ’بندہ واپس آ کر کہتا ہے کہ ناران کاغان گیا تھا اور سب اسے کہتے ہیں کہ اب مت بولنا۔ ہمارا سسٹم ایسا بنا ہوا ہے کہ سب اغواکاروں کو ہی پروٹیکٹ کرتے ہیں۔ آج وہی لوگ مسنگ ہیں جو بات کرتے ہیں۔ وہ صحافی یا پولیٹیکل ایکٹیویسٹ ہیں، ایک صحافی کو اٹھا کر لے گئے۔ منسٹری آف انفارمیشن کیوں خاموش ہے؟‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’میں سیکرٹری دفاع اور سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی کو بلا رہا ہوں۔ اس کے بعد وزیراعظم کو طلب کروں گا۔‘

    اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن نے کہا کہ ’ابھی پولیس انوسٹی گیشن چل رہی ہے۔‘ جبکہ ایس ایس پی آپریشن نے کہا کہ ’کوششیں جاری ہیں۔‘

    عدالت نے پولیس حکام کو مخاطب کر کے کہا ’آپ تو ابھی تک بالکل کلو لیس ہیں۔ یا تو آپ کہیں کہ کل بندہ بازیاب کرا لیں گے۔ آئی جی پولیس کو بھی بتایا تھا کہ اگر کوئی لاپتہ ہوگا تو ذمہ داری ان پر ہو گی۔

    ’ابھی آئی جی کو نہیں بلا رہا کیونکہ ابھی تک پولیس کی ناکامی نہیں ہے۔‘

    کیس کی مزید سماعت 20 مئی تک ملتوی کی گئی ہے۔

  8. ’مذاکرات شروع کرنے کی شرط حکومت کے استعفے ہیں تو انھوں نے مذاکرات کس سے کرنے ہیں؟‘

    وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں بشمول مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے مذاکرات کے لیے استعفے کی شرط رکھی ہے تاہم اگر استعفے دیے گئے تو حکومت ہی نہیں رہے گی۔

    جیو نیوز سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’اگر حکومت کا استعفیٰ مانگا گیا ہے اور یہ مذاکرات شروع کرنے کی شرط ہے تو انھوں نے مذاکرات کس سے کرنے ہیں؟ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے ہیں تو استعفے کے بعد حکومت ہو گی ہی نہیں۔‘

    ’مذاکرات جمہوریت کی بنیاد ہے۔۔۔ کوئی اس سے انکار کرتا ہے تو پارلیمانی جمہوریت سے انکار کرتا ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’اِن کی سڑکوں پر آنے کی اوقات نہیں ہے۔ اگر آپ پارلیمان میں آ گئے ہیں تو یہاں بیٹھ کر بات کریں۔‘

    سوشل میڈیا سے متعلق نئی اتھارٹی کے بارے میں رانا ثنا نے بتایا کہ سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے میڈیا کے خدشات ہیں کہ قانون غلط طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ ’سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے قوانین پوری پوری دنیا میں موجود ہیں۔ لوگوں کے خدشات بے بنیاد نہیں۔

    ’اس کمیٹی کا مقصد تحفظات دور کرنا ہے۔‘

  9. 21 مئی سے ملک بھر میں ہیٹ ویو کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات کے مطابق فضا میں ہائی پریشر کی موجودگی کی وجہ سے ملک کے بیشتر علاقوں بالخصوص پنجاب اور سندھ میں 21 مئی سے ہیٹ ویو کی پیشگوئی کی گئی ہے جو ہفتے کے آخر تک موجود رہے گی۔

    23 سے 27 مئی کے دوران پنجاب اور سندھ میں شدید گرمی کی لہر کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    سندھ اور پنجاب میں 21 سے 23 مئی کے دوران دن کا درجہ حرارت معمول سے 04 سے 06 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ اور 23 سے 27 مئی کے دوران 06 سے 08 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔

    اسلام آباد، خیبرپختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں 21 سے 27 مئی کے دوران دن کا درجہ حرارت معمول سے 04 سے 06 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔

  10. اگر کوئی جج مجھ پر الزام لگائے گا تو اسے ثابت کرنا پڑے گا: سینیٹر فیصل واوڈا

    سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ اگر کوئی جج مجھ پر الزام لگائے گا تو اسے ثابت کرنا پڑے گا کیونکہ میں اپنی خوداری، سالمیت و عزت پر گردن کٹوا دوں گا لیکن پیچھے نہیں ہٹوں گا۔

    گذشتہ رات نجی چینل جیو نیوز پر شاہزیب خانزادہ کے شو میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کوئی مجھے دکھائے کہ فیصل واوڈا کسی کی پراکسی ہے۔

    انھوں نے پی ٹی آئی رہنماؤں رؤف حسن اور دیگر پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور عامر فاروق کو القابات سے پکارتے رہتے ہیں اور اس پر کوئی سوموٹو نہیں ہوتا لیکن اگر فیصل واوڈا نے جسٹس بابر ستار کی تقرری پر سوال اٹھایا ہے (جس میں، میں نے ان کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا) تو اس پر سوموٹو لیا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں نے جو کچھ کہا میں اس پر قائم ہوں لیکن میں نے کسی جج کا نام لے کر کوئی بات نہیں کی۔

    فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اگر آپ سوال کرنے پر مجھے بھٹو صاحب کی طرح پھانسی دینا چاہتے ہیں تو میں حاضر ہوں۔

  11. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ!

    • سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصل واوڈا کی بدھ کے روز کی گئی پریس کانفرنس پر از خود نوٹس لے لیا ہے جس کی سماعت آج جمعہ کے روز ہو گی۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ میں جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس نعیم اختر شامل ہوں گے جو اس از خود نوٹس کی سماعت کریں گے۔
    • فیصل واوڈا نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’بار بار انٹیلی جنس اداروں کا نام لیا جارہا ہے، اب الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا، اب اگر کسی نے پگڑی اچھالی تو پگڑی کی فٹبال بنائیں گے اور ڈبل پگڑی اچھالیں گے۔‘
    • سپریم کورٹ نے نیب ترامیم سے متعلق انٹر کورٹ اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر پارلیمان مضبوط ہو تو اس طرح کے معاملات وہیں پر حل کیے جاسکتے ہیں لیکن سیاستدان ایسے معاملات کو عدالتوں میں لاکر خود پارلیمان کو کمزور کرنے کی کاوشوں میں حصہ ڈال رہے ہیں۔‘
    • جمعرات کو نیب ترامیم کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے۔
    • اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں جمعرات کے روز دو پریس کانفرنس ہوئیں جن میں سے ایک میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال اور دوسری میں استحکامِ پاکستان پارٹی کے رہنما عون چوہدری نے عدلیہ پر تنقید کی۔
    • پہلے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’اگر دہری شہریت پر کوئی شخص رکن قومی اسمبلی نہیں بن سکتا، تو کیا تمام اداروں میں دہری شہریت کے قوانین لاگو ہونے چاہئیں؟
    • اس کے بعد استحکامِ پاکستان پارٹی کے رہنما عون چوہدری نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں نیشنل پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دہری شہریت پر سیاستدانوں کو تو نکال باہر کیا جاتا ہے، ایک سیاسی جماعت کے رہنما کو تو گر بھیج دیا گیا، تو کیا یہ صرف سیاستدانوں کے لیے ہے؟ یہ تو سب کے لیے پھر ایک ہی قانون ہونا چاہیے۔‘
    • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی گئی ہے اور پیٹرول کی قیمت 15 روپے فی لیٹر کم ہونے کے بعد اب 273 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔