آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد قطری وزیراعظم کی نیویارک میں امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات

قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد قطر کے وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے نیویارک میں ملاقات کی ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے ’نیویارک ڈیکلیئریشن‘ کی منظوری دی ہے۔

خلاصہ

  • صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور انڈیا کے لیے نامزد امریکی سفیر سرجیو گور نے کہا ہے کہ انڈیا کو روس سے تیل خریدنے سے روکنا امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔
  • امریکہ کے قدامت پسند کارکن اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک بدھ کے روز یوٹاہ میں ایک تقریب کے دوران گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے
  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال کا سامنا ہے جبکہ حکام نے جلال پور پیروالا شہر کو سیلاب سے بچانے کے لیے ملتان، اوچ شریف روڈ پر واقع گیلانی بند میں شگاف ڈال دیا
  • قطری حکام کا کہنا ہے کہ وہ دوحہ میں اسرائیلی حملے کے بعد تاحال دو لاپتا افراد کی تلاش اور ہلاک ہونے والوں کی باقیات سے ان کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

لائیو کوریج

  1. ’یہ اتحادیوں کے درمیان ملاقات تھی لیکن یہ ایک مشکل ملاقات تھی‘: برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اسرائیلی صدر کا قطر پر حملوں کا دفاع

    اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے بدھ کو برطانیہ کے وزیراعظم کیر سٹارمر کے ساتھ ملاقات کے بعد کچھ باتیں شیئر کیں۔

    لندن میں قائم بین الاقوامی امور کے ایک تھنک ٹینک، چیتھم ہاؤس کے ایک ایونٹ میں بات کرتے ہوئے ہرزوگ نے اس ملاقات کو ’صاف گو‘ اور ’سخت‘ قرار دیا۔

    انھوں نے کہا ’یہ اتحادیوں کے درمیان ملاقات تھی لیکن یہ ایک مشکل ملاقات تھی۔‘

    منگل کو قطر پر اسرائیلی حملے میں حماس کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان کو نشانہ بنانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہرزوگ نے کہا کہ یہ حملے ضروری تھے تاکہ ’کچھ لوگوں کو ہٹایا جائے جو معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

    انھوں نے زور دیا کہ اسرائیل جنگ ختم کرنا چاہتا ہے، لیکن حماس کے فیصلے کے عمل میں سب کی رضامندی درکار ہوتی ہے اور اگر ایک شخص بھی انکار کر دے تو معاہدہ ممکن نہیں ہوتا۔

    انھوں نے کہا ’اگر آپ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، تو آپ کو ان لوگوں کو ہٹانا پڑتا ہے جو معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

  2. دوحہ حملے کا غزہ جنگ بندی مذاکرات پر اثر واضح نہیں: امریکی سفیر

    اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا ہے کہ ’ہمیں نہیں معلوم‘ کہ اسرائیل کے قطر میں حملوں کا غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات پر کیا اثر پڑے گا۔

    رؤئٹرز نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ہکابی نے کہا کہ حماس نے اب تک ہر ممکن معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔

    ہکابی نے ان ممالک پر بھی تنقید کی جنھوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ماہ اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے۔

    انھوں نے اس اقدام کو ’چھوٹا سا ڈراما‘ قرار دیا جس کے ’کچھ نقصان دہ اثرات‘ ہوئے، جیسے کہ حماس کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی کے مذاکرات ختم ہونا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے اسرائیل کے یہودیہ اور سامریہ کے کچھ حصوں پر خودمختاری کے دعووں کو تقویت ملی۔

    برطانیہ، فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا اور بیلجیم نے کہا ہے کہ وہ اس ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے۔

    اس سال کے شروع میں اس ارادے کا اعلان کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیراعظم کیر سٹارمر نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل کچھ شرائط پوری کرے، جیسے جنگ بندی پر اتفاق کرے، تو وہ اس فیصلے سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔

  3. اسرائیل یمن میں حوثیوں کو متعدد بار نشانہ بناتا رہا ہے

    یمن میں حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ملک کے دارالحکومت صنعا ور الجوف کے علاقوں میں اسرائیلی حملوں میں 35 افراد ہلاک اور 131 زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیل نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے حوثیوں کے ’پرو پیگنڈا ڈپارٹمنٹ، عسکری مقامات اور ایندھن کے ذخیرے‘ کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کو نشانہ بنایا ہو بلکہ رواں برس متعدد مرتبہ ایسے حملے تواتر سے دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔

    • مئی میں اسرائیل نے یمن کے دارالحکومت صنعا اور حدیدہ بندگارہ کے اطراف واقع متعدد مقامات کو اپنے حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔ یہ فضائی حملے میڈیا کی سُرخیوں میں بھی رہے تھے کیونکہ جس وقت صنعا میں ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا اس وقت عالمی ادارہ صحت کے سربراہ وہیں موجود تھے۔
    • جون اور جولائی میں اسرائیل نے ایک بار پھر حدیدہ میں متعدد فضائی حملے کیے اور کہا کہ یہ حملے حوثیوں کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے تھے۔
    • اگست میں اسرائیل نے یمن پر مزید حملے کیے اور ایسے ہی ایک حملے میں حوثیوں کے خود ساختہ وزیرِ اعظم احمد غالب ناصر الرھوی بھی ہلاک ہوئے تھے۔
    • گذشتہ ایک برس میں اسرائیل نے یمن کے علاوہ لبنان، شام اور ایران میں بھی اپنے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
  4. یمن پر اسرائیلی فضائی حملے: ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی، 131 زخمی

    یمن کے حوثی جنگجوؤں کے زیر اثر میڈیا نے بدھ کے روز رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر کم از کم چھ فضائی حملے کیے۔

    یمن کے حوثیوں کے زیرانتظام المسیرہ ٹی وی نے خبر دی کہ یمن کی مسلح افواج کا فضائی دفاع اس وقت دارالحکومت صنعا پر حملہ کرنے والے اسرائیلی طیاروں کا مقابلہ کر رہا ہے۔

    یمن پر اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی ہے جبکہ 131 زخمی ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے یمن پر حملے کی تصدیق کی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اسرائیلی ڈیفنس فورس کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا کہ ان کی فضائیہ نے یمن کے صنعا اور الجوف کے علاقوں میں ان ’فوجی کیمپوں‘ کو نشانہ بنایا جہاں حوثی باغیوں کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔

    آئی ڈی ایف نے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ’حوثی فوجی پروپیگنڈا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کوارٹر اور ایندھن ذخیرہ کرنے کے مقام کو بھی نشانہ بنایا۔‘

    یہ حملہ قطری دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد سے جاری علاقائی کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے۔

    یاد رہے کہ ایران کے حمایت یافتہ باغی گروپ نے 2014 سے یمن کے شمال مغربی حصے پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے۔

  5. گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر

    آج کے دن کے آغاز پر آگے بڑھنے سے قبل گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • قطر نے اقوام متحدہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں دوحہ پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی گئی ہے اور اسے تمام عالمی قوانین اور اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حملے کو زیر بحث لانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا آج ہنگامی اجلاس بھی ہو گا۔ قطر کی خبر رساں ادارے ’یو این اے کے مطابق یہ خط اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سنگجن کم کے نام بھیجا گیا ہے۔ سنگجن کم جنوبی کوریا کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ ستمبر میں سلامتی کونسل کے صدر بھی بنے ہیں۔ اس خط میں قطر نے اسرائیلی حملے کو قطری شہریوں اور یہاں رہنے والوں کے لیے ’سنگین خطرہ‘ قرار دیا ہے۔
    • قطر نے اسرائیلی حملے کو ریاستی دہشت گردی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ قطر جوابی کارروائی کا پورا حق رکھتا ہے۔ قطر کی جانب سے اپنی قانونی ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹہرائیں۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے منگل کی دوپہر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے سینیئر رہنماؤں پر حملہ کیا۔
    • اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دفاع کرتے ہوئے اسے ’درست‘ فیصلہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’ہم ہمیشہ امریکہ کے مفاد میں کام نہیں کرتے۔‘ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر نے یہ بات اسرائیلی ریڈیو سٹیشن سے بات چیت میں کہی ہے اور ساتھ ہی کہا کہ ’اس کے نتائج پر تبصرہ کرنا ابھی قبل از وقت ہے تاہم یہ درست فیصلہ ہے۔‘
    • اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنی طاقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر ہر جگہ اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائی کرے گا اور انھیں چھپنے کی کوئی جگہ اور کوئی موقع نہیں دے گا۔ اسرائیل پر حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کاٹز نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’اسرائیل کے خلاف دہشت گردی کرنے والے ہر شخص کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔‘
  6. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تازہ ترین معلومات اور تجزیوں کے لیے ہماری لائیو کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔