خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں آج امن معاہدے کا آخری دن ہے اور آج ہی بوشہرہ میں فائرنگ ہوئی ہے جس میں اسسٹنٹ کمشنر ریونیو سعید منان زخمی ہوئے ہیں جبکہ ادھر لوئر کرم میں بگن اور قریبی علاقوں کے متاثرین نے مندوری میں دھرنا دیا۔
جمعے کو کوہاٹ میں کمشنر آفس میں کرم کے حالات پر ایک گرینڈ جرگہ بھی منعقد ہوا، جس میں علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اقدامات کے لیے بات چیت ہوئی۔
اس جرگے میں صوبائی انتظامیہ، پولیس حکام اور علاقائی عمائدین شریک ہیں۔ اب تک اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں گئی۔
کوہاٹ کے مقامی صحافیوں نے جرگے کے لیے اجازت نہ دینے پر انتظامیہ کے بائکاٹ کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ مقامی صحافیوں کا نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
لوئر کرم کے علاقے بگن میں 22 نومبر کو حملے میں جہاں 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے وہاں بڑے پیمانے پر مکانوں، دکانوں اور مساجد کو نقصان ہوا تھا۔
90 فیصد علاقے کا سروے ہو گیا
خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کی طرف سے جاری اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ بگن، بادشاہ کوٹ، تلوکنج، نوے کلی، دراز رواز، ،تؤدہ چینہ اور بلیامین میں کوئی 700 کے لگ بھگ مکانات کو نقصان پہنچا ہے جن میں 666 مکمل تباہ ہیں اور 39 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
اسی طرح ان دیہات میں کل 455 دکانوں کو نقصان پہنچا، جن میں 243 مکمل تباہ اور 212 کو جزوی نقصان پہنچا ۔ ان واقعات میں 10 مساجد کو بھی نقصان پہنچا ۔
پی ٹی ایم اے کے مطابق یہ سروے اب تک 90 فیصد علاقے کا ہوا اور 10 فیصد کا ابھی باقی ہے۔
اس بارے میں کرم کے ایک انتظامی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس سروے کو دوبارہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس ساری صورتحال کو دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ بگن اور دیگر علاقوں میں جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کیا جائے گا۔
ادھر مندوری میں بگن اور قریبی علاقوں کے لوگوں کا دھرنا جاری ہے اور آج جمعے کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں مقامی لوگوں کو مدعوکیا گیا تھا۔
اس دھرنے میں مقررین نے کہا ہے کہ اپر کرم میں بوشہرہ میں امن قائم کیا جائے اور تمام لوگوں اور قبائل کو غیر مسلح کیا جائے۔
اس دھرنے میں کہا گیا کہ جب تک قبائل اور لوگوں سے اسلحہ نہیں لیا جاتا مکمل امن قائم ہونا مشکل ہے۔
مقررین نے کہا ہے کہ بگن اور قریبی علاقوں کا نقصان کہیں زیادہ ہوا ہے اور ان کے نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے۔
کوہاٹ میں 31 دمسبر 2024 کو کمشنر آفس میں گرینڈ جرگہ میں معاہدہ طے پا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ علاقے میں امن کے قیام کے لیے اقدامات پر عمل درآمد ضروری ہے۔
اس مجوزہ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ مری معاہدہ 2008 بشمول سابقہ تمام علاقائی و اجتماعی معاہدات، کاغذات مال، فیصلہ جات اور روایات اپنی جگہ برقرار و بحال رہیں گے جن پر ضلع کرم کے تمام مشران متفق ہیں۔
مجوزہ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ حکومت سرکاری سڑک پر ہر قسم کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف سخت ایکشن لے گی جبکہ ضلع کرم کے تمام بے دخل خاندانوں کو اپنے اپنے علاقوں میں آباد کیا جائے گا۔
’ان کی آبادکاری میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔‘
اس معاہدے میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ اسلحے کی 'آزادانہ نمائش و استعمال پر مکمل پابندی ہو گی اور اسلحہ خریدنے کے لیے چندہ جمع کرنے کی اجازت نہیں ہو گی' جبکہ فریقین تمام بھاری اسلحہ ایک مہینے کے اندر اندر ضلعی پولیس کے پاس جمع کروانے کے پابند ہوں گے۔
اس معاہدے کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ٹارگٹ آپریشن کیا اور لوئر کرم کے علاقوں میں لوگوں سے اسلحہ لیا گیا ہے۔
لوئر کرم کے مندوری میں بیٹھے مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اپر کرم میں دوسرے فریق سے بھی اسلحہ لیا جائے اور جب تک انھیں غیر مسلح نہیں کیا جاتا امن کا قیام مشکل ہے۔