آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’جنگ بندی برقرار ہے‘: صدر ٹرمپ کی امریکی بحری جہازوں پر حملے کی تصدیق، ایرانی کشتیوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے امریکی بحریہ کے تین جہازوں پر حملے کیے گئے تھے تاہم انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ پر ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جاسک کی بندگاہ کے قریب ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔

خلاصہ

  • ایران کی اعلیٰ فوجی کمان نے امریکہ پر ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کی جانب جانے والے ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
  • سینٹکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس کے بحری جنگی جہازوں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج عمان کی طرف بڑھ رہے تھے، تاہم اس کی فورسز نے ’بلا اشتعال ایرانی حملوں کو ناکام بنایا‘ اور اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔
  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔
  • ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ’جس طرح سعودی عرب کے لیے تھریٹ ہمارے لیے خطرہ ہے ایسے ہی سعودی عرب کو بھی پاکستان کی سلامتی عزیز ہے۔‘
  • پاکستانی فوج کے ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ 'معرکہ حق میں انڈیا کے چار رافیل طیاروں سمیت آٹھ طیارے مار گرائے۔‘
  • جوہری پروگرام پر مذاکرات نہیں کریں گے، آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہی رہنی چاہیے، رہبر اعلیٰ کے مشیر

لائیو کوریج

  1. ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی چین پہنچ گئے

    ایرانی خبر رساں اداروں تسنیم اور فارس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بدھ کی صبح ایک سفارتی وفد کے ہمراہ چین کے دار الحکومت بیجنگ پہنچے، جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی صورتحال میں ہونے والی پیش رفت پر بات چیت کرنا ہے۔

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا یہ چین کا پہلا دورہ ہے۔

    چین ایران کا سب سے نمایاں تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے، اور اس نے تہران پر عائد امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل کی خریداری جاری رکھی ہے۔

    عراقچی کا یہ دورہ ایسے اہم وقت میں ہو رہا ہے جب 14 اور 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ کا دورہ طے ہے۔

    اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ عراقچی پر دباؤ ڈالے تاکہ آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کا خاتمہ کیا جا سکے۔

    منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو میں مارکو روبیو نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ چینی عراقچی کو وہ بات کہیں گے جو کہنا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ آپ آبنائے (ہرمز) میں جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کو بین الاقوامی طور پر تنہا کر رہا ہے۔‘

  2. ایران سے معاہدے پر ’بڑی پیشرفت‘ کے بعد ’پراجیکٹ فریڈم‘ کچھ وقت کے لیے روکا جا رہا ہے: امریکی صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی رہنمائی کے لیے امریکی آپریشن کو ’کچھ وقت کے لیے‘ روکا جا رہا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ایک دن قبل شروع ہونے والا ’پراجیکٹ فریڈم‘ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی جانب ’بڑی پیش رفت‘ ہونے کے باعث ’باہمی اتفاق‘ سے روکا جا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ ’پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر‘ کیا ہے، جس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

    سماجی رابطے کے اپنے آن لائن پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر نے مزید لکھا کہ ایران کے خلاف مہم میں غیر معمولی عسکری کامیابی ملی۔ اور پراجیکٹ فریڈم قلیل مدت کے لیے معطل کیا جائے گا کہ دیکھا جا سکے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا نے اسے فتح قرار دیا اور کہا کہ یہ وقفہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سمندری تجارت کے لیے اہم آبی گزر گاہ کو دوبارہ کھولنے میں ’مسلسل ناکامیوں‘ کے بعد ٹرمپ ’پیچھے ہٹ گئے۔‘

    امریکی صدر کا یہ اعلان ایسے وقت آیا جب وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کا حملہ، آپریشن ایپک فیوری، اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد مکمل ہو چکا ہے۔

  3. ایرانی افواج نے متحدہ عرب امارات پر حملے نہیں کیے، کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا: پاسدارنِ انقلاب

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حالیہ حملوں میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    آئی آر آئی بی نے پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے گذشتہ چند دنوں کے دوران متحدہ عرب امارات کے خلاف کسی بھی نوعیت کے میزائل یا ڈرون حملے نہیں کیے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران اپنی کسی بھی کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتا ہے، اور یہ کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے کسی بھی جوابی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے منگل کے روز کہا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز بھی اس نے 15 ایرانی میزائل اور چار ڈرونز کو ناکارہ بنایا ہے۔

    بی بی سی ویریفائی نے سوموار کے روز ایک حملے کے بعد متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کی بندرگاہ پر لگنے والی آگ کی دو ویڈیوز کا جائزہ لیا ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے اس یا کسی دوسرے حملے کا وہ ذمہ دار نہیں ہے۔

  4. ایران کے خلاف جنگ کا جارحانہ مرحلہ مکمل ہو چکا، تہران کو مذاکرات کی میز پر لوٹنا چاہیے: مارکو روبیو

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا جارحانہ مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور انھوں نے تہران کو مذاکرات کی میز پر لوٹنے کا مشورہ دیا۔

    منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں بریفنگ دیتے ہوئے روبیو کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو ’مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ ایسے ممالک جو اس تنازع میں فریق نہیں وہ بھی خطرے کی زد میں ہیں۔ امریکی وزیر کے مطابق ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی کے باعث نہ صرف ان ممالک کا سامان بلکہ ان کے شہریوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

    آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں پر خوراک اور پانی کی کمی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان حالات کے باعث ’کم از کم دس ملاح پہلے ہی ہلاک ہو چکے ہیں۔‘

    روبیو نے دعویٰ کیا کہ مختلف ممالک نے امریکہ سے اپنے پرچم بردار کمرشل جہازوں کو بحفاظت وہاں سے نکالنے میں مدد کی درخواست کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیاں مکمل طور پر ’دفاعی‘ نوعیت کی ہیں۔

    انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم تب تک فائر نہیں کرتے جب تک ہم پر پہلے فائر نہ کیا جائے۔‘

    مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں پر حملہ کیا تو امریکہ جواب دینے میں نہیں ہچکچائے گا۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ ’آپریشن ایپک فیوری — جو ایران کے خلاف ابتدائی امریکی۔اسرائیلی حملے کا نام تھا — مکمل ہو چکا ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ہم نے آپریشن ایپک فیوری آپریشن کے اہداف حاصل کر لیے ہیں اور کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کا جارحانہ مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ سمجھداری کا مظاہرہ کرے اور ایسا سفارتی راستہ اختیار کرے جو ’تعمیرِ نو، خوش حالی اور استحکام‘ کی طرف لے جاتا ہو۔

    ’ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے اور شرائط قبول کرنی چاہییں۔‘

  5. امریکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت کو یقینی بنا کر ’دنیا پر احسان‘ کر رہا ہے: مارکو روبیو

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بین الاقوامی قانون ’بالکل واضح‘ ہے کہ ’کوئی بھی ملک ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایران کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ یہ طے کرے کہ کون اس آبی راستے کو استعمال کرے گا اور کون نہیں۔

    روبیو نے ایرانی اقدامات کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔‘

    امریکی وزیرِ خارجہ نے کی کہ یہی وجہ ہے کہ امریکی فوج اس دفاعی آپریشن، جسے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا گیا ہے، کو وسعت دے رہی ہے تاکہ کمرشل جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزارا جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت کو یقینی بنانے کر ’دنیا پر احسان‘ کر رہا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز میں جو جہاز پھنسے ہوئے ہیں، ان پر دیگر ممالک کے عوام کے لیے ضروری سامان موجود ہے، جن میں ایندھن، کھاد اور انسانی امداد شامل ہے۔

    ’یہ ان کے جہاز ہیں جو پھنسے ہوئے ہیں، ہمارے نہیں۔‘

    ایرانی جوہری پروگرام کے متعلق سوال

    وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ایران کے جوہری پروگرام کے متعلق سوال کیا گیا کہ آیا اس حوالے سے کوئی اشارے ملتے ہیں کہ تہران اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے گا۔

    مارکو روبیو نے جواب دیا کہ ایران ’ہمیشہ‘ سے کہتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا لیکن وہ اس بارے میں سچ نہیں بول رہے۔

  6. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا جارحانہ مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور انھوں نے تہران کو مذاکرات کی میز پر لوٹنے کا مشورہ دیا۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے حوالے سے امریکہ جنوبی کوریا اور جاپان سے ’زبردست معاہدے‘ کر رہا ہے۔ جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ ایران کی جانب سے ایسے کیا اقدامات ہیں جو سیز فائر کی خلاف ورزی تصور کیے جا سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایران جانتا ہے کہ انھیں کیا کرنا چاہیے بلکہ زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ جانتے کہ کیا نہیں کرنا چا ہیے۔‘
    • امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے ذریعے اب تک 51 بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کرایا جا چکا ہے۔
    • ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حالیہ حملوں میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
    • متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس پر ایران کی طرف سے حملہ کیا گیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو ناکام بنا رہا ہے۔
  7. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔