آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’انار، ٹماٹر خراب ہو گئے‘: پاکستانی سرحد کی بندش سے افغانستان میں تاجروں کو بھاری نقصان

افغانستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی راستے تقریباً ڈھائی ماہ تک بند رہنے کے بعد ملک کے پھل و سبزیوں کے شعبے کو براہِ راست اور بالواسطہ طور پر قریب پانچ کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

خلاصہ

  • سابق افغان حکومت کے دور میں صوبہ بغلان اور تخار میں پولیس کمانڈر اکرام الدین سری تہران میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہو گئے
  • بشریٰ بی بی کو جن حالات میں جیل میں رکھا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں، اقوامِ متحدہ کی عہدیدار کا بیان
  • 26 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں: دفترِ خارجہ
  • امریکہ کی ایران کو 'زیرو انرچمنٹ' کے بدلے مذاکرات کی پیشکش، تہران کا یورپ اور امریکہ سے اپنے رویے میں تبدیلی لانے کا مطالبہ
  • انڈیا کا 'بلو برڈ بلاک-2 سیٹلائٹ خلا میں چھوڑنے کا مشن مکمل، انڈیا خلائی دنیا کی بلندیاں مسلسل چھو رہا ہے: نریندر مودی

لائیو کوریج

  1. کراچی: رینجرز کا بھتہ خوری میں ملوث دو افراد کی گرفتاری کا دعویٰ

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سندھ پولیس اور رینجرز نے ایک مشترکہ کارروائی میں بھتہ خوری ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    سندھ رینجرز کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کراچی کے علاقے گارڈن میں رینجرز اور سندھ پولیس کے خصوصی یونٹ نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر مشترکہ آپریشن کیا اور بھتہ خور گینگ سے وابستہ دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے بھتے کی پرچیاں، موبائل فون اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران ملزمان نے بتایا کہ وہ مختلف کاروباری حضرات کو بھتے کی پرچیاں دیتے اور فائرنگ کر کے انھیں ڈراتے دھمکاتے۔

    کراچی میں ان دونوں بھتہ خوری کے واقعات میں آضافہ ہوا ہے اور شہر کے کاروباری افراد نے حکومت کو اس بارے میں اپنی شکایت سے آگاہ کیا جس کے بعد حکومتی سطح پر بھتے خوری میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

  2. لیبیا کے آرمی چیف کی ہلاکت کی خبر میں پاکستانی صارفین کیوں دلچسپی لے رہے ہیں؟, سارہ حسن، صحافی

    ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے قریب پیش آئے ایک فضائی حادثے میں لیبیا کی فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد کی ہلاکت کی خبر اس وقت پاکستانی صارفین کی توجہ کا مرکز ہے۔

    سوشل میڈیا سائٹ ’ایکس‘ پر متعدد پاکستانی صارفین ناصرف اس پر بات کر رہے ہیں بلکہ یہ معاملہ ٹرینڈز میں بھی نظر آ رہا ہے۔

    بظاہر لیبیا سے متعلق اس خبر میں پاکستانی صارفین کی دلچسپی کی ممکنہ وجہ حال ہی میں پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا لبیبا کا دورہ ہے۔ جہاں انھوں نے بن غازی میں موجود لیبیا نیشنل آرمی کے نائب سربراہ صدام خلیفہ حفتر سے ملاقات کی تھی۔

    حال ہی میں خبر رساں ادارے روئٹرز نے دعویٰ کیا کہ اس ملاقات میں پاکستان اور لیبیا میں دفاعی سازوسامان کی فروخت کا معاہدہ ہوا تھا لیکن سرکاری یا آزاد ذرائع سے اس معاہدے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    گذشتہ شب انقرہ کے قریب فضائی حادثے میں لیبیا کی فوج کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد ایکس پر کئی صارفین سوال کر رہے ہیں کہ کیا فضائی حادثے میں ہلاک ہونے والے وہی آرمی چیف ہیں جن سے چند روز قبل پاکستان کے آرمی چیف نے ملاقات کی تھی، جس پر کئی صارفین وضاحتیں دیتے اور لیبیا میں طرز حکومت پر بات کرتے نظر آئے۔

    سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین کے سوالات اور تذبذب کی وجہ لیبیا میں کئی سال تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد ملک میں تشکیل پانے والا گھمبیر نظامِ حکومت ہے۔

    پہلے یہ جانتے ہیں لیبیا میں کس طرح کی حکومت ہے۔

    تیل سے مالا مال لیکن خانہ جنگی کے شکار ملک میں کس کی حکومت ہے؟

    تیل کی دولتِ سے مالا مال لیبیا میں جاری خانہ جنگی کے بعد ملک کی مشرق اور مغربی علاقوں میں دو حریف متوازی حکومتیں قائم ہیں جن کے پاس لیبیا کا کنٹرول ہے۔

    دونوں حکومتوں کے دارالحکومت بھی الگ الگ ہیں یعنی ایک حکومت بن غازی سے چل رہی اور دوسری حکومب کا نظام طرابلس سے چلایا جا رہا ہے۔

    سنہ2021 میں لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں حکومت برائے قومی اتحاد یا گورنمنٹ آف نینشل یونیٹی قائم کی گئی۔ اس حکومت کے وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ ہیں اور ان کی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت قرار دیا گیا ہے۔

    لیکن اگلے ہی سال لیبیا کے مشرقی علاقے کے اراکینِ پارلیمان نے حکومت برائے قومی استحکام کے نام سے حریف حکومت قائم کی۔ انھوں نے بن غازی کو اپنا صدر مقام قرار دیا۔ لیبیا کے مشرقی علاقوں میں قائم حکومت برائے قومی استحکام یا گورنمنٹ آف نیشنل سٹیبلٹی کے اِس وقت وزیراعظم اسامہ حماد ہیں۔

    لیبیا کے مشرقی علاقوں میں لیبیا نیشنل آرمی بھی سرگرم ہے جس کے کمانڈر جنرل خلیفہ حفتر ہیں۔ جنرل خلیفہ حفتر کی سربراہی میں لیبیا نینشل آرمی کسی حد تک بن غازی کی حکمران جماعت کے قومی استحکام کی مدد کرتی ہے کیونکہ یہ دونوں گروہ، طرابلس میں قائم وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ کی حکومت کے خلاف ہیں۔

    پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے لیبیا نیشنل آرمی کے نائب سربراہ صدام خلیفہ حفتر سے بن غازی میں ملاقات کی تھی جبکہ ترکی میں ہونے والے فضائی حادثے میں طرابلس میں قائم حکومت برائے قومی اتحاد کی فوج کے سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد ہلاک ہوئے ہیں۔

  3. چین کی دوستی نے ملک میں انفرسٹرکچر، صنعت اور ثقافتی ترقی کی بنیاد رکھی: عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہر سطح پر مضبوط تعلقات قائم ہیں۔ اس لازوال اور آزمودہ ہ دوستی کے باعث دونوں سفارتی تعقات مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جا رہے ہیں۔

    اسلام آباد میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی نے ملک میں انفرسٹرکچر، صنعت اور ثقافتی ترقی کے نئے دور کی بنیاد رکھی ہے۔

    ان کے مطابق پاکستان کو چین کے ساتھ خصوصی اور سٹریٹجک تعلقات کا اعزاز حاصل رہا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔

    انھوں نے بتایا کہ چین کے ساتھ تعاون نے نہ صرف انفرسٹرکچر اور صنعتی ترقی میں مدد دی بلکہ ہوائی اڈے، بندرگاہیں، سڑکیں اور پل بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔

    وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ پاک چین تعلقات نے ثقافتی سطح پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔

    انھوں نے اس کی مثال میں کہا کہ چینی شہری اب بہترین اردو بول سکتے ہیں اور پاکستانی شہری چینی زبان میں روانی سے بات کر سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ تعلقات ملک کی معیشت کی بحالی اور ترقی کی سب سے بڑے پہلوؤں میں سے ایک ہیں، جس کے فوائد آج ہمیں محسوس ہو رہے ہیں۔

  4. ’بنگلہ دیش پاکستان کے راستے پر چل پڑا ہے: انڈین وزیر گریراج سنگھ

    انڈیا کے وزیر گریراج سنگھ نے بنگلہ دیش کے حالیہ پرتشدد واقعات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہونے والے تشدد پرمبنی واقعات افسوسناک ہیں تاہم بنگلہ دیش پاکستان کے راستے پر چل پڑا ہے۔‘

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر موجود ایک ویڈیو میں صحافیوں کے سوال کے جواب کے دوران انڈین وزیر گریراج سنگھ نے کہا کہ پوری دنیا ان واقعات پر حیران ہے۔

    ان کے مطابق ’میرا خیال ہے کہ کچھ لوگ بنگال میں بھی بنگلہ دیش کا تصور کر رہے ہیں اور ممتا بنرجی بھی شاید یہی سوچ رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت گرانے میں اہم کردار ادا کرنے والی سیاسی تنظیم کے نوجوان رہنما کی ہلاکت کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں جن کے دوران پرتشدد مناظر بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔

    دوسری جانب بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کے خلاف نئی دہلی میں بگلا دیش کے ہائی کمیشن کے باہر احتجاج ہوئے ہیں۔ یہ احتجاج ڈھاکہ میں ایک ہندو شخص کے ہجوم کے ہاتھوں قتل کے بعد سامنے آئے۔

    اس سے قبل انڈیا میں متعدد تنظیموں کے کارکنان نے منگل کے روز کولکتہ میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا۔ یہ احتجاج میانمن سنگھ، بنگلہ دیش میں ایک نوجوان دیپو چندر داس کی ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف تھا۔

    اس مظاہرے کے دوران مظاہرین کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور ہجوم کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا تھا۔

  5. انڈیا کا ’بلو برڈ بلاک-2 سیٹلائٹ خلا میں چھوڑنے کا مشن مکمل،انڈیا خلائی دنیا کی بلندیاں مسلسل چھو رہا ہے: نریندر مودی

    انڈیا خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق ’بلو برڈ بلاک-2 سیٹلائٹ‘ کو کامیابی کے ساتھ مدار میں چھوڑنے کا مشن بخوبی مکمل ہو گیا ہے۔

    یاد رہے کہ بلو برڈ بلاک ٹو خصوصی کمرشل مشن ہے جسے لانچ وہیکل مارک تھری ایم سکتھ ( ایل وی ایم تھری) کے ذریعے انجام دیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے این آئی نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی ایکس پر کی گئی پوسٹ کو شیئر کیا ہے جس میں نریندر مودی نے اس تجربے کو خلائی شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایل وی ایم تھری لانچ نے امریکی خلائی جہاز بلو برڈ بلاک-2 کو اس کے مقررہ مدار میں پہنچایا، یہ انڈیا کی سرزمین سے اب تک چھوڑا گیا سب سے بھاری سیٹلائٹ ہے جو ہمارے خلائی سفر میں ایک فخر کا سنگِ میل ہے۔‘

    نریندر مودی کے مطابق ’ یہ تجربہ انڈیا کی ہیوی لفٹ لانچ صلاحیت کو مزید مضبوط کرتا ہے اور عالمی کمرشل لانچ مارکیٹ میں ہمارے بڑھتے ہوئے کردار کو تقویت دیتا ہے۔ ہمارے محنتی خلائی سائنسدانوں اور انجینئروں کے باعث انڈیا خلائی دنیا کی مسلسل بلندیاں چھو رہا ہے۔‘

    وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پراپنی ایک اور پوسٹ میں ملک کے خلائی پروگرام کی استعداد سے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا کے نوجوانوں کی طاقت سے تقویت پانے والا خلائی پروگرام (اسرو) انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ جدید اور مؤثر ہوتا جا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں نریندر مودی نے لکھا کہ لاؤنچ وہیکل مارک تھری کی جانب سے بھاری وزن اٹھانے کی قابلِ اعتماد صلاحیت کے مظاہرے مستقبل کے مشنز کے لیے مضبوط بنیادیں استوار کر رہے ہیں۔

    نریندر مودی کے مطابق ’صلاحیت میں یہ اضافہ اور خود انحصاری کو ملنے والا یہ فروغ آنے والی نسلوں کے لیے نہایت خوش آئند ہے۔‘

    انڈیا کے خلائی ادارے اسرو کے مطابق یہ مشن ایل وی ایم تھری کی چھٹی آپریشنل فلائٹ ہے۔ ایل وی ایم تھری جسے گگن یان کے لیے مخصوص لانچ وہیکل بھی کہا جاتا ہے، اسرو کا سب سے طاقتور راکٹ ہے اور وہ ان مشنز میں اہم کردار ادا کرتا ہے جنھیں زیادہ پے لوڈ صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

  6. لیبیا کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل الحداد کے ہمراہ حادثے کا شکار ہونے والے دیگر افراد کون تھے

    لیبیا کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل محمد علی احمد الحداد اپنے وفد کے چار ارکان اور عملے کے تین ارکان کے ساتھ اس حادثے کے وقت جہاز میں سوار تھے۔

    لیبیا کے چیف آف سٹاف محمد علی احمد الحداد کے ہمراہ لیبیا کی لینڈ فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فوتوری گریبل، ملٹری مینوفیکچرنگ کارپوریشن کے کمانڈربریگیڈیئر جنرل محمود الکتاوی، لیبیا کے چیف آف جنرل سٹاف کے مشیر محمد العسوی دیاب اور جنرل سٹاف کے فوٹوگرافر محمد عمر احمد محکب جہاز میں موجود تھے۔

    امریکی ٹیلیویژن نیٹ ورک این بی سی نیوز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی کے مطابق حادثے میں ہلاک ہونے والے عملے کے ارکان لیبیا کے نہیں تھے۔ تاہم ان تینوں افراد کی شناخت اور قومیت سے متعلق تاحال تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

    یاد رہے کہ لیبیا میں 24 اور 25 دسمبر کو یوم آزادی کی تقریبات کا انعقاد ہونا تھا۔ تاہم اس حادثے کے بعد وزیر اعظم دیبے نے سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین دن تک تمام ریاستی اداروں پر پرچم سرنگوں رہیں گے جبکہ تمام سرکاری اور جشن کی تقریبات معطل کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

  7. طرابلس میں مزاحمت کرنے والے صفِ اول کے کمانڈر محمد علی احمد الحداد کن اہم عہدوں پر فائز رہے؟

    جنرل محمد علی احمد الحداد لیبیا کے چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر پانچ سال سے زائد عرصے تک فائز رہے اور انھوں نے ترکی کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

    محمد علی احمد الحداد کی ابتدائی زندگی اور فوجی کیریئر کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ وہ 2011 میں بغاوت شروع ہونے سے قبل لیبیا کی فوج میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔

    علی احمد الحداد کو ایک نظم و ضبط رکھنے والی شخصیت کہا جاتا تھا جو فوجی اداروں کی قدر کیا کرتے تھے۔

    1969 کے بعد لیبیا پر حکومت کرنے والے معمر قذافی کو 2011 میں عرب بہار کی بغاوتوں کے دوران معزول کیا گیا۔ اس وقت نیٹو کی حمایت یافتہ مداخلتوں کے نتیجے میں باغی افواج نے دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کر لیا تھا۔

    معمر قذافی کو 20 اکتوبر 2011 کو ان کے آبائی شہر سرت میں گرفتار کر کے قتل کر دیا گیا۔ قذافی کی ہلاکت نے لیبیا میں طویل سیاسی عدم استحکام کو جنم دیا اور خانہ جنگی کو ہوا دی۔ محمد علی احمد الحداد نے طرابلس میں مقیم فورسز کے ساتھ تعاون کیا۔

    وہ 2015 میں طرابلس کے فوجی ضلع میں ایک سینیئر کمانڈر بنے۔ ان کی پوسٹنگ مغربی لیبیا کے انتہائی نازک فوجی علاقوں میں تھی۔

    محمد علی احمد الحداد طرابلس میں مزاحمت کرنے والے صفِ اول کے کمانڈروں میں سے ایک تھے۔ علی احمد الحداد نے ملک کے مشرق میں جنرل خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیا کی قومی فوج کے خلاف مزاحمت کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    لیبیا کی قومی فوج نے اپریل 2019 میں دارالحکومت طرابلس پر ایک بڑا حملہ شروع کیا تاکہ شہر کا کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔ یہ تنازعات جون 2020 تک جاری رہے۔

    الحداد طرابلس کا دفاع کرنے والے اہم کمانڈروں میں سے ایک تھے۔ ترکی نے بھی اس عمل کے دوران قومی اتحاد کی حکومت کی حمایت کی۔

    علی احمد الحداد کو ستمبر 2020 میں لیبیا کی حکومتِ قومی معاہدے کے ذریعے لیبیا کی مسلح افواج کا چیف آف سٹاف مقرر کیا گیا۔ ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ترکی کے ساتھ لیبیا کے گہرے فوجی روابط قائم رہے اور اس دوران انھوں نے کئی بار انقرہ کا دورہ کیا۔

    علی احمد الحدادتین سال سے دفاعی شعبے میں ترکی کے ساتھ لیبیا کے تعاون کو آسان بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے سرگرم تھے۔

  8. ’ہنگامی لینڈنگ کی تیاری کے دوران جہاز تیزی سے نیچے آنے لگا اور رابطہ منقطع ہو گیا‘

    لیبیا کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت نے فضائی حادثے میں فوج کے سربراہ سمیت تمام افراد ہلاکت پر ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

    حادثے کا شکار ہونے والا جہاز ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے لیبیا کے درالحکومت طرابلس جا رہا تھا کہ پرواز کے 19 منٹ بعد جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

    جہاز میں فوج کے سربراہ کے علاوہ فوج کے دیگر آٹھ سینیئر حکام موجود تھے۔

    لیبیا کی فوج کے سربراہ فالکن 50 نامی جٹ طیارے میں سوار تھے۔ یہ جہاز 1988 کا بنا ہوا ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کا ملبہ ایئر پورٹ سے 105 کلو میٹر دور کے ایک دیہات سے ملا ہے۔

    ’جہاز کا ملبہ دو کلو میٹر کے رقبے پر پھیلا ہے‘

    اطلاعات کے مطابق یہ جہاز لیبیا کی حکومت کا نہیں تھا بلکہ اسے آفریقی مالٹا میں میں موجود ایک کمپنی سے لیز پر لیا گیا تھا۔ ترکی کی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انقرے سے 105 کلو میٹر دور دیہات میں جہاز کا ملبہ ملا ہے جو دو کلو میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

    اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جہاز کا بلیک باکس ابھی تک نہیں ملا ہے۔

    حادثے کی تحقیقات کے لیے لیبیا نے اپنا ایک وفد انقرہ بھجوا رہا ہے۔ لیبیا کے وزیر برائے اطلاعات محمد عمار الافیی نے کہا کہ ’اب تک رپورٹس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے جہاز حادثے کا شکار ہوا۔‘

    حادثے کیسے ہوا؟

    لیبیا کے صدارتی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جہاز منگل 23 ستمبر کو انقرہ سے مقامی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 17 منٹ پر اڑان بھری۔

    ڈائریکٹر کیمونیکشن برہانتین دیوران نے کہا کہ جہاز نے 8 بج کر 33 منٹ پر کنٹرول ٹاور سے دوبارہ رابطہ کیا اور تکینکی وجوہات کی بنا پر ہنگامی لینڈنگ کی اجازت مانگی۔

    ایسے میں جب ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی تیاری کی جا رہی تھی کہ جہاز نے تیزی سے نیچے آنے لگا اور 8 بج کر 36 منٹ پر یعنی 19 منٹ کے بعد جہاز ریڈار سے غائب ہو گیا اور اس کے جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

    اس اندازے کے بعد اب جہاز کریش ہو گیا ہے کہ ترکی کے وزارتِ داخلہ نے جہاز کے ملبے کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کیا۔

  9. لیبیا نے آج وفاداری کے ساتھ ملک کی خدمت کرنے والے کھو دیے: وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ

    لیبیا کے وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ نے ترکی میں ہونے والے فضائی حادثے میں لیبیا کی فوج کے سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد کی ہلاکت پر شدید افسوس کا اظہار کرتے اسے قوم کا ’بڑا نقصان‘ قرار دیا ہے۔

    لیبیا کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت کے وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ نے کہا ہے کہ انھیں فوجی سربراہ کی موت کی خبر ملی ہے۔

    وزیراعظم نے مزید بتایا کہ دیگر لیبیائی فوجی حکام بھی اسی طیارے میں سوار تھے۔ وزیراعظم نے فوج کے سربراہ کی ہلاکت کو قوم کا ’بڑا نقصان‘ قرار دیا اور کہا کہ لیبیا نے آج وہ افراد کھو دیے ہیں جو ملک وفاداری کے ساتھ ملک کی خدمت کر رہے تھے۔

    یاد رہے کہ فو ج کے سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد سمیت دیگر چار افراد فالکن 50 طیارے پر سوار تھے جو ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے روانہ ہوا تھا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں ترکی کے وزیر داخلہ نے لکھا کہ بزنس جیٹ طیارے کے انقرہ کے ایئرپورٹ سے ٹیک آف کے 19 منٹ کے بعد اُس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔

    انھوں نے لکھا کہ انقرہ سے طرابلس جانے والے جہاز نے رابطہ منقطع ہونے سے قبل ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی تھی۔

    اس کے بعد طیارے کا ملبہ انقرہ کے جنوب مغربی علاقے سے ملا اور اب حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع ہو گئی ہیں۔

    لیبیا کی مشرقی حصہ کی فوج کو 2019 میں اقتدار میں لانے اور بین الاقوامی سطح پر اُسے تسلیم کروانا میں ترکی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

    ترکی نے حالیہ برسوں میں لیبیا کی حکومت کے ساتھ سیاسی، عسکری اور اقتصادی تعلقات کو استوار کیا ہے۔

    واضح رہے کہ جنرل الحداد اور ان کی ٹیم ترکی میں موجود تھے جہاں انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بات چیت کی تھی۔

  10. لیبیا کے فوجی سربراہ ترکی میں فضائی حادثے میں ہلاک

    ترکی میں فضائی حادثے کے دوران لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایک فالکن 50 طیارے میں چار دیگر افراد کے ساتھ سوار تھے جو ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے روانہ ہوا تھا۔

    ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ طیارے کا رابطہ مقامی وقت کے مطابق رات 20:52 پر منقطع ہو گیا، یعنی انقرہ سے پرواز کے تقریباً 42 منٹ بعد۔ طرابلس جانے والے اس طیارے نے رابطہ منقطع ہونے سے پہلے ہنگامی لینڈنگ کی درخواست بھی کی تھی۔

    یہ حادثہ لیبیا کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ جنرل محمد علی احمد الحداد ملک کی فوجی قیادت میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔’

  11. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم بدھ کے روز خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے پہلے گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے مگر ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ’سیاسی ڈائیلاگ کی آڑ میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کسی مذموم کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘جبکہ عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہناہے کہ ’مذاکرات کی بات ہمیشہ اس وقت کی جاتی ہے جب عوامی دباؤ حد سے بڑھ چکا ہو اور اقتدار میں بیٹھے لوگ پریشان ہو جائیں۔‘
    • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کرک کے علاقے گرگری میں پولیس کی موبائل وین پر شدت پسندوں کے حملے میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
    • یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس نے کئی یوکرینی شہروں پر رات بھر ایک مرتبہ پھر سے ’بڑا‘ حملہ کیا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق روسی فوج کے ان تازہ حملوں میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک چار سالہ بچہ بھی شامل تھا جبکہ توانائی کے شعبے اور انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے
    • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آرکٹک کے وسیع جزیرے گرین لینڈ کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کر کے ڈنمارک کے ساتھ تنازع کو ایک بار پھر ہوا دے دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں وہ گرین لینڈ کا امریکہ سے الحاق کرنا چاہتے ہیں۔
    • بنگلہ دیش کی جانب سے انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں اپنے ہائی کمیشن میں ویزا خدمات عارضی طور پر معطل کرنے کے بعد بنگلہ دیشی حکام نے انڈیا کے مزید دو شہروں میں بھی ویزا دفاتر بند کر دیے ہیں۔
    • ترکی کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی کی قومی انٹیلیجنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ایک کارروائی کے دوران ایک ترک شہری کو گرفتار کیا ہے جس پر نام نہاد دولتِ اسلامیہ (داعش) کا اعلی عہدیدار ہونے کا الزام ہے۔
    • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نام سے منسوب بھاری ہتھیاروں سے لیس بحری ’جنگی جہازوں‘ کا ایک نیا بیڑا بنانے کا اعلان کیا ہے جو بقول ان کے آج تک بنائے گئے کسی بھی بحری جہاز سے 100 گنا زیادہ طاقتور ہوں گے
    • پاکستان کی وفاقی حکومت میں پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے جیل میں ملاقاتیں 8 فروری تک معطل رہیں گی۔
    • حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی تناؤ کم کرنے کے لیے نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی قوتوں سے بات کرنی چاہیے۔
  12. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید! اس صفحے پر ہم آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے اہم اور تازہ ترین خبریں اور تجزیے پیش کریں گے۔

    تاہم اگر آپ 23 دسمبر کی خبروں کو بھی پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔