ترکی
کے دارالحکومت انقرہ کے قریب پیش آئے ایک فضائی حادثے میں لیبیا کی فوجی سربراہ جنرل
محمد علی احمد الحداد کی ہلاکت کی خبر اس وقت پاکستانی صارفین کی توجہ کا مرکز ہے۔
سوشل
میڈیا سائٹ ’ایکس‘ پر متعدد پاکستانی صارفین ناصرف اس پر بات کر رہے ہیں بلکہ یہ معاملہ
ٹرینڈز میں بھی نظر آ رہا ہے۔
بظاہر
لیبیا سے متعلق اس خبر میں پاکستانی صارفین کی دلچسپی کی ممکنہ وجہ حال ہی میں پاکستان
کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا لبیبا کا دورہ ہے۔ جہاں انھوں نے بن غازی
میں موجود لیبیا نیشنل آرمی کے نائب سربراہ صدام خلیفہ حفتر سے ملاقات کی تھی۔
حال
ہی میں خبر رساں ادارے روئٹرز نے دعویٰ کیا کہ اس ملاقات میں پاکستان اور لیبیا میں
دفاعی سازوسامان کی فروخت کا معاہدہ ہوا تھا لیکن سرکاری یا آزاد ذرائع سے اس معاہدے
کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
گذشتہ
شب انقرہ کے قریب فضائی حادثے میں لیبیا کی فوج کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد ایکس پر
کئی صارفین سوال کر رہے ہیں کہ کیا فضائی حادثے میں ہلاک ہونے والے وہی آرمی چیف ہیں
جن سے چند روز قبل پاکستان کے آرمی چیف نے ملاقات کی تھی، جس پر کئی صارفین وضاحتیں
دیتے اور لیبیا میں طرز حکومت پر بات کرتے نظر آئے۔
سوشل
میڈیا پر پاکستانی صارفین کے سوالات اور تذبذب کی وجہ لیبیا میں کئی سال تک جاری رہنے
والی خانہ جنگی کے بعد ملک میں تشکیل پانے والا گھمبیر نظامِ حکومت ہے۔
پہلے یہ جانتے ہیں لیبیا میں کس طرح کی حکومت ہے۔
تیل
سے مالا مال لیکن خانہ جنگی کے شکار ملک میں کس کی حکومت ہے؟
تیل
کی دولتِ سے مالا مال لیبیا میں جاری خانہ جنگی کے بعد ملک کی مشرق اور مغربی علاقوں
میں دو حریف متوازی حکومتیں قائم ہیں جن کے پاس لیبیا کا کنٹرول ہے۔
دونوں
حکومتوں کے دارالحکومت بھی الگ الگ ہیں یعنی ایک حکومت بن غازی سے چل رہی اور دوسری حکومب کا نظام طرابلس سے چلایا جا رہا
ہے۔
سنہ2021 میں لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں حکومت برائے
قومی اتحاد یا گورنمنٹ آف نینشل یونیٹی قائم کی گئی۔ اس حکومت کے وزیراعظم عبدالحمید
دبیبہ ہیں اور ان کی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت قرار دیا گیا ہے۔
لیکن
اگلے ہی سال لیبیا کے مشرقی علاقے کے اراکینِ پارلیمان نے حکومت برائے قومی استحکام
کے نام سے حریف حکومت قائم کی۔ انھوں نے بن غازی کو اپنا صدر مقام قرار دیا۔ لیبیا
کے مشرقی علاقوں میں قائم حکومت برائے قومی استحکام یا گورنمنٹ آف نیشنل سٹیبلٹی کے
اِس وقت وزیراعظم اسامہ حماد ہیں۔
لیبیا
کے مشرقی علاقوں میں لیبیا نیشنل آرمی بھی سرگرم ہے جس کے کمانڈر جنرل خلیفہ حفتر ہیں۔
جنرل خلیفہ حفتر کی سربراہی میں لیبیا نینشل آرمی کسی حد تک بن غازی کی حکمران جماعت
کے قومی استحکام کی مدد کرتی ہے کیونکہ یہ دونوں گروہ، طرابلس میں قائم وزیراعظم عبدالحمید
دبیبہ کی حکومت کے خلاف ہیں۔
پاکستان
کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے لیبیا نیشنل آرمی کے نائب سربراہ صدام خلیفہ حفتر سے بن
غازی میں ملاقات کی تھی جبکہ ترکی میں ہونے والے فضائی حادثے میں طرابلس میں قائم حکومت
برائے قومی اتحاد کی فوج کے سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد ہلاک ہوئے ہیں۔