آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

13 نشستوں پر ضمنی انتخاب: ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری، تحریکِ انصاف کے لاہور میں دھاندلی کے الزامات

پاکستان کی قومی اسمبلی کی چھ اور پنجاب اسمبلی کی سات نشستوں پر جمعے کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری ہے۔ تاحال صرف ایک نشست کا غیر حتمی نتیجہ سامنے آیا اور چیچہ وطنی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 143 سے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد طفیل جٹ کامیاب ہوئے ہیں

خلاصہ

  • پاکستان کی قومی اسمبلی کی چھ اور پنجاب اسمبلی کی سات نشستوں پر جمعے کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری
  • تحریکِ انصاف کی جانب سے این اے 129 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے حوالے سے دھاندلی کے الزامات
  • دبئی میں ایک ایئر شو کے دوران انڈین فضائیہ کے تیجس لڑاکا طیارے کے حادثے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے انڈین پائلٹ کی میت انڈیا پہنچا دی گئی
  • ویتنام میں کئی روز سے جاری شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 90 افراد ہلاک جبکہ 12 لاپتہ

لائیو کوریج

  1. شیخ حسینہ کی سزائے موت بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے: پاکستانی دفتر خارجہ

    پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو سزائے موت ملنا اور ان کی حوالگی کی درخواست بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے۔

    جمعے کو پریس بریفننگ کے دوران ترجمان طاہر اندرابی نے اس معاملے پر پوچھے گئے سوالات پر محض اتنا کہا کہ ’یہ بنگلہ دیش کا اندونی معاملہ ہے۔ بنگلا دیش کا اپنا آئین اور قانون موجود ہے۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش کے عوام اپنے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے مطابق اپنے مسائل حل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

    رواں ہفتے بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ اور نہتے مظاہرین پر فائرنگ کے الزامات پر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے شیخ حسینہ انڈیا میں موجود ہیں اور اس کیس کا فیصلہ ان کی غیر حاضری میں سنایا گیا تھا۔

    دریں اثنا پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کی بندش پر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان پر پاکستان مخالف شدت پسند گروہوں کی حمایت کا الزام ہے اور اسی لیے سرحدی کراسنگ بند رکھی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارت کی بحالی میں تاخیر کی وجہ افغان طالبان ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ فی الحال مذاکرات کے لیے ترک وفد کے دورے کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔ ترک وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ کا پاکستان دورہ متوقع ہے جس کے بارے میں ترجمان نے کہا تھا کہ اس کا مقصد خطے میں مستقل جنگ بندی اور ممالک کے درمیان امن کے قیام کو جلد از جلد ممکن بنانا ہے۔

    طاہر اندرابی کے مطابق اسلام آباد ترکی، ایران اور روس کی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے تاہم بات چیت میں تاخیر کی وجہ پاکستان نہیں۔

  2. بنوں میں ’مزاحمت کرنے پر‘ دو شہری قتل، سی ٹی ڈی کی جوابی کارروائی میں پانچ شدت پسند ہلاک: سی ٹی ڈی

    خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں محکمہ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    جمعے کو ایک بیان میں سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ضلع بنوں کے علاقے ڈومیل میں ایک ’انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن‘ کے دوران شدت پسندوں کے حملے کے جواب میں کی گئی ایک کارروائی میں سی ٹی ڈی اور ڈسٹرکٹ پولیس نے دو شدت پسندوں کو ہلاک کردیا تھا۔

    سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں موجود شدت پسندوں نے ’قریبی گھر میں پناہ لے کر پوزیشن سنبھال لی تھی اور اس دوران بزدل دہشتگردوں نے مزاحمت کرنے پر دو نہتے شہریوں کو بھی شہید کردیا۔‘

    سی ٹی ڈی کے مطابق آٹھ گھنٹے کی ’طویل دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد‘ تمام شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    ’فائرنگ رُکنے کے بعد سرچ آپریشن کے دوران پانچ دہشتگردوں کی لاشیں ملی ہیں، جن میں سے ایک کی شناخت رسول عرف کمانڈر اریانہ کے نام سے ہوئی جبکہ دیگر دہشتگردوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔‘

  3. خیبر پختونخوا میں دو کارروائیوں میں 13 شدت پسند ہلاک: پاکستانی فوج

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ 20 اور 21 نومبر کو خیبر پختونخوا میں اس کی دو کارروائیوں میں 13 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جمعے کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع لکی مروت میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشترکہ ’انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن‘ میں 10 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک اور ’انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن‘ میں بھی تین شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسند سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کے خلاف ’متعدد دہشتگردی کی کارروائیوں‘ میں ملوث تھے۔

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کارروائیوں کو سراہا ہے اور اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ: ’عزمِ استحکام کے وژن کے تحت سیکورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔‘

  4. 23 نومبر کو ضمنی انتخابات میں فوج کی تعیناتی کا حکم

    وفاقی حکومت نے 23 نومبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت فوج اور سول آرمڈ فورسز بطور کوئیک ری ایکشن فورس تعینات ہوں گی۔

    یاد رہے کہ اتوار 23 نومبر کو پنجاب میں قومی اسمبلی کے پانچ جبکہ صوبائی اسمبلی کے سات حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوں گے۔ وفاقی وزارت داخلہ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی درخواست پر فوجی دستوں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔

    وفاقی وزارت داخلہ نے ضمنی انتخابات والے حلقوں میں 22 سے 24 نومبر تک سکیورٹی کے لیے نفری کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقے این اے 143، 104، 96 18، 185 اور 129 میں ضمنی انتخابات ہونا ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 73، 269، 203، 116، 115، 98 اور 87 میں ضمنی انتخاب ہوں گے۔

    ضمنی انتخابات کے لیے فیصل آباد، ساہیوال، ڈی جی خان، لاہور، مظفرگڑھ اور میانوالی میں فوج تعینات ہوگی۔ سکیورٹی اہلکاروں کی حتمی تعداد محکمہ داخلہ پنجاب اور الیکشن کمیشن فیلڈ فارمیشنز کی ڈیمانڈ کے مطابق طے کریں گے۔

    سکیورٹی اہلکاروں کی حتمی تعداد محکمہ داخلہ پنجاب اور الیکشن کمیشن فیلڈ فارمیشنز کی ڈیمانڈ کے مطابق طے کریں گے۔

  5. غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس تعینات ہوگی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ فلسطین پر بات ہوئی: دفترِ خارجہ

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم کے حالیہ دورہ پاکستان میں فلسطین کا معاملہ بھی زیرِ گفتگو آیا تھا۔

    جمعے کو ایک پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور اردن فلسطین کے معاملہ پر تعاون کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی قرار داد میں پاکستان نے عرب گروپ کا حصہ اردن کی جانب سے دی گئی تمام تجاویز کی حمایت کی تھی۔‘

    خیال رہے رواں ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ میں قیامِ امن کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے کے حق میں قرارداد منظور کر لی تھی۔

    سلامتی کونسل میں منظور کردہ قرارداد میں غزہ میں مختلف ممالک کی افواج پر مشتمل ’بین الاقوامی استحکام فورس‘ کا قیام بھی شامل ہے۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان کا اس حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ’اگر آپ قرارداد کا بغور جائزہ لیں تو اس میں ذکر ہے کہ غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس تعینات ہوگی۔‘

    ’اب اگلی قرارداد کے تحت وہاں میں بین الاقوامی استحکام فورس تشکیل دی جائے گی۔‘

  6. کرسٹل کیمیکل فیکٹری کے مالک اور مینیجر سمیت سات افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج, احتشام شامی، صحافی

    پاکستان کے شہر فیصل آباد کے تھانہ منصورہ آباد میں کرسٹل کیمیکل فیکٹری کے مالک اور مینیجر سمیت سات افراد کے خلاف دہشت گردی پھیلانے، قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

    تھانہ منصور آباد میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ جمعے کی صبح پیش آنے والے اس واقعہ میں 20 افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے تھے۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ کرسٹل کیمیکل فیکٹری میں خطرناک کیمیکل اور آتش گیر مادہ ذخیرہ کیا گیا تھا، یہ خطرناک کیمیکل اور آتش گیرمادہ فیکٹری میں استعمال کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے ملحقہ آبادی کے لوگوں میں خوف وہراس پھیلا ہوا تھا۔

    ایف آئی آر کے مطابق ’علاقے کے لوگوں نے متعدد بار اس کی شکایت کی کہ یہ خطرناک کیمیکلز و آتش گیر مادے سے بھرے کنٹینرز کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں جس پر محکمہ پولیس کی طرف سے فیکٹری مالک محمد قیصر چغتائی، فیکٹری منیجر بلال علی عمران اور ملازمین کو متعدد بار تنبیہہ کیا گیا لیکن فیکٹری مالک اور ملازمین نے پولیس کی ان ہدایات و تنبہہ کو نظرانداز کیے رکھا اور اپنا کام جاری رکھا۔‘

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ خطرناک کیمیکلز و آتش گیر مادہ سے بھرے کنٹینرز کے پھٹنے سے 20 افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں اور فیکٹری مالک محمد قیصر چغتائی، فیکٹری منیجر بلال علی عمران اور پانچ دیگر ملازمین اس واقعہ کے ذمہ دار ہیں۔

    مرنے والوں میں 19 افراد کی شناخت ہوچکی ہے جبکہ ایک شخص کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔

    ایف آئی آر پولیس سب انسپکٹر احتشام عباس مدعی ہیں۔ ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 لگائی گئی ہے جوکہ قتل سے متعلق ہے اور دونوں دفعات میں جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دی جاسکتی ہے۔

    اس کے علاوہ مقدمے میں اقدام قتل اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کی دفعات بھی عائد کی گئی ہیں۔

  7. 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف کراچی سمیت دیگر شہروں میں احتجاج، پی ٹی آئی کا متعدد کارکنان کی گرفتاری کا دعویٰ, ریاض سہیل، بی بی سی اردوڈاٹ کام، کراچی

    کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف جمعے کے روز احتجاج کیا گیا جبکہ اسی حوالے سے صبح کے وقت کراچی سٹی کورٹس کا وکلا نے احتجاجاً علامتی بائیکاٹ بھی کیا۔

    تحفظ آئین پاکستان کی کال پر کیے جانے والے احتجاج کے دوران کراچی میں ایمپریس مارکیٹ کے قریب سے پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر متعدد افراد کو گرفتار کرلیا جن کا تعلق تحریک انصاف سے بتایا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت جلسوں یا جلوسوں کی اجازت نہیں۔

    کراچی پریس کلب کے باہر تحریک نمائندگی عوام کی جانب سے بھی احتجاج کیا گیا جس سے کراچی بار کے صدر عامر وڑائچ اور دیگر نے خطاب کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کے خلاف ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور اس حوالے سے سنیچر کو کراچی میں وکلا کنوینشن منعقد کیا جائے گا۔

    سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کی جانب سے قاسم آباد سے حیدر چوک تک ریلی نکالی گئی جس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سربراہ زین شاھ کا کہنا تھا کہ دفعہ 144 نافذ کرکے لوگوں سے اظہار رائے کی آزادی چھینی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 27 ویں ترمیم کا نفاذ کرکے ملک میں آئینی مارشل لا نافذ کیا گیا ہے جس کو عوام اور سیاسی جماعتیں کسی صورت میں قبول نہیں کریں گی۔

    دوسری جانب میرپورخاص میں تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ پولیس نے متعدد کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

    تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ ان کے چھ سے زائد کارکن گرفتار کیے گئے ہیں۔ سندھ کے شہر عمرکوٹ میں پریس کلب کے باہر احتجاج کیا گیا۔

    سابق رکن قومی اسمبلی لال مالھی کا کہنا تھا کہ عمرکوٹ پولیس نے ناکہ بندی کی ہے تاکہ لوگ نہ آ سکیں لیکن پھر بھی لوگ بغیر خوف کے اکٹھا ہو رہے ہیں۔

    ان کا الزام ہے کہ حالیہ ترامیم کے ذریعے اس ملک میں عدالتوں کو ختم کردیا گیا ہے اور تاحیات استثنیٰ دے کر کرپشن کو پروان چڑھایا گیا ہے۔

  8. ویتنام میں بارشیں اور سیلاب، ایک ہفتے میں 41 افراد ہلاک, کیلی این جی، بی بی سی نیوز

    ویتنام میں بارشوں کے غیر معمولی سلسلے اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کے باعث ایک ہفتے کے دوران کم از کم 41 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ نو افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔

    ویتنام کے سرکاری میڈیا کے مطابق سیلاب سے 52 ہزار سے زائد گھر زیر آب آگئے ہیں اور 50 لاکھ گھر اور دکانیں بجلی سے محروم ہو گئی ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    مقامی خبر رساں ادارے توئی تری (Tuoi Tre) کے مطابق ملک کے سب سے بڑے کافی کاشت کرنے والے علاقے ڈاک لک میں دسیوں ہزار گھر زیر آب آ گئے۔

    حکام کے مطابق گزشتہ تین دنوں کے دوران کئی علاقوں میں ڈیڑھ میٹر سے زیادہ بارش ہوئی ہے۔ ویتنام حالیہ مہینوں میں شدید موسم کی لپیٹ میں ہے جہاں ٹائفون کلمیگی اور بولوئی نے بھی خاصی تباہی مچائی ہے۔

    حکومتی اندازوں کے مطابق قدرتی آفات سے ویتنام میں جنوری اور اکتوبر کے درمیان دو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

    حکام کے مطابق، خطے میں موسمی حالات کم از کم اتوار تک برقرار رہیں گے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں جبکہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے فوجی دستے اور پولیس کی نفری تعینات کی گئی ہے۔

    لینڈ سلائیڈنگ سے بڑی سڑکوں اور شاہراہوں کو نقصان پہنچنے کے بعد صوبے میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

  9. دبئی ائیر شو کے دوران انڈین جنگی طیارہ تیجس گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک

    انڈیا کی ایئرفورس نے دبئی میں ائیر شو کے دوران انڈیا کا جنگی طیارہ ’تیجس‘ کے گرنے کے باعث پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا اعلان کر دیا ہے۔

    انڈین ایئر فورس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ آئی اے ایف کا تیجس طیارہ آج دبئی ایئر شو میں فضائی نمائش کے دوران حادثے کا شکار ہوگیا۔ حادثے میں پائلٹ کو شدید چوٹیں آنے کے باعث وہ جان کی بازی ہار گئے۔

    یاد رہے کہ انڈیا سنہ 1983 سے تیجس طیاروں کو مقامی طور پر بنا رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انڈین ایئر فورس اس جانی نقصان پرشدید افسوس کا اظہار کرتا ہے اور غم کی اس گھڑی میں سوگوار خاندان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دی جا رہی ہے۔‘

    یاد رہے کہ ’تیجس‘ انڈیا کا پہلا مکمل طور پر دیسی ساختہ لڑاکا طیارہ ہے جو سنگل انجن ہے اور جس میں لگائے گئے پچاس فیصد سے زیادہ حصے انڈیا میں تیار کیے جاتے ہیں۔

  10. بنگلہ دیش میں زلزلے سے کم از کم چھ افراد ہلاک، 50 سے زائد زخمی

    بنگلہ دیش میں جمعے کی صبح 5.7 کی شدت سے آنے والے زلزلے میں ڈھاکہ سمیت دیگر شہروں میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    بی بی سی بنگلہ کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10:38:26 پر آیا جس نے دارالحکومت ڈھاکہ سمیت ملک کے مختلف علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    پولیس نے بتایا کہ زلزلے کے دوران ارمانیٹولا کے علاقے کاسائیتولی میں ایک آٹھ منزلہ عمارت کی دیواریں گرنے سے عمارت کے نیچے گوشت کی دکان میں موجود گاہک اور راہگیر زخمی ہو گئے۔ فائر سروس کے پہنچنے سے پہلے مقامی لوگوں نے انھیں ہسپتال پہنچایا تاہم ڈاکٹروں نے تینوں کو مردہ قرار دے دیا۔

    مقامی صحافی ایوب خان سرکار نے نرسنگدی میڈیکل کالج میں درجنوں زحمی زیر علاج ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق گبٹولی میں ایک زیر تعمیر عمارت سے اینٹیں گرنے سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد زخمی ہو گئے۔

    ان میں سے دو شدید زخمی ہوئے جنھیں ڈھاکہ بھیج دیا گیا۔ ان میں سے ایک دوران علاج دم توڑ گیا۔ اس کے علاوہ، مقامی انتظامیہ کے مطابق، نرسنگدی کے علاقے پلاش میں زلزلے کے دوران مٹی کی دیوار گرنے سے ایک معمر خاتون کی موت ہو گئی۔

    بنگشال تھانے کے اے ایس آئی زکریا حسین کے مطابق ان کے علاقے میں 10 افراد زخمی ہیں اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    ادھر ڈھاکہ یونیورسٹی زلزلے کے دوران بھگدڑ مچنے اور مختلف جگہ سے چھلانگ لگانے سے کم از کم 10 طلبا زخمی ہوگئے۔

    یونیورسٹی کیمپس کے ایک نیوز ورکر محیمین الاسلام نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ زخمیوں میں سے چار کی ٹانگیں ٹوٹ گئی ہیں۔

    ان کے مطابق ’زلزلے سے سوریا سین ہال، صوفیہ کمال ہال اور شمس النہار ہال کی دیواروں میں دراڑیں پڑگئیں۔ طلباء کا ایک گروہ حاجی محمد محسن ہال سے نکل کر یونیورسٹی کی 20 منزلہ سوادھیناتا ٹاور کی عمارت میں گیا اور محفوظ ہال کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔‘

    بنگلہ دیش میں جمعہ کی صبح آنے والے زلزلے کا مرکز ضلع نرسنگدی کے مدھابادی علاقے میں تھا۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ ریکٹر اسکیل پر 5.7 کی شدت سے آنے والا زلزلہ کئی دہائیوں میں ملک میں آنے والا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔

    ماہرین کے مطابق اس سے قبل سلہٹ اور نواکھلی کے علاقوں میں بھی زلزلے آچکے ہیں۔ تاہم زلزلے کا مرکز ڈھاکہ کے قریب نرسنگدی میں تھا۔ زلزلوں پر تحقیق کرنے والے بہت سے محققین کا کہنا ہے کہ اتنی شدت کا زلزلہ پہلے کبھی ڈھاکہ کے اتنے قریب نہیں آیا تھا۔

  11. فیصل آباد کی فیکٹری میں دھماکے سے 16 افراد ہلاک، مینیجر گرفتار

    فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک فیکٹری میں دھماکے کے بعد 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے فیکٹری کے مینیجر کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ پانچ رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

    ان کے مطابق فیکٹری میں دھماکے کے بعد قریب واقع 11 گھروں کو نقصان پہنچا۔

  12. فیصل آباد کی فیکٹری میں دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو گئی

    صوبہ پنجاب کے ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب تک شہر فیصل آباد میں ایک فیکٹری میں دھماکہ کے بعد کم از کم 15 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ایک بیان میں ترجمان ریسکیو 1122 فاروق احمد کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی تحقیق سے لگ رہا ہے کہ یہ دھماکہ گیس لیکیج کی وجہ سے ہوا ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ اس دھماکے سے فیکٹری کے قریب واقع نو گھر متاثر ہوئے۔ ’متاثرین میں تین مزدور اور باقی رہائشی ہیں۔‘

    مقامی میڈیا کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ’قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔‘ مریم نواز نے کمشنر فیصل آباد سے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔

  13. عمران خان سے ملاقاتوں کا شفاف طریقہ کار بنایا جائے، سہیل آفریدی کا مریم نواز سے مطالبہ

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبہ پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز کو ایک خط لکھا ہے جس میں اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقاتوں سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    یہ خط پی ٹی آئی نے اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سہیل خان آفریدی کی جانب سے اڈیالہ جیل میں عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کے ملاقات کے ’حقوق کی خلاف ورزی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو باضابطہ خط ارسال کردیا ہے۔‘

    ’خط میں واضح کیا گیا کہ عمران خان کے اہلِ خانہ خصوصاً اُن کی بہنوں کو عدالتی اجازت کے باوجود روکا گیا، بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا اور بزرگ خواتین کو ایک کلومیٹر دور سڑک پر بٹھایا گیا، جو غیر انسانی، غیر اخلاقی اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے حکومتِ پنجاب سے چار مطالبات کیے ہیں: ’1، عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد 2، بدسلوکی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی 3، جیل و پولیس کو واضح ہدایات 4، ملاقاتوں کے لیے باوقار اور قانونی نظام کا قیام۔‘

    سہیل آفریدی نے متنبہ کیا کہ عمران خان کے ’حقوق کی خلاف ورزی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

    ’وزیراعلی نے امید ظاہر کی کہ پنجاب حکومت فوری ایکشن لے کر قانون کی بالادستی اور انسانی وقار کو یقینی بنائے گی۔‘

  14. ٹرمپ کی آج وائٹ ہاؤس میں زہران ممدانی سے ملاقات متوقع

    وائٹ ہاؤس میں جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی سے ملاقات متوقع ہے۔ میئر کے حالیہ انتخاب سے قبل کئی مہینوں تک دونوں شخصیات نے ایک دوسرے پر کڑی تنقید کی تھی۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 34 ڈیموکریٹک سوشلسٹ ممدانی ایک ’کمیونسٹ میئر‘ ہیں جنھوں نے اوول آفس میں ملاقات کی درخواست کی تھی۔ ممدانی نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ اس ملاقات میں عوامی تحفظ، روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں کمی اور معاشی سکیورٹی کو توجہ دی جائے گی۔

    ممدانی نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ پر یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں ان کے ساتھ ایسے کسی بھی ایجنڈے پر کام کروں گا جس سے نیویارک والوں کو فائدہ پہنچے۔‘

    ’اگر کوئی ایجنڈا نیویارک والوں کو تکلیف دیتا ہے تو میں سب سے پہلے اس پر بات کروں گا۔‘

    ممدانی کی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات روایت کا حصہ ہے مگر اس سے قبل منتخب ہونے والے نیو یارک کے میئرز کی باقاعدہ طور پر امریکی صدر سے خصوصی ملاقاتیں نہیں ہوئی تھیں۔

  15. فیصل آباد میں ایک فیکٹری میں دھماکے کے بعد کے مناظر

  16. فیصل آباد کی فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے چھ بچوں سمیت 14 افراد ہلاک: ریسکیو حکام, احتشام شامی، صحافی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک کیمیکل فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے حکام کے مطابق چھ بچوں سمیت کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ترجمان ریسکیو پنجاب فاروق احمد کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اطلاع جمعے کی صبح ملی جس میں بتایا گیا کہ فیصل آباد کے علاقے ملک پور کی ایک فیکٹری کا بوائلر پھٹا جس سے کئی عمارتوں اور قریبی گھروں کی چھتیں گِر گئیں۔

    ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سات زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد میں خواتین اور بچوں کی اکثریت ہے۔

    ترجمان ریسکیو پنجاب کے مطابق ’منہدم عمارت سے کئی لوگوں کو زندہ ریسکیو کیا گیا‘ تاہم شدید چوٹوں کی وجہ سے کچھ لوگ بعد میں دم توڑ گئے۔ ترجمان کے مطابق اربن سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن ابھی جاری ہے۔

    دھماکہ کہاں ہوا اور متاثرین کون ہیں؟

    ریسکیو ترجمان فاروق احمد کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ گیس لیکج کی وجہ سے سٹیمر بلاسٹ سے ہوا۔ یہ فیکٹری ملک پور، شہاب ٹاؤن میں واقع ہے جس کے قریب کبڈی سٹیڈیم گراؤنڈ موجود ہے۔

    ان کے مطابق اس مقام پر چار اکٹھی فیکٹریاں تھیں جن میں سے یہ حادثہ کیمیکل صمد بونڈ والی فیکٹری میں ہوا ہے جبکہ باقی تین فیکٹریوں میں گلو، سیلیکون اور ایمبرائیڈری کا کام ہوتا ہے اور یہ فیکٹریاں بند تھیں۔

    ریسکیو حکام کے مطابق اس حادثے میں نو گھر بھی متاثر ہوئے۔ متاثرین میں تین مزدور اور باقی رہائشی ہیں۔

    ادھر صوبہ پنجاب کے پولیس سربراہ ڈاکٹر عثمان انور نے فیصل آباد پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ اور تمام متعلقہ اداروں کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس افسران اور اہلکار ملبے تلے دبے لوگوں کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری رکھیں۔

    پولیس حکام نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس فیکٹری میں کیمیکل بنایا جاتا تھا اور اب پولیس کی طرف سے حادثے کی ممکنہ وجوہات پر تحقیقات شروع کی گئی ہے اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجہ میں فیکٹری سے ملحقہ ایک مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی اور ان کے دو بچوں سمیت مجموعی طور پر لگ بھگ 20 افراد ملبے تلے دب گئے تھے۔

  17. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے انڈیا کو نو کروڑ ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان ہتھیاروں میں ٹینک شکن میزائل بھی شامل ہوں گے۔
    • بنگلہ دیش میں اینٹی کرپشن کمیشن نے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سابق رُکن پارلیمنٹ کو 26 نومبر کو طلب کر لیا ہے۔
    • بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے انڈیا کو خط لکھنے کا اعلان کیا ہے۔
    • ڈیرہ اسماعیل خان میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہو گئے ہیں۔
    • پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں مقامی افراد کی جانب سے لاش کے ہمراہ دیا جانے والا دھرنا پولیس حکام کی مداخلت کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔
  18. سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہائیکورٹ کے ججز کی درخواست پر اعتراض کیوں کیا؟

    جمعرات کو سپریم کورٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز کی درخواست پر اعتراض لگا دیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے رجسڑار آفس کا کہنا ہے کہ اس آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے کا اصل فورم وفاقی آئینی عدالت ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی سمیت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز کی جانب سے ترمیم چیلنج کی گئی تھی.

    یہ درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس ثمن رفعت امتیاز اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

    خیال رہے کہ یہ چار ججز اُن چھ ججز میں شامل تھے جنھوں نے گذشتہ برس مارچ میں اعلیٰ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا۔

    25 مارچ 2024 کو سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے اپنے خط میں عدالتی امور میں آئی ایس آئی اور دیگر انٹیلیجنس اداروں کی طرف سے براہ راست مداخلت اور ججوں کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

    یاد رہے کہ 27 ترمیم کی منظوری کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججوں، جسٹس منصور علی خان اور جسٹس اطہر من اللہ، نے اس ترمیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے 'آئین پاکستان پر سنگین حملہ' قرار دیتے ہوئے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

    اس سے قبل ان دونوں ججوں نے اس آئینی ترمیم پر چیف جسٹس آف پاکستان کو خطوط لکھے تھے اور اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار بھی کیا تھا۔

    یاد رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ موجود چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بعد سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔

    اپنے استعفوں میں ان ججوں نے موقف اختیار کیا کہ اس آئینی ترمیم کے ذریعے 'عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا گیا ہے' اور یہ کہ 'یہ ترمیم ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب ہے۔'

    اس شدید تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ 'یہ ججز سیاسی اور ذاتی ایجنڈا پر تھے اور اُن کو یہ استحقاق حاصل نہیں کہ وہ سیاسی معاملات یا پارلیمان کی کارکردگی پر تنقید کریں۔'