شیخ حسینہ کی سزائے موت بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے: پاکستانی دفتر خارجہ
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو سزائے موت ملنا اور ان کی حوالگی کی درخواست بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے۔
جمعے کو پریس بریفننگ کے دوران ترجمان طاہر اندرابی نے اس معاملے پر پوچھے گئے سوالات پر محض اتنا کہا کہ ’یہ بنگلہ دیش کا اندونی معاملہ ہے۔ بنگلا دیش کا اپنا آئین اور قانون موجود ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش کے عوام اپنے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے مطابق اپنے مسائل حل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
رواں ہفتے بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ اور نہتے مظاہرین پر فائرنگ کے الزامات پر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے شیخ حسینہ انڈیا میں موجود ہیں اور اس کیس کا فیصلہ ان کی غیر حاضری میں سنایا گیا تھا۔
جلا وطن اتحادی اور کشیدہ تعلقات: شیخ حسینہ کی سزا کے بعد انڈیا کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلق کیسا ہو گا؟
دریں اثنا پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کی بندش پر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان پر پاکستان مخالف شدت پسند گروہوں کی حمایت کا الزام ہے اور اسی لیے سرحدی کراسنگ بند رکھی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارت کی بحالی میں تاخیر کی وجہ افغان طالبان ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فی الحال مذاکرات کے لیے ترک وفد کے دورے کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔ ترک وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ کا پاکستان دورہ متوقع ہے جس کے بارے میں ترجمان نے کہا تھا کہ اس کا مقصد خطے میں مستقل جنگ بندی اور ممالک کے درمیان امن کے قیام کو جلد از جلد ممکن بنانا ہے۔
طاہر اندرابی کے مطابق اسلام آباد ترکی، ایران اور روس کی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے تاہم بات چیت میں تاخیر کی وجہ پاکستان نہیں۔