عراق کی جانب سے
اقوامِ متحدہ میں عراق کی سمندری حدود کا نقشہ جمع کروائے جانے کے بعد کویت نے
عراقی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے جبکہ دیگر خلیجی ممالک بشمول
سعودی عرب اور قطر نے عراق سے کویت کی سمندری حدود کی خود مختاری کا احترام کرنے
کا مطالبہ کیا ہے۔
لیکن یہ معاملہ کیا
ہے اور یہ اب تنازع کا باعث کیوں بن رہا ہے؟
عراق کی وزارتِ
خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ عراق کی وزارت خارجہ نے
1982 کے سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق عراقی علاقائی سمندری
بیس لائنوں اور سمندری علاقوں کے نقاط کی فہرستیں جمع کروا دی ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق،
یہ دستاویزات 19 جنوری اور پھر نو فروری کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے پاس جمع
کروائی گئی جس میں مخصوص پوائنٹس کے جغرافیائی نقاط (کوآرڈینیٹس) کے ہمراہ ایک
نقشہ بھی شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا
ہے کہ نئے دستاویزات سات دسمبر 2021 اور 15 اپریل 2011 کو جمع کروائے گئے نقشے اور
کوآرڈینیٹس کی جگہ لے گا۔
عراقی وزاتِ خارجہ
کا کہنا ہے کہ نئے دستاویزات میں علاقائی سمندر کی چوڑائی کی پیمائش کے لیے کم پانی
کی لکیر کے ساتھ کھینچی گئی سیدھی بیس لائنوں کے ساتھ ساتھ علاقائی سمندر کی حد بندی،
اس سے متصل زون، خصوصی اقتصادی زون شامل ہے۔
عراقی ناظم الامور
کی کویت میں طلبی
کویت کے سرکاری خبر
رساں ادارے کی جانب سے شائع کردہ ایک خبر کے مطابق، عراق کی جانب سے اقوام متحدہ میں
عراقی سمندری علاقوں کے متعلق نقشہ جمع کروائے جانے کے بعد عراقی ناظم الامور کو
دفترِ خارجہ طلب کر کے اس معاملے پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔
کویتی وزارت خارجہ
کا کہنا ہے عراق کی جانب سے جمع کروائے گئے نقاط اور نقشے کویت کی اس کے سمندری علاقوں
پر خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
کویت نے عراق سے مطالبہ
کیا کہ وہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو مدنظر رکھے اور بین الاقوامی
قانون اور سمندر کے قانون سے متعلق 1982 کے اقوام متحدہ کے کنونشن کی دفعات کے مطابق
سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرے۔
’عراقی نقشہ کویت کی سمندری حدود کی خلاف ورزی ہے‘
سوموار کی صبح سعودی
عرب کی وزارت خارجہ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ
وہ عراق کی طرف سے اقوام متحدہ میں جمع کرائے گئے نقاط کی فہرست اور نقشے کو تشویش
کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
سعودی عرب کا کہنا
ہے کہ عراق کی طرف سے جمع کروائے گئے نقشے میں سعودی عرب اور کویت سے ملحق وہ ڈوبے
ہوئے منقسم علاقے بھی شامل ہیں جس کے قدرتی وسائل پر کویت اور ریاض کا حق ہے۔
بیان میں مزید کہا
گیا ہے یہ نقشہ کویت کی اس کے سمندری علاقوں پر خود مختاری کی خلاف ورزی ہے۔
خلیجی ریاست قطر نے
بھی کویت کی حمایت میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھی عراق کی جانب سے جمع کروائے گئے نقشے اور کوآرڈینیٹس کی
فہرستوں کے مندرجات کی پیروی کر رہا ہے۔
قطر کی وزارتِ
خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عراق کی طرف سے جمع کروایا گیا نقشہ کویت اور
عراق کے مابین پہلے سے طے شدہ بحری علاقوں پر کویتی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتا
ہے۔
قطر نے امید ظاہر کی ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی
قانون کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے کنونشن برائے سمندر کو مدِ نظر رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ اگست 1990 میں عراق کے اس وقت کے صدر صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 1991 کی خلیجی جنگ ہوئی۔
بین الاقوامی خبررساں ادارے انادولو کے مطابق، امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد سات ماہ کے بعد عراقی افواج کو کویت سے نکالنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔
2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد بغداد اور کویت کے درمیان دوبارہ سفارتی تعلقات قائم ہو گئے تھے۔ عراقی حملے کے بعد، اقوام متحدہ نے دونوں ممالک کے درمیان زمینی حد بندی کر دی تھی تاہم اس حدبندی میں ان دونوں ممالک کے درمیان سمندری حدود کے تمام پہلوؤں کو طے نہیں کیا جا سکا اور کویت اور عراق کے درمیان بحری حد بندی کا مسئلہ اب بھی باقی ہے۔