سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کی اپیل پر کیا ہے۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ریٹائرڈ ججز کی سربراہی میں قائم کیے جانے والے الیکشن ٹربیونلز کو بھی معطل کردیا ہے اور عدالت کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت تک سپریم کورٹ میں زیر التوا رہے گا جب تک الیکشن کمیشن اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اس معاملے میں بامقصد مشاورت نہیں کرتے۔
اس فیصلے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے حاضر سروس چار ججز کی سربراہی میں جو ٹربیونلز تشکیل دیے گئے تھے ان کی تشکیل بھی معطل ہو گئی ہے۔ ان میں جسٹس شاہد کریم ، جسٹس محمد اقبال، جسٹس انوار حسین ، جسٹس سرفراز ڈوگر ، جسٹس راحیل کامران ،جسٹس وقاص روف اور جسٹس سلطان تنویر احمد کی سربراہی میں قائم کیے گئے ٹربیونلز شامل ہیں۔
واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے ریٹائرّ ججز کو الیکشن ٹربیونلز میں شامل کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قراد دیتے ہوئے کہا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ٹربیونلز بنا کر ان معاملات کو دیکھے جس کے بعد اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پانچ حاضر سروس ججز کی سربراہی میں الیکشن ٹربیونلز تشکیل دیے تھے جنھوں نے کام بھی شروع کردیا تھا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے دائر کی گئی اپیل پر سماعت شروع کی تو پاکستان تحریک انصاف کے وکیل اور اسلام آباد کے سابق ایڈووکیٹ جنرل نیاز اللہ نیازی نے چیف جسٹس کی اس بینچ کی موجودگی پر اعراض کیا اور کہا کہ اس معاملے کو کسی اور بینچ میں بھیج دیا جائے جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ انھوں نے یہ لارجر بینچ خود نہیں بنایا بلکہ اس کیس کے لیے جو تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس کی سفارشات کی روشنی میں یہ بینچ تشکیل دیا تھا۔
بینچ کے سربراہ نے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ کیا انھیں اس بینچ کی تشکیل پر اعتراض ہے جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ انھیں ذاتی حثیت میں اس بینچ کی تشکیل پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ یہ معاملہ پاکستان بار کونسل کو بھیجیں گے تاکہ جو وکلا عدالتوں کو سکینڈلائزڈ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لائسنس کو معطل کیا جاسکے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے اپنے ابتدائی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمشین نے 15 فروری کو ٹربیونلز کی تشکیل کے لیے تمام ہائی کورٹس کو خط لکھے تھے جس میں لاہور ہائی کورٹ نے دو ججز کے نام بھیجے تھے جو کہ الیکشن کے معاملات کو دیکھ سکیں۔
انھوں نے کہا کہ اس اتنے بڑے صوبے کے لیے دو ٹربیونلز الیکشن کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ناکافی تھے۔ الیکشن کمشین کے وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ میں صدارتی آرڈیننس کے تحت ترمیم کے بعد ریٹائرڈ ججز کی سربراہی میں الیکشن ٹربیولز بنائے تھے۔
چیف جسٹس نے دوران سماعت سوال اٹھایا کہ کیا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس الیکشن کمیشن کے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونلز تشکیل دے سکتے ہیں؟
انھوں نے کہا کہ بادی النظر میں ٹربیونلز کی تشکیل سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن کے حکام کے درمیان بامقصد مذاکرات نہیں ہوئے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کے حل کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن کے حکام کے درمیان بامقصد مذاکرات ضروری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کے نام کی منظوری جوڈیشل کمیشن نے دے دی ہے اور اب یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد اور نئے چیف جسٹس کا اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد مشاورت کا عمل آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
بینچ کے سربراہ نے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ اگر چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر مشاورت کریں تو کیا کسی کو اعتراض ہونا چاہیے جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ اسے چیف جسٹس کا نام مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے اور ایسے حالات میں اسے مشاورت نہیں کہتے اور الیکشن کمیشن کا رویہ جوڈیشل سسٹم پر حملہ ہے۔
بینچ میں موجود جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کیسے چیف جسٹس کے بھیجے ہوئے ناموں کو مسترد کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بطور چیف جسٹس انھوں نے جو نام دیے وہ قبول کرلیے گئے اور پنجاب میں الیکشن کمیشن نے کیوں مسئلہ بنایا ہوا ہے؟
انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ چیف جسٹس سے بات کر رہے ہیں کسی سیکشن افسر سے نہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن ہائی کورٹ کا حکم نہ مانے تو ان پر توہین عدالت لگے گی۔