آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد پولیس کا ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ

سرگودھا کی انسداد دہشتگردی عدالت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کے ورانٹ گرفتاری جاری کیے جس کے بعد میانوالی پولیس نے اتوار کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس کے ہمراہ ان کے گھر چھاپہ مارا ہے۔ عمر ایوب کا کہنا ہے کہ ’عمران خان کے وزیر اعظم بننے تک جدوجہد جاری رہے گی۔‘

خلاصہ

  • سرگودھا کی انسداد دہشتگردی عدالت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کے ورانٹ گرفتاری جاری کیے جس کے بعد میانوالی پولیس نے اتوار کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس کے ہمراہ ان کے گھر چھاپہ مارا ہے۔
  • بار ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف مبینہ ’سوشل میڈیا مہم‘ پر 9 جولائی کو ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پروٹیکٹیڈ صارفین کو اووربلنگ کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے اس میں ملوث افسروں اور عملے کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی صارفین کے بِلوں میں مصنوعی طور پر اضافی یونٹ شامل کرنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی۔
  • بلوچستان سے تعلق رکھنے والی کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے گرفتار لوگوں کی رہائی کے بدلے میں 7 مغوی افراد کی رہائی کے لیے ایک ہفتے کی جو مہلت دی تھی وہ ختم ہوگئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان نے اڈیالہ جیل میں بھوک ہڑتال کی دھمکی کیوں دی؟

    اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان نے جمعے کو بھوک ہڑتال کی دھمکی دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے مشاورت بھی کر رہے ہیں کہ وہ کب ایسا کریں۔

    عمران خان نے جمعے کو اپنے وکلا سے جیل کے اندر اس متعلق بات بھی کی۔ تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان سمجھتے ہیں کہ جس طرح ان پر مقدمات قائم کیے گئے اور جس طرح یہ چلائے جا رہے ہیں وہ سب خلاف قانون ہو رہا ہے۔

    ان کے مطابق جیل میں عمران خان سے انتظامیہ کا سلوک بھی اچھا نہیں ہے۔

    رؤف حسن کے مطابق ’عمران خان کی طرف سے بھوک ہڑتال کے اعلان کی ایک وجہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا رویہ بھی ہے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’چیف جسٹس تحریک انصاف کے خلاف مقدمات میں بینچ کا حصہ بن جاتے ہیں اور پھر اپنی مرضی سے بینچز کی تشکیل کرتے ہیں۔‘

    چیف جسٹس سے متعلق رؤف حسن نے یہ الزام متعدد نجی ٹی وی چینلز کے پروگرامز میں بھی عائد کیا ہے۔ ان کے مطابق ان کی جمعرات کو عمران خان سے ہونے والی ملاقات بھی بغیر کوئی وجہ بتائے منسوخ کی گئی اور یوں پارٹی رہنماؤں سے انھیں نہیں ملنے دیا گیا۔

    جمعے کو عمران خان سے ملاقات کرنے والے تحریک انصاف کے سینیئر رہنما علی محمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان نے یہ بتایا ہے کہ اگر مینڈیٹ کی واپسی نہیں ہوتی اور ملک میں قانون کی خلاف ورزی جاری رہتی ہے اور سیاسی اسیران کو رہا نہ کیا گیا تو پھر وہ بھوک ہڑتال پر جا کر سکتے ہیں۔

    علی محمد خان نے کہا کہ اگر عمران خان بھوک ہڑتال پر جاتے ہیں تو پھر ملک بھر میں احتجاج ہو گا اور پھر قریہ قریہ شہر شہر بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جائیں گے۔

  2. ملک کا مجموعی قرضہ ایک سال کے دوران پندرہ فیصد اضافے کے بعد 67816 ارب روپے تک پہنچ گئے, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کی حکومت کے ذمے واجب الادا قرضہ موجودہ سال کے مئی کے اختتام تک 67816 ارب روپے ہو گیا، جس میں اندرونی اور بیرونی قرضہ شامل ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری قرضے کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران اس قرضے میں 15 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کی گیا، جو مئی 2023 میں 58964 ارب روپے تھا۔

    ملک کے مجموعی قرضے میں رواں سال اپریل سے مئی کے مہینے میں اضافہ دیکھا گیا جب اس میں 2.6 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

    اپریل 2024 میں قرضے کی مالیت 66083 ارب روپے تھی۔ قرضے کے اعداد و شمار کے مطابق اس مجموعی قرضے میں اندرون ملک بینکوں اور مالیاتی اداروں سے لیے جانے والے قرضے کا حجم بیرونی قرضے سے زیادہ ہے۔

    اندرونی قرضوں کا حجم 46208 ارب روپے ہے، جس میں ایک سال کے دوران 24.7 فیصد کا اضافہ ہوا۔ تاہم اپریل کے مہینے کے مقابلے میں مئی کے اختتام تک اس قرضے میں تقریباً چار فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    دوسری جانب اس قرضے میں بیرونی قرضوں کے حجم میں ایک سال کے دوران کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مئی 2024 کے اختتام پر قرضے کی مالیت 21608 ارب روپے تھی جو گذشتہ سال مئی کے مہینے کے اختتام پر پر 21908 ارب روپے تھی۔

  3. بریکنگ, ملک کی خاطر حکومت کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کریں گے: عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے حکومت کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’یہ ملکی مسئلہ ہے، ملک کی خاطر وہ اس میں شرکت کریں گے۔‘

    یاد رہے کہ پاکستانی حکومت نے حال ہی میں دہشتگردی کے خلاف ’عزم استحکام‘ کے نام سے ایک نئے فوجی آپریشن کا اعلان کیا ہے لیکن حزب اختلاف سمیت کئی سیاسی جماعتوں اور کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کی گئی۔

    گزشتہ روز سے تمام جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے آپریشن عزم استحکام پر اعتماد میں لینے کے لیےاے پی سی بلانے کی خبریں سامنے تو آئی ہیں تاہم سرکاری طور پر اس کانفرنس کے انعقاد یا تاریخ کے حوالے سے تاحال کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

    ’جب تک افغان حکومت ساتھ نہ دے 2500 کلومیٹر طویل بارڈر پر یہ جنگ جیتنا ممکن نہیں‘

    صحافیوں سے گفتگو کے دوران آپریشن عزم استحکام کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب تک افغانستان سے تعلقات بہتر نہیں ہوتے ہم کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے نہیں جیت سکتے۔

    عمران خان کے مطابق ’جب تک افغان حکومت سے تعاون نہ ملے، آپ یہ جنگ نہیں جیت سکتے، آپ آپریشن کریں گے، طالبان بھاگ کر افغانستان کے اندر چلے جائیں گے۔ جب تک افغان حکومت ساتھ نہ دے 2500 کلومیٹر طویل بارڈر پر یہ جنگ جیتنا ممکن نہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمارے دور میں این ڈی ایس اور غنی حکومت آپس میں ملے تھے، میں اس کے باوجود افغانستان گیا اور بات چیت کی۔

    یاد رہے کہ آپریشن عزم استحکام کے حوالے سے حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس آپریشن کے خدوخال کو واضح کیا جائے اور تمام جماعتوں کو اعتماد میں بھی لیا جائے۔

  4. عمران خان کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض: ’انصاف نہ ملا تو بھوک ہڑتال کروں گا‘

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے اپنی جماعت سے متعلق مقدمات سننے کے لیے بنائے گئے بینچز میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی موجودگی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انھیں انصاف نہ ملا تو وہ بھوک ہڑتال کریں گے۔

    جمعے کو اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’میں بھوک ہڑتال کرنے کے بارے میں مشاورت کر رہا ہوں، اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں بھوک ہڑتال کروں گا۔‘

    ان کا کہنا تھا ان کے وکیلوں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ہر بینچ میں شمولیت پر اعتراض کیا ہے۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی اور میرے مقدمات سننے والے ہر بینچ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیسے آجاتے ہیں؟‘

    ان کے مطابق سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ پی ٹی آئی کے مقدمات نہیں سن سکتے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کے وکلا کا خیال ہے کہ انھیں انصاف نہیں ملے گا، اس لیے ہمارے کیسز کسی اور کو سننا چاہییں۔‘

  5. کراچی میں پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے ہڑتال جاری، مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے: پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے جمعے کے روز(آج) ہڑتال کی جا رہی ہے جسے تنظیم کی جانب سے کامیاب ہڑتال قرار دیا جا رہا ہے۔

    آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالسمیع خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں ساڑھے چارسو کے قریب اور ملک بھر میں 13 ہزار پیٹرول پمپس ہیں۔

    ان کے مطابق شیل، ٹوٹل اور پارکو سمیت تمام ہی کمپنیوں کے پمپ بند ہیں اور محدود تعداد میں موجود پی ایس او کے اپنے پمپس کھلے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ فی لیٹر پر حکومت نے صفر اعشاریہ پانچ ایڈوانس ٹرن اوور ٹیکس لگایا ہے ان کا کمیشن پہلے سے ہی کم ہے جبکہ اخراجات بڑھ چکے ہیں اس لیے ان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ اس کاروبار کو جاری رکھ سکیں اس لیے ہڑتال کا فیصلہ کرنا پڑا۔

    پاکستان کی وزرارت پیٹرولیم اوگرا نے بھی ڈیلرز کی تنظیم سے مذاکرات کیے لیکن کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

    عبدالسمیع خان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو چھوڑ کر باقی تمام متعلقہ حکام نے ان سے بات کی ہے لیکن وہ اپنے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

    دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا نے ایک مشترکہ بیان میں تمام کمپنیوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ پمپس کھلے رکھیں تاہم اس اعلان کے برعکس پمپس سے صارفین کو فراہمی نہیں کی جارہی ہے۔

    کراچی میں بعض پمپس کو قناتیں لگا کر بند کیا گیا ہے جبکہ بعض کمپنیوں کے پمپ کھلے تو ہیں لیکن ان سے پیٹرول کی فراہمی نہیں کی جارہی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ شام سے ہی پیٹرول پمپس پر لوگوں کی قطاریں لگ گئی تھیں اور یہ سلسلہ رات تک جاری رہا تھا۔

    عبدالسمیع خان کا کہنا ہے کہ شام کو اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں فیصلہ ہوگا کہ ہڑتال کو آگے بڑھانا ہے یا نہیں۔

  6. پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں فلسطین کا مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑا: عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستان نے فلسطین کا مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑا ہے اور وزیر اعظم نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس کا بھرپور جواب دیا جائے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے اور فلسطین میں امدادی سرگرمیوں کو بھی بند کردیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ آستانہ میں ہونے والے ایس سی او اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے اسرائئل غمہ جنگ کے حوالے سے پاکستان کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی برادری غزہ میں فوری جنگ بندی یقینی بنائے۔

    انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ’تصفیہ طلب مسائل سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کئے جائیں۔ پاکستان غیر مستقل رکن کی حیثیت سے مسائل کے منصفانہ حل کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔‘

    جمعے کے روز ہونے والے اجلاس میں وقفہ سوال میں اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں عطا تارڑ نے کہا کہ اس وقت کسی بھی ٹی وی چینلز کے اشتہارات بند نہیں ہیں۔

    وفاقی وزیر کے مطابق 1997 کے سروسز مینوئل کے تحت اشتہارات دیے جاتے ہیں تاہم الیکٹرانک میڈیا کے لیے کوئی پیمانہ نہیں جس سے جانا جا سکے کہ کس کو کتنے اشتہارات ملے۔

  7. ملکی مسائل کا حل صرف مذاکرات ہیں، پی ٹی آئی نو مئی کو اگر سازش کہتی ہے تو بیٹھ کر بات کریں: رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ملکی مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کہتی ہے کہ نو مئی سازش تھی اور وہ ملوث نہیں تو ثبوت لائیں اور آئیں بیٹھ کر بات کریں۔

    ڈان نیوز کے پروگرام ’لائیو ود عادل شاہ زیب‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کے دیگر لوگوں کی رہائی کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں عمران خان پر شدید تنقید کی۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’بانی پی ٹی آئی پاکستان کے چہرے کو داغدار کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کی یہ سوچ کہ وہ ہیں تو پاکستان ہے اور وہ نہیں تو پاکستان نہیں ہے تو اس سوچ سے انھیں نکلنا ہو گا۔‘

    ’پی ٹی آئی نو مئی کے واقعات کو سیاسی احتجاج کا رنگ دینا چاہتی ہے اور کہتی ہے نو مئی سازش تھی اور وہ ملوث نہیں بلکہ یہ پلانٹ کیا گیا تو پھر ثبوت دیں کیونکہ ہمارے پاس بھی ثبوت ہیں۔‘

    رانا ثنا اللہ کے مطابق ’بانی پی ٹی آئی کو اپنے عمل کا مواخذہ اور حساب تو دینا چاہیے اور دینا ہو گا۔‘

    ایک اور سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’بانی پی ٹی آئی کو حق حاصل ہے کہ وہ باہر آنے کی پوری کوشش کریں، اسی طرح پراسیکیوشن کو بھی اپنے مقدمات کی پیروی کا حق حاصل ہے تاہم ان کے باہر آنے سے کوئی طوفان نہیں آجائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ملکی مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات ہیں۔ نو مئی میں جو انھوں نے لوٹ مار کی اور دفاعی اداروں پر حملہ آور ہوئے، لوٹ مار کی ملکی تنصیبات کو نقصان پہنچایا تو ہم اس میں ان کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔‘

    رانا ثنا اللہ کےمطابق ’مذاکرات ایک جمہوری تقاضا ہے اور اس سے ہمیں انکار نہیں ہے، ہم نے پہلے بھی کہا تھا ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور آج بھی ہمارا یہی مؤقف ہے۔ پارلیمانی جمہوری نظام دوسروں کی رائے کہ احترام سے ہی شروع ہوتا ہے اور اس کی اہمیت سے ہم انکار نہیں کر سکتے۔‘

  8. آئندہ تین سے چار مہینوں کے دوران کچھ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں دو سے لے کر نو فیصد تک کا اضافہ ہو گا: اویس لغاری

    وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ آئندہ تین سے چار مہینوں کے دوران کچھ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں دو سے لے کر نو فیصد تک کا اضافہ ہو گا کیونکہ پچھلے سال کے ٹیرف کا بوجھ اگلے چھ مہینے کے لیے اٹھانا ہو گا تاہم جنوری سے بجلی کی قیمتیوں میں کمی ہو گی۔

    انھوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں۔

    پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر شرح سود نہ بڑھی اور روپے کی قدر مزید نیچے نہ گئی تو جنوری 2025 سے بجلی کی قیمتیں دو سے تین فیصد کم ہوں گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے صنعتوں پر سے ڈیڑھ سو ارب روپے کا بوجھ کم کیا ہے تاکہ نوکریاں پید ہوں اور ڈیمانڈ اوپر جائے اور صنعتیں ترقی کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں حکومت میں آئے تین مہینے ہوئے ہیں مگر ہم اصلاحات کو عملی جامہ پہنائیں گے اور اسی حکومت میں صارفین کو بہتر اور سستی بجلی فراہم کرنے کی پوزیشن میں آئیں گے۔

  9. بریکنگ, الیکشن2024: چیف جسٹس کا درخواست مقرر نہ کرنا دھاندلی چھپانے کی بالواسطہ کوشش ہے، پی ٹی آئی

    پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات سے متعلق درخواست سماعت کے لیے مقرر نہ کرنا بالواسطہ طور پر دھاندلی چھپانے کی افسوسناک کوشش ہے۔

    جمعرات کو ترجمان پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جاری اعلامیے میں چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ سے پتن کی جانب سے جاری کردہ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں الیکشن میں مبینہ دھاندلی کی درخواست کو فوری سماعت کے لیے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی ترجمان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان خاموش سہولتکاری کرتے ہوئے مینڈیٹ چوروں کے ناجائز اقتدار کو بلاجواز طول دینے کی کوششیں ترک کرتے ہوئے عوام کا چھینا گیا مینڈیٹ حقداروں کو واپس دلائیں۔

    بیان میں ترجمان پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آئین کی بالادستی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی بحالی کی خاطر اپنا آئینی کردار ادا کریں بصورت دیگر تاریخ ان کے بارے میں باقی تمام کرداروں کیساتھ فیصلہ کرے گی۔

    پی ٹی آئی ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک میں انتخابی عمل پر نظر رکھنے والے ادارے فافن، پلڈاٹ، کامن ویلتھ اور یورپی یونین مبصرین سمیت انتخابات کی شفافیت جانچنے والے تمام آزاد اور غیر جانبدار اداروں نے انتخابات کی شفافیت پر سنگین نوعیت کے سوالات اٹھائے ہیں۔

    پی ٹی آئی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’آٹھ فروری کو پاکستان کی تاریخ کے متنازعہ ترین اور غیر شفاف انتخابات کروائے گئے جس کی ہر طرف سےشہادتیں اور گواہیاں آ رہی ہیں۔‘

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی آٹھ فروری کے انتخابات میں دھاندلی کے الزام عائد کرتی ہے جبکہ حکومت اسے مسترد کرتی ہے۔

    ترجمان پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’کمشنر راولپنڈی لیاقت چھٹہ نے 17 فروری کو ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے آٹھ فروری کی مبینہ دھاندلی کے مرکزی کرداروں کو بے نقاب کیا۔‘

    پی ٹی آئی ترجمان نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ’ایک منظم سازش کے تحت پاکستان تحریک انصاف سے بلے کا نشان چھینا گیا اور ریاستی طاقت سے تحریک انصاف اور عوام کے سیاسی حقوق کچلنے کی کوششیں کی گئیں۔‘

  10. پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان: سانحہ ہڈر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے دیامیر میں آپریشن جاری، شاہراہ قراقرم پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں, محمد زبیر خان، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان حکومت کے وزیر داخلہ شمس لون کے مطابق آج صبح ایک انٹیلی جینس رپورٹ کی بنیاد پر گلگت بلتستان سکاؤٹس اور پاکستانی فوج نے سانحہ ہڈر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے دیامیر کے علاقے داریل میں چھاپہ مارا جس دوران سب سے مطلوب ملزم کمانڈر شاہ فیصل مارے گئے جبکہ ایک اور ملزم کمانڈر زاہد زخمی ہیں اور آپریشن تاحال جاری ہے کیونکہ ابھی تک ان کے ٹھکانے سے مزاحمت کی جا رہی ہے۔

    یاد رہے گذشتہ سال دسمبر میں ہونے والے سانحہ ہڈر میں ایک مسافر بس پر حملہ کیا گیا تھا جس میں کم از کم دس افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہو گئے تھے۔

    شمسن لون کے مطابق حالیہ آپریشن میں تین سیکورٹی اہلکار، ایک عام شہری اور ایک کم عمر بچی زخمی ہو گئے ہیں۔

    شمسن لون کے مطابق آپریشن تاحال جاری ہے اور سکیورٹی فورسز احتیاط کر رہی ہیں۔ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بتایا کہ سانحہ ہڈر میں پہلے سے گرفتار تین سہولت کاروں کی نشان دہی پر چھ سے زائد شدت پسندوں کے خلاف مقدمات براہ راست درج ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے صوبائی حکومت اور سیکورٹی اداروں نے بارہا دیامیر جرگہ سے رجوع کیا مگر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

    ان کا کہنا تھا کہ مسافر بس حملے کے خلاف دیامیر اور داریل کے لوگوں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مظاہرے کیے تھے۔

    فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ اب بھی وقت ہے کہ سانحہ ہڈر میں نامزد ملزمان خود کو قانون کے حوالے کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے سانحہ ہڈر کے ملزمان کی پشت پناہی کی یا قانون کے راستے میں غیر ضروری رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی تو اسے بھی شرپسند سمجھا جائے گا۔

    دیامیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شاہراہ قراقرم پر بڑی تعداد میں پولیس کو تعنیات کر دیا گیا ہے اور گاڑیوں کی چیکنگ سخت کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے شاہراہ قراقرم پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ چکی ہیں۔

  11. سپریم کورٹ نے الیکشن ٹریبونل کی تشکیل سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کی اپیل پر کیا ہے۔

    اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ریٹائرڈ ججز کی سربراہی میں قائم کیے جانے والے الیکشن ٹربیونلز کو بھی معطل کردیا ہے اور عدالت کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت تک سپریم کورٹ میں زیر التوا رہے گا جب تک الیکشن کمیشن اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اس معاملے میں بامقصد مشاورت نہیں کرتے۔

    اس فیصلے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے حاضر سروس چار ججز کی سربراہی میں جو ٹربیونلز تشکیل دیے گئے تھے ان کی تشکیل بھی معطل ہو گئی ہے۔ ان میں جسٹس شاہد کریم ، جسٹس محمد اقبال، جسٹس انوار حسین ، جسٹس سرفراز ڈوگر ، جسٹس راحیل کامران ،جسٹس وقاص روف اور جسٹس سلطان تنویر احمد کی سربراہی میں قائم کیے گئے ٹربیونلز شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے ریٹائرّ ججز کو الیکشن ٹربیونلز میں شامل کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قراد دیتے ہوئے کہا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ٹربیونلز بنا کر ان معاملات کو دیکھے جس کے بعد اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پانچ حاضر سروس ججز کی سربراہی میں الیکشن ٹربیونلز تشکیل دیے تھے جنھوں نے کام بھی شروع کردیا تھا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے دائر کی گئی اپیل پر سماعت شروع کی تو پاکستان تحریک انصاف کے وکیل اور اسلام آباد کے سابق ایڈووکیٹ جنرل نیاز اللہ نیازی نے چیف جسٹس کی اس بینچ کی موجودگی پر اعراض کیا اور کہا کہ اس معاملے کو کسی اور بینچ میں بھیج دیا جائے جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ انھوں نے یہ لارجر بینچ خود نہیں بنایا بلکہ اس کیس کے لیے جو تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس کی سفارشات کی روشنی میں یہ بینچ تشکیل دیا تھا۔

    بینچ کے سربراہ نے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ کیا انھیں اس بینچ کی تشکیل پر اعتراض ہے جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ انھیں ذاتی حثیت میں اس بینچ کی تشکیل پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ یہ معاملہ پاکستان بار کونسل کو بھیجیں گے تاکہ جو وکلا عدالتوں کو سکینڈلائزڈ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لائسنس کو معطل کیا جاسکے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے اپنے ابتدائی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمشین نے 15 فروری کو ٹربیونلز کی تشکیل کے لیے تمام ہائی کورٹس کو خط لکھے تھے جس میں لاہور ہائی کورٹ نے دو ججز کے نام بھیجے تھے جو کہ الیکشن کے معاملات کو دیکھ سکیں۔

    انھوں نے کہا کہ اس اتنے بڑے صوبے کے لیے دو ٹربیونلز الیکشن کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ناکافی تھے۔ الیکشن کمشین کے وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ میں صدارتی آرڈیننس کے تحت ترمیم کے بعد ریٹائرڈ ججز کی سربراہی میں الیکشن ٹربیولز بنائے تھے۔

    چیف جسٹس نے دوران سماعت سوال اٹھایا کہ کیا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس الیکشن کمیشن کے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونلز تشکیل دے سکتے ہیں؟

    انھوں نے کہا کہ بادی النظر میں ٹربیونلز کی تشکیل سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن کے حکام کے درمیان بامقصد مذاکرات نہیں ہوئے۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کے حل کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن کے حکام کے درمیان بامقصد مذاکرات ضروری ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کے نام کی منظوری جوڈیشل کمیشن نے دے دی ہے اور اب یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد اور نئے چیف جسٹس کا اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد مشاورت کا عمل آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

    بینچ کے سربراہ نے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ اگر چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر مشاورت کریں تو کیا کسی کو اعتراض ہونا چاہیے جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ اسے چیف جسٹس کا نام مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے اور ایسے حالات میں اسے مشاورت نہیں کہتے اور الیکشن کمیشن کا رویہ جوڈیشل سسٹم پر حملہ ہے۔

    بینچ میں موجود جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کیسے چیف جسٹس کے بھیجے ہوئے ناموں کو مسترد کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بطور چیف جسٹس انھوں نے جو نام دیے وہ قبول کرلیے گئے اور پنجاب میں الیکشن کمیشن نے کیوں مسئلہ بنایا ہوا ہے؟

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ چیف جسٹس سے بات کر رہے ہیں کسی سیکشن افسر سے نہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن ہائی کورٹ کا حکم نہ مانے تو ان پر توہین عدالت لگے گی۔

  12. افغانستان دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرے تاکہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو: شہباز شریف

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ ’خطے کے روشن مستقبل کے لیے ہمیں جغرافیائی،سیاسی محاذ آرائی سے خود کو آزاد کرنا ہوگا۔‘

    شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ مملکت کی کونسل کے آستانہ میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے ترقی وخوشحالی کی منزل کے حصول کی جانب گامزن ہیں۔

    پی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے تجویز دی کہ ایس سی او ترقیاتی منصوبوں کے لیے متبادل فنڈنگ کا طریقہ کاروضع کرے۔ ہمارے چیلنجزمشترکہ ہیں،ہمیں مل کر ترقی وخوشحالی کے لیے کام کرنا ہے۔

    دہشت گردی کوخطے کا مشترکہ چیلنج قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔۔ افغان عبوری حکومت کے ساتھ بامعنی بات چیت کرنا ہوگی تاکہ وہاں کے عوام کے مسائل حل ہوں۔

    ’افغانستان دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرے تاکہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔‘

    انھوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے موجود ہیں ان پر عملدر آمد یقینی بنانا ہوگا۔

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے آئندہ سال کے لیے صدرشی چن پنگ کو ایس سی او کی چیئرمین شپ پرمبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ایس سی او خطے کے عوام کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

  13. سُنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست میں سیکریٹری داخلہ اور دیگر کو نوٹسز جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سُنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکلوانے کی درخواست کی سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ کی جانب سے وکیل سید علی بخاری عدالت میں پیش ہوئے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید احسن رضا کو روسٹرم پر بلا لیا او کہا کہ آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہ باہر جا کر واپس نہیں آئیں گے؟

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس میں مزید کہا کہ ’سیاسی لیڈر ہیں باہر گئے تو واپس آ جائیں گے۔ صرف تنگ کرنے کیلئے نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے؟

    چیف جسٹس عامر فاروق نے سیکریٹری داخلہ اور دیگر فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

  14. عمران خان کی اڈیالہ جیل میں بغیر مداخلت ملاقات کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام فریقین سے آئندہ ہفتے جواب طلب کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں بغیر مداخلت ملاقات کی درخواست پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام فریقین سے آئندہ ہفتے تک جواب طلب کر لیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی۔ عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں موقف اپنایا کہ جیل کے انتظامی معاملات میں انٹیلی ایجنسیز کے میجر اور کرنل کی مداخلت کو روکا جائے۔

    درخواست کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو پارٹی رہنماؤں سے بغیر مداخلت ملاقات کی اجازت دی جائے۔

    عدالت نے سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری دفاع، سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، اور محکمہ داخلہ پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے اور تمام فریقین سے آئندہ ہفتے تک جواب طلب کر لیا۔

    کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔

    یاد رہے کہ بدھ کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بغیر مداخلت جیل ملاقاتوں کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی تھی

    عمران خان کی بغیر مداخلت جیل ملاقاتوں کے حوالے سے گزشتہ روز ان کے وکیل شعیب شاہین نے عدالت کے اعتراضات دور کرتے ہوئے بتایا تھا کہ درخواست میں میجر یا کرنل کو فریق نہیں بنایا گیا بلکہ وزارت دفاع کو فریق بنایا ہے۔

    عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے عدالت کے رو برو بتایا تھا کہ درخواست کے ساتھ سابقہ عدالتی احکامات بھی ساتھ منسلک کر دیے گئے ہیں۔

  15. باجوڑ میں ریموٹ کنٹرول دھماکے میں سابق سینیٹر ہدایت اللہ سمیت پانچ افراد ہلاک

    باجوڑ میں ریموٹ کنٹرول دھماکے میں سابق سینیٹر ہدایت اللہ سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق باجوڑ کے علاقے ڈمہ ڈولہ میں ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے دھماکہ کیا گیا۔

    پولیس نے بتایا کہ دھماکے میں سابق سینیٹر ہدایت اللہ کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں کے نتیجے میں ان کی گاڑی تباہ ہو گئی اورسابق سینیٹر سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

    سابق سینیٹر کے ہمراہ ہلاک ہونے والے افراد میں ملک عرفان، ملک نذرالدین شامل ہیں۔

    پولیس نے بتایاکہ ہداہت اللہ پی کے 22 میں اپنے بھتیجے کی انتخابی مہم میں ڈمہ ڈولہ گئےتھے اور انتخابی مہم کے بعد خار واپسی پر ہدایت اللہ کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ہدایت اللہ سنہ 2012 سے 2018 اور 2018 سے 2024 تک آزاد حیثیت سے سینیٹر رہ چکے ہیں۔

    سینیٹر شیری رحمان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’سابق سینیٹر ہدایت اللہ کی بم دھماکے میں وفات کی خبر سن کر دلی افسوس ہوا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ انتہائی دکھ اور تشویش کا باعث ہے۔

    ’سینیٹر ہدایت اللہ کے خاندان سے دلی ہمدردی ہے۔ سینیٹر ہدایت اللہ نے ایوان میں ہمیشہ سابق فاٹا کے مسائل کو اجاگر کیا۔ قبائلی علاقوں کو ایک مظبوط آواز سے محروم کیا گیا ہے۔‘

    شیری رحمان کے مطابق ’پیپلز پارٹی سینیٹر ہدایت اللہ کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی میں کھڑی ہے اور ہم دہشت گردی کے خاتمے اور انصاف کے مطالبے میں ان کے ساتھ ہیں۔‘

  16. پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات جیو پولیٹیکل صورت حال سے متاثر نہیں ہوں گے: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات جیو پولیٹیکل صورت حال سے متاثر نہیں ہوں گے نہ ہی کسی دوسرے ملک کی وجہ سے پاک روس تعلقات پر کوئی منفی پڑے گا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمر پوتن کے درمیان آستانہ میں ملاقات ہوئی ہے جس میں انھوں نے روسی صدر پوتن کو دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے۔

    روسی صدر سے ملاقات کے دوران خطاب میں شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان کے روس کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل کے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ اور ایس سی او پلس کے دو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے آستانہ میں موجود ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ روس کے ساتھ تجارت کو مزید فروغ دے کر ایک ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔

    دوسری جانب روسی صدر پوتن نے وزیر اعظم شہباز شریف سے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان بہترین تعلقات ہیں، تجارتی روابط کی بدولت دوطرفہ تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے، توانائی اور زراعت کے شعبوں میں ہم اپنا تعاون بڑھا سکتے ہیں۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم کا نور سلطان نظر بائیف انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچنے پر قزاقستان کے وزیر اعظم اور دیگر نے استقبال کیا تھا۔

  17. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • بلوچستان کے ضلع آواران میں ایک ہی خاندان کے پانچ بچے بارش کی پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے بارے میں حکومت بلوچستان نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر آواران انجنیئر عائشہ زہری نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ بدھ کو تحصیل جھائو کے علاقے سرمستانی پٹ میں پیش آیا۔
    • اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے جبری طور پر لاپتا افراد کے مقدمے میں سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف سیکریٹری دفاع، چیف کمشنر اسلام آباد اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کی جانب سے دائر کی گئی اپیلوں کو خارج کرتے ہوئے سنگل بینچ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
    • اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کا پیمرا کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
    • اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج گل حسن اورنگزیب نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتہ پتا افراد کے کمیشن نے اگر کارروائی نہیں کرنی ہوتی تو پروڈکشن آرڈر کیوں جاری کیے جاتے ہیں۔ جسٹس حسن اورنگزیب نے سوال کیا کہ اگر کارروائی نہیں کرنی ہوتی تو کمیشن پھر پروڈکشن آرڈر کیوں جاری کرتا ہے؟ جس پر رجسٹرار کمیشن نے کہا کہ کمیشن نے ساڑھے 10 ہزار میں سے ساڑھے سات ہزار کیس نمٹائے ہیں
    • اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی و دیگر ملزمان کو بری کردیا ہے۔ اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا ہے۔
    • سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشری بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت میں ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کہا ہے کہ کوشش ہو گی کہ آٹھ جولائی کو اپیلوں پر سماعت مکمل کر لیں۔
  18. بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    اس لائیو پیج میں پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کے حوالے سے تازہ معلومات شامل کی جائیں گی۔

    تین جولائی کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔