گذشتہ ہفتے امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جنسی
مجرم جیفری ایپسٹین کے متعلق 30 لاکھ صفحات، ایک لاکھ 80 ہزار تصاویر، اور دو ہزار
ویڈیوز منظر عام پر لائی گئیں۔
ان دستاویزات کی اشاعت نے امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ایک بار
پھر ہلچل مچا دی ہے۔
ایپسٹین نے میرے خالف سازش کی تھی: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ محکمہ انصاف کی
جانب سے جاری کردہ دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے ایپسٹین نے ان کے خلاف سازش کی تھی۔
اوول آفس میں
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین اور مصنف مائیکل وولف نے ’ڈونلڈ
ٹرمپ کو الیکشن ہروانے کی سازش کی تھی--- تو اس سے واضح ہے، میرا اس آدمی سے کوئی تعلق
نہیں تھا۔‘
اس سے قبل ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام نے لکھا ہے
کہ وہ جیفری ایپسٹین کے قریب نہیں تھے۔
ان کا مزید کہنا
تھا کہ وہ ’کبھی ایپسٹین کے جزیرے پر نہیں گئے۔‘
بل اور ہیلری کلنٹن کا کانگریس کے سامنے پیش ہونے کا اعلان
سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے جیفری ایپسٹین کے متعلق کانگریس کی تحقیقات میں گواہی دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
گذشتہ کئی ماہ سے دونوں ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر رہے تھے۔ آئندہ چند دنوں میں کانگریس میں بل اور ہیلری کی جانب سے کمیٹی کے سامنے پیشی سے انکار پر ان کے خلاف مجرمانہ توہین کی کارروائی پر رائے شماری ہونی تھی۔
بل کلنٹن جیفری ایپسٹین کو جانتے تھے تاہم ان کا موقف رہا ہے کہ وہ ان کے جنسی جرائم سے لاپتا تھے اور انھوں نے دو دہائی قبل ہی ایپسٹین سے متعلقات منقطع کر لیے تھے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے شائع کردہ ایپسٹین کے جزیرے کی تصاویر میں سے ایک میں بل کلنٹن ایک سوئمنگ پول میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک اور تصویر میں انھیں ایک ہاٹ ٹب میں اپنے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کر لیٹے دیکھا جا سکتا ہے۔
اینڈریو کی ایپسٹین جزیرے پر تصویر اور سابقہ اہلیہ کا دی مڈرز آرمی شروع کرنے کے لیے ایپسٹین سے مشورہ
برطانیہ کے شاہ چارلس کے چھوٹے بھائی اینڈریو اور ان کی سابقہ بیوی سارہ فرگوسن جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے تنازعات کی زد میں رہے ہیں۔
نئی ایپسٹین فائل میں اینڈریو کی ایک تصویر بھی شامل ہے جس میں وہ زمین پر لیٹی ایک خاتون کے اوپر گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ سنہ 2022 میں اینڈریو سے ان کے فوجی اور شاہی اعزازات واپس لے لیے گئے تھے۔
اس کے علاوہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ فائلز کے مطابق سارہ فرگوسن جیفری ایپسٹین کے ساتھ اس بھی وقت رابطے میں تھیں جب وہ ایک نابالغ سے جنسی تعلقات استوار کرنے پر جیل میں تھے۔
نئی دستاویز کے مطابق، 14 جون 2009 کو ایک ’سارہ‘ کی جآنب سے ایپسٹین کو بھیجی گئی ایک ای میل میں دی مڈرز آرمی نامی کمپنی شروع کرنے کے متعلق مشورہ مانگا گیا تھا۔ ’پوری دنیا کی ماؤں کی آواز اٹھانے میں مدد کے لیے‘ قائم کی گئی کمپنی سارہ مارگریٹ فرگوسن کے نام پر درج ہے۔
بی بی سی نے فرگوسن کا موقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ ایپسٹین فائلوں میں نام آنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ کوئی غلط کام کیا گیا ہے۔
نئی ’ایپسٹین فائلز‘ میں مودی کا ذکر
انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ محکمہ انصاف کی جانب سے جاری نئی دستاویزات میں شامل ایک ای میل میں جیفری ایپسٹین نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا بھی ذکر کیا ہے۔
کانگریس کا دعویٰ ہے کہ جیفری ایسپٹین جو کہ ایک سیریل ریپسٹ، بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کے مجرم اور انسانی سمگلر ہیں، اُنھوں نے نو جولائی 2017 کی ایک ای میل میں لکھا کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی میرے مشورے کے مطابق اسرائیل گئے، امریکی صدر کے فائدے کے لیے وہاں ناچا گایا، اس سے مقصد پورا ہو گیا۔‘
تاہم، انڈیا کی وزارت خارجہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ سنہ 2017 کو وزیر اعظم کا اسرائیل کا سرکاری دورہ ہی واحد حقیقت ہے۔ اس کے علاوہ ’ای میل کا متن ایک مجرم کی بے کار بکواس کے علاوہ کچھ نہیں۔‘