یونان میں سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والی امدادی کارکن کے قتل کے شبہے میں گرفتار افغان نژاد باکسر کو ایتھنز کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
الزبتھ جین راس کی لاش 18 جولائی کو ایتھنز میں ایک متروک عمارت سے ملنے والے سوٹ کیس سے برآمد ہوئی تھی۔ وہ چند روز قبل لاپتا ہوئی تھیں اور ان کے اہلِ خانہ نے ان کی گمشدگی کی اطلاع دی تھی۔
26 سالہ شریف احمدزئی، جو افغانستان سے تعلق رکھتے ہیں، کو نجی عدالتی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ انھیں دانستہ قتل، ڈکیتی اور اسلحے سے متعلق جرائم کے الزامات کا سامنا ہے۔
عدالت میں پیشی کے دوران احمدزئی نے میڈیا یا عدالت کے سامنے کوئی بیان نہیں دیا۔ مقدمے کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی ہے، جب ان پر باضابطہ فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
سماعت کے لیے احمدزئی کو سیاہ شیشوں والی ایک گاڑی میں عدالت لایا گیا۔ ایک گھنٹے سے زائد سماعت کے بعد انھیں دوبارہ پولیس کی کڑی نگرانی میں عدالت سے واپس لے جایا گیا۔ اس موقع پر ان کا سر جھکا ہوا تھا جبکہ ساتھ موجود پولیس اہلکاروں نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے۔
پولیس کے مطابق ایڈنبرا سے تعلق رکھنے والی الزبتھ راس، جنھیں اہلِ خانہ اور دوست لیزا کے نام سے جانتے تھے، ایتھنز میں قائم ایک پناہ گزین امدادی تنظیم کے ساتھ رضاکارانہ خدمات انجام دے رہی تھیں۔
وہ 26 جون کو یونان پہنچی تھیں اور 10 جولائی تک پیریاس کے علاقے کیراتسینی میں مقیم رہیں۔ ان کی لاش 18 جولائی کو ایتھنز کے کیپسیلی ضلع سے برآمد ہوئی۔
ابتدائی فارنزک رپورٹ میں موت کی وجہ واضح نہیں ہو سکی تھی، تاہم بعد ازاں تفصیلی معائنے میں حکام نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ’واضح طور پر ایک مجرمانہ فعل‘ تھا اور غالب امکان ہے کہ موت دم گھٹنے سے واقع ہوئی۔
بی بی سی کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق شریف احمدزئی 15 سال کی عمر میں یتیم ہونے کے بعد افغانستان سے نکل گئے تھے۔ وہ ایران اور ترکی کے راستے یونان پہنچے، جہاں بعد میں ان کی ملاقات اپنی امریکی اہلیہ سے ہوئی۔ دونوں نے مل کر پناہ گزینوں کی مدد کے لیے ایک فلاحی ادارہ بھی قائم کیا تھا۔
احمدزئی نے رواں سال یونان کی سپر لائٹ ویٹ باکسنگ چیمپئن شپ بھی جیتی تھی۔
جنوب مشرقی اٹیکا کے پولیس افسران کی یونین کے سربراہ جارج کالیاکمانیس نے کہا ہے کہ امکان ہے کہ راس اور احمدزئی کی ملاقات فلاحی سرگرمیوں کے دوران ہوئی۔
انھوں نے بتایا کہ تفتیش کار یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا احمدزئی کے پاس اس اپارٹمنٹ کی چابی تھی جہاں راس قیام پذیر تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسی ویڈیو موجود ہے جس میں ایک شخص، جس کی شناخت احمدزئی کے طور پر کی گئی ہے، ایک سوٹ کیس اٹھائے ہوئے دکھائی دیتا ہے اور شبہ ہے کہ اسی سوٹ کیس میں خاتون کی لاش موجود تھی۔
تفتیش کاروں کے مطابق ملزم کی اہلیہ کے زیرِ استعمال لوکیشن شیئرنگ ایپ سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس فلیٹ کے قریب موجود تھے جہاں راس کے قتل کا شبہ ہے۔
کالیاکمانیس کے مطابق احمدزئی نے لاش منتقل کرنے کا اعتراف کیا ہے، تاہم انھوں نے قتل کے الزام کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھیں راس باتھ روم میں مردہ حالت میں ملی تھیں۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر مقتولہ کا موبائل فون اور بینک کارڈ اپنے قبضے میں لیا اور ان کے اہلِ خانہ اور دوستوں کو پیغامات بھیج کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ زندہ ہیں۔
حکام کے مطابق مقتولہ کے بینک کارڈ سے تقریباً 10 ہزار یورو کی رقم بھی نکالی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش میں ملزم کی اہلیہ کے مبینہ جرم میں ملوث ہونے یا پیشگی علم ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔