آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تھائی لینڈ: بینکاک کے مضافات میں ایک سکول میں فائرنگ، کم از کم پانچ اساتذہ ہلاک

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے مضافات میں ایک سکول میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق مبینہ حملہ آور، نویں جماعت کا 14 سالہ طالب علم، وہ بھی واقعے کے بعد بھی مردہ پایا گیا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کے قریب دو دھماکوں کی اطلاع: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن

    یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن (یو کے ایم ٹی او) نے اعلان کیا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز میں عمانی ساحل سے 9 ناٹیکل میل جنوب مشرق میں ایک سمندری واقعے کی تاخیر سے اطلاع موصول ہوئی ہے۔

    اس رپورٹ کے مطابق آئل ٹینکر کے کپتان نے اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے بحری جہاز کے قریب پانی میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جہاز اور عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور ابھی تک کسی ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    بدھ، 5 اگست کو، تنظیم نے یہ بھی اعلان کیا کہ اسے یمن کی بندرگاہ مکاح سے 9 ناٹیکل میل (تقریباً 16 کلومیٹر) دور ایک جہاز کی ایک اور رپورٹ موصول ہوئی ہے۔

    اس کے مطابق بحیرہ احمر میں ایک الکا جہاز سے ٹکرا گیا جس سے آگ لگ گئی تاہم عملہ اور عملہ سب محفوظ ہیں اور انہیں بچا لیا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق جہاز اب ڈوب چکا ہے۔اس واقعے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    بدھ کو یمن کے ایران سے منسلک حوثی باغیوں نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا۔

    حوثیوں کے مطابق سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے یہ آٹھویں بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔

  2. ایران میں ایک حلقہ مذاکرات کا جبکہ دوسرا جنگ جاری رکھنے کا حامی ہے: جی ڈی وینس

    امریکہ کے نائب صدر جی ڈی وینس نے فاکس نیوز سے گفتگو میں ایران کے ساتھ جنگ کے بارے میں اپنے ملک کے عوام کی ناراضی سے متعلق تنقیدوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ ایرانی حکومت کے اندر ایک حلقہ مذاکرات کا خواہش مند ہے، جبکہ ایک سخت گیر حلقہ جنگ جاری رکھنے کا حامی ہے۔

    اسلام آباد مذاکرات کے دوران امریکی مذاکراتی وفد کی قیادت کرنے والے وینس نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ کشیدگی اور محاذ آرائی کے عمل میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، تاہم وہ یقین رکھتے ہیں کہ آخرکار ’سب کچھ امریکی عوام کے حق میں ہوگا۔‘

    ادھر بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ محمد باقر قالیباف آئندہ چند روز میں پاکستان کا ممکنہ دورہ کر سکتے ہیں۔ ایران نے سرکاری طور پر ان رپورٹس پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

    قالیباف تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایران کے چیف مذاکرات کار تھے، جن کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے۔

    تاہم دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ کشیدگی اور تصادم شروع ہونے کے بعد یہ مفاہمتی یادداشت عملاً بے اثر ہو گئی۔

  3. وہ کوئی ڈیل نہیں کریں گے، انھیں کوئی پچھتاوا نہیں: عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان خان کا سی این این کو انٹرویو

    پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی رہنما عمران خان کے بیٹوں نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اپنے والد سے سات ماہ سے ملاقات نہیں ہوسکی اور وہ ان کی صحت کے لیے فکر مند ہیں۔

    قام اور سلیمان خان کا کہنا تھا کہ ’آخری مرتبہ ہماری ان سے مارچ میں فون پر بات ہوئی۔ اس کے بعد ان کے خاندان کو ان سے ملنے کی یا بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عدالت کے مطابق ہمیں ان سے ہر دو ہفتے میں بات کرنی ہے۔ لیکن اس مرتبہ یہ طویل ترین عرصہ ہو گیا ہے جب ان سے بات نہیں ہوئی۔ ‘

    عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان کا کہنا تھا کہ انھیں کسی نامعلوم وجہ سے پاکستان کا ویزا جاری نہیں کیا جا رہا کہ وہ پاکستان جا کر اپنے والد سے ملاقات کرسکیں۔

    انھوں نے کہا ’ہمارے پاکستانی پاسپورٹ ایکسپائر ہو چکے ہیں اور ویزا جاری نہ کیے جانے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آ رہی۔‘

    ان کا کہنا تھا ان کے والد کا علاج قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے جو ’تشدد کی ہی ایک شکل ہے۔‘

    عمران خان کے خلاف قائم مقدمات اور ان کی سزا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے والد پاکستان کے نظام میں بد عنوانی سے بہت خائف تھے۔ وہ ہمیں پانچ اور سات سال کی عمر کے بچوں کو بدعنوانی کے خلاف سمجھاتے تھے تو یہ دیکھنا بہت ہی تکلیف دہ ہے کہ خود انھیں بد عنوانی کے الزام میں قید کیا گیا ہے۔‘

    عمران خان کے بیٹوں کا کہنا تھا کہ ’یہ ان کے کروڑوں ووٹرز اور حامیوں کے لیے بھی غلط ہے کہ انھیں جیل کی سلاخوں کے پیھچے قید کیا گیا ہے۔‘

    حکام کے ساتھ آزادی کے بدلے کسی ممکنہ ڈیل سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انھوں نے کہا کہ ان کے والد کسی قسم کی ڈیل نہیں کریں گے۔ ’وہ جسمانی طور پر کمزور ہو چکے ہیں لیکن وہ ذہنی طور پر بہت طاقتور انسان ہیں‘۔

    اس سوال پر کے کیا انھیں اپنے کسی اقدام کا پچھتاوا ہو گا؟

    عمران خان کے بیٹوں کا کہنا تھا کہ ان کے والد نے آج تک جو کچھ کیا انھیں اس کا کوئی پچھتاوا نہیں۔ ’ہم نے جب بھی ان سے بات کی اس سے کبھی پچھتاوے کا تاثر نہیں ملا۔‘

  4. عمران خان، بشری بی بی کو انصاف اور ملاقاتوں کی اجازت دی جائے، مطالبات نہ مانے گئے تو 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے: سہیل آفریدی

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان تحریکِ انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کا پہلا مطالبہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کے مقدمات کو سماعت کے لیے مقرر کر کے انھیں انصاف فراہم کرنا ہے، جبکہ دوسرا مطالبہ عمران خان سے ان کے وکلا، ڈاکٹروں، اہلِ خانہ اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتوں کی بحالی ہے۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ’اگر ان مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو 27 ستمبر کو ملک بھر سے کارکن اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ ان کے بقول، پارٹی آئینی اور جمہوری حق کے طور پر پرامن احتجاج کرے گی۔‘

    اپنی تقریر میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عمران خان کی رہائی، عدالتی نظام، ملکی معیشت، امن و امان اور موجودہ حکومت سے متعلق بھی تنقید کی اور کہا کہ ’ان کی جماعت اپنے مطالبات کے لیے سیاسی اور قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔‘

  5. حوثیوں کا دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان

    یمنی حوثیوں نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ’دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے اور ساتھ ہی انھوں نے سعودی عرب کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔‘

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق گزشتہ ماہ کشیدگی میں اضافے کے بعد سے یہ آٹھواں اور نواں سعودی آئل ٹینکر ہے جسے گروپ نے نشانہ بنایا ہے۔

    دوسری جانب سعودی حکام نے تاحال ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

    یحییٰ سریع نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ ’حوثیوں نے شمالی بحیرۂ احمر میں ینبع کے ساحل کے قریب سعودی آئل ٹینکر وفا کو متعدد بیلسٹک میزائلوں سے کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا۔‘

    ایک اور بیان میں انھوں نے کہا کہ ’حوثیوں نے خلیجِ عدن میں سعودی آئل ٹینکر ڈیزی پر بھی ایک بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا۔‘

    حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ ’وہ شمالی بحیرۂ احمر میں اپنے حملے مزید تیز کریں گے۔‘ ان کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب نے ان حملوں کے بعد اپنے آئل ٹینکروں کا راستہ تبدیل کرتے ہوئے جنوبی روٹ کے بجائے شمالی بحیرۂ احمر کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

    ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع سعودی بندرگاہ ینبع، سعودی تیل کی برآمدات کا اہم ترین مرکز بن گئی ہے، جبکہ باب المندب عالمی منڈیوں تک خام تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

  6. بلوچستان کے ضلع چمن میں دستی بم حملے میں ایک مزدور ہلاک، ایک زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چمن میں دستی بم حملے میں ایک مزدور ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

    کسی پشتون آبادی والے علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں ہلاک ہونے والے مزدور کا تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ سے تھا۔

    ایک اور واقعے میں ضلع لسبیلہ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی لاش ملی جو کہ پولیس حکام کے مطابق اس علاقے میں قلفی فروخت کرتا تھا۔

    دونوں واقعات کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    چمن میں مزدوروں پر حملے کا واقعہ کہاں پیش آیا؟

    مزدوروں پر حملے کا واقعہ چمن شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر پرانے چمن کے علاقے میں پیش آیا۔

    چمن پولیس کے ڈی ایس پی اشفاق مغل نے بتایا کہ اس علاقے میں مزدور سو رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان پر دستی بم سے حملہ کیا جس میں ایک مزدور ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

    پولیس اہلکار کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے مزدوروں کا تعلق سندھ سے ہے جو کہ یہاں شاہراہ کی تعمیر کے منصوبے پر کام کررہے تھے۔

    افغانستان سے ملحقہ اس سرحدی ضلع کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔

    بلوچستان کے بلوچ آبادی والے علاقوں میں تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے غیر مقامی اور مقامی مزدوروں پر حملوں کے واقعات طویل عرصے سے پیش آرہے ہیں۔

    اگرچہ چمن میں سکیورٹی فورسز پر حملوں سمیت دیگر سنگین بدامنی کے واقعات وقتاً فوقتاً پیش آتے رہے ہیں لیکن مزدوروں پر حملہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

    اس واقعے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    لسبیلہ میں لودھراں سے تعلق رکھنے والے مغوی شہری کی لاش برآمد

    پنجاب کے شہر لودھراں سے تعلق رکھنے والے ایک شہری احمد شاہ کی لاش لسبیلہ سے ملی ہے۔

    مقامی پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ احمد شاہ تین چار ماہ قبل یہاں آکر قلفی فروخت کرنا شروع کی تھی۔

    وہ 31 جولائی کو موٹر سائیکل پر لسبیلہ شہر کے نواحی علاقے میں قلفی فروخت کرنے نکلے لیکن رات تک واپس نہیں آئے جس پر پولیس نے ان کے اغوا کا مقدمہ درج کرلیا۔

    تاہم گزشتہ روز پولیس کو ایک لاش ملی جس کی شناخت مغوی احمد شاہ کے نام سے ہوئی۔

    انھیں نامعلوم افراد نے اغوا کرنے کے بعد قتل کرکے ان کی لاش پھینک دی تھی۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ سی ٹی ڈی اس سلسلے میں مزید تحقیقات کررہی ہے۔

  7. ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق عارضی بحری راستے پر معاہدے کے قریب: ایرانی نائب وزیر خارجہ

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ ’ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک نئے عارضی بحری راستے کے حوالے سے اصولی اتفاقِ رائے ہو چکا ہے اور معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔‘

    سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو دیے گئے انٹرویو میں کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان بحری آمدورفت کے داخلی اور خارجی راستوں کے نقشے اور اس سے متعلق دیگر تکنیکی امور پر تقریباً تمام معاملات طے پا چکے ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’زیر غور نیا راستہ ایک عارضی انتظام ہوگا۔ اگر یہ مفاہمت عملی شکل اختیار کر لیتی ہے تو آبنائے ہرمز میں اس وقت استعمال ہونے والے شمالی اور جنوبی عارضی راستے بند کر دیے جائیں گے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’شمالی راستہ جزیرہ لارک کے قریب جبکہ جنوبی راستہ عمان کی علاقائی سمندری حدود میں واقع ہے اور دونوں کو عارضی بنیادوں پر قائم کیا گیا تھا۔‘

    کاظم غریب آبادی کے مطابق ’نئے مجوزہ راستے کا ایک بڑا حصہ ایرانی سمندری حدود جبکہ باقی حصہ عمان کی سمندری حدود میں ہوگا، جس کے تحت تجارتی جہاز آمد و رفت کے دوران ایرانی علاقائی پانیوں سے بھی گزریں گے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’اس حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات تین ہفتوں تک جاری رہے۔‘

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ’پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا امریکہ اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں پر عمل کرنے کے لیے واقعی تیار ہے یا نہیں۔‘

    اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کو آبنائے ہرمز کھولنے کی شرط قرار دینے سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک ضروری شرط ضرور ہے، تاہم اکیلے یہی کافی نہیں۔‘

    ان کے بقول ’امریکہ کی جانب سے وعدہ خلافی اور معاہدوں کی خلاف ورزی جیسے مسائل بھی موجود ہیں، جن کا قابلِ قبول حل تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ باہمی اعتماد بحال ہو سکے۔‘

  8. امریکہ اور برطانیہ کا آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے عزم کا اعادہ

    امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے واشنگٹن میں ملاقات کے دوران ایران سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔

    محکمۂ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے بتایا کہ ’دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا تیار کرنے سے روکنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔‘

    ترجمان کے مطابق ملاقات میں یورپ کے سکیورٹی کے قیام میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

    ادھر برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ’واشنگٹن میں اپنی ملاقاتوں کے دوران وہ روس کے خلاف یوکرین کی مسلسل حمایت، غزہ میں سنگین انسانی صورتحال اور فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان دیرپا امن کے لیے جاری کوششوں پر بھی بات کریں گے۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق واشنگٹن میں صحافیوں نے ایڈ ملی بینڈ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ماضی میں کی جانے والی ان کی تنقید کے بارے میں بھی سوال کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ اب بھی ٹرمپ کو ’نسل پرست اور خواتین مخالف‘ سمجھتے ہیں، تو برطانوی وزیر خارجہ نے اس سوال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

  9. امریکی محکمۂ خزانہ نے عراقی فضائی کمپنی کو اپنی پابندیوں کی فہرست سے خارج کر دیا

    امریکی محکمۂ خزانہ نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ روابط کے باعث عائد پابندیوں کا سامنا کرنے والی عراقی ایئرلائن فلائی بغداد پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔

    محکمے کے مطابق فلائی بغداد اور اس سے وابستہ دیگر کمپنیوں، فلائی بغداد ایئرلائنز اور عراق ایکسپریس، کو پابندیوں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس سے مبینہ روابط کے باعث پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ کمپنی کے دو طیاروں پر عائد پابندیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔

    امریکی محکمۂ خزانہ نے تاحال اس فیصلے کی کوئی باضابطہ وجہ بیان نہیں کی۔

    فلائی بغداد اور اس کے طیاروں پر ماضی میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق امریکی پابندیوں کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔

  10. اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان میں حملے، ایک شخص ہلاک 11 زخمی

    لبنان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 11 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق حملے میں جنوبی لبنان کے شہر تبنین کے قبرستان میں واقع جنازہ گاہ کی چھت کو بھی نقصان پہنچا۔ ادارے نے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں جنوبی لبنان میں نئی کارروائیاں کی ہیں۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

  11. جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی پر اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حملے

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے حزب اللہ کی جانب سے مبینہ ’جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی‘ کے جواب میں جنوبی لبنان میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان روم میں مذاکرات جاری ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کے ردِعمل میں جنوبی لبنان میں مخصوص اہداف پر کارروائی کی گئی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیلی فوج نے علاقے کے ایک گاؤں کے مکینوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

    دوسری جانب، ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ لبنانی حکومت کے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے اور اسے لبنانی آئین کے منافی قرار دیتی ہے۔

    حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو قبول نہیں کریں گے۔

    مبصرین کے مطابق لبنان میں جنگ بندی کو ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مفاہمتی عمل کی پہلی اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔

  12. لاہور اور کراچی میں پی ٹی آئی کا احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج، متعدد کارکنان حراست میں

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے آج لاہور اور کراچی میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لاٹھی چارج کیا اور متعدد کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

    کراچی میں پریس کلب کے اطراف پی ٹی آئی کارکنان نے احتجاج کیا، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور متعدد کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

    لاٹھی چارج کے بعد مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا جبکہ کئی افراد کو گرفتار کرکے مختلف مقامات پر منتقل کیا گیا۔

    دوسری جانب لاہور میں ایوانِ عدل کے باہر پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران پولیس نے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔ کارروائی کے دوران متعدد کارکنان کو حراست میں لیا گیا جبکہ رکنِ پنجاب اسمبلی اویس ورک کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق ایوانِ عدل کے باہر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تناؤ کی صورتحال پیدا ہوئی، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے احتجاجی شرکا کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی۔

    ادھر پی ٹی آئی رہنماؤں نے لاہور اور کراچی میں ہونے والی پولیس کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں پرامن احتجاج کے حق پر قدغن اور سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے تاحال ان الزامات پر کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا گیا۔

  13. یمن کے قریب میزائل حملے کا نشانہ بننے والا بحری جہاز ڈوب گیا

    برٹش میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق یمن کی بندرگاہ مخا کے قریب ایک بحری جہاز پر حملے کی تاخیر سے اطلاع موصول ہوئی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بندرگاہ سے تقریباً 9 ناٹیکل میل یعنی 16 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔

    رپورٹ کے مطابق بحیرہ احمر میں ایک میزائل بحری جہاز سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم جہاز کے تمام عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا اور وہ محفوظ ہیں۔

    برٹش میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بتایا ہے کہ متاثرہ جہاز بعد ازاں ڈوب گیا، جبکہ واقعے کی مزید تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔

    اس سے چند گھنٹے قبل ایران سے وابستہ یمنی حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے بحیرہ احمر میں ایک سعودی تیل بردار جہاز کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔

    حوثیوں کے مطابق سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد یہ آٹھواں جہاز ہے جسے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم حوثی فوج کے ترجمان نے حملے کے درست وقت کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

  14. اسحاق ڈار کا القدس اجلاس سے خطاب، فلسطینی ریاست کے قیام پر زور

    اردن کے دارالحکومت عمان میں القدس سے متعلق وزارتی اجلاس میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بالخصوص مشرقی القدس اور مغربی کنارے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

    انھوں نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں مبینہ خلاف ورزیوں، اسرائیلی بستیوں کی توسیع، آبادکاروں کے تشدد اور مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کی مذمت کی۔ اسحاق ڈار نے القدس میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر اردن کی ہاشمی سرپرستی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ مشرقی القدس پر اسرائیل کی کوئی خودمختاری تسلیم نہیں کی جا سکتی۔

    وزیر خارجہ نے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے، تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے پر عمل، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے عرب و اسلامی ممالک کی مشترکہ سفارتی کوششوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

    اسحاق ڈار نے فلسطینی کاز کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کا واحد راستہ ایک آزاد، خودمختار، قابل عمل اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جو جون 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔

  15. فلسطین ایران کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے، ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حماس کے سیاسی بیورو کے نو منتخب سربراہ خلیل الحیاء سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صدر پزشکیان نے گفتگو کے دوران کہا کہ ’فلسطین ایران کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔‘

    خلیل الحیاء کو حال ہی میں حماس کے سیاسی بیورو کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے بعد حماس مسلسل اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا سامنا کر رہی ہے، جن میں تنظیم کے متعدد سینئر رہنما ہلاک ہو چکے ہیں۔

    حماس کے سابق سیاسی بیورو سربراہ اسماعیل ہنیہ دو سال قبل تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے موقع پر ایک حملے میں مارے گئے تھے۔

  16. ایران میں 19 مارچ سے اب تک کم از کم 56 افراد کو سکیورٹی سے متعلق الزامات میں پھانسی دی جا چکی ہے: اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ ایران میں 19 مارچ سے اب تک قومی سلامتی سے متعلق الزامات کے تحت کم از کم 56 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

    انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ سرکاری معلومات کے مطابق پھانسی پانے والوں میں 27 افراد ایسے تھے جن کے مقدمات جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے متعلق تھے۔

    وولکر ترک کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد ایران میں سزائے موت سنانے اور ان پر عملدرآمد کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    انھوں نے ایرانی حکام پر زور دیا کہ تمام سزائے موت پر فوری پابندی عائد کی جائے اور بتدریج اس سزا کے مکمل خاتمے کی جانب پیش رفت کی جائے۔

    دوسری جانب ایران کی عدلیہ کے سربراہ متعدد مواقع پر استغاثہ کے حکام کو ہدایت دے چکے ہیں کہ جنوری کے احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے افراد اور جنگ کے بعد حراست میں لیے گئے ملزمان کے مقدمات میں فوری کارروائی کی جائے اور قانون کے مطابق سزاؤں پر بلا تاخیر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

  17. عمان کے ساتھ معاہدے کا مطلب آبنائے ہرمز کی فوری بحالی نہیں: ایرانی براڈکاسٹنگ کارپوریشن

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے ایک باخبر عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی بحالی سے متعلق عمان کے ساتھ جاری مذاکرات مکمل طور پر ایران اور عمان کے درمیان ہیں اور ان کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں۔

    عہدیدار کے مطابق، اگر امریکہ کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ طے پانے کے باوجود آبنائے ہرمز فوری طور پر نہیں کھولی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت کی بحالی کا انحصار امریکی طرزِ عمل میں تبدیلی اور مبینہ خلاف ورزیوں کے ازالے پر ہوگا۔

    تسنیم نیوز ایجنسی سمیت متعدد ایرانی ذرائع ابلاغ نے سپاہ نیوز کے حوالے سے ایک باخبر عہدیدار کا بیان نقل کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے عمان کے ساتھ معاہدے میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ امریکی مداخلت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں ہیں۔

  18. سوٹ کیس میں ملنے والی لاش کا معمہ، افغان باکسر پر قتل کا مقدمہ, ایتھنز سے بین فلپ اور بی بی سی نیوز سکاٹ لینڈ سے میگن بونر

    یونان میں سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والی امدادی کارکن کے قتل کے شبہے میں گرفتار افغان نژاد باکسر کو ایتھنز کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

    الزبتھ جین راس کی لاش 18 جولائی کو ایتھنز میں ایک متروک عمارت سے ملنے والے سوٹ کیس سے برآمد ہوئی تھی۔ وہ چند روز قبل لاپتا ہوئی تھیں اور ان کے اہلِ خانہ نے ان کی گمشدگی کی اطلاع دی تھی۔

    26 سالہ شریف احمدزئی، جو افغانستان سے تعلق رکھتے ہیں، کو نجی عدالتی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ انھیں دانستہ قتل، ڈکیتی اور اسلحے سے متعلق جرائم کے الزامات کا سامنا ہے۔

    عدالت میں پیشی کے دوران احمدزئی نے میڈیا یا عدالت کے سامنے کوئی بیان نہیں دیا۔ مقدمے کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی ہے، جب ان پر باضابطہ فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

    سماعت کے لیے احمدزئی کو سیاہ شیشوں والی ایک گاڑی میں عدالت لایا گیا۔ ایک گھنٹے سے زائد سماعت کے بعد انھیں دوبارہ پولیس کی کڑی نگرانی میں عدالت سے واپس لے جایا گیا۔ اس موقع پر ان کا سر جھکا ہوا تھا جبکہ ساتھ موجود پولیس اہلکاروں نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے۔

    پولیس کے مطابق ایڈنبرا سے تعلق رکھنے والی الزبتھ راس، جنھیں اہلِ خانہ اور دوست لیزا کے نام سے جانتے تھے، ایتھنز میں قائم ایک پناہ گزین امدادی تنظیم کے ساتھ رضاکارانہ خدمات انجام دے رہی تھیں۔

    وہ 26 جون کو یونان پہنچی تھیں اور 10 جولائی تک پیریاس کے علاقے کیراتسینی میں مقیم رہیں۔ ان کی لاش 18 جولائی کو ایتھنز کے کیپسیلی ضلع سے برآمد ہوئی۔

    ابتدائی فارنزک رپورٹ میں موت کی وجہ واضح نہیں ہو سکی تھی، تاہم بعد ازاں تفصیلی معائنے میں حکام نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ’واضح طور پر ایک مجرمانہ فعل‘ تھا اور غالب امکان ہے کہ موت دم گھٹنے سے واقع ہوئی۔

    بی بی سی کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق شریف احمدزئی 15 سال کی عمر میں یتیم ہونے کے بعد افغانستان سے نکل گئے تھے۔ وہ ایران اور ترکی کے راستے یونان پہنچے، جہاں بعد میں ان کی ملاقات اپنی امریکی اہلیہ سے ہوئی۔ دونوں نے مل کر پناہ گزینوں کی مدد کے لیے ایک فلاحی ادارہ بھی قائم کیا تھا۔

    احمدزئی نے رواں سال یونان کی سپر لائٹ ویٹ باکسنگ چیمپئن شپ بھی جیتی تھی۔

    جنوب مشرقی اٹیکا کے پولیس افسران کی یونین کے سربراہ جارج کالیاکمانیس نے کہا ہے کہ امکان ہے کہ راس اور احمدزئی کی ملاقات فلاحی سرگرمیوں کے دوران ہوئی۔

    انھوں نے بتایا کہ تفتیش کار یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا احمدزئی کے پاس اس اپارٹمنٹ کی چابی تھی جہاں راس قیام پذیر تھیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسی ویڈیو موجود ہے جس میں ایک شخص، جس کی شناخت احمدزئی کے طور پر کی گئی ہے، ایک سوٹ کیس اٹھائے ہوئے دکھائی دیتا ہے اور شبہ ہے کہ اسی سوٹ کیس میں خاتون کی لاش موجود تھی۔

    تفتیش کاروں کے مطابق ملزم کی اہلیہ کے زیرِ استعمال لوکیشن شیئرنگ ایپ سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس فلیٹ کے قریب موجود تھے جہاں راس کے قتل کا شبہ ہے۔

    کالیاکمانیس کے مطابق احمدزئی نے لاش منتقل کرنے کا اعتراف کیا ہے، تاہم انھوں نے قتل کے الزام کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھیں راس باتھ روم میں مردہ حالت میں ملی تھیں۔

    پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر مقتولہ کا موبائل فون اور بینک کارڈ اپنے قبضے میں لیا اور ان کے اہلِ خانہ اور دوستوں کو پیغامات بھیج کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ زندہ ہیں۔

    حکام کے مطابق مقتولہ کے بینک کارڈ سے تقریباً 10 ہزار یورو کی رقم بھی نکالی گئی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش میں ملزم کی اہلیہ کے مبینہ جرم میں ملوث ہونے یا پیشگی علم ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

  19. عمان کے ساتھ معاہدے میں تاخیر کی وجہ ٹرمپ کی دھمکیاں ہیں: ایرانی میڈیا

    ایرانی خبر رساں اداروں، جن میں تسنیم نیوز ایجنسی بھی شامل ہے، نے سپاہ نیوز سے گفتگو کرنے والے ایک باخبر ایرانی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے عمان کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ امریکی مداخلت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں ہیں۔

    اہلکار کے مطابق، ’جب تک امریکی مداخلت اور ایران پر ممکنہ فوجی حملے کا خطرہ برقرار ہے، معاہدے میں پیش رفت مشکل رہے گی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایران ’دھمکیوں اور دباؤ کے ماحول میں کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی اور کھولنے کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے ایران کو سخت انتباہ بھی دیا تھا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’آبنائے بہت جلد کھول دی جائے گی، ورنہ ایران کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کسی بھی صورت آبنائے کو کھول دیا جائے گا۔‘

    ایرانی حکام کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی اہمیت ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

  20. اداکارہ تبو نے ’شخصی حقوق‘ کے تحفظ کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا, مرزا اے بی بیگ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

    بالی وڈ کی معروف اداکارہ تبو، جن کا اصل نام تبسم جمال ہاشمی ہے، نے منگل کے روز اپنے ’شخصی حقوق‘ کے تحفظ کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

    انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنے نام، تصویر، شناختی مشابہت اور شخصیت سے وابستہ دیگر خصوصیات کے مبینہ غیر مجاز استعمال کے خلاف قانونی تحفظ طلب کیا ہے۔

    شخصیت کے حقوق، جنھیں ’پبلسٹی رائٹس‘ بھی کہا جاتا ہے، ایسے حق کو ظاہر کرتے ہیں کہ جس کے تحت کوئی فرد اپنی شناخت یا شخصیت سے مالی یا دیگر فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس میں کسی فرد کا نام، تصویر، آواز، انداز، یا وہ جملے یا حرکات شامل ہیں جو اس سے منسوب ہیں۔

    یہ حقوق کسی شخص کی شناخت کے غلط استعمال یا غیر قانونی تجارتی فائدے سے بچاتے ہیں، اور یہ صرف اس فرد تک محدود ہوتے ہیں۔

    مثلاً، کوئی مشہور شخصیت اپنی شہرت کا فائدہ اٹھا کر کسی چیز کی تشہیر کے بدلے معاوضہ حاصل کر سکتی ہے، لیکن اس کی تصویر کسی اور شخص یا ادارے کو بغیر اجازت استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مختلف ویب سائٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ای کامرس پورٹلز پر ان کی شناخت اور شہرت کو بغیر اجازت استعمال کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔

    تبو کی جانب سے دائر کی گئی یہ درخواست دہلی ہائی کورٹ میں شخصی حقوق کے تحفظ سے متعلق مقدمات کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیپ فیک ویڈیوز اور ڈیجیٹل جعل سازی کے فروغ کے ساتھ ہی معروف شخصیات اور عوامی نمائندے اپنے نام، تصویر، آواز اور دیگر شناختی خصوصیات کے غیر مجاز تجارتی استعمال کے خلاف عدالتی تحفظ حاصل کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر عدالتوں سے رجوع کر رہے ہیں۔

    اس مقدمے کی سماعت جسٹس جیوتی سنگھ نے کی۔ عدالتی خبروں کی ویب سائٹ ’لائیو لا‘ کے مطابق سماعت کے دوران تبو کی جانب سے پیش ہونے والی سینیئر وکیل سواتھی سوکمار کو عدالت نے فریقین کی نئی فہرست جمع کرانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ موجودہ فہرست میں بعض مدعا علیہان کی مکمل اور درست تفصیلات درج نہیں تھیں۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 6 اگست کو مقرر کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ اس سے قبل کرکٹر ابھیشیک شرما اور یووراج سنگھ، کانگریس رہنما ششی تھرور اور آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ و اداکار پون کلیان کے شخصی حقوق کے تحفظ کے احکامات بھی جاری کر چکی ہے۔

    گذشتہ برس بالی وڈ کے بعض بڑے نام اپنی شخصیت کے تحفظ کے لیے سرگرم نظر آئے۔ انھوں نے اپنی ’شخصیت کے حقوق‘ کو قانونی تحفظ دینے کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ ان میں معروف ہدایتکار کرن جوہر، معروف اداکارہ ایشوریہ رائے بچن اور ان کے شوہر اداکار ابھیشیک بچن شامل ہیں۔

    انڈیا میں شخصیت کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی مخصوص قانون موجود نہیں، اس لیے جج حضرات عام قانون (کامن لا) پر انحصار کرتے ہیں، یعنی ایسے قوانین جو عدالتوں کے فیصلوں کی بنیاد پر وقت کے ساتھ بنے ہیں۔

    انڈیا کی صورت حال امریکہ جیسے ممالک سے مختلف ہے، جہاں کچھ ریاستوں میں شخصیت کے حقوق کے تحفظ کے لیے باقاعدہ قوانین موجود ہیں۔ اس معاملے میں کیلیفورنیا کی مثال لی جا سکتی ہے جہاں ہالی وڈ واقع ہے۔

    انڈیا میں یہ حقوق اکثر نظر انداز کیے جاتے ہیں، اور چھوٹے کاروبار یا دکانیں مشہور شخصیات کی تصاویر کو اپنی تشہیر کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

    قانونی فرم ’کے لا‘ کے سینیئر پارٹنر اور وکیل نکھل کرشن مورتی نے بتایا کہ انڈیا میں پہلی بار کسی مشہور شخصیت نے سنہ 2002 میں اپنے شخصیت کے حقوق کے لیے عدالت کا رخ کیا تھا، جب گلوکار دلیر مہندی نے اپنی مشابہت میں بنائے گئے کھلونوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔