یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
سات اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے مضافات میں ایک سکول میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق مبینہ حملہ آور، نویں جماعت کا 14 سالہ طالب علم، وہ بھی واقعے کے بعد بھی مردہ پایا گیا ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
سات اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
تھائی لینڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بینکاک کے مضافات میں ایک سکول میں فائرنگ کے واقعے میں ملوث مبینہ حملہ آور نے اپنے اساتذہ کو نشانہ بنایا ہے جس سے پہلے وہ اپنے دادا دادی کو بھی گولی مار چکا تھا۔
مبینہ حملہ آور نویں جماعت کا 14 سالہ طالب علم بتایا گیا ہے وہ بھی واقعے کے بعد بھی مردہ پایا گیا ہے۔
ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں مختلف حکام کی جانب سے متضاد اعداد و شمار سامنے آ رہے تھے۔ اب وزیرِ صحت پٹانا پرومپات کا کہنا ہے کہ سکول میں پانچ اساتذہ ہلاک ہوئے ہیں۔
اس طرح مجموعی ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہو جاتی ہے، جن میں مبینہ حملہ آور کے دادا دادی اور خود حملہ آور بھی شامل ہیں۔
تھائی لینڈ کے وزیرِ صحت کے مطابق مبینہ حملہ آور نے سکول جانے سے پہلے اپنے دادا دادی کو بھی مبینہ طور پر قتل کر دیا تھا۔ دونوں اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے مضافات میں ایک سکول میں فائرنگ کے واقعے میں ملوث مبینہ حملہ آور نویں جماعت کا 14 سالہ طالب علم، وہ بھی واقعے کے بعد بھی مردہ پایا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والی 9 ملی میٹر پستول حملہ آور کے اس کے دادا کی تھی، جو ایک استاد تھے۔
پولیس نے ابتدا میں کہا تھا کہ سکول میں فائرنگ کے واقعے میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں، تاہم حکام نے اب وضاحت کی ہے کہ اب تک سکول کے اندر چار افراد ہلاک ہوئے ہیں اور یہ تمام اساتذہ تھے۔ مبینہ حملہ آور بھی مردہ پایا گیا ہے۔
اپوزیشن کے ایک رہنما نے تھائی حکام سے ملک میں اسلحہ کنٹرول کے قوانین کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نتھافونگ روئنگپنیاؤت نے فائرنگ کے واقعے کے بعد فیس بک پر ایک پوسٹ میں لکھا ’اگرچہ اس حملے کی وجہ ابھی واضح نہیں ہے، لیکن ایک تعلیمی ادارے میں تشدد کا یہ واقعہ، جو ہمارے معاشرے کی محفوظ ترین جگہوں میں سے ایک ہونا چاہیے، تھائی معاشرے کے لیے ایک واضح یاد دہانی ہے کہ اسلحہ کنٹرول کے اقدامات کا سنجیدگی اور منظم انداز میں جائزہ لیا جائے۔‘
نتھافونگ نے متاثرین کے اہل خانہ سے بھی تعزیت کا اظہار کیا۔
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے مضافات میں ایک سکول میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق مبینہ حملہ آور، نویں جماعت کا 14 سالہ طالب علم، وہ بھی واقعے کے بعد بھی مردہ پایا گیا ہے۔
ایک عینی شاہد کے مطابق مبینہ حملہ آور ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جاتا رہا اور پھر ایک استاد کو گولی مار دی۔
ہنگامی امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ پر بھیجا گیا ہے، جہاں طلبہ اور سکول کا عملہ جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھے گئے۔
زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے سے پہلے طبی عملے نے ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔
حکام نے عوام سے کہا ہے کہ وہ نونتھابوری میں واقع ڈیبسرین سکول کے آس پاس کے علاقے سے دور رہیں۔
ڈیبسرین سکول کی شاخیں پورے تھائی لینڈ میں موجود ہیں اور اسے تعلیمی وقار کے حوالے سے وسیع شہرت حاصل ہے۔
یہ فائرنگ رواں سال فروری میں جنوبی تھائی لینڈ کے ایک سکول میں ہونے والے ایک اور فائرنگ کے واقعے کے بعد پیش آئی ہے۔ اس واقعے نے تھائی لینڈ میں اسلحے کی آسان دستیابی کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے، اور اب یقیناً یہ سوالات دوبارہ سامنے آئیں گے۔
تھائی لینڈ کے وزیرِ اعظم انوتن چارنویراکل نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سکول میں فائرنگ کے واقعے کے متاثرین کے لیے تعزیت کا اظہار کیا۔
انھوں نے کہا ’یہ واقعی بہت برا واقعہ ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مجھے صرف متاثرین کا ہی نہیں بلکہ اس بات کا بھی افسوس ہے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔ ہمارے ملک میں ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟‘
انھوں نے گورنمنٹ ہاؤس میں ایک مختصر گفتگو کے دوران یہ بات کہی۔
انھوں نے مزید کہا ’اسی لیے حکومت (شہریوں کو) آتشیں اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں دیتی۔‘
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد، جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرتا ہے، نے کہا ہے کہ حوثیوں کے ایک حملے میں سعودی عرب کے جنوبی سرحدی علاقے نجران میں 11 شہری زخمی ہو گئے۔
اتحاد کے ترجمان نے جمعے کی صبح ایک بیان میں کہا کہ زخمیوں میں سات سعودی شہری شامل ہیں، جن میں ایک خاتون اور چار سال کا ایک بچہ بھی شامل ہے، جو سیکنڈ ڈگری برن کا شکار ہوئے۔
اس کے علاوہ ایک یمنی، دو مصری اور ایک پاکستانی شہری بھی زخمی ہوئے۔ بیان کے مطابق یہ افراد شہری مقامات پر ’اندھا دھند گولہ باری‘ کے نتیجے زخمی میں ہوئے۔
اسی دوران، ایک فوجی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعرات کو حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں یمنی سرکاری فوج کے کم از کم 58 اہلکار ہلاک ہو گئے۔ یہ یمن کی خانہ جنگی کے گذشتہ چار برسوں کے دوران خونریز ترین دنوں میں سے ایک تھا۔
اس سے پہلے طبی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد 38 بتائی تھی۔
ایران کی حمایت یافتہ یمنی جماعت انصار اللہ (حوثی) نے جمعرات کو ان میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس نے سعودی حمایت یافتہ سرکاری فوج کے کیمپوں کو مأرب اور حضرموت صوبوں میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ’باغیوں نے سرکاری فوجی ٹھکانوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے، کیونکہ انھوں نے ’بڑی سعودی فوجی نقل و حرکت‘ دیکھی تھی جو حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر حملہ کرنے والی تھی۔‘
دوسری جانب، اتحادی افواج کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے یمنی حکومت اور عوام سے ’حوثیوں کے غدارانہ حملے‘ پر تعزیت کا اظہار کیا۔
سعودی عرب پر ممکنہ حملے کی تنبیہ
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک سینیئر سعودی عہدیدار نے جمعرات کو کہا کہ مملکت کو توقع ہے کہ عراق کی ملیشیا، یمن کے حوثیوں کے ساتھ مل کر اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ہدایات پر، شمال اور جنوب دونوں سمتوں سے مربوط حملے کر سکتی ہیں۔
روئٹرز سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے عہدیدار نے کہا کہ سعودی عرب، امریکہ اور دیگر علاقائی ممالک کی انٹیلی جنس رپورٹس سے اشارہ ملتا ہے کہ شہری اور معاشی مقامات، جن میں توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، بندرگاہیں اور ہوائی اڈے شامل ہیں، نشانہ بن سکتے ہیں۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے ڈرونز اور میزائلوں کی نقل و حرکت بھی دیکھی ہے، جو مملکت کے شمال اور جنوب دونوں جانب سے مربوط کارروائیوں کا اشارہ دیتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ خطرات اس لیے بھی تشویش کا باعث ہیں کیونکہ ریاض کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی حل تک پہنچنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران سمیت تمام فریقوں کے ساتھ رابطے اور ثالثی کی کوششیں ’درست سمت‘ میں جا رہی ہیں، اور ممکن ہے کہ منصوبہ بند حملوں کا مقصد ان سفارتی کوششوں کو ناکام بنانا ہو۔‘
عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ سعودی امریکہ تعاون تمام سطحوں پر، خصوصاً امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ عملی سطح پر، بدستور بہت مضبوط ہے اور سعودی عرب کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔
اسی سلسلے میں ایک عراقی سکیورٹی ذریعے نے جمعرات کی شام بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کی ہدایات کے مطابق مختلف علاقوں میں تعیناتی شروع کر دی ہے تاکہ سکیورٹی تیاری اور جنگی استعداد کو بڑھایا جا سکے۔
ذریعے نے کہا کہ یہ تعیناتی معمول کے مطابق کی جا رہی ہے اور اس دوران نہ نئی چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں اور نہ ہی شہریوں کی نقل و حرکت پر اضافی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز خاص طور پر کھلے اور خالی علاقوں کی نگرانی کر رہی ہیں تاکہ ڈرون یا میزائل داغنے کی کسی ممکنہ کوشش کو روکا جا سکے۔
29 جولائی کو سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے تعاون سے عراق میں ایران نواز گروہوں کے خلاف فضائی حملے کیے تھے، جن پر سعودی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کا الزام لگایا گیا تھا۔ عراقی ملیشیاؤں نے کہا تھا کہ وہ ان سعودی حملوں کا جواب دیں گی۔
حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے، کیونکہ ایران نواز حوثی گروہ نے بحیرۂ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا اور سعودی جہازوں اور فوجی اہداف پر کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ اس کے جواب میں سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں پیدائش کی بنیاد پر ملنے والی شہریت کو محدود کرنے کی ایک اور کوشش کی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل سپریم کورٹ نے ان کی سابقہ کوشش کو مسترد کر دیا تھا، جس کا مقصد اس حق کو ختم کرنا تھا۔
ٹرمپ نے جمعرات کو دو نئے صدارتی احکامات پر دستخط کیے۔ ان میں سے ایک حکم ایسے غیر شہری افراد کی موجودہ تعریف کو وسیع کرتا ہے جن کے امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو خودبخود امریکی شہریت نہیں مل سکے گی۔
دوسرا حکم نام نہاد ’برتھ ٹورازم‘ پر پابندی عائد کرتا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد وہ عمل ہے جس میں حاملہ خواتین امریکہ آتی ہیں تاکہ ان کے بچوں کی پیدائش امریکہ میں ہو اور انھیں امریکی شہریت حاصل ہو جائے۔
اوول آفس سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ کام برسوں پہلے ہو جانا چاہیے تھا، لیکن اب ہم اس مسئلے کو حل کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے پیدائشی شہریت کے تقریباً 150 سال پرانے اصول کو ختم کرنے کی اپنی سابقہ کوشش کو مسترد کرنے پر سپریم کورٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
پہلے صدارتی حکم میں کہا گیا ہے کہ ’میری انتظامیہ ان خطرات کے خلاف تحفظ فراہم کرتی رہی ہے جو بدنیتی رکھنے والے غیر ملکی عناصر کی جانب سے پیدا ہوتے ہیں، جو ہماری قوم کی سخاوت سے فائدہ اٹھا کر امریکی شہریوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
اس حکم کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے ایسے بچوں کو پیدائش کے بعد شہریت نہیں دی جائے گی جن کے دونوں والدین غیر شہری ہوں اور ان میں سے ایک والدین:
واضح رہے کہ پورٹو ریکو جیسے امریکی علاقوں میں پیدا ہونے والے افراد کی شہریت وفاقی قانون کے تحت تسلیم شدہ ہے۔
ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر عہدیدار متعدد بار برتھ ٹورازم پر تنقید کر چکے ہیں۔ انھوں نے روس اور چین جیسے ممالک کے شہریوں پر بھی الزام لگایا ہے کہ وہ پیدائشی شہریت کے قانون سے فائدہ اٹھا کر امریکہ میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جمعرات کو صدارتی احکامات کے اعلان کے دوران ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ میں برتھ ٹورازم کے ذریعے لاکھوں بچے پیدا ہو چکے ہیں۔
تاہم غیر جانبدار تحقیقی ادارے مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق مردم شماری کی بنیاد پر کیے گئے سب سے وسیع تخمینوں کے مطابق ہر سال تقریباً 22 ہزار سے 26 ہزار بچے امریکہ میں برتھ ٹورازم کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں۔ ادارے کے مطابق سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2024 میں غیر ملکی ماؤں کے ہاں 9,600 بچوں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی۔
وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف سٹاف برائے پالیسی اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے مشیر سٹیفن ملر نے کہا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ بعض افراد سیاح یا مہمان بن کر امریکہ آتے ہیں، جبکہ ان کا اصل مقصد بچے کو جنم دینا اور اسے خودکار امریکی شہریت دلوانا ہوتا ہے۔‘
ملر کے مطابق بعد میں یہ بچے امریکی شہریت کی بنیاد پر مختلف سرکاری مراعات، ووٹ دینے کے حق اور دیگر قانونی حقوق سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی ایک شق کے تحت صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ملک میں داخلے کے قواعد و ضوابط اور استثنائی صورتوں کا تعین کر سکے، اور اسی اختیار کی بنیاد پر برتھ ٹورازم پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت دی جانے والی پیدائشی شہریت کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم اس اقدام کو قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور یہ نافذ نہ ہو سکا۔
سرکاری سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں سے فون پر بات چیت میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی پر تبادلہ خیال کیا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں فریقین نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب میں اہداف پر حملوں کے بعد خطے میں استحکام اور سلامتی کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
حالیہ دنوں میں یمن میں سعودی عرب اور ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان فوجی جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔
بلوچستان کے دو بڑے شہروں قلات اور خضدار میں جمعرات کو تاجروں کو سرکاری حکام کی جانب سے شام کو دکانیں بند کرنے جبکہ عام عوام کو گھروں سے نہ نکلنے کے لیے کہا گیا۔
دونوں شہروں میں سیاسی اور تاجر رہنمائوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک لحاظ سے ان شہروں میں رات کا کرفیو لگا دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس سے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ دونوں شہروں میں کرفیو نہیں لگایا گیا ہے تاہم حفظ ماتقدم کے طور پر دونوں شہروں میں رات کو لاک ڈائون ہوگا۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کا کہنا ہے بلوچستان کے کسی شہر میں کرفیو کے نفاذ کا نوٹفیکیشن جاری نہیں ہوا ہے۔
قلات اور خضدار میں لوگوں نے کیا بتایا؟
قلات میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ شام کو انتظامیہ کی جانب سے بازار میں دکانوں کو بند کرایا گیا اور لوگوں کو کہا گیا کہ وہ رات کو اپنے گھروں سے نہیں نکلیں۔
قلات میں جے یو آئی کے مرکزی جنرل کونسل کے رکن حافظ قاسم لہڑی نے بتایا کہ شام کو 6 بجے دکانوں کو بند کرنے کا کہا گیا جبکہ رات کو ان کو بقول 10 بجے سے صبح 7 بجے تک لوگوں کو گھروں سے نہ نکلنے کا کہا گیا۔
انھوں نے کہا کہ عملی طور پر قلات میں رات کا کرفیو لگا دیا گیا ہے۔
قلات سے تعلق رکھنے والے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما قادربخش مینگل نے بھی تصدیق کی کہ قلات میں مقامی حکام نے تاجروں کو بتایا گیا کہ وہ شام کو اپنی تجارتی سرگرمیاں بند کریں جبکہ رات کو یہ کہا گیا کہ لوگ گھروں سے نہ نکلیں۔
انھوں نے کہا کہ اسی طرح قلات کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کیا گیا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ یقیناً ان اقدامات سے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایمرجنسی کی صورت میں لوگ اپنے مریضوں کو ہسپتال تک نہیں لے جاسکیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ان قدامات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے۔
خضدار شہر میں بھی ایک سینیئر تاجر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شہر میں انتظامیہ اور پولیس کے لوگ آئے اور تاجروں کو بتایا کہ وہ اپنی دکانوں کو بند کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کے لوگوں نے اس کی وجہ سکیورٹی خدشات کو بتایا اور یہ کہا کہ کسی ایمرجنسی میں کاررواِئی کی صورت میں عام لوگوں کا نقصان نہ ہو۔
حکام کا کیا کہنا ہے؟
یک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا سکیورٹی خدشات ہیں جس کی وجہ سے حفظ ماتقدم کے طور پر دونوں شہروں میں شام کو لاک ڈائون کیا جارہا ہے۔
جب جمعرات کی شام تاجروں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے موقع پر صحافیوں نے وزیر داخلہ کی توجہ اس جانب دلائی گئی تو انھوں نے کہا کہ غیر ملکی ممالک کے ایما پر چند مٹھی بھر عناصر شرپسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور لوگ ان کی ان سرگرمیوں سے پریشان ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہائی ویز پر شرپسندی کی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کارروائی کریں گے اور جہاں کرفیو کی ضرورت پڑی تو وہاں کرفیو ہوگا،جہاں انٹیلیجینس بیسڈ آپریشن کی ضرورت ہوئی وہاں انٹیلیجینس بیسڈ آپریشن اور جہاں مکمل فوجی آپریشن کی ضرورت ہوئی وہاں مکمل فوجی آپریشن ہوگا۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک کسی بھی شہر میں کرفیو کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا ہے۔
امریکی ریاست نیو میکسیکو کے ایک جج نے جمعرات کو میٹا کو مزید 56 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ کمپنی نے عوام کو اپنے پلیٹ فارمز سے بچوں کو لاحق خطرات کے بارے میں مناسب طور پر آگاہ نہیں کیا۔ یہ بچوں کی حفاظت سے متعلق میٹا کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا عدالتی فیصلہ ہے۔
جج برائن بیڈشائیڈ نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنی ایک ’عوامی نقصان‘ کا سبب بنی ہے، جس کا موازنہ انھوں نے فضائی آلودگی سے کیا۔
انھوں نے حکم دیا کہ یہ رقم ایک ایسے فنڈ میں جمع کی جائے جو مستقبل میں بچوں کو ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔
یہ فیصلہ اس سے پہلے عائد کیے گئے 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے جرمانے کے علاوہ ہے۔ اس طرح اس مقدمے میں میٹا پر مجموعی جرمانہ 94 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہو گیا ہے۔
جج نے میٹا کا موازنہ ایک فیکٹری سے کرتے ہوئے کہا کہ اشتہارات اور مواد اس کی مصنوعات ہیں، جبکہ بچوں کو پہنچنے والا نفسیاتی نقصان اور جنسی استحصال اس آلودگی کی طرح ہے جسے ختم کرنا ضروری ہے۔
میٹا، جو انسٹاگرام، فیس بک، واٹس ایپ اور تھریڈز کی مالک ہے، کے ترجمان نے کہا: ’ہم اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے اور اس کے خلاف اپیل کریں گے۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ ’ہم اپنے پلیٹ فارمز پر لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں۔ نقصان دہ مواد اور غلط سرگرمیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کے چیلنجز کے بارے میں ہم ہمیشہ شفاف رہے ہیں۔ ہم نوجوانوں کے آن لائن تحفظ کے اپنے ریکارڈ پر پُراعتماد ہیں اور ایسے دعووں کے خلاف اپنا دفاع جاری رکھیں گے جو حقائق کو درست انداز میں پیش نہیں کرتے۔‘
اس سے پہلے جرمانے کے بعد بھی میٹا نے کہا تھا کہ وہ فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔ یہ پہلی بار تھا کہ کسی امریکی ریاست نے بچوں کی حفاظت کے معاملے پر میٹا کے خلاف مقدمہ کامیابی سے جیتا۔
میٹا کو اس وقت امریکہ میں ایسے ہی الزامات پر ہزاروں مقدمات کا سامنا ہے۔ نیو میکسیکو کے فیصلوں کے علاوہ، کمپنی رواں سال لاس اینجلس میں بھی ایک ایسا مقدمہ ہار چکی ہے جس میں اسی نوعیت کے دعوے کیے گئے تھے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔
جمعرات کو وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر جدہ پہنچے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیرِ دفاع خواجہ ٰآصف اور دیگر وزرا بھی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ سعودی عرب کے دورے پر پہنچے ہیں۔
وزیرِ اعظم ہاؤس کے مطابق اس دورے کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات ہوگی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوگا۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی دو تنظیموں نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملہ، جس میں اخبار الاخبار کی صحافی امل خلیل ہلاک اور آزاد کیمرہ آپریٹر زینب فرج شدید زخمی ہوئیں تھیں وہ بظاہر ایک جنگی جرم تھا۔
ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی الگ الگ رپورٹس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ 22 اپریل کو الطیری قصبے میں رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا تھا۔
ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور لبنان سے اپیل کی ہے کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دائرۂ اختیار کو تسلیم کرے۔
اسرائیلی فوج نے صحافیوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ اس کی جانب سے کیے گئے تین حملوں کا ہدف مسلح گروہ حزب اللہ کے دو ارکان تھے۔
ہیومن رائٹس واچ کے لبنان سے متعلق محقق رمزی قیس نے کہا ہے کہ ’اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ صحافیوں کو نشانہ نہیں بناتی، لیکن حقائق اور شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ اس نے بارہا ایسا کیا ہے۔ امل خلیل اور زینب فرج ایسے حملوں کے طویل سلسلے کی تازہ ترین متاثرین ہیں۔‘
دونوں انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہوں نے الطیری میں پیش آنے والے واقعات سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز، زینب فرج اور امدادی کارکنوں کے بیانات، میڈیا رپورٹس، اور لبنانی ریڈ کراس کی جانب سے اسرائیلی فوج کو بھیجے گئے ایک پیغام کا جائزہ لیا۔
ہیومن رائٹس واچ کی مرتب کردہ واقعاتی تفصیل کے مطابق مقامی وقت کے مطابق تقریباً دوپہر 2:30 بجے ایک اسرائیلی حملہ ان دو خواتین صحافیوں کے سامنے چلنے والی ایک گاڑی پر ہوا، جس میں ان کے جاننے والے دو افراد علی بازی اور محمد الحورانی ہلاک ہو گئے تھے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس حملے کے بعد امل خلیل اور زینب فرج اپنی گاڑی چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں اور انھوں نے ایک قریبی عمارت کے پاس پناہ لی۔ انہوں نے مدد کے لیے لبنانی ریڈ کراس سے رابطہ کیا اور دوپہر 3 بجے لبنان میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج (یونیفل) نے لبنانی ریڈ کراس کی درخواست اسرائیلی فوج کو پہنچائی تاکہ امدادی کارکن جائے وقوعہ تک رسائی حاصل کر کے انہیں نکال سکیں۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ 3:21 بجے سے 3:42 بجے کے درمیان ہونے والے دوسرے حملے میں صحافیوں کی کھڑی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں امل خلیل زخمی ہوئیں۔ اس کے بعد خلیل اور فرج اسی عمارت کے اندر داخل ہو گئیں، جسے تقریباً 4:25 بجے تیسرے حملے میں تباہ کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے دوران اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرونز مسلسل فرج اور خلیل کی نگرانی کرتے رہے۔
زینب فرج نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بتایا: ’ڈرون بہت قریب آ گئے تھے، یہاں تک کہ ٹوٹی ہوئی چھت کے اندر آ گئے۔ وہ مجھ سے ایک میٹر سے بھی کم فاصلے پر تھے۔ میں نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا تھا کیونکہ میں نے ایک ویڈیو دیکھی تھی جس میں ایک ڈرون نے اسی طرح کسی شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔ مجھے لگا کہ وہ میرے چہرے کے سامنے پھٹ جائے گا۔ ڈرونز پر کوئی واضح دھماکا خیز مواد نظر نہیں آ رہا تھا، لیکن وہ مسلسل منڈلا رہے تھے اور خوف پیدا کر رہے تھے۔‘
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق فون ریکارڈز سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملوں کے دوران امل خلیل امدادی کارکنوں اور اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ رابطے میں رہیں۔
شام 5 بجے کے بعد لبنانی ریڈ کراس کی ایک ٹیم قصبے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔
تاہم عینی شاہدین نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ جب طبی امدادی عملے نے ریسکیو کارروائی شروع کی تو ان پر ایک ڈرون کے ذریعے سٹن گرینیڈ سے حملہ کیا گیا، جس کے بعد وہ امل خلیل کو نکالے بغیر واپس جانے پر مجبور ہو گئے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ میں کچھ تصاویر کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اور اس میں لبنانی ریڈ کراس کی ایمبولینس کو پہنچنے والے نقصان کے شواہد بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ چھوٹے ہتھیاروں سے ہونے والی فائرنگ سے مطابقت رکھتے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق تبنین گورنمنٹ ہسپتال کی ایک رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امل خلیل غالباً اس وقت تک زندہ تھیں جب امدادی عملہ تقریباً شام 5:53 بجے جائے وقوعہ سے واپس ہٹنے پر مجبور ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امل خلیل کی موت تقریباً شام 7 بجے دل کا دورہ پڑنے کے نتیجے میں ہوئی۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے سر پر چوٹ لگی تھی جس سے شدید خون بہا تھا۔ ان کی لاش بالآخر امدادی کارکنوں نے تقریباً رات 11 بجے برآمد کی۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جس حملے میں خلیل ہلاک اور فرج زخمی ہوئیں وہ ’واقعات کے ایک سلسلے کا حصہ‘ تھا، جس میں حزب اللہ کے دو ارکان مارے گئے تھے اور یہ کہ فوج ’صحافیوں کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔‘
اسرائیلی فوج نے کہا کہ واقعے کا اندرونی جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم اس نے بی بی سی کی جانب سے دوسرے اور تیسرے حملے کے مقصد سے متعلق پوچھے گئے اضافی سوالات کا جواب نہیں دیا۔
ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل دونوں کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج ’جانتی تھی یا اسے معلوم ہونا چاہیے تھا‘ کہ یہ دونوں خواتین شہری تھیں۔
بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا ممنوع ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مشرقِ وسطیٰ ڈائریکٹر ہیبا مرایف کا کہنا ہے کہ ’ایسے شہریوں کو نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا جنہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے پناہ حاصل کی ہو۔‘
ہیومن رائٹس واچ کے رمزی قیس کہتے ہیں کہ ’اسرائیلی افواج کی جانب سے صحافیوں کی مسلسل ہلاکتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ نتائج کی پروا کیے بغیر سنگین خلاف ورزیاں کرنے پر آمادہ ہیں۔‘
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق رواں سال 27 صحافی اور میڈیا کارکن ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں نو لبنان میں جبکہ سات اسرائیل، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں مارے گئے۔
یمن کے وسطی علاقے میں حوثیوں کے سرکاری فوج کے کیمپس پر حملوں میں اطلاعات کے مطابق کم از کم 31 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یمن کے صوبہ مأرب کے علاقے الرویک اور صوبہ حضرموت کے علاقے العبر میں ایمرجنسی فورسز کے زیرِ انتظام متعدد فوجی کیمپوں کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
وزیرِ صحت قاسم بحیبہ نے اس ’عیارانہ‘ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد امن و امان اور استحکام کو نقصان پہنچانا تھا۔ تاہم انہوں نے ہلاکتوں کی کوئی تعداد نہیں بتائی۔
ایران کے حمایت یافتہ اور یمن کے شمال مغربی حصے کے بڑے علاقے پر قابض حوثیوں کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے حملوں کا ہدف ’سعودی فوج کی بڑے پیمانے پر تعیناتیاں‘ تھیں، جو بقول ان کے ایک فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے تھے۔
یمن میں خانہ جنگی کے دوران سعودی عرب کی قیادت میں قائم ایک اتحاد حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے۔
فوری طور پر اس معاملے پر نہ تو سعودی اتحاد اور نہ ہی سعودی حکومت کی جانب سے کوئی ردِعمل سامنے آیا ہے۔
یمن میں امریکی مشن نے حوثیوں کے حملوں کو ’بزدلانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’یمنی عوام کے خلاف ان کی دہشت گردی کی ایک اور مثال‘ ہے۔
سعودی عرب نے ریئر ایڈمرل عبداللہ بن سلیم الشھری کو حال ہی میں بنائے گئے کثیرالاقوامی بحری دفاعی اتحاد کا کمانڈر مقرر کر دیا ہے۔
سعودی عرب نے یہ اتحاد بنانے کا اعلان 30 جولائی کو کیا تھا اور کہا تھا کہ اس اقدام کا مقصد بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کا تحفظ ہے۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کے مطابق ریئر ایڈمرل عبداللہ بن سلیم الشھری اس بحری دفاعی اتحاد کی قیادت کریں گے، اس کے رکن ممالک اور دیگر بحری اتحادوں کے ساتھ رابطہ و ہم آہنگی قائم رکھیں گے اور سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے اتحاد کی جانب سے منظور شدہ مشنز پر عمل درآمد کریں گے۔
گذشتہ مہینے سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ ترکی، پاکستان، مصر، سوڈان اور جبوتی سمیت 14 ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے مجوزہ اتحاد کی حمایت کی ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اسے امید ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور عمان کے درمیان معاہدے سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
بدھ کو ایک پریس بریفنگ کے دوران پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ایران اورعمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اس بحران کے حل کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر موجودہ کشیدگی ’ایران اور امریکہ کے درمیان مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے والے وسیع تر بحران کے پائیدار حل کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔‘
’آبنائے ہرمز کے مسئلے کا حل فریقین کے لیے اسلام آباد معاہدے اور پاکستان اور قطر کے مشترکہ اعلامیہ میں مذاکراتی فریم ورک کی طرف واپسی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گا۔‘
طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ ’ ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کرے گا۔‘
خیال رہے اس سے قبل ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا تھا کہ ’ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک نئے عارضی بحری راستے کے حوالے سے اصولی اتفاقِ رائے ہو چکا ہے اور معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔‘
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو دیے گئے انٹرویو میں کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان بحری آمدورفت کے داخلی اور خارجی راستوں کے نقشے اور اس سے متعلق دیگر تکنیکی امور پر تقریباً تمام معاملات طے پا چکے ہیں۔‘
ایران کی وزارتِ اطلاعات نے 21 افراد کو موساد سے تعلق اور چار افراد کو مسلح گروہوں سے روابط کے الزام میں گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسنا کے مطابق صوبہ کرمان کے محکمۂ اطلاعات نے بتایا کہ جنوری 2026 کے احتجاجی مظاہروں میں ملوث پانچ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے گذشتہ روز کہا تھا کہ 18 مارچ سے اب تک ایران میں قومی سلامتی سے متعلق الزامات کے تحت کم از کم 56 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔
وولکر ترک کے مطابق ایرانی حکام کے سرکاری بیانات کی بنیاد پر سزائے موت پانے والے 27 افراد کے مقدمات کا تعلق جنوری کے احتجاجی مظاہروں سے تھا۔
اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد ایران میں سزائے موت کے احکامات جاری کرنے اور ان پر عمل درآمد کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
ایران کی دو خواتین فٹبالرز، جنھوں نے عوامی طور پر تہران حکومت کے خلاف مؤقف اپنایا تھا، آسٹریلیا کی شہریت حاصل کر لی ہے۔
34 سالہ عاطفہ رمضانی زادہ اور 22 سالہ فاطمہ پسندیدہ کو بدھ کے روز ریاست کوئنزلینڈ کے شہر برسبین میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران آسٹریلوی شہریت دی گئی۔
شہریت حاصل کرنے کے بعد رمضانی زادہ نے اس موقع کو ’انتہائی خصوصی اور ناقابلِ فراموش دن‘ قرار دیا، جبکہ ان کی ساتھی کھلاڑی فاطمہ پسندیدہ نے کہا کہ ’اس لمحے کی اہمیت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘
یہ دونوں کھلاڑیاں اُن سات ایرانی قومی ٹیم کے اراکین میں شامل تھیں جنھیں مارچ میں ویمنز ایشین کپ کے لیے آسٹریلیا آنے کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے دیے گئے تھے۔ تاہم، دیگر پانچ کھلاڑیوں نے بعد میں اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ایران واپس جانے کو ترجیح دی۔
اس وقت خدشات پیدا ہو گئے تھے کہ ایران اور اسرائیل، امریکہ تنازع کے آغاز کے چند روز بعد قومی ترانے کے دوران خاموش رہنے پر ایرانی ٹیم کو وطن واپسی پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آسٹریلیا میں مقیم ایرانی برادری کے دباؤ کے بعد حکام نے کھلاڑیوں کو پناہ کی درخواست دینے کا موقع فراہم کیا تھا، لیکن بالآخر صرف رمضانی زادہ اور پسندیدہ نے یہ پیشکش قبول کی۔
اگرچہ ان دونوں کی شہریت کے حصول پر کوئی سوال نہیں تھا، تاہم یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آسٹریلوی حکومت امیگریشن میں کمی لانے کے لیے ویزا قوانین مزید سخت بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔
متوقع نئی پالیسی کے تحت پناہ کے متلاشی افراد کے کام کرنے اور اپیل کے حقوق محدود کیے جا سکتے ہیں، جبکہ وزٹ ویزا پر آنے والے افراد کے لیے خاندانی ویزے کی درخواستوں پر بھی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
آسٹریلوی حکومت کو ایک جانب سیاسی مخالفین کی طرف سے مزید سخت امیگریشن پالیسی اپنانے کے مطالبات کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق اور مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں موجودہ پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ سخت اقدامات پناہ گزینوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
برسبین میں ہونے والی شہریت کی تقریب میں آسٹریلیا کے وزیرِ داخلہ ٹونی برک بھی موجود تھے، جنھوں نے دونوں کھلاڑیوں کو شہریت کے سرٹیفکیٹس پیش کیے۔
فاطمہ پسندیدہ نے کہا، ’یہ میری زندگی کی ایک نئی شروعات ہے اور مجھے فخر ہے کہ اب میں آسٹریلیا کو اپنا گھر کہہ سکتی ہوں۔‘
عاطفہ رمضانی زادہ نے اپنے بیان میں ماضی کی مشکلات کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’ہم نے بہت سے چیلنجز کا سامنا کیا، لیکن آج آسٹریلوی شہری بننا میرے لیے باعثِ فخر اور گہری شکرگزاری کا لمحہ ہے۔‘
دونوں کھلاڑیاں اب آسٹریلیا کی خواتین کی پیشہ ور فٹبال لیگ اے لیگ ویمن کی ٹیم برسبین رور کے ساتھ تربیت حاصل کر رہی ہیں اور اپنے کھیل کے کریئر کو یہیں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
ایرانی ٹیم سے متعلق یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب ان کے ملک میں جنگی صورتحال جاری تھی۔ دو مارچ کو ایرانی قومی ترانے کے دوران کھلاڑیوں کی خاموشی کے بعد سرکاری ٹی وی کے ایک میزبان کی ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں انھوں نے ان کھلاڑیوں کو ’غدار‘ قرار دیتے ہوئے سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایران واپس جانے والی بعض کھلاڑیوں نے مبینہ طور پر اپنے خاندانوں کو لاحق خطرات اور دباؤ کے باعث آسٹریلیا میں رہنے کا فیصلہ واپس لیا۔
دوسری جانب ایران کی وزارتِ کھیل نے اس وقت ایک بیان میں وطن واپس آنے والی کھلاڑیوں کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے اپنے ’قومی جذبے اور حب الوطنی‘ کے ذریعے ’دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا‘۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس گولہ بارود کا ’بہت بڑا ذخیرہ‘ موجود ہے، جبکہ اس کے برعکس اطلاعات پھیلانے والوں کو سخت قانونی کارروائی اور طویل قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں ٹرمپ نے امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی سے متعلق میڈیا رپورٹس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس ’خصوصاً بعض اہم اقسام کا وافر مقدار میں گولہ بارود‘ موجود ہے۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ نہ صرف موجودہ ذخائر کافی ہیں بلکہ بڑی مقدار میں نیا گولہ بارود بھی تیار کیا جا رہا ہے جو ضرورت کے مطابق امریکی افواج کو فراہم کیا جائے گا۔ ان کے بقول، دفاعی صنعت اس وقت ملکی تاریخ میں اپنی تیز ترین توسیع کے مرحلے سے گزر رہی ہے اور متعدد نئی فیکٹریاں اور پیداواری تنصیبات قائم کی جا رہی ہیں۔
اس سے قبل واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ گذشتہ جمعے کو کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے گولہ بارود کی ممکنہ کمی کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی۔ اخبار نے دو باخبر مگر نامعلوم ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کا خیال تھا کہ یہ مسئلہ پہلے ہی حل ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ان رپورٹس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حساس معلومات لیک کرنے والوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انھوں نے لکھا، ’جن افراد نے یہ معلومات افشا کیں، ان پر مقدمہ چلایا جائے گا اور انھیں طویل قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
دریں اثنا، سی این این نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کی قلت نے ایران کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی پر اثر ڈالا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج اپنے تھاڈ میزائل دفاعی نظام کے تقریباً 80 فیصد ذخائر استعمال کر چکی ہے۔
اسی تناظر میں واشنگٹن پوسٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ گولہ بارود اور دفاعی ہتھیاروں کی محدود دستیابی کے باعث صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف بعض مجوزہ فوجی کارروائیاں منسوخ کرنا پڑیں، حالانکہ وہ اس سے قبل تہران کو ’انتہائی شدید‘ حملوں کی دھمکی دے چکے تھے۔
تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون دونوں نے ان رپورٹس کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ کیمپ ڈیوڈ میں صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع ہیگسیتھ کے ساتھ موجود تھیں اور میڈیا میں بیان کیا گیا واقعہ ’کبھی پیش ہی نہیں آیا‘۔
ادھر پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے بھی صدر اور وزیر دفاع کے درمیان کسی قسم کے اختلاف یا گولہ بارود کی کمی سے متعلق خبروں کو ’مکمل طور پر من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے روس میں واقع دو آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنایا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ یوکرین کی دفاعی افواج نے یاروسلاول میں واقع سلاو نیفٹ-یانوس ریفائنری اور باشکورتوستان میں واقع باشنیفٹ-نووائل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل ایسی اطلاعات تھیں کہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد یاروسلاول آئل ریفائنری کی سمت سے سیاہ دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔
یاروسلاول کے گورنر میخائل ایورایف کا کہنا ہے کہ علاقے پر حملہ کرنے والے یوکرینی ڈرون تباہ کر دیے گئے ہیں، تاہم گرنے والے ملبے کے باعث تین گھروں میں آگ لگ گئی۔
زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین نے بحیرہ اسود میں روس کی دو فوجی گشتی کشتیوں اور روس کے شیڈو فلیٹ سے وابستہ جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف چھ اگست سے 8 اگست تک سعودی عرب کے دورے پر جائیں گے۔ ان کے ہمراہ نائب وزیر اعظم سمیت سیاسی اور فوجی حکام بھی ہوں گے۔
پاکستان کے وزراتِ خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ وزیرا عظم شہباز شریف اپنے اس سرکاری دورے پر شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات کریں گے۔
ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کے علاوہ خطے میں دونوں ممالک کے باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزراتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق خلیج میں جاری کشیدگی کی وجہ سے اس دورے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان خلیج میں جاری کشیدگی کے خاتمہ کے لیے پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔‘
’آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات میں عمان نے امن اور استحکام کے لیے جو کردار ادا کیا پاکستان اس کی بہت قدر کرتا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’تین اگست کو پاکستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب سے فوج پر علاقائی صوتحال پر بات کی۔ انھوں نے ایرانی وزیر خارجہ کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔ ‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فلسطین 1967 سے پہلے کی سرحدوں کا حامی ہے اور اس مسئلے کا تمام عرب ممالک کے ساتھ مل کر حل تلاش کرنے کے حق میں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے حق کا حامی ہے۔‘
جمعرات کے روز ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت اور ایران و امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ممکنہ معاہدے کی خبروں کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 37 سینٹ کم ہو کر 79.08 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 53 سینٹ کم ہو کر 69.74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
نومورا کمپنی کے ماہرِ معاشیات یوکی تاکاشیما نے کہا ’ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت سے متعلق رپورٹس سامنے آنے کے بعد بعض تاجروں نے فروخت شروع کر دی، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’قیمتیں صرف اسی سطح پر واپس آئی ہیں جو 17 جون کو امریکہ اور ایران کے عبوری معاہدے کے بعد دیکھی گئی تھیں۔ اب مارکیٹیں مذاکرات کے عمل کو بہت قریب سے دیکھ رہی ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا دونوں فریق کسی حتمی معاہدے تک پہنچتے ہیں یا نہیں۔‘