آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’میرے والد پولیس حراست میں ہیں، مگر ایف آئی آر کی کاپی نہیں دی جا رہی،‘ صحافی مطیع اللہ جان کے بیٹے کا الزام

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی مطیع اللہ کے بیٹے نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کے والد وفاقی پولیس کی حراست میں ہیں مگر ان کے خلاف کن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے حکام کی جانب سے اس بابت کچھ نہیں بتایا جا رہا۔ اس سے قبل پولیس میں دی گئی ایک درخواست میں مطیع اللہ کے بیٹے نے الزام عائد کیا تھا کہ بدھ کی رات ’سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد‘ اُن کے والد کو ’اغوا‘ کر کے لیے گئے ہیں۔

خلاصہ

  • صحافی، یوٹیوبر مطیع اللہ جان کو ’سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد کی جانب سے اغوا‘ کیے جانے کے خلاف درخواست دائر
  • سپہ سالار کے تعاون سے سکیورٹی اداروں نے اسلام آباد میں فساد کا بہترین سٹریٹجی سے خاتمہ کیا: وزیر اعظم شہباز شریف
  • پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے لیے بلوچستان اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی گئی
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکسان میں اپوزیشن جماعت کے کارکنان کے خلاف ’جان لیوا آپریشن‘ کی فوری اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے
  • ’اگر ہم نے آپ کا والا وطیرہ اختیار کر لیا تو آپ بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے‘: علی امین گنڈاپور کا عمران خان کی کال تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

لائیو کوریج

  1. ’بشریٰ بی بی کو ڈی چوک سے اغوا کیا گیا‘: سابق خاتون اول کی بہن کا دعویٰ

    سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے کہا ہے کہ ان کا گذشتہ رات سے بشریٰ بی بی سے کوئی رابطہ نہیں۔

    آج صبح اپنے ایک ویڈیو بیان میں مریم ریاض وٹو نے کہا کہ ’ہمارا بُشریٰ عمران سے رات کو جب اُن کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی اور حملہ کیا گیا تو اُس کے بعد سے رابطہ منقطع ہو گیا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اب کُچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ صوبہ خیبر پختونخوا واپس چلی گئی ہیں لیکن ایسا نہیں کیونکہ اگر وہ وہاں ہوتیں تو اپنی خیریت سے متعلق حاندان کے کسی نہ کسی فرد سے رابطہ ضرور کرتیں۔‘

    واضح رہے کہ منگل کے رات پی ٹی آئی مظاہرین کے خلاف آپریشن کے بعد حکومتی وزرا کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی دھرنے کے مقام یعنی ڈی چوک سے فرار ہو گئی ہیں تاہم بُشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے دعویٰ کیا کہ ’انھیں ڈی چوک سے اغوا کیا گیا کیونکہ اُس وقت حالات ایسے ہی تھے۔‘

    اپنے پیغام میں مریم ریاض وٹو نے کہا کہ ’بشریٰ بی بی خود وہاں سے اپنے ورکرز کو چھوڑ کر نہیں جا سکتی تھیں وہ کبھی بھی عمران خان سے غداری نہیں کر سکتیں۔ خان صاحب نے دھرنا ختم کرنے کا حق کسی کو بھی نہیں دیا ہوا تھا۔‘

    بُشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے اپنے بیان کے آخر پر کہا کہ ’سب سے درخواست ہے کہ آپ سب دُعا کریں کہ بُشریٰ عمران خیریت سے ہوں لیکن دھرنے کو ختم کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں، حتی کے پی ٹی آئی کی پولیٹیکل کمیٹی کے پاس بھی دھرنے کو ختم کرنے کا حق نہیں۔‘

    اس سے قبل رات گئے بھی مریم ریاض وٹو کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’میں مسلسل پاکستانی ٹی وی چینلز پر سُن رہی ہوں اور سب جھوٹ بول رہے ہیں کہ بُشریٰ عمران ڈی چوک سے چلی گئی ہیں اور انھوں نے ورکرز کو اکیلا چھوڑ دیا۔‘

    اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’ایسا بلکُل بھی نہیں اور چینلز جھوٹ بول رہے ہیں۔‘

  2. منگل کی رات ڈی چوک میں کیا ہوا؟, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    حکومت کی جانب سے منگل کی رات پاکستان تحریک انصاف کے ڈی چوک پر جمع ہونے والے کارکنان کے خلاف ’گرینڈ آپریشن‘ کی تصدیق تو کی گئی ہے تاہم اس کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔

    وفاقی وزرا نے اس آپریشن کے دوران 500 سے 550 مظاہرین کی گرفتاری کی تصدیق تو کی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس دوران مظاہرین میں شامل کتنے افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے آفیشل ’ایکس‘ اکاؤنٹ اور متعدد رہنماؤں کی جانب سے اس آپریشن میں سکیورٹی حکام کی جانب سے ’بے دریغ فائرنگ‘ اور آنسو گیس کے استعمال کے باعث متعدد مظاہرین کی ہلاکت اور زخمی ہونے سے متعلق ناصرف دعوے کیے جا رہے ہیں بلکہ ویڈیوز بھی پوسٹ کی جا رہی ہیں۔

    ان ویڈیوز میں بھاگتے ہوئے مظاہرین کو دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس موقع پر آنسو گیس کے بادل اور پس منظر میں شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سُنی جا سکتی ہے تاہم نہ تو بی بی سی ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق کر سکا اور نہ ہی حکام نے اس سے متعلق کچھ تفصیلات فراہم کی ہیں۔

    گذشتہ روز ڈی چوک میں ہوئے آپریشن کی تفصیلات جاننے کے لیے بی بی سی نے اسلام آباد پولیس سے رابطہ کیا۔

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق یہ آپریشن رات 11 بجے کے بعد ایک منصوبہ بندی کے تحت شروع کیا گیا تھا جس کی ابتدا میں سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو چاروں اطراف سے گھیر لیا اور اس کے بعد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آپریشن کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔

    آپریشن میں حصہ لینے والے اسلام آباد کے ایک پولیس افسر عثمان احمد کے مطابق آپریشن سے قبل قریب واقع تمام علاقوں کی مارکیٹوں کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ سٹریٹ لائٹس کو بھی بند کیا گیا تھا۔

    انھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہ کرتے ہوئے بتایا کہ دو سے ڈھائی گھنٹوں میں آپریشن مکمل کر لیا گیا تھا جس کے نتیجے میں پانچ سو سے زائد مظاہرین کو ڈی چوک اور اس کے اطراف سے گرفتار کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ مظاہرین کی گاڑیاں بلیو ایریا میں موجود تھیں اور ان میں سے ایک بھی گاڑی واپس نہیں گئی۔ اُن کے مطابق مظاہرین کی جانب سے کچھ گاڑیوں کو نذر آتش بھی کیا گیا اور خاص طور پر اس کنٹینر کو جس پر بشری بی بی اور علی امین گنڈا پور سوار تھے۔

    پاکستان کے مقامی میڈیا اور تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی چند ویڈیوز میں آپریشن کے بعد کے ڈی چوک کے مناظر دکھائے گئے ہیں جن میں درجنوں گاڑیوں کو اسلام آباد کے جناح ایوینیو پر دیکھا گیا ہے۔ ان میں سے متعدد گاڑیوں کے شیشے ٹوٹے ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق اس آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے سینکڑوں افراد کو اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں رکھنے کے ساتھ ساتھ سی آئی اے میں منتقل کیا گیا ہے اور سی آئی اے کی عمارت کو سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

    مقامی پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے مظاہرین کو مرحلہ وار عدالتوں میں پیش کر کے عدالتوں سے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔

  3. پی ٹی آئی کا احتجاج منسوخ کرنے کا اعلان، چیف جسٹس آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل

    ‏پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں جمع ہونے والے مظاہرین کے خلاف آپریشن کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فی الحال اپنے احتجاج کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے منگل کو رات گئے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’اسلام آباد میں پُرامن احتجاج کے شرکا کے خلاف وحشت و بربریت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘

    بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’سرکاری مشینری کی گولیوں سے درجنوں نہتے بے گناہ کارکنوں کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا، جن میں سے آٹھ کے کوائف اب تک ہمارے پاس آ چکے ہیں۔‘ تاہم یاد رہے کہ حکومت نے اب تک لگ بھگ 500 مظاہرین کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے تاہم زخمیوں یا ہلاکتوں کی کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔

    پی ٹی آئی نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس معاملے پر ازخود نوٹس لینے کی درخواست کرتے ہوئے وزیراعظم، وزیر داخلہ اور اسلام آباد اور پنجاب کے انسپیکٹرز جنرل کے خلاف کارروائی کے احکامات دینے کی اپیل بھی کی ہے۔

    واضح رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے بھی حکومت کی جانب سے ممکنہ آپریشن کے حوالے سے اپنے خدشات کا ذکر کیا تھا۔

    منگل کے روز بیرسٹر سیف نے کہا تھا کہ ’میڈیا پر ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ حکومت آج رات پی ٹی آئی مظاہرین پر کریک ڈاؤن کر سکتی ہے، اگر ایسا ہوا تو مزید جانیں جائیں گی۔‘

    انھوں نے کہا تھا کہ ’تشدد، ضد اور ہٹ دھرمی حل نہیں، بیٹھ کر مذاکرات سے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔

  4. حکومت کی رات گئے پی ٹی آئی کے خلاف ’گرینڈ آپریشن‘ کی تصدیق: ’ہمیں صرف ٹھیک وقت کا انتظار تھا‘

    تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے ڈی چوک پر دھرنا دیے جانے کے اعلان کے بعد منگل کی رات مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے آپریشن کی خبریں سامنے آنے لگیں جس کے بعد متعدد حکومتی وزار نے بھی اِس کی تصدیق کی۔

    وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں رینجرز اور پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی مظاہرین کے خلاف آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اطلاعات تھیں، اسی لیے رینجرز اور پولیس نے مظاہرین میں شامل سنگین مجرموں کے خلاف آپریشن کیا۔‘

    رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ رینجرز اور پولیس کے آپریشن کے دوران بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

    دوسری طرف پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے رات کے تقریباً ڈیڑھ بجے ڈی چوک پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بشری بی بی اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور ابھی تک مفرور ہیں۔‘ تاہم بلیو ایریا کو مظاہرین سے کیسے خالی کرایا گیا، وزیرِداخلہ نے اس بارے میں کسی قسم کی وضاحت نہیں کی لیکن انھوں نے کہا کہ امید ہے ’بدھ (آج) سے حالات معمول پر آ جائیں گے۔‘

    محسن نقوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ امید ہے کل نیا دن، نئی سوچ کے ساتھ طلوع ہو گا۔

    وزیرِ داخلہ کی طرح وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی اس بارے میں کسی قسم کی وضاحت نہیں کی تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ ہماری کامیابی ہے کہ امن لوٹ آیا اور راستے کھل گئے ہیں۔‘

    ڈی چوک میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’لوگ کہتے تھے آپ سختی نہیں کرتے مگر ہم ان کو لاشیں نہیں دینا چاہتے تھے، ہمیں صرف ٹھیک وقت کا انتظار تھا۔ وزیرِ داخلہ مسلسل مانیٹرینگ کر رہے تھے اور ٹھیک وقت کا انتظار کر رہے تھے۔‘

  5. منگل کے روز اسلام آباد میں کیا ہوا؟

    عمران خان کی رہائی کا مطالبہ لیے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی قیادت میں منگل کے روز اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچے تھے۔

    اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مطالبات کی منظوری تک ڈی چوک میں دھرنے کا اعلان کیا تھا۔

    منگل کی سہ پہر اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچنے والا تحریک انصاف کا یہ قافلہ اتوار کے روز پشاور سے روانہ ہوا تھا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے احتجاجی قافلے میں شامل کارکنان کی قانون نافد کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے جھڑپوں کا سلسلہ منگل کو دن بھر جاری رہا تھا۔

    جہاں ایک جانب پولیس کی جانب سے آنسو گیس استعمال کی گئی تو مظاہرین نے اُن پر پتھراؤ کیا۔

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منگل کے دن خاصی کشیدگی رہی تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے دھرنے کے اعلان کے بعد تمام گہما گہمی کا مرکز صرف ڈی چوک بن گیا تھا۔