آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسرائیلی افواج کے غزہ شہر پر حملوں میں تیزی: 24 گھنٹوں میں مزید 64 افراد ہلاک،وزارت صحت

غزہ شہر کے رہائشیوں نے شہر کے شمالی اور مشرقی حصوں میں اسرائیلی افواج کے حملوں اور مسلسل ہونے والے دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ دوسری جانب حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی افواج کے حملوں میں 64 افراد ہلاک اور تقریباً تین سو زخمی ہوئے ہیں۔

خلاصہ

  • غزہ شہر کے رہائشیوں نے شمالی اور مشرقی حصوں میں اسرائیلی افواج کے حملوں کی اطلاعات دی ہیں دوسری جانب وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ حملوں سے ایک روز میں 64 افراد ہلاک اور تین سو زخمی ہوئے
  • پاکستان کے محکمۂ موسمیات نے متنبہ کیا ہے کہ دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے
  • خیبر پختونخوا میں طوفانی بارشوں سے مزید آٹھ افراد ہلاک، صوبے میں مرنے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی
  • ترکی کی خاتونِ اول نے میلانیا ٹرمپ سے غزہ کے بچوں کے لیے آواز اٹھانے کی درخواست کی ہے

لائیو کوریج

  1. بی بی سی کی غزہ کے رہائشیوں سے گفتگو: ’بچے کو پھلوں اور سبزیوں کا ذائقہ تک نہیں معلوم‘, ٹوم بینٹ اور رشدی ابوالوف، بی بی سی نیوز

    غزہ کے رہائشیوں نے شدید بھوک کے سبب ان کے جسموں پر پڑنے والے اثرات سے متعلق بی بی سی سے بات کی ہے۔

    خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ غذائی تحفظ کی نگرانی کرنے والے ادارے انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (آئی پی سی) نے جنگ کی شروعات کے بعد پہلی بار غزہ شہر میں قحط کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔

    41 سالہ ریم توفیق قادر پانچ بچوں کی والدہ اور غزہ شہر کی رہائشی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ: ’قحط کی تصدیق بہت تاخیر سے کی گئی ہے لیکن یہ اب بھی بہت اہم ہے۔‘

    ’ہم نے پانچ مہینے سے کسی بھی قسم کا پروٹین نہیں کھایا اور میرے سب سے چھوٹے چار سالہ بچے کو یہ تک نہیں معلوم کہ سبزیوں اور پھلوں کا ذائقہ کیا ہوتا ہے یا وہ دکھتے کیسے ہیں۔‘

    اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں امداد کے داخلے کو انتہائی محدود کر رکھا ہے۔ تاہم اسرائیل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

    اسرائیل غزہ میں بھوک اور قحط کی صورتحال کی بھی نفی کر رہا ہے۔ تاہم 100 سے زیادہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہ، عینی شاہدین اور اقوامِ متحدہ کے متعدد اداروں کی رپورٹس اسرائیلی دعوے کی مخالفت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

    47 سالہ رجا طلبیہ چھ بچوں کی ماں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے وزن میں 25 کلوگرام کی کمی آئی ہے۔ انھوں نے جنگ کے باعث غزہ شہر کے زیتون ضلع میں واقع اپنے گھر کو چھوڑا تھا اور اب وہ ساحل سمندر کے قریب چھونپڑوں کی ایک بستی میں رہتی ہیں۔

    انھیں گلوٹن والے کھانے سے الرجی ہے اور اب انھیں ایسا کھانا میسر نہیں جو وہ کھا سکیں۔

    ’جنگ سے قبل گلوٹن سے پاک مصنوعات حاصل کرنے میں ایک فلاحی ادارہ میری مدد کرتا تھا کیونکہ میں خود اس کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔‘

    رجا کہتی ہیں کہ ’جب سے جنگ شروع ہوئی ہے مجھے بازار میں ضرورت کی چیزیں نہیں مل رہیں اور اگر مل بھی جائیں تو بھی میں اس کا خرچ نہیں برداشت کرسکوں گی۔‘

    ’کیا روزانہ بمباری، نقل مکانی اور جھونپڑیوں میں سخت برداشت کرنا کافی نہیں تھا کہ اب ہمیں قحط کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔‘

    غزہ کی ایک اور رہائشی ردا حجہ کہتی ہیں کہ ان کی پانچ سالہ بیٹی لامیا کا وزن 19 کلوگرام سے کم ہو کر ساڑھے 10 کلو رہ گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ لامیا جنگ سے قبل بالکل صحت مند تھیں اور انھیں کوئی بیماری نہیں تھی۔

    ’یہ سب کچھ قحط کے سبب ہو رہا ہے۔ یہاں بچوں کے لیے کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے، نہ پھل نہ سبزیاں۔‘

    ردا کہتی ہیں کہ اب ان کی بیٹی کے پاؤں پر سوجن آ چکی ہے اور ان کے بال بھی پتلے ہو چکے ہیں۔

    ’وہ اب چل بھی نہیں سکتی۔ میں متعدد کلینکس اور ہسپتالوں میں جا چکی ہیں اور سب نے یہی کہا کہ میری بیٹی کی یہ حالت غذا کی قلت کے سبب ہوئی ہے۔ لیکن پھر بھی مجھے کسی نے کچھ نہیں دیا، نہ کسی قسم کا علاج اور نہ ہی سپورٹ۔‘

  2. غزہ میں بچوں کی خواہش: ’کاش ہم مر جائیں تاکہ ہم جنت میں کھانا تو کھا سکیں،‘ نیتن یاہو نے قحط سے متعلق رپورٹ کو ’جھوٹا‘ قرار دے دیا

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے آئی پی سی رپورٹ کو ’سراسر جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ’اسرائیل کی پالیسی میں کسی کو خوراک سے محروم کرنا نہیں ہے بلکہ ہماری کوشش تو ایسی مُشکل سے لوگوں کو نکالنا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل نے ’دو ملین ٹن امداد غزہ کی پٹی میں داخل ہونے دی ہے، یعنی فی کس ایک ٹن سے زائد امداد۔‘

    نیتن یاہو نے کہا کہ غزہ میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں ’اسرائیل کی جانب سے انسانی امداد میں اضافے کی وجہ سے گر گئی ہیں۔‘ تاہم انھوں نے آئی پی سی پر الزام لگایا کہ ’اس رپورٹ میں قیمتوں میں کمی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔‘

    بیان میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’آئی پی سی کی گزشتہ تمام رپورٹس کی طرح اس رپورٹ میں بھی اسرائیل کی انسانی ہمدردی کی کوششوں اور حماس کی مذموم کارروائیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ حماس امداد چوری کر کے اپنی جنگی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے مالی معاونت کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہے۔‘

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ غذائی تحفظ کی نگرانی کرنے والے ادارے نے غزہ شہر میں جنگ کے بعد سے پہلی بار قحط کی تصدیق کی ہے۔

    انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (آئی پی سی) نے اس قحط کو پانچویں درجے کا قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ غزہ میں حالات شدید غذائی عدم تحفظ کے پیمانے کی بلند ترین اور بدترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

    غزہ میں کینسر کی مریض کا کہنا ہے کہ ’میں بھوک سے مر جاؤں گی‘

    غزہ کی سومایا کافرنا گزشتہ تین سال سے تھائی رائیڈ کینسر میں مبتلا ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی صحت کینسر کی ادویات کی کمی کے بجائے غذائی قلت کی وجہ سے تیزی سے خراب ہوئی ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ میں کینسر کی بجائے بھوک سے مر جاؤں گی۔‘

    سومایا غزہ کے ایک تباہ شدہ گھر میں مزید 20 لوگوں کے ساتھ رہتی ہیں اور ان سب ہی لوگوں کا انحصار مختصر مقدار میں موجود دال اور روٹی کے کُچھ ٹکڑوں پر ہے۔

    کینسر کے مریضوں کے علاوہ غزہ میں بچے خوراک کی کمی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

    جواد بورک کا کہنا ہے کہ شدید غذائی قلت کی وجہ سے ان کی سات سالہ بیٹی کا وزن بڑی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’میں اپنی بیٹی امال کو ہر روز کمزور سے کمزور تر ہوتا دیکھ رہا ہوں۔ وہ بس اب ہڈیوں کا ایک ڈھانچا لگنے لگی ہے۔ ہسپتال میں موجود ڈاکٹر مُجھے کہتے ہیں کہ اسے کھانے کی ضرورت ہے، دوائیوں کی نہیں۔ ان کے پاس اس کے لیے کچھ کرنے کو نہیں ہے۔‘

    ’سیو دی چلڈرن‘ کی سینئر میڈیا مینیجر شائمہ العبیدی کہتی ہیں کہ 'یہاں بیٹھ کر آپ کو یہ بتانا کہ غزہ کے لوگوں کو قحط کا سامنا ہے کوئی حیرانی والی بات نہیں ہے یہاں سب کُچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ ’لوگ گھاس کھا رہے ہیں، وہ پتے کھا رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ بعض بچوں نے ان سے کہا کہ ’کاش ہم مر جائیں تاکہ ہم جنت میں جا کر کھانا تو کھا سکیں۔‘

  3. ایف بی آئی کا ٹرمپ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے گھر چھاپہ

    امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایف بی آئی کے ایجنٹس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے گھر پر جمعے کو روز چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔

    کچھ امریکی خبر رساں اداروں کی جانب سے شائع کی گئی تصاویر میں پولیس کی گاڑیاں اور عملہ بولٹن کے گھر کے قریب واشنگٹن ڈی سی کے نواحی علاقے بیتھیسڈا، میری لینڈ میں دکھائی دے رہے ہیں۔

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس کو ایف بی آئی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ وہ علاقے میں ’اجازت کے بعد‘ بولٹن کے گھر میں یہ کارروائی کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ بولٹن پر پہلے بھی سنہ 2020 میں اُن کی کتاب ’دی روم وئیر اٹ ہیپن‘ میں خفیہ معلومات کو غلط طریقے سے استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، یہ کتاب سنہ 2018 سے 2019 کے دوران پہلی ٹرمپ انتظامیہ میں ان کے وقت کا احوال بیان کرتی ہے۔

    ان الزامات کے نتیجے میں محکمہ انصاف نے مقدمہ دائر کیا اور سنہ 2019 میں ایک جج کو بتایا کہ یہ خفیہ معاملات ظاہر نہ کرنے کے معاہدے کی ’واضح خلاف ورزی‘ ہے۔

    یہ مقدمہ بالآخر جون 2021 میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دوران واپس لے لیا گیا۔

    ایف بی آئی کی تحقیقات سے واقف ایک ذریعے نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار خبر رساں ادارے سی بی ایس کو بتایا کہ اس وقت تک جان بولٹن پر کسی چیز کا الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔

    سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق کارروائی کے سرکاری ریکارڈ میں بھی کچھ موجود نہیں ہے۔

    بی بی سی کے وائٹ ہاؤس میں موجود نامہ نگار برنڈ ڈیبسمین جونیئر نے خبر دی ہے کہ انھوں نے انتظامیہ سے پوچھا ہے کہ کیا ان کے پاس جان بولٹن کے گھر کی تلاشی کے بارے میں کوئی معلومات ہیں؟ تو اس سوال کے جواب میں ابھی تک انتظامیہ کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    جان بولٹن کو ہیں؟

    جان بولٹن نے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دے چُکے ہیں۔

    ٹرمپ انتظامیہ میں شامل ہونے سے پہلے وہ سنہ 2005 سے 2006 تک جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ کے دوران مختصر طور پر اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر رہے۔ اس سے قبل وہ سنہ 1980 کی دہائی میں رونلڈ ریگن کی انتظامیہ کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔

    بولٹن کے تعلقات ٹرمپ کے ساتھ اُس وقت خراب ہوئے جب پالیسی اختلافات سامنے آنے لگے اور صدر نے ستمبر سنہ 2019 میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اعلان کیا کہ انھوں نے بولٹن کو برطرف کر دیا ہے۔

    انھوں نے لکھا کہ ’میں نے جان بولٹن کو گزشتہ رات اطلاع دی کہ وائٹ ہاؤس میں ان کی خدمات کی مزید ضرورت نہیں ہے۔ میں ان کی بہت سی تجاویز سے سخت اختلاف رکھتا تھا، جیسا کہ انتظامیہ کے دیگر افراد بھی کرتے تھے، اور اسی لیے میں نے جان سے استعفیٰ طلب کیا، جو مجھے آج صبح دیا گیا۔‘

    بولٹن نے اس دعوے کی تردید کی اور کہا کہ انھوں نے اپنی مرضی سے استعفیٰ پیش کیا تھا۔

    بولٹن، جو ریپبلکن ہیں، نے حالیہ برسوں میں ٹرمپ کے کڑے ناقد کے طور پر شہرت حاصل کی ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے سنہ 2020 کے انتخابات میں اپنے سابق باس کو ووٹ نہیں دیا۔

    اسی سال کے شروع میں، بولٹن کی نیشنل سکیورٹی کلیئرنس ٹرمپ انتظامیہ نے منسوخ کر دی تھی۔ ان کی سکیورٹی ٹیم، جو انھیں ایران کی طرف سے قتل کی دھمکیوں کے بعد فراہم کی گئی تھی، وہ بھی واپس لے لی گئی۔

  4. بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار رہنماؤں کے ریمانڈ میں مزید 15 دن کی توسیع, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور تنظیم کے چار دیگر عہدیداروں کے ریمانڈ میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے مزید 15روز کی توسیع کر دی ہے۔

    تاہم ان رہنماؤں کے ساتھ گرفتار ہونے والے سینئر سیاسی کارکن عبدالغفار بلوچ کو گزشتہ روز رہا کردیا گیا تھا۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ کے علاوہ بی وائی سی کی دیگر رہنماؤں بیبو بلوچ، گُلزادی بلوچ، صبغت اللہ عرف شاہ جی اور دونوں پیروں سے مفلوج بیبرگ بلوچ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کوئٹہ ون میں جمعہ کے روز سخت سکیورٹی میں پیش کیا گیا۔

    استغاثہ کی جانب سے ان کی ریمانڈ میں مزید توسیع کی درخواست کی گئی جس کی بی وائی سی کے قید رہنماؤں کے وکلا نے مخالفت کی۔

    تاہم مختلف ایف آئی آرز کے تحت درج مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج محمد علی مبین نے ان کی ریمانڈ میں مزید 15یوم کی توسیع کی۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر کے وکیل اسرار جتک ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اس سے قبل ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر کو مجموعی طور پر 45 روز کا ریمانڈ دیا جاچکا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج ان کو دوبارہ پیش کرنے کے بعد ان کے مزید ریمانڈ کی درخواست کی گئی جس پر عدالت کے جج نے استغاثہ کو بتایا کہ وہ تمام ایف آئی آرز میں آخری مرتبہ ریمانڈ دے رہے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ’جج نے استغاثہ کو بتایا کہ سی ٹی ڈی کے ایف آئی آرز سمیت جتنے بھی ایف آئی آرز ہیں ان تمام میں تفتیش کو مکمل کیا جائے جس کے بعد وہ مزید ریمانڈ نہیں دیں گے۔‘

    خیال رہے کہ بی وائی سی کے گرفتار رہنماؤں کے ساتھ بیبو بلوچ کے والد اور نیشنل پارٹی کے سینیئر کارکن غفار بلوچ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم ان کو گزشتہ شب پولیس نے ان کو رہا کر دیا تھا۔

    اسرار جتک ایڈووکیٹ نے بتایا کہ غفار بلوچ کو پہلے ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا تھا تاہم بعد میں ان کی گرفتاری ان ایف آئی آرز میں بھی ڈالی گئی جس میں وہ سرے سے نامزد ہی نہیں تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ان کے خلاف کوئی کیس نہیں تھا اس لیے ان کو مزید ریمانڈ کے لیے لانے کی بجائے گزشتہ شب چھوڑ دیا گیا۔

    عدالت میں پیشی کے بعد ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ایک سوال پر کہا کہ ’مظلوم اقوام کی تحریک ریاستی پروپیگنڈہ سے بہت اوپر ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ وہ انصاف کے لیے نکلے ہیں اس کے خلاف جتنا جھوٹ گھڑا جائے اور اس کے لیے کتنے میلین ڈالرز خرچ کیا جائے وہ ہمیں کبھی بھی نہیں روک سکتے ہیں۔

    دوسری جانب بی وائی سی کے رہنماؤں کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اسلام آباد میں بھی بی وائی سی کے زیر اہتمام احتجاج جاری ہے۔

  5. برطانیہ کا پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے لیے 13 لاکھ پاؤنڈ کی امداد کا اعلان

    برطانیہ نے پاکستان میں مون سون سے ہونے والی تباہ کاریوں کے بعد بحالی کے کام میں مدد کے لیے 13 لاکھ 30 ہزار پاؤنڈز یعنی تقریباً 50 کروڑ پاکستانی روپے امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

    برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’برطانیہ کی معاونت سے چلنے والے پروگرامز کے ذریعے متاثرہ افراد کو سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد فوری مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

    تاہم برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں امداد سے متعلق مزید کہا گیا ہے کہاس برطانوی امداد سے پنجاب، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے سات متاثرہ اضلاع میں 2 لاکھ 23 ہزار سے زائد افراد کو مدد فراہم کی جائے گی۔

    برطانیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ معاونت ہنگامی امداد اور بحالی کی عمل کو بہتر بنا رہی ہے جس میں خشک راشن کی فراہمی، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز، موبائل میڈیکل کیمپس، پینے کے پانی کے نظام کی بحالی شامل ہیں۔

    قومی اور صوبائی حکام اور شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے برطانیہ پاکستان کی ڈیزاسٹر ریسپانس اور بحالی کے عمل کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

    برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے بتایا کہ اس امداد کے ذریعے برطانیہ نے متاثرہ اضلاع میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کے لیے 2 ہزار 400 کمیونٹی رضاکاروں کو تربیت فراہم کی، ساتھ ہی چارسدہ کے 25 رضاکار، ریسکیو 1122 کا بونیر میں جاری لاپتا افراد کے لیے جاری سرچ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

    مزید بتایا گیا کہ امداد کے تحت جن علاقوں میں صحت کے مراکز کو نقصان پہنچا ہے، وہاں موبائل میڈیکل کیمپس قائم کیے جا رہے ہیں، بے گھر خاندانوں میں ضروری اشیا تقسیم کی جا رہی ہیں۔

  6. اقوام متحدہ کی رپورٹ میں غزہ شہر میں قحط کی تصدیق: ’غزہ کے رہنے والوں کو بدترین حالات کا سامنا ہے‘

    اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ غذائی تحفظ کی نگرانی کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ غزہ شہر میں جنگ کے بعد سے پہلی بار قحط کی تصدیق ہوئی ہے۔

    انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (آئی پی سی) نے اس کی درجہ بندی کو پانچویں مرحلے تک بڑھا دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ غزہ میں حالات شدید غذائی عدم تحفظ کے پیمانے کی بلند ترین اور بدترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ گورنریٹ، جس میں غزہ شہر اور اس کے آس پاس کے علاقے شامل ہیں، میں قحط کی تصدیق ہو چکی ہے اور ستمبر کے آخر تک دیر البلاح اور خان یونس تک ’تباہ کن حالات‘ پھیلنے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ کسی علاقے میں قحط پڑنے کا فیصلہ انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن نامی اقوام متحدہ کے پیمانے کا استعمال کرتے ہوئے کیا جاتا ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں پانچ لاکھ سے زائد افراد کو ’بھوک، غربت اور موت‘ کا سامنا ہے۔

    تاہم اسرائیل کا آئی پی سی کی اس رپورٹ پر کہنا ہے کہ وہ اس میں سامنے آنے والے نتائج کو سختی سے مسترد کرتا ہے، خاص طور پر غزہ شہر میں قحط کے دعوے کو۔

    اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے آئی پی سی کے جائزے کو یکطرفہ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ’غزہ میں وسیع پیمانے پر انسانی ہمدردی کی کوششوں‘ کو نظر انداز کرتا ہے۔

    غذائی تحفظ کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ تنظیم، جو خود سرکاری طور پر قحط کا اعلان نہیں کرتی تاہم گزشتہ ماہ اس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ 'غزہ کے رہنے والوں کو قحط کی بدترین صورت حال کا سامنا ہے۔‘

    حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 271 افراد قحط اور غذائی قلت کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 112 بچے بھی شامل ہیں۔

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے آئی پی سی کی جمعے کے روز سامنے آنے والی رپورٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ جب غزہ کے تشویش ناک حالات کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں بچے تو ایسے میں ایک نیا لفظ سامنے آجاتا ہے جیسے کہ اب ہوا ہے، اب جو لفظ یا سامنے آیا ہے وہ ’قحط‘ کا ہے۔

    انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ ’یہ کوئی معمہ نہیں ہے بلکہ یہ اخلاقی گراوٹ اور اور خود انسانیت کی ناکامی ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’قحط صرف خوراک کا نہیں ہے بلکہ انسانی بقا کے لیے درکار نظام اور ایسے اداروں کا بھی ہے کہ جو ان حالات میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔‘

    اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی واضح ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو خوراک اور طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہم اس صورتحال کو بغیر کسی روک ٹوک کے جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ مزید بہانے نہیں، کارروائی کا وقت کل نہیں آج اور ابھی ہے۔ ہمیں فوری طور پر جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی اور مکمل اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔‘

    رفاہ میں آئی پی سی کا کہنا ہے کہ اس نے اس علاقے کا تجزیہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ پٹی کے جنوب میں واقع یہ علاقہ اب ’بڑے پیمانے پر غیر آباد‘ ہے۔

    اپنی رپورٹ میں آئی پی سی نے آئندہ مہینے یعنی ستمبر کے دوران غزہ کی پٹی میں سامنے آنے والے حالات سے متعلق بھی پیش گوئی کی ہے۔

    آئی پی سی نے آنے والے دنوں سے متعلق کہا ہے کہ غزہ کے متعدد علاقوں میں بڑے پیمانے پر بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے، جن میں سانس کی شدید بیماریاں شامل ہیں ان کے علاوہ غذائی قلت مناسب اور صاف پانی اور حالات میسر نہ ہونے کی وجہ سے پانی والے اسہال، خونی اسہال، خسرہ اور پولیو جیسے امراض پھوٹ سکتے ہیں۔‘

    اسرائیل کی وزارت خارجہ نے آئی پی سی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے حماس کی جعلی مہم کو پورا کرنے کے لیے ایک من گھڑت رپورٹ شائع کی ہے۔

    اس میں تنظیم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کرنے کے لیے اپنے ہی قوانین کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور اپنے ہی معیار کو نظر انداز کیا۔

    اسرائیل کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ آئی پی سی نے ’اپنے عالمی معیار کو تبدیل کیا‘، قحط کا سامنا کرنے والوں کی حد کو 30 فیصد سے گھٹا کر 15 فیصد کر دیا اور ساتھ ہی ’شرح اموات کے دوسرے معیار کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔

    تاہم اسرائیل کی جانب سے سامنے آنے والے ان الزامات کو آئی پی سی کی جانب سے مسترد کیا گیا ہے۔

  7. علیمہ خان کے دوسرے بیٹے بھی ’گرفتار‘: عمران خان کے خاندان کے افراد کو گرفتار کر کے سیاسی تناؤ پیدا کیا جا رہا ہے: بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیر شاہ کی گرفتاری پر ردعمل سامنے آیا ہے جس میں اُن کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’عمران خان کے خاندان کے افراد کو گرفتار کرکے سیاسی تناو پیدا کیا جارہا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جمعرات کی شب سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز کو گرفتار کیا گیا اور آج اُن کے دوسرے بیٹے شیر شاہ کو گرفتار کیا گیا ہے، ان حرکتوں سے سیاسی تناو میں اضافہ ہورہا ہے۔‘

    بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ’جب ہم کوشش کر رہے ہیں کہ تناو ختم ہو تو گرفتاریاں شروع ہوجاتی ہے۔ ایک طرف نااہلیاں ہورہی ہے وارنٹ گرفتاری جاری ہورہے ہے تو دوسری طرف عمران خان سے فیملی کی ملاقاتیں اور وکلا کی ملاقاتیں نہیں ہونے دی جا رہی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کو تنہا کیا جارہا ہے ٹی وی، اخبار کسی چیز تک انھیں رسائی نہیں دی جا رہی اور اس سب کے ساتھ اب خان کے فیملی ممبر کو یکے بعد دیگرے گرفتار کرنا یہ سب دوریاں پیدا کررہا ہے۔‘

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’ان حرکتوں سے عوام میں نفرت میں اضافہ ہوں گا، یہ جو بھی سازش کر رہا ہے اس کو ختم کرنا پڑے گا۔‘

  8. حماس نے ہماری شرائط پر اتفاق نہ کیا تو غزہ شہر مسمار کر دیا جائے گا، اسرائیلی وزیرِ دفاع

    اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگر حماس نے غیر مسلح ہونے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی تو غزہ شہر کو تباہ کر دیا جائے گا۔

    اسرائیل کاٹز کا یہ بیان اسرائیلی کابینہ کی جانب سے غزہ شہر پر بڑے پیمانے پر حملے کے منصوبے کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے۔

    پیر کے روز حماس نے قطر ی اور مصری ثالثوں کی جانب سے 60 روزہ جنگ بندی کی تجویز پر رضامندی ظاہر کی تھی جس میں قطر کی جانب سے یہ بتایا گیا تھا کہ غزہ میں باقی اسرائیلی یرغمالیوں میں سے نصف کو رہا کیا جائے گا۔

    لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بظاہر اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے باقی تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ’اسرائیل کے لیے قابل قبول‘ شرائط پر مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ 50 یرغمالیوں میں سے صرف 20 افراد 22 ماہ سے جاری جنگ کے بعد بھی زندہ ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذاکرات کاروں کو نئے سرے سے مذاکرات کے لیے بھیجا جائے گا۔

    جمعرات کی رات اسرائیل میں غزہ ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران ایک ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ انھوں نے ’اپنے تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لئے فوری طور پر مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں غزہ شہر کا کنٹرول حاصل کرنے اور حماس کو شکست دینے کے آئی ڈی ایف (اسرائیلی دفاعی افواج) کے منصوبوں کی منظوری دینے آیا ہوں۔‘

    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ’حماس کو شکست دینے اور ہمارے تمام یرغمالیوں کی رہائی جیسے دو معاملات ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔‘

    نیتن یاہو کے پیغام کی حمایت کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے جمعے کے روز سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’جلد ہی غزہ میں حماس کے قاتلوں اور شدت پسندوں کے سروں پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے، جب تک کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لئے اسرائیل کی شرائط پر اتفاق نہیں کرتے، بنیادی طور پر تمام یرغمالیوں کی رہائی اور ان کی تخفیف اسلحہ اس وقت سب سے اہم بات ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر وہ راضی نہیں ہوئے تو حماس کا دارالحکومت غزہ، رفح اور بیت حنون بن جائے گا۔‘

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد سے رفع اور بیت حنون دونوں ہی شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو چُکے ہیں۔

    آئی ڈی ایف نے طبی حکام اور بین الاقوامی تنظیموں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس علاقے میں اسرائیلی فوج کے داخلے سے قبل غزہ شہر کی 10 لاکھ آبادی کو جنوب میں پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کے منصوبے کی تیاری کریں۔

    غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے کہا ہے کہ ’وہ ایسے کسی بھی اقدام کو مسترد کرتے ہیں جس سے صحت کے نظام کو نقصان پہنچے۔‘

  9. دریائے ستلج اور ملحقہ ندی نالوں میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے ستلج اور ملحقہ ندی نالوں میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق انڈیا کی جانب سے آبی ذخائر سے پانی چھوڑے جانے کے باعث دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے دریائے ستلج کے راستے میں بسنے والے شہریوں کے فوری انخلا کی ہدایات کی ہیں اور استدعا کی ہے کہ ہنگامی انخلا کی صورت میں انتظامیہ سے تعاون کریں

    دوسری جانب پی ڈی ایم اے نے 23 اگست سے ملک کے بالائی علاقوں میں مون سون کے نئے سلسلے کے شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

  10. انڈین سپریم کورٹ کا آوارہ کتوں کو چھوڑنے کا حکم؛ ریبیز والے کتے شیلٹر ہومز میں ہی رہیں گے

    انڈین سپریم کورٹ نے آوارہ کتوں سے متعلق دو رُکنی بینچ کے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے دلی میں شیلٹرز ہوم میں منتقل کیے گئے کتوں کو انھی کے علاقوں میں چھوڑنے کا حکم دیا ہے تاہم عدالت نے حکم دیا ہے کہ جن کتوں کو ریبیز ہے یا ریبیز کا شبہ ہے اُنھین شیلٹر ہومز میں ہی رکھا جائے گا۔

    عدالت نے حکم دیا ہے کہ ریبیز والے کتوں کو نس بندی کے انجکشن لگائے جائیں گے لیکن انھیں چھوڑا نہیں جائے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل انڈین سپریم کورٹ کے دو رُکنی بینچ نے دلی کے آوارہ کتوں کو شیلٹر ہوم میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔ جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اسے کتوں کو قید کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    بی بی سی ہندی کے مطابق جمعے کے روز عدالت نے دلی کی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ آوارہ کتوں کو خوراک پہنچانے کے لیے جگہیں مخصوص کرے جبکہ شہریوں کو کتوں کو خوراک دینے کی اجازت نہیں ہو گی۔

    عدالت نے یہ بھی کہا کہ آوارہ کتوں کا مسئلہ نہ صرف دلی بلکہ پورے ملک میں ہے۔

    یاد رہے انڈیا کی سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس میں آوارہ کتوں کے حوالے سے کئی درخواستیں زیر التوا ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ وہ ان تمام مقدمات کی مشترکہ سماعت کرے گی۔ ’تمام مقدمات سپریم کورٹ میں منتقل کریں تاکہ حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔‘

    عدالت نے این جی اوز اور کتوں سے محبت کرنے والوں سے کہا ہے کہ وہ رقم سپریم کورٹ کی رجسٹری میں جمع کرائیں۔

    عدالت نے کہا کہ ’اس عدالت میں آنے والے ہر کتے سے محبت کرنے والے اور این جی او کو سات دنوں کے اندر اس عدالت کی رجسٹری میں 25،000 اور 2 لاکھ روپے جمع کرانا ہوں گے ورنہ انھیں اس کیس کی سماعت میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

    سپریم کورٹ آٹھ ہفتے بعد اس کیس کی سماعت کرے گی۔

  11. غذر میں گلیشیئر پھٹنے سے متعدد دیہات زیرِآب، 50 سے زائد افراد کو ریسکیو کر لیا گیا: ترجمان گلگت بلتستان حکومت, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں گلیشیئر پھٹنے کے باعث آنے والے سیلاب سے متعدد دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔

    مقامی سماجی کارکن صفدرعلی شیرازی ایڈوکیٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ضلع غذر کے گاؤں راوشن کے اندر کے ایک نالے میں گلیشیئر پھٹنے کے بعد وہ جھیل میں آیا جس سے جھیل پھٹی اور ایک طوفان کی سی صورت میں گاؤں میں ایک سیلاب آیا۔‘

    صفدرعلی کے مطابق ’اس وقت 200 سے زیادہ گھر تباہ ہو گئے ہیں اور وہاں موجود گھر اور سڑک سب اس وقت جھیل کے اندر ہیں تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس وقت نالے کے اندر کچھ چرواہے موجود تھے جن کو پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹر کی مدد سے ریسکیو کیا گیا۔‘

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق غذر گوپس کے علاقہ تلی داس کے مقام پر گلشئیر پھٹا ہے جس کے سبب دریا کا بہاؤ رک گیا جبکہ پانی ایک جھیل کی صورت اختیار کر گیا ہے۔

    حکومتی ترجمان کے مطابق ’یہ واقعہ رات گئے پیش آیا۔ سیلاب سے انسانی جانیں محفوظ ہیں تاہم لوگوں کا شدید مالی نقصان ہوا ہے جس میں اضافےکا اندیشہ ہے۔‘

    ان کے مطابق گلیشئیر پھٹنے سے پھنسے والے 50 سے زائد افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ علاقے میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں

    انھوں نے خبردار کیا کہ متصل دیہاتوں کے زیر آب آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

  12. فیلڈ مارشل عاصم منیر سے چینی وزیر خارجہ کی ملاقات، پاکستان کے لیے غیر متزلزل حمایت کی یقین دہانی

    پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے ملاقات کی ہے جس میں انھوں نے چین کی پاکستان کے لیے غیر متزلزل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

    یاد رہے کہ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی ان دنوں پاکستان کے دورے پر موجود ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق چینی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں علاقائی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

    آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی و بین الاقوامی فورمز پر تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق چینی وزیر خارجہ نے پاکستان کی خودمختاری اور ترقی کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت کا یقین دلایا۔

    بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے چین کے مستقل تعاون پر شکریہ ادا کیا اور ملاقات کے دوران خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو آگے بڑھانے کے مشترکہ عزم پر بات چیت ہوئی۔

    واضح رہے کہ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے گزشتہ روز وزیراعظم ہاؤس میں اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔

    اس سے قبل چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے منگل کو نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد وہ پاکستان آئے تھے۔

    وانگ ژی نے اسلام آباد میں اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار کے ساتھ جمعرات کو مشترکہ پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ چین کی انڈیا کے ساتھ شراکت داری کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی کسی دوسرے ملک پر اس کا اثر پڑے گا۔

  13. کولمبیا میں کار بم دھماکے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے, یونگ تیان اور لیونارڈو روچا، بی بی سی نیوز

    کولمبیا کے مغربی شہر کیلی میں سڑک پر کھڑی کار میں بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق دھماکے میں شہر کے شمال میں مارکو فیڈل سواریز ملٹری ایوی ایشن سکول کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس میں 36 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ اردگرد موجود عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

    کیلی کے میئر الیجینڈرو ایڈر نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے بڑے انعام کا اعلان کیا ہے۔

    بم دھماکے کے بعد حفاظت کے پیش نظر انھوں نے کئی عمارتوں اور سکولوں کو خالی کرنے کا حکم دیا اور شہر میں بڑے ٹرکوں کے داخلے پر پابندی لگا دی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل جمعرات کو شمال مغربی شہر میڈلین کے قریب دیہی علاقے میں پولیس کے ایک ہیلی کاپٹر پر حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    ان حالیہ حملوں کے بعد حکومت نے قومی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق کیلی میں ہونے والے کار بم دھماکے میں گلیوں میں موجود شہری ہلاک ہوئے جبکہ کئی گھروں کو نقصان پہنچا۔

    ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ ایئر بیس کے قریب کسی چیز کے پھٹنے کی زوردار آواز آئی۔‘

  14. پشین میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، سی ٹی ڈی کا ایک سب انسپیکٹر ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع پشین میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے سی ٹی ڈی کا ایک سب انسپیکٹر ہلاک ہوگیا ہے۔

    پشین پولیس کے ایک اہلکار ریاض اللہ نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے سی ٹی ڈی کے سب انسپیکٹر عنایت اللہ کو باچا خان چوک پر نشانہ بنایا۔

    فائرنگ سے شدید زخمی ہونے کے باعث سی ٹی ڈی اہلکار موقع پر ہلاک ہوگیا۔

    ہلاک ہونے والے اہلکار کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ واقعے کے محرکات کے بارے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

  15. اسرائیل یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ’قابل قبول‘ شرائط پر مذاکرات کرے گا: نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ جنگ کو ’اسرائیل کے لیے قابل قبول‘ شرائط پر ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی ہدایت کی ہے، ان شرائط میں یرغمالیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔

    نیتن یاہو نے جمعرات کی رات اسرائیلی فوجیوں کو بتایا کہ ان کی کابینہ نے وسیع پیمانے پر بین الاقوامی اور ملکی مخالفت کے باوجود علاقے کے شمال میں واقع غزہ شہر پر بڑے پیمانے پر حملے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

    حماس نے پیر کے روز قطری اور مصری ثالثوں کی طرف سے 60 روزہ جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی تجویز پر اتفاق کیا ہے جس کے مطابق غزہ میں باقی یرغمالیوں میں سے نصف کو رہا کر دیا جائے گا۔

    تاہم یہ پہلی بار ہے کہ نیتن یاہو نے فی الحال اس معاہدے کو قبول نہیں کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مقام کا فیصلہ ہونے کے بعد مذاکرات کاروں کو تازہ مذاکرات کے لیے بھیجا جائے گا۔

    اسرائیل میں غزہ ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران ایک ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ انھوں نے ’تمام مغویوں کی رہائی کے لیے فوری طور پر مذاکرات شروع کرنے‘ کی ہدایات دی ہیں۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان یہ جنگ یات اکتوبر 2023 کو حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس حملے میں 1200 افراد مارے گئے تھے اور 251 دیگر حماس نے یرغمال بنائے تھے۔

    اسرائیل کا خیال ہے کہ 22 ماہ کی جنگ کے بعد 50 یرغمالیوں میں سے صرف 20 زندہ ہیں۔ ادھر جمعرات کو غزہ شہر کے مشرقی علاقوں میں شدید بمباری کی بھی اطلاعات ہیں۔

  16. سپریم کورٹ نے عمران خان کی نو مئی کے واقعات سے متعلق درج آٹھ مقدمات میں ضمانت منظور کر لی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی نو مئی کے واقعات سے متعلق درج کیے گئے آٹھ مقدمات میں ضمانت منظور کرلی ہے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔ عدالت نے مختصر دلائل سننے کے بعد عمران خان کی آٹھ مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں منظور کرلیں۔

    تاہم یاد رہے کہ ان آٹھ مقدمات میں ضمانت ملنے کے باوجود عمران خان جیل سے رہا نہیں ہو سکیں گے کیونکہ انھیں ایک سو نوے ملین پاؤنڈ میں چودہ سال قید کی سزا ہو چکی ہے۔

    جبکہ توشہ خانہ ٹو میں ان کی گرفتاری ڈالی جاچکی ہے۔ ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے کے فیصلے کو عمران خان کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

    سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے دوران سماعت دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نو مئی کے واقعات کے احکامات عمران خان نے دیے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ آٹھ مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ دو سال سے مخلتف عدالتوں نے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کی ہیں۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت مقدمے کے ٹرائل میں نہیں جائے گی اور صرف ضمانت کی حد تک معاملے کو دیکھے گی۔

    انھوں نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ اس سے مقدمے میں عمران خان کے خلاف کون سے ثبوت ہیں جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ اس معاملے میں تین گواہان کے بیانات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ اس سے پہلے سابق سینیٹر اعجاز چوہدری کی بھی نو مئی کے مقدمے میں ضمانت منظور کی تھی اور اب پراسیکوشن یہ بتائے کہ یہ کیس اعجاز چوہدری کے کیس سے الگ کیسے ہے؟

    پراسیکوشن اس معاملے میں عدالت کو تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔

    پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پولی گرافک ٹیسٹ بھی نہیں دیا اس لیے وہ ضمانت کے مستحق نہیں ہیں۔

    بینچ میں موجود جسٹس اظہر حسن رضوی نے پراسیکوشن سے استفسار کیا کہ کیا اعجاز چوہدری نو مئی کے واقعات میں موقع پر موجود تھے جس پر پراسیکوٹر نے جواب دیا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔

    عدالت نے پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس بنیادی معلومات ہی نہیں ہیں۔

    عمران خان کے وکیل کے دلائل

    عدالت نے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کو دلائل دینے کا حکم دیا اور انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان ان آٹھ مقدمات میں سے پانچ مقدمات میں نامزد ہی نہیں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پراسیکیوشن نے اس حوالے سے متعلقہ عدالت میں چالان پیش کیے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں بھی ضمانت کی درخواستوں میں یہی موقف اختیار کیا تھا لیکن ان کا موقف تسلیم نہیں کیا گیا۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ضمانت پر ملزم کا حق ہے اور ان کے موکل کو دو سال تک اس حق سے محروم رکھا گیا۔ عدالت نے مختصر دلائل سننے کے بعد عمران خان کی آٹھ مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں منظور کرلیں۔

    یاد رہے اس سے قبل عمران خان کی ضمانتوں کی درخواستیں سننے والا بینچ تبدیل بھی ہوا۔ تین رکنی بینچ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جگہ جسٹس حسن اظہر رضوی کو شامل کیا گیا۔

  17. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو گزشتہ روز کی اہم خبروں کے چیدہ چیدہ نکات سے آگاہ کرتے چلیں۔

    • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اندر قائم بلال مسجد کی جی پی ایس لوکیشن انڈین خفیہ ایجنسی کو فراہم کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عبید جہانگیر نامی شہری کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ دفعہ 3/3a کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
    • چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا ہے کہ چین کی انڈیا کے ساتھ شراکت داری کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی کسی دوسرے ملک پر اس کا اثر پڑے گا۔ وانگ ژی نے اسلام آباد میں پاکستانی وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ جمعرات کو مشترکہ پریس بریفنگ میں ان خیالات کا اظہار کیا۔
    • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے اپنے منصوبے کے تحت زمینی حملے سے قبل ابتدائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں جبکہ غزہ شہر کے مضافات اس کے فوجیوں کے قبضے میں ہے۔
    • کراچی سمیت سندھ میں حالیہ بارشوں میں گزشتہ دو روز کے دوران 12 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں بارش برسانے والا سلسلہ اس وقت بھی موجود ہے جس کے زیر اثر دن کے کسی بھی حصے میں کہیں معمول کے مطابق اور کہیں موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔
  18. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئےلائیو پیج میں خوش آمدید۔

    یہاں ہم آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر کی تازہ خبریں اور اہم تجزیے شامل کریں گے۔ تاہم اگر آپ 21 اگست کی خبریں پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔