بی بی سی کی غزہ کے رہائشیوں سے گفتگو: ’بچے کو پھلوں اور سبزیوں کا ذائقہ تک نہیں معلوم‘, ٹوم بینٹ اور رشدی ابوالوف، بی بی سی نیوز
غزہ کے رہائشیوں نے شدید بھوک کے سبب ان کے جسموں پر پڑنے والے اثرات سے متعلق بی بی سی سے بات کی ہے۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ غذائی تحفظ کی نگرانی کرنے والے ادارے انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (آئی پی سی) نے جنگ کی شروعات کے بعد پہلی بار غزہ شہر میں قحط کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔
41 سالہ ریم توفیق قادر پانچ بچوں کی والدہ اور غزہ شہر کی رہائشی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ: ’قحط کی تصدیق بہت تاخیر سے کی گئی ہے لیکن یہ اب بھی بہت اہم ہے۔‘
’ہم نے پانچ مہینے سے کسی بھی قسم کا پروٹین نہیں کھایا اور میرے سب سے چھوٹے چار سالہ بچے کو یہ تک نہیں معلوم کہ سبزیوں اور پھلوں کا ذائقہ کیا ہوتا ہے یا وہ دکھتے کیسے ہیں۔‘
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں امداد کے داخلے کو انتہائی محدود کر رکھا ہے۔ تاہم اسرائیل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
اسرائیل غزہ میں بھوک اور قحط کی صورتحال کی بھی نفی کر رہا ہے۔ تاہم 100 سے زیادہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہ، عینی شاہدین اور اقوامِ متحدہ کے متعدد اداروں کی رپورٹس اسرائیلی دعوے کی مخالفت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
47 سالہ رجا طلبیہ چھ بچوں کی ماں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے وزن میں 25 کلوگرام کی کمی آئی ہے۔ انھوں نے جنگ کے باعث غزہ شہر کے زیتون ضلع میں واقع اپنے گھر کو چھوڑا تھا اور اب وہ ساحل سمندر کے قریب چھونپڑوں کی ایک بستی میں رہتی ہیں۔
انھیں گلوٹن والے کھانے سے الرجی ہے اور اب انھیں ایسا کھانا میسر نہیں جو وہ کھا سکیں۔
’جنگ سے قبل گلوٹن سے پاک مصنوعات حاصل کرنے میں ایک فلاحی ادارہ میری مدد کرتا تھا کیونکہ میں خود اس کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔‘
رجا کہتی ہیں کہ ’جب سے جنگ شروع ہوئی ہے مجھے بازار میں ضرورت کی چیزیں نہیں مل رہیں اور اگر مل بھی جائیں تو بھی میں اس کا خرچ نہیں برداشت کرسکوں گی۔‘
’کیا روزانہ بمباری، نقل مکانی اور جھونپڑیوں میں سخت برداشت کرنا کافی نہیں تھا کہ اب ہمیں قحط کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔‘
غزہ کی ایک اور رہائشی ردا حجہ کہتی ہیں کہ ان کی پانچ سالہ بیٹی لامیا کا وزن 19 کلوگرام سے کم ہو کر ساڑھے 10 کلو رہ گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ لامیا جنگ سے قبل بالکل صحت مند تھیں اور انھیں کوئی بیماری نہیں تھی۔
’یہ سب کچھ قحط کے سبب ہو رہا ہے۔ یہاں بچوں کے لیے کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے، نہ پھل نہ سبزیاں۔‘
ردا کہتی ہیں کہ اب ان کی بیٹی کے پاؤں پر سوجن آ چکی ہے اور ان کے بال بھی پتلے ہو چکے ہیں۔
’وہ اب چل بھی نہیں سکتی۔ میں متعدد کلینکس اور ہسپتالوں میں جا چکی ہیں اور سب نے یہی کہا کہ میری بیٹی کی یہ حالت غذا کی قلت کے سبب ہوئی ہے۔ لیکن پھر بھی مجھے کسی نے کچھ نہیں دیا، نہ کسی قسم کا علاج اور نہ ہی سپورٹ۔‘