آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان کے نظریے پر قائم ہوں، ادارے اپنی اصلاح کر لیں، اسی میں ملک، عوام اور ان کا اپنا فائدہ ہے: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور

اسلام آباد میں جلسے کے بعد پہلی بار صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور منظر عام پر آئے اور انھوں نے بار کونسل ایسوسی ایشنز کی تقریب سے خطاب میں اداروں سے کہا کہ وہ اپنی اصلاح کر لیں اسی میں پاکستان، قوم اور ان کی اپنا فائدہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے افغانستان سے براہ راست خود بات کرنے اور وہاں اس مقصد کے لیے وفد بھیجنے کا بھی اعلان کیا۔

خلاصہ

  • امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس میں ریاست پنسلوینیا میں پہلا صدارتی مباحثہ ہوا جو 90 منٹ تک جاری رہا۔
  • مباحثے میں معیشت، امیگریشن، اسقاط حمل، روس یوکرین جنگ، غزہ جنگ سمیت اہم امور پر دونوں جماعتوں کے امیدواروں نے اپنا مؤقف پیش کیا۔
  • مباحثے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس نے ایک دوسرے پر جھوٹ بولنے کے الزامات عائد کیے اور ایک دوسرے کے بیانات کی تردید کی۔
  • پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ 21 ستمبر کو لاہور کا جلسہ ہر صورت کریں گے۔

لائیو کوریج

  1. آج سے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے دروازے بند کر رہا ہوں: عمران خان, شہزاد ملک

    سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈز مقدمے کی سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے پہلے کبھی بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے لیکن آج یہ دروازے بند کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی جماعت کو ہدایت دی ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بات نہیں کرے گا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ملک کی خاطر 22 اگست کا جلسہ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی حالانکہ ہمارے قافلے جلسے میں شرکت کے لیے نکل چکے تھے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اٹھ ستمبر کے جلسے کی تاریخ بھی اسٹیبلشمنٹ نے دی تھی جس کے لیے این او سی بھی جاری کیا گیا تھا۔ سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ اٹھ ستمبر کے جلسے میں بھی ہمیں دھوکہ دیا گیا۔

    کمرہ عدالت میں موجود ایک صحافی نے سوال کیا کہ اس کا مطلب ہے کہ اپ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کر رہے تھے جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے بات چیت کی اجازت دے رکھی تھی اور اعظم سواتی ان ہی کا تو پیغام لیکر آئے تھے۔

    سابق وزیر اعظم سے سوال کیا گیا کہ آپ کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ سے کون بات چیت کر رہا تھا جس پر ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پانچ چھ لوگ ان سے بات چیت کر رہے تھے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پہلے کبھی بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے اج یہ دروازے بند کر رہا ہوں۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جنرل یحییٰ خان نے بھی عوامی لیگ اور مجیب الرحمن کو اسی طرح دھوکہ دیا تھا جیسے ہمیں دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنرل یحییٰ ایک طرف مجیب الرحمن سے بات چیت کر رہے تھے تو دوسری جانب ان کے خلاف اپریشن کا پلان بنا رہے تھے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ بھی نو مئی کو یہی کیا گیا اور ان کی پہلے سے تیاری تھی اسی لیے 10 ہزار لوگوں کو 24 گھنٹے میں اٹھا لیا گیا۔

    ’ایک صوبے کے وزیراعلی کو اٹھا کر آپ نفرتیں بڑھا رہے ہیں‘

    سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ گذشتہ رات وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو اسٹیبلشمنٹ نے اٹھایا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایک صوبے کے وزیراعلی کو اٹھا کر آپ نفرتیں بڑھا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلی کے ساتھ ایسا کر کے ملک کو تباہی کی جانب لے جا رہے ہیں۔

    کمرہ عدالت میں موجود ایک صحافی نے سوال کیا کہ علی امین گنڈاپور کے بیانات سے بغاوت کا تاثر ملتا ہے کیا آپ بغاوت کی ترغیب دے رہے ہیں جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے کون سی بغاوت کی ہے، علی امین گنڈا پور نے قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    ایک صحافی کے سوال پر کہ علی امین گنڈا پور کی تقریر پر پی ٹی آئی رہنما معافیاں مانگ رہے ہیں، عمران خان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈا پور کے بیان پر معافی مانگنے والے بزدل اور ڈرپوک ہیں، انھیں پارٹی میں نہیں ہونا چاہیے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی کسی جلسے کا ٹائم مقرر نہیں کیا جاتا ہے۔

    21 ستمبر کو لاہور میں ہر صورت جلسہ ہوگا

    عمران خان کا کہنا تھا کہ 21 ستمبر کو لاہور کا جلسہ ہر صورت کریں گے۔

    بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ سے درخواست ہے کہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کو بچائیں۔

    عمران خان نے کہا کہ ملک میں اس وقت غیر اعلانیہ مارشل لا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ میں قوم کو کہتا ہوں کہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کریں۔ سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ کوئی جیل بھرنے سے نہ گھبرائے۔ جیل کا خوف دل سے نکال دیں میں بھی 14 ماہ سے اسی لیے جیل میں ہوں۔

  2. جنوبی غزہ کے سیف زون میں اسرائیلی حملوں میں 40 افراد ہلاک: سِول ڈیفنس اتھارٹی

    حماس کے زیرِ انتظام سِول ڈیفنس اتھارٹی کا کہنا ہے کہ جنوبی غزہ میں انسانی بنیادوں پر محفوط قرار دیے گئے علاقے پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے جہاز نے خان یونس میں حماس کے جنگجوؤں کے ایک آپریشنز سینٹر کو نشانہ بنایا ہے اور اس نے سویلین افراد کو نقصان سے بچانے کے لیے اقدامات کیے تھے۔

    غزہ میں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ خان یونس کے مغرب میں المواصی میں انسانی بنیادوں پر محفوظ قرار دیے گئے علاقے میں ان خیموں پر حملہ کیا گیا جہاں نقل مکانی کرنے والے افراد رہائش پزیر تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے کے سبب علاقے میں سات میٹر گہرے گڑھے پڑ گئے ہیں۔

    حماس کے زیرِ انتظام سِول ڈیفنس اتھارٹی کے ڈائریکٹر آپریشنز نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں ’40 افراد ہلاک اور 60 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں، جبکہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہیں۔‘

    عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ الموصی میں رات کو زوردار دھماکے سُنے گئے اور شعلوں کو فضا میں بُلند ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔

    ایک فلاحی ادارے کے رضاکار خالد محمود کہتے ہیں کہ وہ اور دیگر رضاکار دھماکوں کے فوراً بعد اس مقام پر لوگوں کی امداد کے لیے پہنچے اور وہاں ہونے والی تباہی کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ان حملوں سے سات میٹر گہرے تین گڑھے پڑ گئے اور 20 سے زیادہ خیمے مٹی میں دفن ہو گئے۔‘

    غیرتصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ اپنے ہاتھوں سے زمین کو کھود کر مٹی تلے دبے افراد کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب ایک بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس حملے میں ’خان یونس میں انسانی بنیادوں پر محفوظ قرار دیے گئے علاقے میں ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں حماس کے دہشتگردوں کی ایک بڑی تعداد‘ کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں ’دہشتگرد تنظیم ایک منظم طریقے سے سویلین اور ہیومنیٹیرین انفراسٹرکچر کا غلط استعمال کر رہی ہے تاکہ اسرائیلی ریاست اور فوج کے خلاف دہشتگرد حملے کر سکے۔‘

    حماس نے اسرائیل کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے اور اسے ’صاف جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔

    واضح رہے گذشتہ برس اکتوبر میں غزہ میں اسرائیلی گراؤنڈ آپریشن کی شروعات کے بعد ہزاروں فلسطینی اپنے گھر چھوڑ کر خان یونس منتقل ہو گئے تھے۔

    حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کو کیے گئے حملوں میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 251 افراد یرغمال بنائے گئے تھے۔

    غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اب تک وہاں 40 ہزار 900 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  3. سپریم کورٹ نے مونال اور دیگر ریستوران کو بند کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کو مسترد کر دیا

    سپریم کورٹ نے اسلام آباد کےنیشنل پارک ایریا میں تعمیر ہونے والے مونال ریستوران سمیت دیگر ہوٹلوں کو بند کرنے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیلوں کو مسترد کردیا ہے اور اپنا فیصلہ بحال رکھا ہے۔

    سپریم کورٹ نے نظرثانی کی ان اپیلوں پرفیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مونال سمیت دیگر ریستوران کے مالکان نے رضا کاروانہ طور پر تین ماہ میں ان ریستوران کو ختم کرنے کی تقین دہانی کروائی تھی اور اس یقین دہانی کے بعد نظر ثانی کی اپیلیں دائر کرنا عدلیہ کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نظر ثانی کی ان اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے اصل فیصلے میںنیشنل پارک ایریا میں قائم ریستوران کے حق میںدی گئی آبزرویشن بھی واپس لے لی ہے اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر من وعن عمل درآمد کیا جائے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مونال اور دیگر ریستوران کو کسی اور مقام پر لیز کے وقت ترجیح دینے سے متعلق ابزوریشن دی تھی اور سی ڈی اے کے حکام کو کہا تھا کہ اگر نیشنل پارک کے علاوہ کسی اور سیکٹر میں کوئی ریستوران کھولنا مقصود ہو تو انھیں ترجیح دی جائے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنہ 2022 میں نیشنل پارک ایریا میں ہونے والی تمام تجارتی سرگرمیوں کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس فیصلے کے خلاف مونال اور دیگر ریستوران کے مالکان نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

    سپریم کورٹ کے مستعفی ہونے والے جج جسٹس اعجاز الااحسن نے مخالف پارٹی کا موقف سنے بغیر ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناع جاری کردیا تھا جو کہ ڈیڑھ سال تک برقرار رہا۔

    تاہم چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے ان اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

    مونال اور دیگر ریستوران کے ماکان نے اپنا کاروبار کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے عدالت سے تین ماہ کی مہلت مانگی تھی جو 9 ستمبر کو ختم ہو گئی ہے۔

  4. وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امن عامہ پر ’طویل اجلاس کے بعد‘ پشاور پہنچ گئے ہیں

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بھائی فیصل امین نے تصدیق کی ہے کہ علی امین گنڈاپور گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔ سماجی رابطے کے ویب سائٹ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں فیصل امین نے لکھا کہ ان کا اپنے بھائی سے رابطہ ہو گیا ہے جو ’امن عامہ پر طویل اجلاس‘ کے بعد اب اپنے صوبے میں داخل ہو گئے ہیں۔

    تحریک انصاف کے ایک ترجمان نے بھی کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور چھ گھنٹے رابطے سے باہر رہنے کے بعد اب پشاور پہنچ چکے ہیں اور اس حوالے سے جلد تفصیلات جاری کر دی جائیں گی۔

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کے علی امین گنڈا پور کے اغوا/گرفتاری کے دعوے

    تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں نے گذشتہ رات خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے طویل وقت کے لیے رابطے میں نہ رہنے پر ان کے اغوا اور گرفتاری کے دعوے اور خدشات کا اظہار کیا تھا۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمرایوب خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواعلی امین گنڈا پور سے رابطہ ختم ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اوراسٹیبلشمنٹ نے انھیں چائے کے کپ پر مدعو کیا تھا، علی امین گنڈا پور سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن نہیں ہوا۔ عمر ایوب کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے سکیورٹی عملے سے بھی رابطہ نہیں اور ان کے فون بند ہیں۔

    اپنے ایک بیان میں پی ٹی آئی کی رہنما مشعال یوسفزئی نے اسلام آباد پولیس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو اسلام آباد پولیس نے اغوا کیا ہے۔ بیان میں مشعال یوسفزئی کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کی بازیابی کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رہے ہیں۔

    تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر سیف نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے کو بتایا کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے اطلاعات آ رہی ہیں کہ علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کے لیے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے لیکن کیا کبھی پاکستان کی تاریخ میں ایسا ہوا ہے کہ منتخب وزیر اعلیٰ کو اسلام آباد سے گرفتار کریں، ان لوگوں نے انتہا کردی ہے اور یہ سب کچھ انھیں لے ڈوبے گا۔

    زلفی بخاری نے کہا کہ ہمارے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور شام سات بجے سے لاپتہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب اس کی تصدیق ہو چکی ہے انھیں اغوا/گرفتار کر لیا گیا ہے۔

  5. گیرٹ وائلڈرز کو دھمکیاں: نیدرلینڈز کی عدالت نے ٹی ایل پی کے سربراہ سعد حسین رضوی اور اشرف جلالی کو قید کی سزائیں سُنا دیں

    نیدرلینڈز کی ایک عدالت نے پاکستانی سیاسی و مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی اور جماعت سے جُدا ہونے والے دھڑے تحریکِ لبیک یا رسول اللہ کے رہنما محمد اشرف جلالی کو اپنے پیروکاروں کو ڈچ سیاستدان گیرٹ وائلڈرز کے قتل پر اُکسانے پر غائبانہ سزائیں سُنا دی ہیں۔

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق نیدرلینڈز کی عدالت نے محمد اشرف جلالی کو گیرٹ وائلڈرز کے قتل پر لوگوں کو اُکسانے کی کوشش پر 14 برس قید کی سزا سںائی، جبکہ ٹی ایل پی کے سربراہ سعد حسین رضوی کو بھی ایسے ہی الزامات پر چار برس قید کی سزا سُنائی گئی ہے۔

    استغاثہ نے ٹی ایل پی کے سربراہ سعد حسین رضوی کے لیے چھ سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا، تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کے بیانات دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتے اور انھیں چار برس قید کی سزا سُنا دی۔

    واضح رہے کہ اپنے قیام کے بعد ٹی ایل پی دو عام انتخابات میں حصہ لے چکی ہے اور ملک کی ایک بڑی مذہبی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ گیلپ کے انتخابی تجزیے کے مطابق سنہ 2018 کے عام انتخابات میں ٹی ایل پی نے تقریباً 22 لاکھ، جبکہ 2024 کے انتخابات میں تقریباً 28 لاکھ ووٹ حاصل کیے تھے۔

    محمد اشرف جلالی کے حوالے سے عدالت کا کہنا تھا کہ ان کے بیانات نے ’گیرٹ وائلڈرز کی پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی‘ کی اور ایسی دھمکیاں ’عمومی طور پر آزادی اظہار پر قدغن لگاتی ہیں۔‘ نیڈرلینڈز اور پاکستان کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ نہیں ہے اور اسی سبب قوی امکان ہے کہ سعد حسین رضوی اور محمد اشرف جلالی کو سُنائی گئی سزاؤں پر عملدرآمد ممکن نہیں ہوگا۔

    خیال رہے کہ ماضی میں ٹی ایل پی کے بانی خادم حسین رضوی اور ڈاکٹر آصف جلالی کے درمیان اختلافات پارٹی قیادت حاصل کرنے کی بنیاد پر ہوئے تھے جس کے بعد ڈاکٹر آصف علی جلالی نے اپنا ’تحریک لبیک یا رسول اللہ‘ نام سے الگ گروپ بنا لیا تھا۔ اپنے اسلام مخالف نظریات اور اقدامات کے سبب مشہور ڈچ رہنما گیرٹ وائلڈرز سکیورٹی خدشات کی وجہ سے تقریباً 20 برسوں سے 24 گھنٹے پولیس کی حفاظت میں رہتے ہیں۔ ان کی جماعت فریڈم پارٹی ملک میں اتحادی حکومت کا حصہ ہے۔ پیر کو جب دونوں پاکستانی رہنماؤں کو غائبانہ طور پر سزائیں سنائی گئیں تو گیرٹ ویلڈرز اپنے ذاتی محافظوں اور دو مسلح پولیس اہلکاروں کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

    فیصلہ سُننے کے بعد گیرٹ وائلڈرز کا کہنا تھا کہ ’میں بہت خوش ہوں۔ ہالینڈ میں پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ کسی غیر ملکی امام کو نیدرلینڈز کے ایک رُکنِ پارلیمان کے خلاف فتویٰ جاری کرنے پر طویل سزا سُنائی گئی ہے۔‘

    نیدرلینڈز میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی پاکستانی کو گیرٹ ویلڈرز کو دھمکانے پر سزا سُنائی گئی ہو۔ گذشتہ برس سابق پاکستانی کرکٹر خالد لطیف کو ڈچ رہنما کی سر کی قیمت لگانے پر غائبانہ طور پر 12 برس قید کی سزا سُنائی گئی تھی۔ اس سے قبل سنہ 2019 میں نیڈرلینڈز میں ایک پاکستانی شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جو گیرٹ وائلڈرز پر حملے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس شخص کو عدالت کی جانب سے 10 برس کی سزا سُنائی گئی تھی۔

    نیدرلینڈز کے ایک پراسیکیوٹر نے سکیورٹی وجوہات کے سبب نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ گیرٹ ویلڈرز کے خلاف سوشل میڈیا پر دھمکیاں اس وقت آنا شروع ہوئیں جب انھوں نے 2018 میں پیغمبرِ اسلام کے خاکے بنانے کا مقابلے منعقد کروانے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد پاکستان سمیت متعدد مسلمان ممالک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔

    گیرٹ وائلڈرز کون ہیں؟

    وائلڈرز 1963 میں نیدرلینڈز کے شہر فینلو میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے خاندان کا تعلق رومن کیتھولک فرقے سے ہے لیکن وہ خود کو غیر مذہبی قرار دیتے ہیں۔ گیرٹ وائلڈرز قرآن پر پابندی لگانے، اسلام مخالف فلم بنانے اور مسلمان تارکینِ وطن کو نیدرلینڈز سے نکالنے کی مہم چلانے جیسے متنازع کاموں میں ملوث رہ چکے ہیں۔ وہ سنہ 2004 کے بعد سے مسلسل مسلح محافظوں کے حصار میں رہتے ہیں کیوں کہ انھیں متعدد بار موت کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ سنہ 2008 میں انھوں نے ’فتنہ‘ کے نام سے ایک فلم بنائی جس میں اسلام کے خلاف کئی دعوے کیے گئے تھے۔

    نیدرلینڈز میں کسی ٹیلی ویژن کمپنی نے یہ فلم چلانے سے انکار کر دیا، اور کچھ سیاست دانوں نے اس پر پابندی لگانے کی بھی کوشش کی، مگر وائلڈرز نے اسے انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دیا۔ اس وقت کے ولندیزی وزیرِ خارجہ مکسیم ویئرہاخن نے کہا تھا کہ ’فتنہ‘ کی وجہ سے نیدرزلینڈز کے سپاہیوں اور شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ انھوں نے اپنے سیاسی کریئر کا آغاز ڈچ لبرل پارٹی (وی وی ڈی) میں شمولیت سے کیا۔

    انھیں سنہ 1997 میں اترخت شہر سے رکنِ پارلیمان منتخب کیا گیا۔ تاہم 2002 میں وہ ترکی کے یورپی یونین میں شمولیت کے معاملے پر پارٹی سے الگ ہو گئے۔ ان کی پارٹی ترکی کی شمولیت کے حق میں تھی۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی جماعت فریڈم پارٹی کی بُنیاد رکھی۔ ان پر سنہ 2009 میں ایک مقدمہ چلا جس میں ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے مذہبِ اسلام کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کی توہین کی ہے۔ تاہم جون 2011 میں جج نے یہ مقدمہ خارج کر دیا۔ اس سے قبل ایک عدالت نے انھیں ایک نسلی گروہ کی بے عزتی کرنے اور امتیازی سلوک پر اکسانے پر مجرم قرار دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وائلڈرز نے مارچ سنہ 2014 میں تقریر کرتے ہوئے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ نیدرلینڈ میں مراکش سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد کم ہو۔ تاہم عدالت نے وائلڈرز پر کوئی سزا یا جرمانہ عائد نہیں کیا تھا۔

  6. پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی گرفتاری پر اپوزیشن لیڈر کا سپیکر قومی اسمبلی کو خط، ’یہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے لیے نیگ شگون نہیں‘

    اسلام آباد پولیس نے پارلینمٹ ہاؤس کے باہر سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور شیر افضل مروت سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے جس کے بعد اپوزیشن لیڈر نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو خط لکھ کر پارلیمانی اور جمہوری روایات کی ’پامالی‘ کی مذمت کی ہے۔

    عمر ایوب نے اپنے خط میں لکھا کہ پارلیمنٹ کے باہر سے جس طریقے سے اراکین اسمبلی کو گرفتار کیا گیا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔‘

    عمر ایوب کے مطابق اسلام آباد پولیس نے تحریک انصاف کے رہنماؤں پر بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عدالت میں یہ الزامات ردی کی ٹوکری میں جائیں گے۔ انھوں نے کہا وقت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے اور یہ بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس ’رجیم‘ کا اچھا انجام نہیں دیکھ رہے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو جلد گردن سے گھسیٹ کر اقتدار سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ انھوں نے سپیکر سے کہا کہ میرے یہ الفاظ لکھ لیں کہ انہی ایجنسیوں کے لوگ ان حکمرانوں کو گھسیٹ کر لے جا رہے ہوں گے۔

    عمر ایوب نے کہا کہ میں یہ سب آپ کو اس وجہ سے لکھ رہا ہوں تا کہ آپ کے پاس یہ محفوظ رہے اور جب یہ سب ہونا شروع ہو جائے تو آپ مجھے بتا سکیں کہ آپ نے درست کہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں کچھ بھی مطالبہ نہیں کہہ رہا ہوں اور نہ آپ سے کوئی امید ہے۔‘

    تحریک انصاف کے کون کون سے رہنما گرفتار ہوئے؟

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور ایم این اے شیر افضل مروت کی گرفتاری کے بعد پولیس نے پارلیمنٹ کے کابینہ ڈویژن والے عقبی گیٹ سے تحریک انصاف کے رہنما شیخ وقاص اکرم اور زین قریشی کو بھی گرفتار کر کے تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کیا گیا ہے۔

    عامر ڈوگر، اویس، احمد چٹھہ، شاہ احد، نسیم علی شاہ اور یوسف خان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے تحریک انصاف کے وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی زبیر خان کو بھی پارلیمنٹ کے باہر سے گرفتار کیا ہے۔

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی جلسہ وقت پر ختم نہ کرنے، پولیس پر پتھراؤ اور روٹ کی خلاف ورزی پر منتظمین کے خلاف تین مقدمات درج کیے ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق پرامن اجتماع اور امنِ عامہ بل کے تحت یہ پہلا مقدمہ ہے جو کہ پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج ہوا ہے۔ پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی جلسے کے منتظمین کے خلاف پہلا مقدمہ تھانہ سنگجانی میں جلسے کے معینہ وقت کی پاس داری نہ کرنے پر درج کیا گیا۔ دوسرا مقدمہ تھانہ سمبل میں معینہ روٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قافلے سادات کالونی اور سری نگرہائی وے سے لانے پردرج کیا گیا۔

    پولیس اہلکار کے مطابق اسی طرح تیسرا مقدمہ ایس ایس پی سیف سٹی سمیت دیگر اہل کاروں پر پتھراؤ کرنے پرتھانہ نون میں درج کیا گیا۔

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کو عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان

    پی ٹی آئی کے گرفتار رہنماؤں کو متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کی غرض سے ڈسٹرکٹ کورٹ میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور پولیس کے علاوہ ایف سی کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

  7. اسٹیبلشمنٹ کی درخواست پر جلسہ ملتوی کیا تھا: عمران خان

    اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ’انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی نے 22 اگست کا جلسہ اسٹیبلشمنٹ کی درخواست پر ملتوی کیا۔‘

    بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ’سینیٹر اعظم سواتی صبح 7 بجے میرے پاس آئے اور کہا اسٹیبلشمنٹ نے بھیجا ہے اور اسٹیبلشمنٹ نے درخواست کی کہ ملک کی خاطر جلسہ ملتوی کریں۔ اسٹیبلشمنٹ نے ضمانت دی تھی کہ 8 ستمبر جلسہ میں مکمل سہولت فراہم کریں گے اور اسی پیغام پر پاکستان کی خاطر 22 اگست کا جلسہ ملتوی کیا۔‘

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پیغام دیا گیا تھا ایک جانب کرکٹ میچ دوسری جانب مذہبی جماعتوں کا اسلام آباد میں احتجاج ہے ملک میں انتشار پھیل سکتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’گارنٹی دی گئی تھی کہ جلسے کے لیے این او سی دیا جائے گا اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔‘

    بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’آٹھ ستمبر کو ہونے والے جلسے کو روکنے کے لیے کنٹینرز لگائے گئے اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی اور پھر کہا گیا کہ سات بجے جلسہ ختم کریں۔ اگر موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو دوبارہ مسلط کیا گیا تو ملکی تاریخ کی بھرپور سٹریٹ موومنٹ شروع کریں گے۔ سپریم کورٹ ایک ہی ادارہ بچا ہے جس کی تباہی کی کوشش ہو رہی ہے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’راولپنڈی کے کمشنر نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس ملے ہوئے تھے۔‘

    اُنھوں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’نو مئی کی جوڈیشل انکوائری بھی اسی لیے نہیں ہو رہی کیونکہ وہ اُن کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔‘

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے متعلق بات کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے تحریری طور پر لندن ایگریمنٹ کیا۔ اگریمنٹ تھا کہ پی ٹی آئی کو ختم کیا جائے گا اور ہمارے خلاف کیسز بنائے جائیں گے۔ عاصم منیر کو پیغام بھجوایا تھا کہ مجھے لندن ایگریمنٹ کا معلوم ہے۔ جس پر انھوں نے کہا تھا کہ فکر نہ کریں میں نیوٹرل رہوں گا۔‘

    سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’یحیی خان نے کرسی بچانے کے لیے ملک کو تڑوایا ہزاروں لوگوں کو قتل کروایا۔ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ یہ بتاتی ہے میں یہ نہیں کہہ رہا۔ 160 نشستیں جیتنے والی جماعت کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا۔ آج بھی اپنی طاقت بچانے کے لیے وہی کیا جا رہا ہے۔‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’قانون پاس کر کے خود کو این ار او دیا گیا جمہوریت کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ قانون پاس کر کے اربوں روپے کے کیسز معاف کروائے گئے ہیں۔ پاکستان قرضے لے کر نہیں بچے گا۔ نیب ترامیم کے ذریعے این ار او دے کر منی لانڈرنگ جائز قرار دے دی گئی ہے اب ان کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔ آمدنی سرمایہ کاری سے بڑھتی ہے اور تاریخ کی سب سے کم سرمایہ کاری پاکستان میں ہوئی ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان میں قانون کی بالادستی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ وہ تمام ممالک خوشحال ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہے۔ سنگاپور لاہور سے ادھا ہے اور وہاں 140 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ پاکستان میں قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں تمام اداروں کو ایک جماعت ختم کرنے پر لگا دیا گیا ہے۔‘

  8. نیب نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف نیا توشہ خانہ ریفرنس واپس لے لیا

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں نئے توشہ خانہ مقدمے کی سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نیب ترامیم کی بحالی کے بعد یہ ریفرنس احتساب عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اس لیے نیب یہ ریفرنس واپس لینا چاہتا ہے۔

    جس پر عدالت نے یہ معاملہ سپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں بھجوا دیا ہے۔ ملزمان کے وکلا نے اس عدالتی فیصلے سے پہلے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کے طرف سے دائر کی گئی ضمانت کی درخواستوں کو سنا جائے کیونکہ عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف ایک ہی واقعہ کے دو مقدمات درج نہیں ہوسکتے۔ انھوں نے کہا کہ نیب ترامیم کی بحالی کے بعد عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف کوئی کیس نہیں بنتا۔

    جس کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم کی جانے والی عدالت نے ملزمان کے وکلا کو متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔

    اسی سے ساتھ پیر کے روز جب نیب کی جانب سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف نئے توشہ خانہ ریفرنس واپس لینے کا کہا گیا تو عدالت نے اس پر ریمارکس دیے کہ ’نیب ترامیم کے بعد یہ کیس ایف ائی اے کا بنتا ہے۔ نیب ترامیم کے بعد اب نیب کا دائرہ اختیار اس کیس میں ختم ہو گیا ہے۔‘

    عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ’بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستوں پر بھی سپیشل جج سینٹرل کی عدالت فیصلہ کرے گی۔ توشہ خانہ ٹو ریفرنس میں بانی پی ٹی ائی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستیں اور کیس سپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں کل یعنی بروز منگل سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ توشہ خانہ سے جڑا یہ نیا کیس دراصل نیب کی ایک انکوائری رپورٹ ہے جس میں احتساب کے ادارے کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ نے ’دس قیمتی تحائف خلاف قانون اپنے پاس رکھے اور فروخت کیے۔‘

    عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ کا نیا کیس کیا تھا؟

    انکوائری رپورٹ میں سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام تھا۔ نیب کے دعوے کے مطابق نیا کیس دس ’قیمتی‘ تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق تھا۔

    انکوائری رپورٹ کے مطابق گراف واچ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لیے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    رپورٹ کے مطابق گراف واچ کا قیمتی سیٹ بھی اپنے پاس رکھنے کے بجائے بیچ دیا گیا۔

    نیب کی تحقیقات کے مطابق نجی تخمینہ ساز کی ملی بھگت سے گراف واچ کے خریدار کو فائدہ پہنچایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق تخمینہ ساز کا توشہ خانہ سے ای میل آنے سے پہلے ہی گھڑی کی قیمت تین کروڑ کم لگانا ملی بھگت کا ثبوت ہے۔

    نیب کے مطابق گراف واچ کی قیمت دس کروڑ نو لاکھ بیس ہزار روپے لگائی گئی۔ بیس فیصد رقم، دو کروڑ ایک لاکھ 78 ہزار روپے سرکاری خزانے کو دیے گئے۔

    نیب کے مطابق ہر تحفے کو پہلے رپورٹ کرنا اور توشہ خانہ میں جمع کروانا لازم ہے اور صرف تیس ہزار روپے تک کی مالیت کے تحائف مفت اپنے پاس رکھے جا سکتے ہیں۔

  9. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج پر خوش آمدید

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، شیر افضل مروت اور شعیب شاہین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گذشتہ روز کی کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔