یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ خیر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے افغانستان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے اعلان کی حمایت کر دی ہے۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 25 ستمبر کو شیڈول کردیا گیا ہے جس میں پاکستان کے لیے قرض پروگرام منظوری کا جائزہ لیا جائے گا۔
آئی ایم ایف کی ترجمان جولی کوزیک کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جولائی 2024 میں 37 ماہ کا سٹاف سطح کا معاہدہ طے پایا تھا۔
آئی ایم ایف کی ترجمان نے بریفنگ میں بتایا کہ آئی ایم ایف پاکستان نے ترقیاتی شراکت داروں سے درکار ضروری مالی یقین دہانیاں حاصل کرلی ہیں جو 2023 کے نو ماہ پر محیط سٹینڈ بائی معاہدے کے کامیاب نفاذ کے بعد بورڈ کی طرف سے منظوری کے تابع ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ’تسلسل سے کی جانے والی پالیسی میکنگ کی وجہ سے پاکستانی معیشت میں استحکام آیا ہے اور خاص طور سے معاشی بڑھوتی کے اشارے دیکھ ے جا رہے ہیں۔‘
یاد رہے اس بورڈ آئی ایم ایف آئی ایم ایف بورڈ اجلاس میں پاکستان کے لیے قرض پروگرام منظوری کا جائزہ لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ جمعرات کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ’آئی ایم ایف سے بات چیت مثبت طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے۔‘
’امید کی جانی چاہیے کہ جب یہ پروگرام ختم ہو جائے تو شرح نمو کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔‘
واضح رہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نےآج ہی شرح سود میں دو فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔ سٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق اس کمی کے بعد اب پالیسی ریٹ 19.5 سے کم ہو کر 17.5 پر پہنچ گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے شرح سود میں دو فیصد کمی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پالیسی ریٹ میں کمی سے معیشت کو فائدہ ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہPID
وزیر اعظم شہباز شریف نے شرح سود میں دو فیصد کمی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پالیسی ریٹ میں کمی سے معیشت کو فائدہ ہو گا۔
جمعرات کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’دعا ہے کہ مہنگائی کی طرح شرح سود سنگل ڈیجٹ میں آ جائے۔ ایسا ہو گیا تو پاکستان کی معیشت کو چار چاند لگ جائیں گے۔‘
ان کا دعویٰ تھا کہ آہستہ آہستہ ملک کے معاشی حالات میں بہتری آ رہی ہے۔ سٹیٹ بینک کے اس فیصلے سے صنعت، کامرس، ایکسپورٹ سمیت ہر شعبے کو فائدہ ہو گا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف سے بات چیت مثبت طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ جب یہ پروگرام ختم ہو جائے تو شرح نمو کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔‘
انھوں نے ایک بار پھر ایف بی آر میں ریفارمز پر زور دیا۔ شہباز شریف نے خطاب میں کہا کہ آئی ایم ایف کے حوالے سے ہمارے دوست ممالک نے ہمیشہ کی طرح ہمارا ساتھ دیا ہے۔ اور جو کچھ کیا ہے وہ ایک بھائی اور دوست کی طرح کا ساتھ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شہباز شریف نے اپنے خطاب میں اعتراف کیا کہ ’یقینا یہ معاملات اسی طرح نہیں چل سکتے۔ ہمیں قرضوں سے جان چھڑانا ہو گی اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہو گا۔ ہم ایک نیوکلیئر طاقت ہیں اور اگر ہر روز ہم قرضوں کی درخواست کریں گے تو اس سے اہمیت میں کمی واقع ہوتی ہے۔‘
وزیر اعظم نے غزہ میں جاری جنگ اور اس میں قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل کی دراندازی اور جارحیت کا عالم یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ریلیف کے ورکرز کو قتل کر دیا گیا اور روزآنہ وہاں کئی افراد جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں دو فیصد کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ سٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق اس کمی کے بعد اب پالیسی ریٹ 19.5 سے کم ہو کر 17.5 پر پہنچ گیا ہے۔
شرح سود میں کمی کا فیصلہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 13 ستمبر 2024 سے 200 بی پی ایس کم کر کے 17.5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ گذشته دو مہینوں کے دوران مہنگائی میں تیزی سے کمی ہوئی ہے۔
یاد رہے چند روز قبل ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی میں کمی کی رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں مہنگائی تقریباً تین سال بعد ’سنگل ڈیجٹ‘ پر آگئی اور رواں برس اگست میں مہنگائی کی شرح 9.64 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
دو ستمبر کو پاکستان کے ادارہ شماریات نے ملک میں مہنگائی سے متعلق رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگست 2023 مہنگائی کی جو شرح 27.84 فیصد تھی وہ رواں برس اگست میں کم ہو کر 9.6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
ادارے کے مطابق ’یہ اکتوبر 2021 کے بعد ملک میں مہنگائی کی سب سے کم شرح ہے۔ اکتوبر 2021 میں یہ شرح 9.2 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔‘
اس سے قبل جولائی میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی شرح سود میں ایک فیصد کی کمی کی گئی تھی۔
جولائی میں شرح سود کو 20.5 سے 19.5 پر کرنے کے اعلان کے دوران گورنر سٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ ملک میں ’مہنگائی میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم عمران خان نے حکومت پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سارے پاکستانیوں کو کہہ رہا ہوں کہ آزادی قانون کی بالادستی اور جمہوریت سے ملتی ہے۔ عوام کو ’سٹریٹ موومنٹ‘ کے لیے نکلنا پڑے گا۔‘
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سماعت کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ کوئی ملک پاکستان کو پیسے دینے کے لیے تیار نہیں۔
صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ’ملک پر قرضے بڑھتے جا رہے ہیں۔ تاریخ کی کم ترین سرمایہ کاری کا ملک کو سامنا ہے اور پیسہ پاکستان سے باہر جا رہا ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’اپنی پارٹی کو کہہ دیا ہے کہ وہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں۔ پھر ہمیں کوئی نہ کہے کہ ملک کی معاشی حالت کی فکر نہیں۔‘
انھوں نے اسلام آباد جلسے کے اگلے ہی دن (نو ستمبر) پارلیمنٹ کے باہر سے پارٹی رہنماوں کی گرفتاری کے حوالے سے کہا کہ ’پارلیمنٹ کے اندر گھس کر ہمارے لوگوں کو پکڑا گیا۔‘
انھوں نے اپنی اہلیہ کی گرفتاری پر ایک بار پھر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’کوئی بتا دے کہ میری بیوی کو کس جرم میں جیل میں رکھا گیا ہے۔ صرف ایک آدمی کی انا کی وجہ سے بشری بی بی جیل میں ہیں۔‘
میڈیا سے بات چیت کے دوران عمران خان نے علی امین گنڈاپور کی جلسے میں میڈیا سے متعلق گفتگو کو نامناسب قرار دے دیا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد میں آٹھ ستمبر کو ہونے والے جلسے میں خطاب کے دوران علی امین گنڈاپور نے بعض صحافیوں کا نام لیے بغیر ان کے خلاف سخت الفاظ کا استعمال کیے تھے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ان صحافیوں کو پہچانیں جو اپنا ضمیر بیچ چکے ہیں۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’علی امین گنڈاپور نے صحافیوں سے متعلق جو کچھ کہا وہ نہیں کہنا چاہیے تھا۔ اچھے اور برے لوگ ہر شعبے میں موجود ہوتے ہیں۔ علی امین گنڈا پور جوش خطابت میں زیادہ بول گئے۔ صحافی دباؤ کے باوجود اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہSocial Media
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج جاوید ناصر رانا نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں بریت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کی جانب سے پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی ترامیم کو بحال رکھنے کے فیصلے کے بعد عمران خان کے وکلا نے اس مقدمے سے بریت سے متعلق احتساب عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
یاد رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس یا 190 ملین پاؤنڈ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔
سماعت کے دوران عمران خان اور بشری بی بی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔
دوران سماعت عمران خان کے وکیل ظہیر عباس نے اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ 190 ملین پاؤنڈ سے متعلق وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا تھا اس لیے انھیں اس مقدمے سے بری کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس میں ہونے والی ترامیم میں وفاقی کابینہ میں ہونے والے فیصلے کو تحفظ حاصل ہے اس لیے عمران خان کو اس مقدمے سے بری کیا جائے۔
انھوں نے دلائل دیئے کہ ’عمران خان نے اس سے کوئی مالی فائدہ نہیں اٹھایا اور نہ ہی ہراسیکیوشن کی جانب سے کسی بھی گواہ نے ان پر مالی فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا ہے۔‘
نیب کے پراسیکوٹر نے بریت کی اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے ایک سو نوے ملین کے معاملے پر حقائق وفاقی کابینہ کو نہیں بتائے تھے اس لیے وہ ضمانت کے حق دار نہیں ہیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد عمران خان کی بریت کی درخواست مسترد کردی ہے۔
القادرٹرسٹ کیس یا 190 ملین پاونڈ کیس کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
القادر ٹرسٹ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔
سابق وزیراعظم عمران خان کو 9 مئی کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے القادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
پی ڈی ایم کی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے۔
حکومت کا دعویٰ تھا کہ 'بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔'
حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کے عوض بحریہ ٹاؤن نےمارچ 2021 میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کو ضلع جہلم کے علاقے سوہاوہ میں 458 کنال اراضی عطیہ کی اور یہ معاہدہ بحریہ ٹاؤن اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا تھا۔
جون 2022 میں پاکستان کی اتحادی حکومت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بحریہ ٹاؤن کے ساتھ معاہدے کے بدلے اربوں روپے کی اراضی سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام منتقل کی۔
اس وقت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اس خفیہ معاہدے سے متعلق کچھ تفصیلات بھی منظرعام پر لائی گئی تھیں۔ ان دستاویزات پر سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بطور ٹرسٹی القادر یونیورسٹی پراجیکٹ ٹرسٹ کی جانب سے دستخط موجود تھے۔
قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے نام پر سینکڑوں کنال اراضی سے متعلق انکوائری کو باقاعدہ تحقیقات میں تبدیل کیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے دس ارکان کے آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ آرڈر کو معطل کردیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت امتیار پر مشتمل دو رکنی بینچ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
گرفتار ہونے والے ان ارکان نے انسداد دہشت گردی عدالت کے جسمانی ریمانڈ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
عدالت کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
عدالت نے اس ضمن میں ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان درخواستوں کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عموماً جمعہ کو عدالت کا ڈویژن بینچ نہیں ہوتا لیکن کل یہ بینچ خصوصی بینچ کے طور پر ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔
یاد رہے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تھانہ سنگجانی کے مقدمے میں دس اراکین قومی اسمبلی کو آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے انھیں پولیس کی تحویل میں دے دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ وسطی غزہ میں اس کے زیرِ انتظام سکولوں میں سے ایک پر اسرائیلی فضائی حملے میں ان کے چھ ملازمین ہلاک ہو گئے ہیں۔
غزہ کے شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے بتایا کہ نصیرات پناہ گزین کیمپ میں الجوونی سکول پر حملے میں 18 افراد ہلاک ہوئے۔
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے ہزاروں فلسطینی اس کیمپ کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے سکول میں ان عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا ہے جو حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ اس نے حملے کے دوران شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے اقدامات کیے تھے۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ حملہ ’بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی‘ کے مترادف ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہPTI
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے فوجی عدالت میں ممکنہ ٹرائل سے متعلق وفاقی حکومت سے 16 ستمبر تک جواب طلب کر لیا ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سابق وزیراعظم کی ممکنہ ملٹری حراست و ٹرائل روکنے کی درخواست پر سماعت کی۔
دورانِ سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سابق وزیراعظم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ کوئی کیس نہیں لیکن آگے ہو سکتا ہے؟
اس کے جواب میں سابق وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہمیں خدشہ ہے۔ جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ سیاست ہے‘۔
عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی ار کی طرف سے بیان آیا ہے جس پر جسٹس میاں گلُ حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ وہ بھی سیاست ہے۔‘
سابق وزیر اعظم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ حکومتی اور فوجی عہدیداروں کی طرف سے بیانات دیے گئے۔ وزرا کی طرف سے بانی پی ٹی آئی کے ملٹری ٹرائل کی دھمکی دی گئی ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ عمران خان ایک سویلین ہیں اور سویلین کا ملٹری ٹرائل درخواست گزار اور عدالت کے لیے باعثِ فکر ہے۔
انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کے وکیل کہتے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے بیان آیا ہے اور اگر ایسا ہے تو فیڈریشن کی طرف سے واضح موقف آنا چاہیے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آج ہم کہہ دیں کہ ابھی کچھ نہیں ہوا لیکن کل آپ ملٹری ٹرائل کا آرڈر لے آئیں تو پھر کیا ہو گا؟
عدالت نے ایڈشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت سے ہدایات لے کر پیر کو عدالت کو واضح آگاہ کریں۔ ایڈشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ میری استدعا ہے کہ پہلے درخواست پر عائد اعتراضات کا فیصلہ کر لیا جائے۔
اس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ میں درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر رہا ہوں۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل سے متعلق فیصلہ موجود ہے، وفاق جواب دے کہ کیا بانی پی ٹی آئی کے ملٹری ٹرائل کا معاملہ زیرغور ہے؟
انھوں نے مزید ریارکس دیے کہ اگر ایسا کچھ نہ ہوا تو درخواست غیرمؤثر ہو جائے گی اور اگر ایسا کچھ زیرغور ہوا تو پھر ہم اس کیس کو سن کر فیصلہ کریں گے۔
عدالت نے درخواست کی سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور کارروائی کے طریق کار 2007 کے قاعدہ 244 (B) کے تحت قومی اسمبلی کے 11 ستمبر 2024 کے اجلاس میں منظور کی گئی تحریک کی تناظر میں خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
کمیٹی پارلیمان، اراکین پارلیمنٹ ،آئین قومی اسمبلی میں قواعد و ضوابط اور کارروائی کے طریق کار 2007 اور قومی اسمبلی کی کارروائی کو موثر طریقے سے چلانے سے متعلق امور کو زیر غور لا کر سفارشات مرتب کرے گی۔
یہ کمیٹی وفاقی وزرا اور اراکین قومی اسمبلی پر مشتمل ہو گی۔
کمیٹی میں وفاقی وزرا، سینیٹر محمد اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، چوہدری سالک حسین، عبدالعلیم خان شامل ہوں گے۔
اراکین قومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ، سید نوید قمر، سید امین الحق، محمد اعجاز الحق، خالد حسین مگسی، مسٹر پولین، صاحبزادہ محمد حامد رضا، گوہر علی خان، محترمہ شاہدہ بیگم، محمد اختر مینگل، حمید حسین، محمود خان اچکزئی بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں ایک حاضر سروس جج کے خلاف سوشل میڈیا پر کمپین چلانے کے الزام میں یوٹیوبر عمران ریاض خان سمیت آٹھ دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ ایف آئی اے سائبر کرائم اسلام آباد میں جج کے بھتیجے کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
نامزد افراد میں یوٹیوبر عمران ریاض خان کے علاوہ صدیق انجم، مجاہد علی شاہ، سہیل احمد، عمر صادق، مصدق عباسی، طارق سیلم اور اللہ نواز خان شامل ہیں۔
ان یوٹیوبرز پر بلیک میلنگ، خوفزدہ کرنے اور شہرت کو خراب کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
عمران ریاض کی گمشدگی سے افغان موبائل سموں کا کیا تعلق ہے اور کیا یہ پاکستان میں استعمال ہو سکتی ہیں؟
ایف آئی آر میں جج کا نام نہیں ظاہر کیا گیا تاہم ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق یہ جج ہمایوں دلاور ہیں جن کے خیبرپختونخوا کی ایک عدالت نے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے۔
یاد رہے ہمایوں دلاور وہ جج ہیں جنھوں نے توشہ خانہ سے حاصل کیے گئے تحائف کو اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر سابق وزیر اعظم عمران خان کو ضابطہ فوجداری کے تحت کے ایک مقدمے میں سزا سنائی تھی اور اسی عدالتی فیصلے کے بعد ہی عمران خان کو گذشتہ برس اگست میں گرفتار کیا گیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کے 10 ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد آج انھیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس آج دن گیارہ بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو گا۔
قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے بدھ کے روز پی ٹی آئی کے گرفتار ارکان قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے ہوئے انھیں پارلیمنٹ کے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔
جن ارکان قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوئے ہیں ان میں شیر افضل مروت، عامر ڈوگر، احمد چٹھہ، زین قریشی، شیخ وقاص اکرم، زبیر خان، اویس حیدر، احد علی شاہ، نسیم علی شاہ اور یوسف خان شامل ہیں۔
ان تمام ارکان کو اسلام آباد پولیس نے پیر کی شب حراست میں لیا تھا اور اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان ملزمان کا آٹھ دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انھیں پولیس کی تحویل میں دے دیا تھا۔
قواعد کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ختم ہونے کے بعد انھیں دوبارہ پولیس کی تحویل میں دے دیا جائے گا اور اگلے روز انھیں دوبارہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے لایا جائے گا۔
گرفتار ہونے والے ان ارکان نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے دیے گئے جسمانی ریمانڈ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ رجسڑار آفس کی جانب سے لگائے گئے اعتراضات کے باوجود ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔
خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ 9 ستمبر کی رات وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کی اسٹیبلشمنٹ کے ایک ادارے سے ملاقات ہوئی۔
جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور سے جب رات گئے رابطہ ہوا تو انھوں نے بتایا کہ وہ اسٹیبلیشمنٹ کے ایک ادارے کے ساتھ ملاقات کر رہے تھے۔
’اس ملاقات میں صوبے کے حالات پر بھی بحث ہوئی اور سیاست پر بھی بات ہوئی اور اسی وجہ سے علی امین گڈاپور کو دیر ہو گئی۔ سگنلز نہ ہونے کی وجہ سے کال آ رہی تھی نہ جا رہی تھی اور اسی لیے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔‘
یاد رہے کہ آٹھ ستمبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے جلسے کے بعد جب تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور منظر عام سے غائب ہو گئے تھے، جس کے بعد وہ گذشہ رات سامنے آئے اور انھوں نے پشاور میں بار کونسلز ایسوسی ایشنز کی تقریب سے خطاب کیا۔
پروگرام اینکر شاہزیب خانزادہ نے بیرسٹر سیف سے پوچھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہونے والی یہ ملاقات اگر طویل ہوئی تو کیا یہ تلخ بھی ہو گئی تھی؟
جس کے جواب میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ ’وہ اس ملاقات کو تلخ تو نہیں کہیں گے لیکن جب بھی سیاسی پارٹیوں اور اسٹیبلشمنٹ کے کسی ادارے میں ملاقات ہوتی ہے تو بعض باتیں اچھی ہوتی ہیں، بعض باتیں شاید انھیں پسند نہیں آتی، کچھ باتوں پر سیاسی جماعتوں کو اعتراض ہوتا ہے تو عام بات چیت ہوئی ہے اور کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس نشت کی طوالت اور سگنلز کی وجہ سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا، تو اس صورتحال سے یہ تاثر بنا کے انھیں زبردستی کہیں رکھا گیا ہے لیکن ایسی کوئی بات نہیں۔
اینکر شاہزیب خانزادہ نے بیرسٹر سیف سے سوال کیا کہ یہ ملاقات کس کی خواہش پر ہوئی تھی؟ جس کے جواب خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ’اسٹیبلشمنٹ اور سکیورٹی اداروں سے رابطہ کرنا سینیئر حکومتی اہلکار کی ذمہ داریوں میں آتا ہے۔‘
شاہزیب خانزادہ نے پھر سوال کیا کہ کیا یہ ملاقات اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی؟ جس کا بیریسٹر سیف نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

،تصویر کا ذریعہ@BaristerDrSaif
پروگرام اینکر کے اس سوال کہ عمران خان نے کہا ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ سے بات نہیں ہو گی تو کیا اس کا مطلب ہے کہ اب علی امین گنڈاپور بھی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں رکھیں گے؟ اس کے جواب میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ ’عمران خان نے چھ لوگوں کو اسٹیبلشمنٹ سے سیاسی امور پر بات چیت کے لیے نامزد کیا تھا لیکن علی امین گنڈا پور تو وزیراعلی ہیں اور ایک صوبے کے سربراہ ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ عمران خان کا مطلب یہ تھا کہ علی امین گنڈاپور رابطہ نہیں کریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’سکیورٹی، قانونی اور انتظامی امور پر رابطہ ہوتا ہے تو وہ تو کرنا پڑتا ہے وہ مجبوری ہے لیکن عمران خان کے حکم کے مطابق سیاسی امور پر اسٹیبلشمنٹ سے رابطے ختم ہو چکے ہیں۔‘
یاد رہے کہ اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ ’پی ٹی آئی نے 22 اگست کا جلسہ اسٹیبلشمنٹ کی درخواست پر ملتوی کیا گیا تھا۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پیغام دیا گیا تھا ایک جانب کرکٹ میچ دوسری جانب مذہبی جماعتوں کا اسلام آباد میں احتجاج ہے ملک میں انتشار پھیل سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ ’گارنٹی دی گئی تھی کہ جلسے کے لیے این او سی دیا جائے گا اور سہولیات فراہم کی جائیں گی لیکن اس کے باوجود آٹھ ستمبر کو جلسہ روکنے کے لیے کنٹینرز لگائے گئے اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی اور پھر کہا گیا کہ سات بجے جلسہ ختم کریں۔‘
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے جلسے کے بعد پہلی بار صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور منظر عام پر آئے اور انھوں نے پشاور میں بار کونسلز ایسوسی ایشنز کی تقریب سے خطاب میں اداروں سے کہا کہ وہ عمران خان کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں اور ادارے اپنی اصلاح کر لیں، اسی میں ملک، عوام اور ان کی بہتری ہے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’میں اپنے لیڈر عمران خان جو غیر قانونی طور پر جیل میں ہیں کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ خان صاحب آپ نے جو نظریہ ہمیں دیا، جو نظریہ آپ نے قوم کو دیا، اس نظریے پر ہم قائم ہیں۔ اس سے ہمیں کوئی ہٹا سکتا ہے اور نہ کوئی جھکا سکتا ہے۔‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’میں اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی اصلاح کر لو۔ اپنی اصلاح کر لو۔ آپ کی اصلاح میں پاکستان کا فائدہ ہے۔ آپ کی اصلاح میں اس قوم کا فائدہ ہے، آپ کی اصلاح میں آپ کا اپنا فائدہ ہے۔‘
’افغانستان سے خود براہ راست بات کروں گا، کابل اپنا صوبائی وفد بھیجوں گا‘
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ اگر آپ یہ کام شروع کررہے ہیں کہ میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد نہیں جا سکتا تو چیلنج کرتا ہوں کہ آؤ مجھے گرفتار کرو۔
’غلط پالیسیوں والوں سے کہتا ہوں کہ رحم کردو جن کی پالیسیوں سے نقصان ہو رہا ہے ان کا نام لے کر نشاندہی کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ میں کہہ رہا ہوں کہ افغانستان کے پاس مجھے وفد بھیجنے دو وہ ہمارے پڑوسی ہیں مگر کسی کو پرواہ ہی نہیں، میرا خون بہہ رہا ہے میں کب تک برداشت کروں گا؟
’میں اعلان کرتا ہوں کہ خود افغانستان سے بات کروں گا، وفد بھیجوں گا، افغانستان کے ساتھ بیٹھ کر بات کروں گا اور مسئلہ حل کروں گا۔‘
’آپ جواب نہیں دیں گے تو میں بولوں گا اور پوچھوں گا، میں آواز اونچی کروں گا اور نکلوں گا‘
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’میں پاکستان کا شہری اور آزاد انسان ہوں، آپ کو مجھے جواب دینا پڑے گا، آپ جواب نہیں دیں گے تو میں بولوں گا اور پوچھوں گا، میں آواز اونچی کروں گا اور نکلوں گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کسی سے انتقام نہیں لیا اور نہ ہی صوبائی اداروں کو ذاتی انتقام کے لیے استعمال کیا، ہم نفرتیں نہیں پیدا کرنا چاہتے کیونکہ اس کا نقصان ملک کو ہوتا ہے، اپنے حق، انصاف اور حقیقی آزادی کے لیے بات کرنا ترک نہیں کریں گے، آئین ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم اپنے حقوق کا دفاع کریں۔‘
علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ اگر میں یہ بات کروں تو پھر کہا جاتا ہے کہ میں لوگوں کو اکسا رہا ہوں، آج بھی صوبے کے اندر چلینجز ہیں، ان لوگوں کے غلط اقدامات کی وجہ سے مجھے چیلجنز کا سامنا ہے۔
’چاپلوس ہوں نہ کسی کا چمچہ اور نہ کسی کا غلام ہوں ‘
علی امین نے کہا کہ ’چاپلوس ہوں نہ کسی کا چمچہ اور نہ کسی کا غلام ہوں۔‘ انھوں نے کہا کہ صحافی ہمارے بھائی ہیں، میری کردار کشی پر کچھ بھی بولے تو خیر ہے، جب میں کہتا ہوں کہ کچھ لوگ آئین کی بالادستی، کرپشن پر بات نہیں کرتے پھر میرے پیچھے شروع ہوجاتے ہیں، اگر میں نشاندہی نہیں کروں گا تو اصلاح کیسے ہو گی، اگر آپ میری نشاندہی نہیں کریں گے تو میری اصلاح کیسے ہوگی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ نیب احتساب کے لیے نہیں انتقام کے لیے بنا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’میں پاکستان کا شہری اور آزاد انسان ہوں، آپ کو مجھے جواب دینا پڑے گا، آپ جواب نہیں دیں گے تو میں بولوں گا اور پوچھوں گا، میں آواز اونچی کروں گا اور نکلوں گا۔‘