بلوچستان کے
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ مبینہ طورپر دہشت گردی کے واقعات میں
ملوث ہونے کی بنیاد پر بلوچستان کے شہر دالبندین میں جب سکیورٹی فورسز کے
اہلکار زبیر بلوچ ایڈووکیٹ کی گرفتاری کے لیے گئے تو انھوں نے گرفتاری دینے کی بجائے
اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اہلکاروں پر حملہ کیا۔
انھوں نے کہا
کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں زبیربلوچ سمیت دو افراد ہلاک ہوئے۔
اسلام آباد میں
اس واقعے کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے
دعویٰ کیا کہ ضلع چاغی میں ایئرفورس کے گرائونڈ کے عملے کے دو اہلکاروں کی فائرنگ
کے ایک واقعے میں ہلاکت کے بعد زبیر بلوچ کی نگرانی کا عمل شروع کیا گیا تھا۔
سکیورٹی فورسز
کی کارروائی میں زبیربلوچ کے مارے جانے کے خلاف جمعرات کو بلوچستان کے مختلف
علاقوں میں وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
حقوق انسانی کی
کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ زبیر بلوچ کو طویل عرصے سے جانتی تھیں
اور وہ ایک پرامن سیاسی کارکن تھے۔
نیشنل پارٹی،
بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز سمیت متعدد وکلا نے
زبیربلوچ ایڈووکیٹ کے قتل کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
زبیربلوچ ایڈووکیٹ کون تھے؟
زبیر بلوچ کا تعلق بلوچستان کے ضلع کوئٹہ سے ملحقہ ضلع
مستونگ سے تھا۔
انھوں نے
ابتدائی تعلیم مستونگ اور کوئٹہ سے حاصل کی جبکہ یونیورسٹی آف بلوچستان سے ایل ایل
بی کی ڈگری حاصل کی۔
نیشنل پارٹی کے
رہنما علی احمد بلوچ نے بتایا کہ وہ شادی شدہ تھے اور ان کا چار سال کا ایک بیٹا
ہے۔ انھوں نے سیاست کا آغاز زمانہ طالبعلمی سے کیا اوروہ بلوچ قوم پرست طالب علموں
کی تنظیم بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار سے وابستہ رہے۔
بی ایس او
پجارکا سیاسی اور نظریاتی حوالے سے تعلق نیشنل پارٹی سے ہے جو نہ صرف پرامن سیاسی
جدوجہد پر یقین رکھتی ہے بلکہ وہ پاکستان کے نظام اور آئین میں رہتے ہوئے بلوچستان
کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔
زبیربلوچ بی
ایس او پجار کے مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ اس تنظیم کے مرکزی آرگنائزر رہنے کے
علاوہ 2019 سے 2022 تک وہ اس کے چیئرمین کے عہدے پربھی فائزرہے۔
تعلیم سے فارغ
ہونے کے بعد زبیربلوچ نے وکالت کو بطور پیشہ اختیار کیا۔
وہ ضلع چاغی کے
ہیڈ کوارٹر میں گذشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے سے وکالت کر رہے تھے اور وہ وہاں ایک کرائے
کے مکان میں رہائش پزیر تھے۔
لوگوں کی جبری
گمشدگی کے خلاف اور ان کی بازیابی کے لیے کوئٹہ میں جومظاہرے ہوتے زبیربلوچ ان میں
شریک ہوتے تھے۔
ان مظاہروں سے
خطاب میں نہ وہ صرف حکومتی اداروں بلکہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور متعدد دیگر
شخصیات کا نام لے کر ان کو شدید تنقید کا نشابنہ بناتے تھے۔
پریس کانفرنس
میں وزیر اعلیٰ نے ان کی ہلاکت کے بارے میں کیا بتایا؟
بُدھ کے روز
دالبندین میں زبیر بلوچ کی ہلاکت کے بعد سماجی رابطوں کی میڈیا پران کے مارے جانے
کی خبروں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ لیکن وہاں کی سویلین انتظامیہ اور پولیس حکام کے علاوہ
صوبائی سطح پر حکام نے میڈیا کو اس سلسلے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی بلکہ 24
گھنٹے سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد وزیر اعلیٰ نے خوداسلام آباد میں اس کی
تفصیلات بتائیں۔
وزیر اعلیٰ نے
بتایا کہ ’ہمارے ایئرفورس کے دو اہلکاروں کو رواں سال مئی کے مہینے میں دالبندین
میں قتل کیا گیا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا
کہ اس کے بعد جو گرفتاریاں ہوئیں توانھوں نے زبیربلوچ عرف شاہ جی کا نام لیا۔ اس
کے بعد ان کا تکنیکی اور انسانی انٹیلیجنس کے ذریعے آبزرویشن شروع کی گئی۔
انھوں نے بتایا
کہ جب زبیربلوچ اوران کے ساتھیوں کی نشاندہی ہوئی تو 24 ستمبر کوان کی گرفتاری کے
لیے علی الصبح انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کی گئی۔
ان کا کہنا تھا
اس کارروائی کے آغاز سے پہلے مساجد سے لاؤڈ سپیکرز سے اعلانات کیے گئے اور ان کو یہ
موقع دیا گیا کہ وہ سرینڈر کریں لیکن ایسا کرنے کی بجائے وزیر اعلیٰ کے بقول لاؤڈ سپیکر
سے اعلانات شروع ہونے کے ساتھ ہی انھوں نے سکیورٹی فورسز پر فائر کھول دیا، جس میں
ایف سی کا ایک اہلکار شدید زخمی ہوا۔
وزیراعلیٰ کے
مطابق فورسز کے جوانوں نے جوانمردی سے مقابلہ کیا اور اس میں زبیر بلوچ اور ان کے
ساتھی نثار احمد مارے گئے۔
انھوں نے کہا
کہ ان کے تیسرے ساتھی جہانزیب نے سرینڈر کیا اور اس پریس کانفرنس میں ان کا ایک
اعترافی ویڈیو بیان بھی چلایا گیا۔
ان کے اعترافی
ویڈیو بیان سے ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ کوئی تحریری بیان پڑھ رہے ہیں۔
اعترافی بیان
میں انھوں نے بتایا کہ ان کا تعلق کوئٹہ میں سمنگلی روڈ سے ہے اور وہ مارے جانے
والے زبیرایڈووکیٹ اور نثاراحمد کے ساتھ مل کر کام کرتے تھے۔
جہانزیب نے الزام
عائد کیا کہ زبیر ایڈووکیٹ گذشتہ دو سال سے تنظیم سے وابستہ تھا اور وہ مبینہ
طورپرتنظیم کے ساتھیوں کو اپنے ٹھکانے پر پناہ دینے کے علاوہ تخریب کاری کی منصوبہ
بندی کرتا تھا۔
جہانزیب نے
دعویٰ کیا کہ ’میں نے ہتھیار ڈال دیے جس پرسکیورٹی فورسز نے مجھے گرفتار کیا۔‘
جہانزیب کے
بقول ’دونوں قریبی ساتھیوں کے مارے جانے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ مسئلے کا حل
لڑائی جھگڑے میں نہیں ہے اورہمارے معاشرے میں بی ایس او اور بی وائی سی جیسی
تنظیموں کا کردار گمراہ کن ہے‘۔
’وہ ایک پرامن علاقے میں حالات کو خراب کرنا چاہتا تھا‘
ایک سوال پر وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے افراد
کے بارے میں ان کے پاس ٹھوس شواہد ہیں۔
وزیر اعلیٰ کا
کہنا تھا کہ شدت پسند تنظیمیں انفرادی طور پر کام کرنے کے علاوہ اجتماعی طور پر
بھی کام کرتی ہیں اور اس سلسلے میں براس یعنی بلوچ راجی آجوئی سنگر کے علاوہ زراب
کے نام سے بھی ایک تنظیم ہے۔
انھوں نے کہا
کہ دالبندین ایران اور افغانستان کے قریب واقع ایک سٹریٹیجک سرحدی علاقہ ہے اور
پچھلے کئی دہائیوں سے یہ پرامن رہا ہے۔
ان کے بقول
زبیر بلوچ کا سب سے بڑا کام یہ تھا کہ وہ اس علاقے میں کالعدم بی ایل اے کے لیے
ریکروٹمنٹ کرتے تھے۔
انھوں نے بتایا
کہ وہاں معدنیات کے ذخائر ہیں اور اس علاقے میں چینیوں کی بھی ونقل و حمل ہے۔ وہ
وہاں چینیوں کی نقل و حمل کو مانیٹر کرتا تھا اور ایف سی کی ہیڈکوارٹر پر حملے کا
منصوبہ بندی کرتا تھا۔
’زبیر بلوچ جبری گمشدگیوں کے خلاف ایک توانا آواز تھے‘
حقوق انسانی کی
کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ نے فون پر بتایا کہ زبیربلوچ کو میں 2013 سے جانتی تھی اوران
کے بقول وہ دہشت گرد نہیں تھے۔
انھوں نے بتایا
کہ ’ہم طویل عرصے سے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے خلاف مظاہروں میں شریک ہوتے
رہے۔‘
انھوں نے کہا
کہ معروف مصنف میرعلی محمد تالپور کی کتاب کی نمائش پرزبیربلوچ کو خود 9 ماہ تک
جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور پھر ان کو چھوڑ دیا گیا۔
انھوں نے کہا
کہ ’میں کبھی سخت لائن اختیار کرتی تو وہ مجھے سمجھاتے تھے کہ کامریڈ ایسا نہ کرو
کیونکہ کسی مشکل میں پڑجائو گی۔‘
انھوں نے کہا
کہ زبیربلوچ جیسے سیاسی کارکن پرسرکاری حکام کی جانب سے جو الزامات لگائے گئے ہیں
وہ کم ازکم مجھے ہضم نہیں ہورہے ہیں۔
بلوچستان سے لاپتہ
افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ
کا کہنا تھا کہ زبیربلوچ لاپتہ افراد کے معاملے میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے اور
وہ اس حوالے سے مظاہروں میں شرکت کرتے تھے۔
انھوں نے کہا
کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیانی کے لیے ہونے والی جدوجہد میں ایک توانا آواز تھے
لیکن انھیں مبینہ طور پر ریاستی اداروں نے خاموش کردیا۔
زبیربلوچ کی ہلاکت کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ
زبیربلوچ کے قتل کے واقعے کے خلاف وکلا نے بطور احتجاج
جمعرات کے روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نہ صرف عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کیا
بلکہ مستونگ میں عدالت میں سیاہ پرچم بھی آویزاں کیے گئے۔
نیشنل پارٹی
اور بی ایس او پجار نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ماورائے عدالت قرار دیا اور
اس سلسلے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
نیشنل پارٹی کے
ترجمان علی احمد بلوچ نے کہا کہ جب سرکار کسی کو مارتی ہے تو اس کے بعد اسی طرح کی
باتیں کرتی ہے جو کہ زبیربلوچ کے خلاف کی گئیں۔‘
ان کا کہنا تھا
کہ زبیربلوچ ایک پرامن سیاسی کارکن تھا اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کے قتل کے
واقعے کا آزادانہ طورپر تحقیقات کی جائیں۔‘
انھوں نے کہا
کہ ’ہمارا موقف یہ ہے کہ بلوچستان کے مسائل سیاسی ہیں اور ان کے حل کے لیے مذاکرات
کرنے چائیے۔‘
بی ایس او پجار
کے چیئرمین بوہیر بلوچ نے بتایا کہ وہ زبیر بلوچ کے ساتھ بی ایس او کے وائس
چیئرمین کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔
انھوں نے کہا
کہ وہ پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے تھے اس لیے انھوں نے پاکستان کے عدالتوں میں
آئینی اور قانونی جنگ لڑنے کا راستہ اپنایا۔
حقوق انسانی کے
کارکن عمران بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ زبیربلوچ گذشتہ دو ڈھائی سال سے وکالت
کررہے تھے اور پانچ چھ ماہ تک کوئٹہ میں وکالت کے بعد وہ دالبندین گئے۔
انھوں نے بتایا
کہ اگر وکیل معاشی طور پرکمزور ہوں تو بڑے شہروں میں ان کا گزارا کرنا مشکل ہوتا
ہے اس لیے زبیر نے دالبندین کا انتخاب کیا کیونکہ جونیئر وکلا کے لیے چھوٹے شہروں
میں گزارہ کرنا آسان ہے۔
ان کا کہنا تھا
کہ زبیربلوچ دالبندین میں وکالت کررہے تھے اور وہ وہاں مقدمات میں عدالت میں پیش
ہوتے تھے اس لیے اگر ان پر کوئی الزام تھا تو ان کو آسانی سے گرفتار کیا جا سکتا
تھا لیکن ایسا کرنے کی بجائے ان کے گھر پر صبح چار بجے کارروائی کی گئی۔
بلوچستان بار
کونسل کے رکن اور سابق وائس چیئرمین راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’بطور وکیل
میرا مطالبہ یہ ہے کہ اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری ہونی چائیے۔‘