پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ گذشتہ روز صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں دس دہشتگردوں نے کنٹونمنٹ پر حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے ان دہشتگردوں کی کنٹونمنٹ کے اندر داخل ہونے کی اس کوشش کو ناکام بنایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان دہشتگردوں نے بارود سے بھری گاڑی کو اس علاقے میں ایک دیوار کے ساتھ دے مارا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس خود کش دھماکے سے دیوار کا ایک حصہ گر گیا جبکہ قریب کے کچھ انفراسٹرکچر کو نقصان بھی پہنچا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس دھماکے میں آٹھ فوجی ہلاک ہوئے۔
ان ہلاک ہونے والوں میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ کے رہائشی 44 برس کے نائب صوبیدار محمد شہزاد، ضلع خوشاب کے رہائشی 39 برس کے حوالدار ظل حسین، ضلع نیلم کے رہائشی 28 برس کے حوالدار شہزاد احمد، ضلع مظفرآباد کے رہائشی 30 برس کے سپاہی اشفاق حسین خان، مظفر آباد کے ہی 22 برس کے سپاہی سبحان مجید، خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کے رہائشی 30 برس کے سپاہی امتیاز حسین، پنجاب کے شہر بہاولپور سے 26 برس کے سپاہی ارسلان اسلم اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے لکی مروت سے تعلق رکھنے والے 34 برس کے لانس نائیک سبز علی شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران تمام دس دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ فوج کے مطابق سکیورٹی فورسز کے بروقت اور مؤثر جواب کی وجہ سے بڑی تباہی سے کنٹونمنٹ کو محفوظ کر لیا گیا اور معصوم قیمتی جانوں کو بھی بچا لیا گیا۔
فوج کے مطابق یہ حملہ حافظ گل بہادر گروپ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ پاکستانی فوج کے مطابق یہ گروپ افغانستان سے کارروائیاں کرتا ہے اور ماضی میں بھی یہ گروپ پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کرتا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان افغانستان کی عبوری حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتا رہا ہے۔ ’پاکستان نے افغانستان کو اس طرح کے دہشتگرد گروہوں کو پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کو استعمال کرنے سے روکنے کا کہا اور ان گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔‘
آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی افواج ہر قیمت پر اپنی سرزمین اور عوام کا دہشتگردی کے ناسور سے دفاع کرے گی اور افغانستان کی طرف سے ان خطرات کے خلاف ضروری اقدامات اٹھائے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان نے چند ماہ قبل اس گروپ کے خلاف سرحد پار افغانستان کی حدود میں کارروائی بھی کی تھی۔
افغانستان میں پاکستانی کارروائی کا نشانہ حافظ گل بہادر گروپ، جو ’گڈ طالبان‘ کے نام سے مشہور ہوا
رواں برس مارچ میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ سرحد کے قریب افغانستان کی حدود میں دہشتگردوں کے خلاف انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر ایک کارروائی میں حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد ہدف تھے جو ٹی ٹی پی کے ساتھ پاکستان میں متعدد حملے کرنے میں ملوث ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ دہشتگرد پاکستان کی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور یہ تسلسل سے پاکستان میں اپنی دہشتگرد کارروائیوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔
افغان طالبان نے بھی اس حملے کی تصدیق کی تھی اور یہ کہا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے افغانستان کی حدود میں پکتیکا اور خوست کے علاقوں میں بمباری کی، جس میں خواتین اور بچوں سمیت آٹھ شہری ہلاک ہوئے۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں متحرک بیشتر گروپ ٹی ٹی پی میں ضم ہو چکے ہیں لیکن چند ایک گروپ اب بھی ٹی ٹی پی کی چھتری کے نیچے نہیں آئے، جن میں حافظ گل بہادر گروپ بھی شامل ہے۔
حافظ گل بہادر بنیادی طور پر اتمانزئی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے سنہ 2001 میں 4000 رضا کاروں پر مشتمل ایک فورس قائم کی تھی۔
حافظ گل بہادر گروپ ماضی میں پاکستان حکومت کی زیادہ مخالفت میں نہیں رہا لیکن شمالی وزیرستان میں جون سنہ 2014 میں آپریشن ’ضرب عضب‘ شروع ہوا جس کے بعد حافظ گل بہادر اور ان کا گروہ غیر فعال ہو گیا تھا۔
اس آپریشن میں حکومت نے متعدد شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے بھی کیے تھے اور کہا تھا کہ یہ علاقہ اب شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے۔