شام کے مقامی میڈیا کے مطابق ملک کے جنوبی
علاقوں میں قبائلی بدو جنگجوؤں اور مسلح دروز گروہوں کی لڑائیوں میں درجنوں افراد
ہلاک ہو چکے ہیں۔
پُرتشدد واقعات شام کے صوبے سویدا میں دروز آبادی
والے شہر میں اتوار کو شروع ہوئے تھے۔ اس سے دو دن پہلے دمشق کی طرف جانے والے
ہائی وے سے ایک دروز تاجر کو اغوا کیا گیا تھا۔
شام کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک میں امن
بحال کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود بھی
پیر کو سویدا صوبے کے مغربی علاقوں میں مسلح لڑائیاں جاری رہیں۔
دروز شام میں آباد اقلیتی اسماعیلی شیعہ قبیلہ
ہے۔ ان فسادات کے سبب ملک میں آباد دیگر اقلیتی برادریاں بھی تشویش کا شکار ہیں
اور نئے حکمرانوں کے تحفظ فراہم کرنے کے وعدوں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں۔
تازہ لڑائیوں میں ہونے والا جانی نقصان تاحال
واضح نہیں ہے۔ لیکن مقامی میڈیا آؤٹ لیٹ سویدا نیوز کے مطابق ان لڑائیوں میں ’درجنوں‘
افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
اس سے قبل شام کی وزارتِ داخلہ نے کہا تھا کہ ان
لڑائیوں میں 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم برطانیہ میں موجود سیرین آبزرویٹری فور
ہیومن رائٹس کے مطابق ان فسادات میں بچوں، بدو قبیلے کے افراد اور ملک کی سکیورٹی
فورسز کے اہلکاروں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
بی بی سی ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں
کر سکا ہے۔
پیر کو اسرائیل کی فوج نے کہا تھا کہ اس نے
ممکنہ طور پر سویدا جانے والے متعدد ٹینکوں پر حملہ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا
کہ یہ ٹینک اسرائیل کے لیے خطرے کا باعث تھے اور وہ جنوبی شام کی صورتحال پر نظر
رکھیں گے۔
اسرائیلی کے چینل 14 کے مطابق اسرائیلی فوج کا
یہ حملہ اس وقت سامنے آیا جب ’مشکوک نقل و حمل‘ سے یہ اشارے ملے کہ یہ ٹینک دروز
قبیلے کی آبادی والے علاقوں کی طرف جا رہے ہیں۔
ماضی میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو
شام میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اقلیتی دروز قبیلے کو
تحفظ فراہم کریں گے۔
اتوار کو بدو اور دروز قبیلوں کے افراد کے درمیان
جھڑپیں سویدا شہر کے علاقے المقواص میں شروع ہوئی تھیں۔
یہ لڑائیاں جلد ہی پورے صوبے تک پھیل گئیں اور
اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے اس دوران دروز قبیلے کے آبادی والے قصبوں اور
دیہاتوں پر حملے کیے۔
پیر کو سویدا 24 نے خبر دی تھی کہ یہ لڑائیاں
صوبے کے مغربی علاقے میں بھی شروع ہو گئیں جب ڈرونز نے دیہاتوں پر حملہ کیا۔ اس
وقت شام کی سرکاری فورسز کو مشرقی درعا صوبے میں تعینات کیا جا رہا تھا۔
اس حوالے سے شام کی وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ:
’یہ خطرناک کشیدگی متعلقہ سرکاری اداروں کی عدم موجودگی میں پھیل رہی ہے جس سے
افراتفری پھیل رہی ہے اور سکیورٹی کی صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ مقامی برادری نے امن
کی متعدد اپیلیں کے باوجود اس بحران پر قابو نہیں پایا۔‘
رواں برس مئی میں اطلاعات کے مطابق دمشق اور
سویدا میں دروز مسلح افراد، سکیورٹی فورسز اور سُنّی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں
130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ان لڑائیوں کے سبب شامی حکومت نے دروز مسلح گروہوں
کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق سویدا صوبے میں سکیورٹی فورسز میں مقامی
قبیلے سے بھرتیاں کی جانی تھیں۔