آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

قلات میں مسافر بس پر فائرنگ سے کم از کم تین افراد ہلاک، متعدد زخمی

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع قلات میں ایک مسافر بس پر فائرنگ سے کم از کم تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی پولیس حکام کے مطابق بس پر فائرنگ کا واقعہ نیمرغ کراس کے علاقے میں پیش آیا۔

خلاصہ

  • بلوچستان کے ضلع قلات میں مسافر بس پر فائرنگ سے کم از کم تین افراد ہلاک، متعدد زخمی
  • پنجاب بھر میں بدھ کو بارش اور آندھی سے 28 افراد ہلاک، 90 زخمی
  • برطانیہ نے پاکستانی ایئرلائنز کے برطانیہ میں داخلے پر عائد پابندی ختم کر دی
  • پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 5.36 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 11.37 روپے کا اضافہ
  • اسرائیل کا لبنان میں حزب اللہ کو ایک بار پھر نشانہ بنانے کا دعویٰ، حملے میں 12 افراد ہلاک
  • شام میں دروز فرقے کے پیروکاروں، سکیورٹی فورسز اور مقامی قبائل میں جھڑپیں جاری، ہلاکتوں کی تعداد 203 ہو گئی

لائیو کوریج

  1. دو روز سے جاری جھڑپوں کے بعد شامی فوج سویدا میں داخل، شہر میں کرفیو نافذ

    شامی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فوجیں ملک کے جنوبی شہر سویدا میں داخل ہوگئی ہیں جبکہ شہر میں کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔

    دو روز سے قبائلی بدو جنگجوؤں اور مسلح دروز گروہوں کے درمیان جاری خونریز جھڑپوں میں تقریباً 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    پُرتشدد واقعات شام کے دروز آبادی والے شہر میں اتوار کو شروع ہوئے تھے۔ اس سے دو دن پہلے دمشق کی طرف جانے والے ہائی وے سے ایک دروز تاجر کو اغوا کیا گیا تھا۔

    سویدا صوبے میں داخلی سلامتی کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل احمد الدلاتی نے شہر میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرفیو صبح 8 بجے سے اگلے اطلاع تک نافذ العمل ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ ہم مذہبی حکام اور مسلح دھڑے کے رہنماؤں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شہر کو محفوظ بنانے اور پورے صوبے کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہمارے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

    دروز مذہبی رہنما کی جانب سے حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا گیا اور انھوں نے جنگجوؤں سے اپنے ہتھیار پھینکنے اور شامی فوج کے خلاف مزاحمت روکنے کا مطالبہ کیا۔

    بعد ازاں وہ اپنے بیان سے مکر گئے اور ’اس وحشیانہ مہم کا تمام دستیاب ذرائع سے مقابلہ کرنے‘ پر زور دیا۔ اس کے بعد ایک ویڈیو بیان میں انھوں نے کہا، ’اپنے لوگوں اور بچوں کی حفاظت کی خاطر اس ذلت آمیز بیان کو قبول کرنے کے باوجود، انھوں نے اپنا عہد توڑا اور نہتے شہریوں پر اندھا دھند گولہ باری جاری رکھی۔‘

  2. اسلام آباد ہائیکورٹ کا توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا حکم : ’دوران سماعت ایسے شواہد سامنے آئے جن سے ایف آئی اے اور کچھ افراد کے گٹھ جوڑ کے الزامات کو تقویت ملتی ہے‘

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے 30 روز میں فیکٹ فائنڈنگ کمیشن تشکیل دے اور کمیشن کی تشکیل کے لیے اگر کوئی اضافی ضابطہ کار (ٹی او آرز) بنانے پڑیں تو وہ بھی بنائے جائیں۔

    منگل کی دوپہر اس کیس کا فیصلہ سُناتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا ہے کہ یہ کمیشن چار ماہ میں توہین مذہب سے متعلق مقدمات کی تحققیات مکمل کر کے اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گا۔

    یاد رہے کہ 100 سے زیادہ درخواست گزاروں نے کمشین تشکیل دینے کے لیے پٹیشن دائر کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے رشتہ داروں کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات درج ہیں اور ان میں سے متعدد کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں جن کے خلاف اپیلیں مختلف ہائی کورٹس میں زیرِ سماعت ہیں۔

    ان افراد کے خلاف سوشل میڈیا پر ایسا مواد شائع کرنے یا شیئر کرنے کی بنیاد پر مقدمات درج کیے گئے ہیں جو کہ توہینِ مذہب کے زمرے میں آتے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر مقررہ مدت تک کمیشن اپنی تحقیقات مکمل نہیں کر سکا اور اسے اس ضمن میں مزید وقت درکار ہے تو اس حوالے سے ہائیکورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

    عدالت نے اپنے حکم میں اس کمیشن میں ہونے والی کارروائی کو بھی براہ راست نشر کرنے کا حکم دیا ہے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان کو کہا گیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے کمیشن کی تشکیل کے سلسلے میں ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کریں۔

    واضح رہے کہ ان درخواستوں کی ابتدائی سماعتوں میں ہی وفاقی حکومت نے کمیشن کی تشکیل پر رضامندی ظاہر کی تھی اور وفاقی حکومت نے تو یہاس تک کہہ دیا تھا کہ عدالت کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے ضابطہ کار بھی بنا کر دے۔

    عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ کمیشن اس معاملے کو بھی دیکھے کہ توہین مذہب کے مقدمات کے اندارج کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے اور کچھ افراد کا گٹھ جوڑ بنا ہوا ہے جس نے مبینہ طور پر مختلف لوگوں کے خلاف مقدمات درج کروائے ہیں۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے ایسے شواہد پیش کیے گئے ہیں جن میں ایف آئی اے اور کچھ افراد کے گٹھ جوڑ کے الزامات کو تقویت ملتی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ اس درخواست کی 7ویں سماعت، جو کہ 31 جنوری 2025، میں ہوئی تھی، میں انھوں نے کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے کہا تھا، تاہم ان درخواستوں میں بنائے گئے فریقوں نے اس پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ انھیں بھی سُنا جائے جس کی وجہ سے ان درخواستوں کی 42 سماعتیں ہوئی ہیں۔

    عدالت نے اپنے حکم نامے میں ان درخواستوں میں بنائے گئے فریق کی جانب سے اس نکتے کا بھی ذکر کیا جس میں انھوں نے کہا کہ انھیں مکمل طور پر نہیں سُنا گیا۔

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت انکوائری ایکٹ کے تحت فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بناتی ہے جو کہ کسی معاملے کی تحقیقات کے لیے کسی بھی تحقیقاتی ادارے کے افسران کی خدمات حاصل کر سکتا ہے اور اس کمیشن میں عدلیہ اور مختلف اداروں میں خدمات سرانجام دینے والے ریٹائرڈ سرکاری افسران بھی شامل ہوتے ہیں۔

  3. بلوچستان میں مون سون بارشوں کے نیتجے میں 16 افراد ہلاک، 11 مکانات مکمل تباہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان میں حالیہ مون سون کی بارشوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 16 ہوگئی ہے۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے ذمہ دار صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سات بچے، پانچ مرد اور چار خواتین شامل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے یہ ہلاکتیں صوبے کے سات اضلاع میں ہوئیں ہیں، جن میں ژوب، موسیٰ خیل، لورالائی، کوہلو، زیارت، لسبیلہ اور خضدار شامل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں کی وجہ سے مختلف علاقوں میں 58 گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے، جن میں سے 11 گھر مکمل طور پر تباہ ہوچکے۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق ان اضلاع میں کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ ٹیوب ویلز پر لگی شمسی پلیٹوں کو بھی نقصان پہنچا ہے، جن کے نقصانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

    درایں اثنا ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ نے کہا ہے کہ ضلع صحبت پور بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    ایک بیان میں انھوں نے پی ڈی ایم اے اور دیگر امدادی اداروں پر زور دیا ہے کہ صحبت پور میں فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں۔

  4. ’میں کسی پر بھروسہ نہیں کرتا‘: امریکی صدر ٹرمپ روسی صدر پوتن سے ’مایوس‘ ہوگئے, گیری و ڈونوہ، نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ’مایوس‘ ضرور ہوئے ہیں لیکن ان کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھیں گے۔

    جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ روسی صدر پر بھروسہ کرتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ: ’میں کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرتا۔‘

    ٹرمپ اس سے قبل یوکرین کو اسلحہ دینے کا اعلان کر چکے ہیں اور انھوں نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگلے 50 دنوں میں جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں اسے سخت ٹیرف کا سامنا کرنا ہوگا۔

    وائٹ ہاؤس سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ نیٹو کے مشترکہ دفاع کے اصول کی حمایت کرتے ہیں۔

    اس انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے گذشتہ برس بٹلر میں خود پر ہونے والے حملے پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ نہیں سوچتا کہ اس سے مجھے میں کیا تبدیلی آئی‘ مگر ’اس سے زندگی بدل سکتی ہے۔‘

    ٹرمپ نے گذشتہ روز نیٹو کے سربراہ مارک روتے سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تھی۔ بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو کے دوران وہ زیادہ دیر تک روسی صدر سے مایوس ہونے کے حوالے سے ہی بات کرتے رہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھیں متعدد اوقات پر چار مرتبہ ایسا لگا کہ روس کے ساتھ معاہدہ ہونے والا ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ صدر پوتن کو ’خون بہانے سے روکنے‘ کے لیے کیا اقدامات کریں گے تو انھوں نے کہا: ’ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے روسی صدر سے ہونے والی گفتگو کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’ہماری اچھی گفتگو ہوتی تھی۔ میں کہتا تھا کہ ’یہ اچھا ہے، میرے خیال میں ہم (جنگ بندی کے) قریب پہنچ چکے ہیں‘ اور پھر وہ (پوتن) کیئو میں کسی عمارت کو اڑا دیتے تھے۔‘

    صدر ٹرمپ سے جب مستقبل میں دنیا میں برطانیہ کے کردار کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں ’وہ بہترین جگہ ہے، آپ کو معلوم ہے میری وہاں ایک پراپرٹی بھی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ رواں برس ستمبر میں برطانیہ کا دوسرا دورہ کرنے کے لیے پُرامید ہیں۔

    ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ وہ ان دوروں سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ: ’میں اچھا وقت گزارنا چاہتا ہوں، شاہ چارلس کو عزت دینا چاہتا ہوں کیونکہ وہ ایک عظیم آدمی ہیں۔‘

  5. پاکستان میں مون سون بارشوں کے نتیجے میں 111 افراد ہلاک: این ڈی ایم اے

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ذمہ دار ادارے نیشنل ڈیزازٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 26 جون سے اب تک مون سون بارشوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 111 افراد ہو چکے ہیں۔

    این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق 26 جون سے 14 جولائی تک مون سون بارشوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ 40 ہلاکتیں پنجاب میں ہوئی ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں اس دوران 37 افراد ہلاک ہوئے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق اس دوران مون سون بارشوں ک باعث سندھ میں 17 اور بلوچستان میں 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    مون سون کی بارشوں کے سبب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 26 جون سے 14 جولائی تک بارشوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد میں 53 بچے اور 19 خواتین بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 15 جولائی سے 17 جولائی کے درمیان موسلادھار بارشوں کے باعث چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ، مری گلیات، کوہستان، ایبٹ آباد، بونیر، صوابی، نوشہرہ، مردان، اسلام آباد، راولپنڈی، ڈی جی خان، شمال مشرقی بالائی پنجاب، شمال مشرقی بلوچستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں برساتی ندی اور نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، خا نیوال، ساہیوال، لودھراں، مظفر گڑھ، کو ٹ ادو، تو نسہ، را جن پور،بہا ولپور، نوشہرہ اور پشاور کے نشیبی علا قے زیر آب آنے کا اندیشہ ہے۔

    محکمہ موسمیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث خیبرپختونخوا، مری، گلیات، کشمیر اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

  6. شام میں قبائلی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں ’درجنوں‘ افراد ہلاک، اسرائیل کا جنوبی علاقے میں ٹینکوں پر حملہ, وکٹوریہ بورن، ڈیوڈ گرٹن، بی بی سی نیوز

    شام کے مقامی میڈیا کے مطابق ملک کے جنوبی علاقوں میں قبائلی بدو جنگجوؤں اور مسلح دروز گروہوں کی لڑائیوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    پُرتشدد واقعات شام کے صوبے سویدا میں دروز آبادی والے شہر میں اتوار کو شروع ہوئے تھے۔ اس سے دو دن پہلے دمشق کی طرف جانے والے ہائی وے سے ایک دروز تاجر کو اغوا کیا گیا تھا۔

    شام کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک میں امن بحال کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود بھی پیر کو سویدا صوبے کے مغربی علاقوں میں مسلح لڑائیاں جاری رہیں۔

    دروز شام میں آباد اقلیتی اسماعیلی شیعہ قبیلہ ہے۔ ان فسادات کے سبب ملک میں آباد دیگر اقلیتی برادریاں بھی تشویش کا شکار ہیں اور نئے حکمرانوں کے تحفظ فراہم کرنے کے وعدوں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں۔

    تازہ لڑائیوں میں ہونے والا جانی نقصان تاحال واضح نہیں ہے۔ لیکن مقامی میڈیا آؤٹ لیٹ سویدا نیوز کے مطابق ان لڑائیوں میں ’درجنوں‘ افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل شام کی وزارتِ داخلہ نے کہا تھا کہ ان لڑائیوں میں 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم برطانیہ میں موجود سیرین آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس کے مطابق ان فسادات میں بچوں، بدو قبیلے کے افراد اور ملک کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    بی بی سی ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    پیر کو اسرائیل کی فوج نے کہا تھا کہ اس نے ممکنہ طور پر سویدا جانے والے متعدد ٹینکوں پر حملہ کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا کہ یہ ٹینک اسرائیل کے لیے خطرے کا باعث تھے اور وہ جنوبی شام کی صورتحال پر نظر رکھیں گے۔

    اسرائیلی کے چینل 14 کے مطابق اسرائیلی فوج کا یہ حملہ اس وقت سامنے آیا جب ’مشکوک نقل و حمل‘ سے یہ اشارے ملے کہ یہ ٹینک دروز قبیلے کی آبادی والے علاقوں کی طرف جا رہے ہیں۔

    ماضی میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو شام میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اقلیتی دروز قبیلے کو تحفظ فراہم کریں گے۔

    اتوار کو بدو اور دروز قبیلوں کے افراد کے درمیان جھڑپیں سویدا شہر کے علاقے المقواص میں شروع ہوئی تھیں۔

    یہ لڑائیاں جلد ہی پورے صوبے تک پھیل گئیں اور اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے اس دوران دروز قبیلے کے آبادی والے قصبوں اور دیہاتوں پر حملے کیے۔

    پیر کو سویدا 24 نے خبر دی تھی کہ یہ لڑائیاں صوبے کے مغربی علاقے میں بھی شروع ہو گئیں جب ڈرونز نے دیہاتوں پر حملہ کیا۔ اس وقت شام کی سرکاری فورسز کو مشرقی درعا صوبے میں تعینات کیا جا رہا تھا۔

    اس حوالے سے شام کی وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ: ’یہ خطرناک کشیدگی متعلقہ سرکاری اداروں کی عدم موجودگی میں پھیل رہی ہے جس سے افراتفری پھیل رہی ہے اور سکیورٹی کی صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ مقامی برادری نے امن کی متعدد اپیلیں کے باوجود اس بحران پر قابو نہیں پایا۔‘

    رواں برس مئی میں اطلاعات کے مطابق دمشق اور سویدا میں دروز مسلح افراد، سکیورٹی فورسز اور سُنّی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    ان لڑائیوں کے سبب شامی حکومت نے دروز مسلح گروہوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق سویدا صوبے میں سکیورٹی فورسز میں مقامی قبیلے سے بھرتیاں کی جانی تھیں۔

  7. امریکہ نیٹو ممالک کے ذریعے یوکرین کو ’ٹاپ آف دی لائن ہتھیار‘ بھیجے گا، 50 دنوں میں روس نے امن معاہدہ نہ کیا تو اس پر بھاری ٹیرف عائد کیے جائیں گے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نیٹو ممالک کے ذریعے یوکرین کو ’ٹاپ آف دی لائن ہتھیار‘ بھیجے گا اور اس کے ساتھ ہی روس کو دھمکی بھی دی ہے کہ اگر 50 دنوں کے اندر جنگ ختم کرنے کا معاہدہ نہ ہوا تو اس پر بڑے پیمانے پر ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔

    واشنگٹن میں نیٹو کے سربراہ جنرل مارک روٹے کے ساتھ ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یوکرین وہ کر سکے جو وہ کرنا چاہتا ہے۔‘

    روٹے نے تصدیق کی کہ امریکہ نے ’بڑے پیمانے پر یوکرین کو نیٹو کے ذریعے ضروری سامان فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ اور یہ کہ یورپی ممالک یہ رقم ادا کریں گے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ یورپی ممالک کیئو کو اپنا پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم بھیجیں گے۔ جس پر یوکرین روس کے مہلک فضائی حملوں کو پسپا کرنے کے لیے انحصار کرتا ہے اور اس کے بعد امریکہ کی طرف سے متبادل جاری کیے جائیں گے۔

    روٹے اور ٹرمپ دونوں نے ہی عسکری سازوسامان اور اسلحے کی تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔

    روٹے نے کہا کہ ’اگر میں پوتن کی جگہ ہوتا۔۔۔ تو میں دوبارہ سوچتا کہ آیا مجھے یوکرین سے متعلق مذاکرات کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔‘

  8. جنوبی شام میں سنی خانہ بدوش قبائلیوں اور مقامی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 37 افراد ہلاک

    جنوبی شام میں سنی خانہ بدوش قبائلیوں اور مقامی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 37 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ شام کے انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جھڑپیں سویدا نامی قصبے میں ہوئیں، جہاں زیادہ تر دروز فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں۔

    مقامی حکام نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے فورسز کو علاقے میں بھیج دیا ہے۔ شامی وزارتِ داخلہ کے مطابق جھڑپوں میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے ہلاکتوں کی تعداد 37 بتائی ہے۔

    شام کی وزارتِ داخلہ نے پیر کی صبح اعلان کیا کہ اس کی افواج لڑائی کو ختم کرنے اور تنازعہ کو روکنے کے لیے براہِ راست مداخلت کریں گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ جھڑپوں میں 100 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    سویدا کے گورنر مصطفیٰ البکر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ’صبر کریں اور اصلاحات کے لیے قومی آوازوں کی حمایت کریں۔‘