آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کراچی کے ساحل پر مرد اور عورت کی لاشیں ملنے کا معاملہ: ’ساجد مسیح نے 20 جولائی کو اسلام قبول کیا اور اسی دن دونوں نے کورٹ میرج کی تھی‘ پولیس

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں حکام کا کہنا ہے کہ بوٹ بیسن تھانے کی حدود سے ملے والے جوڑے کی شناخت پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ ساجد مسیح اور 25 سالہ ثنا آصف کے نام سے ہوئی ہے۔ گوجرانوالہ پولیس کے مطابق ساجد مسیح نے 20 جولائی کو مذہب اسلام قبول کر لیا تھا اور دونوں نے 20 جولائی کو ہی کورٹ میرج کی تھی۔

خلاصہ

  • نیویارک میں مسلح شخص کی دفتری کمپلیکس میں فائرنگ، پولیس افسر سمیت چار افراد ہلاک، حملہ آور بھی مارا گیا
  • پاکستان میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ: این ڈی ایم اے کی فلڈ وارننگ ، شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت
  • ملائشیا کی ثالثی میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کا ’فوری اور غیر مشروط جنگ بندی‘ پر اتفاق
  • آپریشن سندور رکا ہے ختم نہیں ہوا، پاکستان نے دوبارہ کچھ کیا تو اس سے بھی سخت کارروائی کریں گے: انڈین وزیرِ دفاع
  • انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین فوج کا پہلگام حملے کے منصوبہ ساز کی ہلاکت کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. ’اب ہم اللہ کے سامنے ملیں گے‘: نائجیریا میں تاوان کی ادائیگی کے باوجود کم از کم 35 افراد قتل

    نائجیریا میں اغوا کاروں نے شمالی ریاست زمفارا کے ایک گاؤں سے اغوا کیے گئے 35 سے زیادہ افراد کو تاوان وصول کرنے کے باوجود قتل کر دیا ہے۔

    بی بی سی کو ایک مقامی افسر نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

    حالیہ برسوں میں ملک میں جرائم پیشہ گروہوں نے رقم اکھٹی کرنے کے لیے اغوا کی وارداتوں کا سہارا لیا ہے۔

    رواں برس مارچ میں بانگا نامی گاؤں سے 56 افراد کو اغوا کیا گیا تھا اور اغوا کاروں نے ان کی رہائی کے لیے 10 لاکھ نائجیرین نائرا (655 ڈالر) کا مطالبہ کیا تھا۔

    مقامی حکومت کے چیئرمین منیرو حیدارا کورا کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر نوجوان افراد تھے جنھیں ’بھیڑوں کی طرح زبح کیا گیا‘ ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بینڈٹس (جرائم پیشہ افراد) نے تاوان کا مطالبہ کیا تھا اور کچھ لیت و لعل کے بعد انھیں تاوان دے دیا گیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے 17 خواتین اور ایک لڑکے کو سنیچر کو رہا کر دیا تھا۔‘

    ’صرف مسلح افراد کو ہی معلوم ہے کہ باقی افراد کو کیوں قتل کیا گیا ہے۔ وہ بے عقل اور بد دل لوگ ہیں، وہ یہ بھول گئے کہ وہ اپنے ہی بھائیوں کو قتل کر رہے ہیں۔ اب ہم اللہ کے سامنے ملیں گے۔‘

    سنیچر کو رہا ہونے والوں میں سے 16 افراد اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جبکہ ہلاک ہونے والے 38 افراد کی لاشیں مسلح افراد کے پاس ہی ہیں۔

  2. قصور: بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے والا ملزم ’نازک اعضا‘ پر گولی لگنے سے زخمی ہونے کے بعد گرفتار, احتشام شامی، صحافی

    پنجاب کے ضلع قصور میں پولیس نے ایک بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے والے ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ہے۔

    منگل کو قصور پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصدیق کی ہے کہ ’بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے والا ملزم اپنے ہی پستول سے مخصوص اعضا پر فائر لگنے سے زخمی حالت میں گرفتار‘ ہوا ہے۔

    پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے شلوار میں اڑسا ہوا پستول نکالا تو حادثاتی طور پر اس کا اپنا ہی فائر ملزم کے عضو تناسل پر لگا جس سے وہ زخمی ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا اور علاج کےلئے ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ملزم کی نازیبا حرکات کرنے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

    25 جولائی کی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کم عمر لڑکا اور لڑکی ایک گلی میں سائیکل چلا رہے ہیں اور ایسے میں سفید شلوار قمیض میں ملبوس شخص پیچھے سے آتا ہے۔

    وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں اس شخص کو بچی کو زبردستی بوسہ دیتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    قصورکے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد عیسیٰ خاں نے فوٹیج منظرعام پر آنے کے بعد نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ملزم کی فوری گرفتاری کا ٹاسک دیا تھا، جس پر پولیس نے اپنی کارروائی شروع کی اور علاقے کے تمام گھروں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز چیک کیں۔

    قصور کے تھانہ اے ڈویژن کے ایس ایچ او آصف جاوید نے بتایا کہ ملزم اوکاڑہ کا رہائشی ہے اور کھارہ روڈ پر زیرِ تعمیر گھر میں مزدوری کر رہا تھا۔

    ’گذشتہ شب پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ ایک ملزم دوران واردات دھنپت روڈ پرعوام کے ہتھے چڑھا ہے تو پولیس اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچی۔ اس دوران ملزم نے گرفتاری سے بچنے کیلئے شلوار میں اڑسا ہوا پستول باہر نکالا تو ملزم سے جلدبازی میں فائر ہوگیا اور گولی اس کے عضو تناسل کے آرپار ہوگئی۔‘

  3. نیویارک میں مسلح شخص کی عمارت میں گھس کر فائرنگ، ایک پولیس افسر سمیت چار افراد اہلکار ہلاک

    امریکی شہر نیویارک کے میئر کا کہنا ہے کہ مین ہٹن میں فائرنگ کے واقعے میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    منگل کے روز نیویارک کے علاقے مین ہٹن میں ایک مسلح شخص نے عمارت میں گھس کر فائرنگ کر دی تھی۔ نیویارک پولیس چیف جیسکا ٹِش کے مطابق اس عمارت میں نیشنل فٹبال لیگ اور کے پی ایم جی سمیت متعدد ادارں کے دفاتر ہیں۔

    میئر ایرک ایڈمز کے مطابق اس واقعے میں پانچ فراد گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے جن میں سے چار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    میئر ایڈمز کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔

    اس واقعے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کی شناخت بنگلہ دیشی تارک وطن ’اسلام‘ کے نام سے کی گئی ہے۔ وہ گذشتہ تین سال سے نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

    اس سے قبل سی بی ایس نیوز نے خبر دی تھی کہ مسلح شخص کی فائرنگ سے عمارت میں موجود دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق دونوں پولیس اہلکار اس وقت ڈیوٹی پر نہیں تھے بلکہ بطور سکیورٹی گارڈ وہاں کام کر رہے تھے۔

    نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ حملہ آور اکیلا تھا جو کہ مارا گیا ہے۔ بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق حملہ آور اپنی ہی گولی لگنے سے ہلاک ہوا ہے۔

    میئر ایڈمز کا یہ بھی کہنا ہے کہ حملہ آور بظاہر اپنی ہی بندوق سے چلنے والی گولی کے نتیجے میں ہلاک ہوا ہے۔

    پولیس ذرائع نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ حملہ آور کی شناخت امریکی ریاست نیواڈا کے رہائشی شین ڈی تمورا کے نام سے ہوئی ہے۔

    تاہم پولیس کی جانب سے سرکاری طور مسلح شخص کی شناخت نہیں کی گئی ہے۔

  4. الیکشن کمیشن نے تحریکِ انصاف کے رہنما محمد احمد چٹھہ کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے نا اہل قرار دے دیا

    الیکشن کمیشن نے این اے 66 وزیرآباد سے رکن قومی اسمبلی محمد احمد چٹھہ اور پی پی 87 میانوالی تھری سے صوبائی اسمبلی پنجاب کے ایم پی اے احمد خان کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 (1) ایچ کے تحت بالترتیب قومی اسمبلی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل قرار دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ سرگودھا کی انسداد دہشتگردی عدالت نے پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف ملک احمد بچھر اور پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی احمد چٹھا سمیت دیگر ملزمان کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

    سزا یافتہ ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے ان کی رکنیت کو فوراً ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے دو سال قبل نو مئی کو لاہور میں جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو بھی دس، دس سال قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔

    عدالت نے پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو اس مقدمے سے بری کر دیا تھا۔

    اسی قسم کے کسیز میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنما جن میں خالد قیوم، ریاض حسین، علی حسن اور افضال عظیم پاہٹ شامل ہیں انھیں بھی دس، دس سال قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

  5. مون سون میں بارشوں کا نیا سلسلہ: این ڈی ایم اے کا فلڈ ہائی الرٹ، شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مون سون سسٹم کے پیش نظر پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لیے اثرات پر مبنی موسمیاتی الرٹ جاری کر دیا۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے 28 سے 31 جولائی تک جاری رہنے والے جنوب مغربی مون سون سسٹم کی وجہ سے پاکستان کے مختلف علاقوں کے لیے اثرات پر مبنی موسمی الرٹ جاری کیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بڑے پیمانے پر بارشوں کا امکان ہے جبکہ حساس اضلاع میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔پنجاب میں سرگودھا، حافظ آباد، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، لاہور، نارووال اور ملحقہ علاقوں میں موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

    ڈی جی خان، راجن پور اور رحیم یار خان سمیت جنوبی اضلاع میں معتدل بارش کا امکان ہے جس کی وجہ سے ڈی جی خان اور راجن پور میں ندی نالے درمیانے بہاؤ کے ساتھ دوبارہ فعال ہو سکتے ہیں۔

    این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق جبکہ شمال مشرقی پنجاب میں پیر پنجال رینج سے نکلنے والے نالوں میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔ نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خطرہ زیادہ ہے۔

    این ڈی ایم اے نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ محتاط رہیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور جان و مال کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    خیبر پختونخوا اور گلگت میں برفانی تودوں کے پگھلنے اور بارشوں سے دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ

    این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری الرٹ میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کوہستان، سوات، مالاکنڈ، دیر، بونیر اور گردونواح کے وسطی اور نچلے اضلاع میں ہلکی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    ’دریائے سوات، پنجکورہ، باڑہ اور کلپانی نالے جیسی معاون ندیاں نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ بونی، ریشون اور وادی چترال کے ملحقہ علاقوں میں برفانی تودوں کے پگھلنے اور بارشوں کی وجہ سے دریائے چترال اور اس کے معاون دریاؤں میں بھی طغیانی آسکتی ہے۔ پشاور، مردان، نوشہرہ اور ایبٹ آباد میں بھی اربن فلڈنگ کا امکان ہے۔

    اس کے ساتھ ہی این ای او سی نے متوقع مون سون بارشوں کے پیش نظر گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں فلڈ الرٹ بھی جاری کیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطاب ’گلگت، سکردو، ہنزہ اور شگر کے علاوہ مظفر آباد، وادی نیلم اور باغ میں بارش کا امکان ہے۔ ان علاقوں میں شدید بارشوں کی وجہ سے ندی نالوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔ مظفر آباد اور باغ جیسے شہری مراکز میں بھی پانی بھرنے اور سیلاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ‘

    این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکموں، پی ڈی ایم اے اور مقامی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے، فلڈ رسپانس ٹیموں اور آلات کو پہلے سے تعینات کرنے اور نکاسی آب کے نظام کی فوری کلیئرنس کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    این ڈی ایم اے نے شہریوں کو سختی سے مشورہ دیا کہ وہ موسم کی تازہ ترین معلومات کی نگرانی کریں، محفوظ انخلا کے راستوں کی نشاندہی کریں اور ریئل ٹائم الرٹ اور رہنمائی کے لئے ’پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ‘ موبائل ایپلی کیشن کا استعمال کریں۔

  6. تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کا ’فوری اور غیر مشروط جنگ بندی‘ پر اتفاق

    تھائی لینڈ اور کمبوڈیا نے اپنی سرحد پر پانچ روز سے جاری لڑائی کے بعد ’فوری اور غیر مشروط جنگ بندی‘ پر اتفاق کر لیا ہے۔

    اب تک ہونے والی لڑائی میں کم از کم 33 افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوگئے ہیں۔

    ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے اپنے ہم منصبوں کے ہمراہ نصف شب جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشیدگی میں کمی اور امن و سلامتی کی بحالی کی جانب ایک اہم پہلا قدم ہے۔

    خیال رہے کہ تھائی لینڈ نے ابتدائی طور پر ثالثی کی پیش کش کو مسترد کر دیا تھا لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد اس پر رضامندی ظاہر کر دی تھی کہ محصولات سے متعلق مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھیں گے جب تک 'جنگ' بندی نہیں ہو جاتی۔

    ایک صدی پرانے سرحدی تنازعے پر کشیدگی مئی میں اس وقت بڑھ گئی تھی جب کمبوڈیا کا ایک فوجی جھڑپ میں ہلاک ہو گیا تھا۔

    حالیہ دنوں میں تھائی لینڈ نے زمینی راستے سے کمبوڈیا جانے والے شہریوں اور سیاحوں پر پابندی عائد کردی جبکہ کمبوڈیا نے تھائی لینڈ سے پھلوں، بجلی اور انٹرنیٹ خدمات سمیت کچھ درآمدات پر پابندی عائد کررکھی ہے۔

    تھائی لینڈ نے کمبوڈیا کے ساتھ اپنی کچھ سرحدی گزرگاہوں کو بند کر رکھا ہے، کمبوڈیا کے سفیر کو ملک بدر کر دیا اور اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

    پیر کوالالمپور میں جاری امن مذاکرات کے دوران بھی دونوں ممالک میں گولے اور راکٹ گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

    کمبوڈیا جمعے سے ہی جنگ بندی پر زور دے رہا ہے کیونکہ تھائی لینڈ کی فوج نے اس کی مسلح افواج کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیراعظم فومتھم ویچایاچائی نے مختصر خطاب کرتے ہوئے جنگ بندی کا احترام کرنے کا وعدہ کیا۔

    تنازع کی وجہ کیا ہے؟

    ان دونوں ممالک میں تنازع کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ درحقیقت تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تنازع ایک صدی سے بھی زیادہ پرانا ہے اور اس کی ابتدا اُس وقت ہوئی جب کمبوڈیا پر فرانسیسی قبضے کے بعد ان دونوں ممالک کی سرحدوں کا تعین کیا گیا۔

    تاہم یہ تنازع شدت اس وقت اختیار کر گیا جب سنہ 2008 میں کمبوڈیا نے سرحد پر واقع ایک متنازع علاقے میں قائم 11ویں صدی کے ایک مندر پر اپنے حق کا دعویٰ کیا۔ 11ویں صدی کا یہ مندر یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ یہ ایک ایسا اقدام تھا جس پر تھائی لینڈ کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔

    اس کے بعد آنے والے برسوں کے دوران اسی مندر کے معاملے پر دونوں ممالک میں جھڑپیں ہوتی رہی ہیں جن میں دونوں اطراف کے فوجی اور عام شہری مارے گئے ہیں۔

    تازہ ترین کشیدگی کی ابتدا مئی 2025 میں اُس جھڑپ کے نتیجے میں ہوئی جس میں کمبوڈیا کا ایک فوجی مارا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ان دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔

    مئی 2025 کے بعد سے اِن دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سرحدی پابندیاں عائد کی ہیں۔ کمبوڈیا نے تھائی لینڈ سے پھلوں اور سبزیوں کی درآمدات پر پابندی لگا دی اور بجلی اور انٹرنیٹ جیسی خدمات کی درآمد بند کر دی۔

    اسی کشیدگی کے پیش نظر دونوں ممالک نے اپنی اپنی سرحدوں پر فوجی موجودگی میں بھی اضافہ کیا ہے۔

  7. اپوزیشن اراکین کا یہ سوال کہ ہمارے کتنے طیارے گرے، قومی جذبات کی نمائندگی نہیں کرتا: انڈین وزیر دفاع

    انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمانی سیشن کے دوران کہا ہے کہ اپوزیشن اراکین کا یہ سوال کہ انڈیا کے کتنے طیارے گرے قومی جذبات کی نمائندگی نہیں کرتا ہے۔

    انھوں نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’کچھ اپوزیشن اراکین یہ پوچھ رہے ہیں کہ ہمارے کتنے طیاے گرے؟ میرے خیال میں ان کا سوال ہمارے قومی جذبات کی نمائندگی نہیں کرتا۔ انھوں نے یہ نہیں پوچھا کہ ہماری فوج نے دشمن کے کتنے طیارے گرائے؟ اگر انھیں سوال ہی پوچھنا ہے تو یہ پوچھنا چاہیے کہ انڈیا نے دہشتگردوں کے کتنے ٹھکانے تباہ کیے اور اس کا جواب ہو گا ہاں۔ اگر آپ نے سوال پوچھنا ہی ہے تو یہ پوچھیں کہ آپریشن میں ہمارے کتنے فوجیوں کو نقصان پہنچا؟ اس کا جواب نہیں ہے۔ ہمارے کسی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔‘

  8. آپریشن سندور رکا ہے ختم نہیں ہوا، پاکستان نے دوبارہ کچھ کیا تو اس سے بھی سخت کارروائی کریں گے: انڈین وزیرِ دفاع

    انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پیر کو پہلگام حملے اور ’آپریشن سندور‘ پر لوک سبھا میں بحث کے دوران اپنی تقریر میں کہا ہے کہ یہ ابھی رکا ہے ختم نہیں ہوا، پاکستان نے دوبارہ کچھ کیا تو ہم اس سے بھی زیادہ سخت کارروائی کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ کوئی تنازعہ نہیں ہے، یہ تہذیب اور بربریت کا ٹکراؤ ہے، اگر کوئی ہماری خودمختاری کو نقصان پہنچاتا ہے تو اسے منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ہماری بنیادی فطرت بدھ کی ہے جنگ کی نہیں۔ ہم آج بھی کہتے ہیں کہ ایک خوشحال پاکستان ہمارے مفاد میں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’نریندر مودی حکومت کا موقف واضح ہے مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وزیرِ اعظم مودی نے بھی کہا ہے کہ آپریشن سندور رک گیا ہے، لیکن ختم نہیں ہوا، اگر پاکستان نے دوبارہ کچھ کیا تو ہم اس سے بھی زیادہ سخت کارروائی کریں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے ذہن میں ایک غلط فہمی تھی، ہم نے اسے آپریشن سندور کے ذریعے دور کیا، اگر کچھ رہ گیا تو اسے بھی دور کر دیں گے۔‘

    وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’ہماری حکومت نے پاکستان کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے بھی بہت کوششیں کی ہیں لیکن بعد میں سنہ 2016 کے سرجیکل سٹرائیک، 2019 کے بالاکوٹ ایئر سٹرائیک اور 2025 میں آپریشن سندور کے ذریعے، ہم نے امن قائم کرنے کے لیے ایک اور راستہ اپنایا ہے۔‘

    راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ’ہماری پالیسی بھگوان رام اور بھگوان کرشن سے متاثر ہے، جو ہمیں بہادری اور صبر دونوں کا درس دیتے ہیں۔ ہماری پالیسی واضح ہے۔

    ’پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی پاگل پن نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ یہ ایک ٹول کٹ ہے جسے پاکستان اور اس کی ایجنسیوں نے بطور پالیسی اپنا ہے۔‘

  9. انڈین فوج کا پہلگام حملے کے منصوبہ ساز کی ہلاکت کا دعویٰ, ریاض مسرور، بی بی سی اردو سرینگر

    انڈین فوج نے پیر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ سرینگر کے ہارون پہاڑی علاقے میں آپریشن مہادیو کے دوران تین مسلح عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

    ہارون آپریشن سے متعلق فوج کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران گھنے جنگلوں میں چھپے عسکریت پسندوں کی تلاش کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔

    واضح رہے کہ پہلگام ہلاکتوں کے لیے انڈیا نے پاکستان میں مقیم مسلح گروپس کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور پاکستان پر ان کی پشت پناہی کا الزام لگایا تھا۔ بعد میں چھ اور سات مئی کی درمیانی رات کو انڈیا نے آپریشن سندور کے تحت پاکستان کے اندر نو ایسے مبینہ ’دہشت گرد ٹھکانوں‘ کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا جن میں انڈین حکومت کے مطابق پہلگام حملے کی سازش رچائی گئی۔

    پاکستان نے فوجی ردِعمل میں انڈیا کے چھ جنگی طیارے گرانے کا دعویٰ کیا تھا تاہم انڈیا نے اس کی تردید کی۔ پیر کے روز پہلگام حملے کے منصوبہ ساز کی ہلاکت کا دعویٰ انڈین پارلیمنٹ میں اس حملے سے متعلق وزیراعظم مودی کے بیان سے چند گھنٹے پہلے کیا گیا۔

    انڈیا کی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) نے پہلے تو پہلگام میں جائے واردات بائی سرن کے آس پاس 12 کلومیٹر علاقے کو تحقیقات کا مرکز بنایا تھا، لیکن جمعرات کو یہ دائرہ مزید بڑھایا گیا۔

    این آئی اے نے ابھی تک دو ہزار سے زیادہ ایسے کشمیری نوجوانوں سے پوچھ گچھ کی ہے جن کے بارے میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ ماضی میں عسکریت پسندوں کے اوور گراوٴنڈ ورکرز (بالائے زمین کارکن) ہیں۔

    یاد رہے کہ آغاز میں انڈین میڈیا پر شائع کیے گئے پولیس سکیچ کے مطابق یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ حملہ ہاشم موسیٰ عرف سلیمان، علی بھائی عرف طلحہ بھائی اور عادل حسین ٹھوکر نے انجام دیا۔ ہاشم اور علی کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں جبکہ عادل حسین ٹھوکر کی شناخت کشمیری کے طور پر کی گئی تھی۔ تحقیقات میں چوتھا نام پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مقیم فاروق احمد عرف فاروق ٹیڑوا کا سامنے آیا ہے۔

    این آئی اے کے مطابق وہ اس حملہ کی نگرانی ایل او سی کی دوسری جانب سے کر رہے تھے۔ این آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ فاروق نے حملہ آوروں کو کشمیر میں موجود اپنے او جی ڈبلیو نیٹ ورک کے ساتھ رابطہ میں لایا۔

    این آئی اے نے حملے میں زخمی ہونے والے سیاحوں سے پوچھ گچھ کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ حملہ آوروں کے پاس جدید ساخت کے ایسے اینکرپٹِڈ فون تھے، جن کے ذریعہ انھوں نے حملے کے بعد پاکستانی ہینڈلرز کے ساتھ رابطہ بھی کیا۔

    بعض عینی شاہدین نے این آئی کو بتایا تھا کہ حملہ آوروں نے باڈی کیمرے لگا رکھے تھے اور وہ فائرنگ کے وقت ریکارڈنگ بھی کر رہے تھے، تاہم اس دعوے کی مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔

    تاہم بعد میں این آئی اے نے کہا تھا کہ جن لوگوں کی تصویریں کشمیر پولیس نے جاری کی تھیں ان میں سے کوئی بھی حملے میں ملوث نہیں تھا۔

    مبینہ عسکریت پسندوں کے مسمار کیے گئے گھروں میں عادل حسین ٹھوکر اور فاروق ٹیڑوا کے گھر بھی ہیں۔ گھروں کی مسماری سے متعلق پولیس کا دعویٰ ہے کہ تلاشی مہم کے دوران ان گھروں میں بارودی سرنگیں دیکھی گئیں جنھیں ناکارہ کرتے ہوئے دھماکہ ہوتا تھا اور گھر گر جاتا تھا۔

  10. چلاس میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 15 افراد تاحال لاپتہ ہیں: گلگت بلتستان حکومت, بلال احمد، بی بی سی پشاور

    پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ 21 جولائی کو چلاس میں آنے والے سیلابی ریلے میں بہہ جانے والوں میں سے پندرہ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب ریلے میں بہہ جانے والوں میں نجی ٹی وی کی اینکرشبانہ لیاقت اور ان کا اہلخانہ بھی شامل ہے۔

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز سرچ آپریشن کے دوران امدادی کارکنوں کو ایک بٹوہ ملا جس میں شبانہ لیاقت اور ان کے بیٹے کے کارڈز اور کچھ رقم ملی جس کے بعد امدادی اداروں نے سرچ آپریشن کا دائرہ کار وسیع کردیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق چینل انتظامیہ کی جانب سے حکومت سے رابطہ کیا گیا لیکن خاندان سے کسی نے بھی رابطہ نہیں کیا ہے۔

    فیض اللہ فراق کا کہنا ہے کہ ٹی وی اینکر اور انکے خاندان سمیت تمام لاپتہ سیاحوں کی تلاش جاری ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ لامحدود ملبے کے ڈھیر کے باعث سرچ آپریشن میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ چلاس میں سیلاب سے اب تک آٹَھ افراد ہلاک جبکہ مجموعی طور پر گلگت میں 10 افراد سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہلاک ہوئے ہیں۔

  11. پہلگام حملہ: اس بات کے کوئی ثبوت نہیں کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے، کانگریس رہنما پی چدمبرم

    انڈیا میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما پی چدمبرم نے کہا ہے کہ حکومت نے اب تک اس بات کے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے کہ پہلگام پر حملہ کرنے والے دہشت گرد کہاں سے آئے تھے۔

    انڈین جریدے ’دی کوئنٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں انڈین حکومت کیا چھپانے کی کوشش کر رہی ہے؟

    اس پر چدمبرم کا کہنا تھا کہ یہ ان کا قیاس ہے لیکن ان کے خیال میں حکومت جس بات کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور جس کی جانب انڈین چیف آف ڈینفنس نے بھی اشارہ کیا تھا وہ یہ ہے کہ انڈیا سے سٹریٹجک غلطیاں ہوئیں اور بعد ازاں حکمت عملی تبدیل کی گئی۔ ’وہ کیا سٹریٹیجک غلطیاں تھیں جو ہم نے کی اور نئی حکمتِ عملی کیا اختیار کی گئی؟‘

    ’دوسری بات یہ کہ حکومت این آئی اے (نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی) کی رپورٹ کو سامنے نہیں لا رہی کہ ایجنسی نے اس دوران کیا تفتیش کی۔ کیا ایجنسی دہشت گردوں کی شناخت کرنے میں کامیاب رہی؟ اور وہ کہاں سے آئے تھے؟‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے کہ یہ دہشت گرد مقامی ہوں۔ آپ کیوں فرض کر کے بیٹھے ہیں کہ وہ پاکستان سے آئے تھے؟‘

    کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈین حکومت جنگ میں ہونے والے نقصانات کو بھی چھپا رہی ہے۔

    ’میں نے ایک کالم میں بھی لکھا ہے کہ جنگ میں دونوں طرف سے نقصان ہوتا ہے، مجھے لگتا ہے کہ انڈیا کا بھی نقصان ضرور ہوا ہو گا۔ کھل کر بتائیں۔‘

    چدمبرم کے بیان پر بی جے پی کے رہنما انوراگ ٹھاکر کا کہنا تھا کہ ’جب بھی پاکستان اور دہشت گردی کی بات آتی ہے تو پاکستان بھی اپنی اتنی وکالت نہیں کرتا جتنی وہ کانگریس کرتی ہے جس پر راہل قابض ہے۔'

    دریں اثنا شیو سینا کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے، ہم نے نقصان اٹھایا ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ یہ پاکستان کی مذموم حرکتیں ہیں، جو نہ تو خود ترقی کر سکا اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کو ایسا کرنے دے رہا ہے۔‘

  12. آپریشن سندور پر بحث کے لیے بلایا گیا انڈین پارلیمنٹ کا اجلاس اپوزیشن کے ہنگامے کے بعد دن 1 بجے تک ملتوی

    انڈیا کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس حزبِ اختلاف کی ہنگامہ آرائی کے بعد دوسری مرتبہ ملتوی کر دیے گئے۔

    سوموار کے روز آپریشن سندور پر بحث کے لیے بلائے گئے انڈین پارلیمان کے ایوانِ زیریں لوک سبھا کا اجلاس ایک بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

    یاد رہے کہ انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کے حوالے سے آج لوک سبھا سے خطاب کرنا ہے۔

    صبح 11 بجے انڈیا کے ایوانِ زیریں کے اجلاس میں سوالات کے وقفے کے دوران وزیر سیاحت گجیندر سنگھ شکھاوت سوالوں کے جواب دے رہے تھے کہ حزبِ اختلاف کے ارکان کی جانب سے ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔

    سپیکر اوم برلا نے تمام اراکین سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب نے کہا کہ آپریشن سندور پر بحث ہونی چاہیے، اب آپ ایوان میں خلل ڈال رہے ہیں اور کارروائی چلنے نہیں دے رہے۔

    اس کے بعد اوم برلا نے لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔

    دوسری جانب، انڈیا کے ایوانِ بالا راج سبھا کی کارروائی بھی 11 بجے شروع ہوئی لیکن کچھ ہی دیر بعد اس کو 12 بجے تک ملتوی کرنا پڑا۔

    انڈین خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، دن 12 بجے دونوں ایوانوں کے اجلاس شروع ہوتے ہی ایک بار پھر ملتوی کر دیے گئے۔

    اب راج سبھا کا اجلاس مقامی وقت کے مطابق 2 بجے ہوگا جبکہ لوک سبھا کی کارروائی 1 بجے شروع ہونی تھی۔

  13. غزہ میں غذائی قلت خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے: عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں غذائی قلت خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے اور اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں ایک بار پھر امداد کی فراہمی دوبارہ شروع ہوئی ہے۔

    اتوار کے روز، اردن نے کہا کہ اس نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر 25 ٹن امداد غزہ میں فضا سے گرائی ہے۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ غزہ کے کچھ حصوں میں روزانہ تقریباً 10 گھنٹے فوجی کارروائیوں میں وقفہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، امدادی قافلوں کو بھی غزہ میں جانے کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔

    اقوامِ متحدہ کے امدادی کارروائیوں کے چیف ٹام فلیچر نے اتوار کے روز تصدیق کی کہ بظاہر اسرائیل نے امدادی کارکنوں کی نقل و حرکت عائد پابندیوں میں نرمی کی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، فلیچر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق اتوار کے روز 100 سے زائد امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں قحط اور صحت کے تباہ کن بحران کو روکنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ امداد کی ضرورت ہے۔

    اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک کا کہنا ہے کہ غزہ کی 20 لاکھ آبادی میں سے ایک تہائی کئی دنوں تک بھوکے رہنے پر مجبور ہیں۔

    حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں 100 سے زائد افراد غذائی قلت سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

  14. پاکستان میں مون سون بارشوں کے دوران اب تک 279 افراد ہلاک، 676 زخمی ہو چکے: این ڈی ایم اے

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے وفاقی ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں مون سون بارشوں کے دوران 26 جون سے اب تک 279 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، 26 جون سے 27 جولائی کے دوران 597 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اس دوران، سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئیں جہاں 135 افراد مارے گئے۔ پنجاب میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 470 ہے۔ خیبر پختونخوا میں 56 جبکہ سندھ میں 24 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں مون سون کے دوران 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ 21 زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے چھ ہلاکتیں پنجاب میں ہوئیں۔

  15. گوگل ترکی میں زلزلے کے دوران ایک کروڑ افراد کو خبردار کرنے میں ناکام رہا

    گوگل نے اعتراف کیا ہے کہ اس کا زلزلے سے قبل لوگوں کو خبردار کرنے کا سسٹم 2023 میں ترکی میں آنے والے ہولناک زلزلے کے دوران لوگوں کو درست طریقے سے آگاہ کرنے میں ناکام رہا۔

    زلزلہ مرکز کے 98 میل کے اندر ایک کروڑ افراد کو گوگل کا اعلیٰ سطحی الرٹ بھیجا جا سکتا تھا۔ اس الرٹ کے نتیجے میں لوگوں کو محفوظ جگہ تلاش کرنے کے لیے 35 سیکنڈ تک کا وقت مل جاتا۔

    تاہم اس کے بجائے، 7.8 شدت کے پہلے زلزلے کے لیے صرف 469 افراد کو ’ایکشن لیں‘ کی وارننگ بھیجی گئیں۔

    گوگل نے بی بی سی کو بتایا کہ 50 لاکھ افراد کو نچلی سطح کی وارننگ بھیجی گئی جو کم شدت کے زلزلوں کے لیے بنائی گئی ہے اور صارفین کو نمایاں طریقے سے خبردار نہیں کرتی۔

    اس سے قبل گوگل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس کے سسٹم نے ’اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا‘۔

    گوگل کا زلزلے سے قبل لوگوں کو خبردار کرنے کا سسٹم اینڈرائیڈ آلات پر کام کرتا ہے۔ ترکی میں 70 فیصد سے زیادہ صارفین اینڈرائیڈ فونز استعمال کرتے ہیں۔

    6 فروری 2023 کو جنوب مشرقی ترکی میں آنے والے دو بڑے زلزلوں کے نتیجے میں 55 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک لاکھ سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

    گوگل کا ابتدائی انتباہی نظام اس دن لائیو تھا تاہم وہ اس بات کا اندازہ نہیں لگا پایا کہ یہ زلزلے کتنے طاقتور ہیں۔

  16. امریکہ اور یورپی یونین کا 15 فیصد ٹیرف پر اتفاق: کیا واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بھی تجارتی ڈیل ممکن ہے؟, جوناتھن جوزفس، ارونودے مکھرجی، بی بی سی نیوز

    امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد دنیا کے دو سب سے بڑے اقتصادی شراکت داروں کے مابین کئی ماہ سے جاری تعطل کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے سکاٹ لینڈ میں مذاکرات کے بعد اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین سے امریکہ برآمد کی جانے والی تمام اشیا پر 15 فیصد ٹیرف عائد ہو گا۔

    یہ اس 30 فیصد درآمدی ٹیکس کا نصف ہے جو ٹرمپ نے جمعہ سے لاگو کرنے کی دھمکی دی تھی۔ انھوں نے کہا کہ امریکی برآمد کنندگان اپنی کچھ مصنوعات صفر فیصد ٹیرف کے ساتھ یورپی منڈیوں میں بیچ سکیں گے۔

    لیکن اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے بالآخر واشنگٹن اور برسلز کے رہنماؤں کو آمنے سامنے بیٹھنا پڑا۔

    یہی چیز ہم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے معاہدوں میں بھی دیکھی ہے – صدر ٹرمپ کی ذاتی شمولیت کے باعث ہی یہ معاہدے طے ہو پائے ہیں۔

    یہ معاہدہ دونوں فریقوں کے لیے اہم ہے کیونکہ بہت سارے لوگوں کے کاروبار اور ملازمتوں کا انحصار اس لین دین پر منحصر ہے جسے یورپی یونین ’دنیا کا سب سے بڑا باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کا رشتہ‘ قرار دیتا ہے۔

    صدر ٹرمپ اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین دونوں ہی اسے ایک فتح کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔

    یورپی یونین کی مصنوعات پر عائد 15 فیصد ٹیرف برطانیہ کے 10 فیصد ٹیرف معاہدے جتنی اچھی ڈیل تو نہیں لیکن یہ اِس سے بھی کہیں بدتر ہو سکتی تھی۔

    اس معاہدے سے ٹیرف ریونیو کی مد میں امریکی خزانے میں 90 ارب ڈالرز آنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ اب ملک میں 600 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔

    فی الحال ان سوالات کے جوابات نہیں ملے کہ یہ سرمایہ کاری کب اور کن شعبوں میں کی جائے گی۔

    اس معاہدے کو تاریخی معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے لیکن یہاں تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔

    واشنگٹن اور 27 ملکی اتحاد دونوں میں سے کوئی بھی آسانی سے ہار ماننے کو تیار نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ یہ مذاکرات آخری وقت تک جاری رہے۔

    لیکن کوئی بھی فریق نہیں چاہتا تھا کہ یہ مذاکرات یکم اگست کی ڈیڈ لائن سے آگے بڑھیں۔

    کئی برسوں سے، امریکی صدر یورپ کے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے خلاف آواز اٹھاتے آئے ہیں۔

    یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ صدر ٹرمپ دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ کی باقی دنیا کے ساتھ تجارت کو نئی شکل دینے میں کس حد تک سنجیدہ ہیں۔

    یہ دیکھتے ہوئے کہ یورپی یونین 27 ممالک پر مشتمل ایک اتحاد ہے یہ صدر ٹرمپ کے لیے تجارتی معاہدوں میں سے ایک مشکل ترین معاہدہ تھا۔

    اس سے قبل امریکہ دیگر کئی ممالک بشمول جاپان، برطانیہ، انڈونیشیا اور کمبوڈیا کے ساتھ کامیابی سے تجارتی معاہدے طے کر چکا ہے۔ تاہم، اب بھی کئی مشکل مذاکرات رہتے ہیں جن میں چین، میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے شامل ہیں۔

    صدر ٹرمپ کے موڈ کو دیکھتے ہوئے امید کی جا سکتی ہے کہ شاید اگلے 48 گھنٹوں میں مزید اچھی خبر سننے کو ملے۔

    امریکہ اور چین کے درمیان سوموار اور منگل کو سوئیڈن میں تجارتی مذاکرات کا تیسرا دور ہونے جا رہا ہے۔

    کچھ لوگوں کو توقع ہے کہ شاید چینی مصنوعات ہر محصولات کا اطلاق مزید 90 روز کے لیے ملتوی کر دیا جائے۔

    کچھ دن پہلے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔ انھوں نے یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی تھی کہ نایاب دھاتوں کی برآمدات کے حوالے سے معاملات طے پا گئے ہیں۔

    یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کے بعد بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بیجنگ کے ساتھ بات چیت میں امریکہ کو برتری حاصل ہو سکتی ہے۔

    تاہم امریکہ کے دیگر تجارتی شراکتداروں کے برعکس، چین کافی غیر لچکدارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔

    اور اگر دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو آنے والے مہینوں میں عالمی تجارت اب بھی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔

  17. وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا تیراہ واقعے پر افسوس کا اظہار، پشاور میں جرگہ طلب

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے تیراہ میں ہلاکتوں پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کے لیے ایک، ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

    پریس سیکریٹری برائے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ’قبائلی مشران اور عوامی نمائندوں پر مشتمل جرگہ پشاور طلب کیا ہے تاکہ مقامی جذبات و تحفظات کو سنا جا سکے۔‘

    اس کے مطابق انھوں نے ضلعی انتظامیہ اور اداروں کو عوامی رابطے مضبوط بنانے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے 25 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا ہے۔

    علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ’خیبر پختونخوا حکومت پائیدار امن، عوامی تحفظ اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں اِنھی واقعات اور معاملات کو حل کرنے پر سنجیدگی سے غور کر کے تجاویز مرتب کی گئی تھیں۔‘

    ’قبائلی عمائدین اور مشران کے جرگوں کا سلسلہ ڈویژنل اور پھر صوبائی سطح پر آنے والے ہفتے سے شروع ہوجائے گا۔‘

  18. تیراہ میں بچی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج پر فائرنگ سے ہلاکتوں کی اطلاعات

    صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے وادی تیراہ میں مارٹر گولہ گِرنے سے ایک بچی کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے پر فائرنگ میں ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاحال سرکاری سطح پر ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    گذشتہ روز زخہ خیل کے ایک گھر پر مارٹر گولہ گِرنے سے بچی کی ہلاکت کے خلاف آج وادی تیراہ کے ہیڈکوارٹر پر احتجاجی مظاہرہ کیا جا رہا تھا جہاں ایف سی سمیت مختلف دفاتر موجود ہیں۔

    صحافی محمد زبیر خان سے گفتگو کرتے ہوئے ضلع خیبر سے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کا دعویٰ ہے کہ وادی تیراہ میں اتوار کی صبح مقامی افراد کا تیراہ ہیڈکوارٹر کے مقام پر احتجاج جاری تھا جس پر فائرنگ سے کم از کم پانچ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔

    خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلی تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز مینا خان آفریدی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’تیراہ کے لوگوں کو جس بے دردی سے گولیاں ماری گئی تو ریاست کا چہرہ عیاں ہوگیا کہ اُسے اپنے شہریوں کے خون کی کوئی پروا نہیں۔‘

    ’گناہ یہ تھا کہ پُرامن احتجاج کر رہے تھے۔۔۔ پختون امن کے ساتھ جینا چاہتے ہے۔ ہمیں امن کے ساتھ رہنے دیا جائے۔ ہمارے اوپر آپریشن مسلط نہ کی جائے۔‘

    اس واقعے پر صوبائی حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ بی بی سی نے خیبر کے ضلعی پولیس افسر مظہر اقبال اور ڈپٹی کمشنر بلال شاہد سے رابطہ کیا مگر ان کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

    ادھر رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی کا کہنا ہے کہ وادی تیراہ کے علاوہ جاری تمام احتجاج صبح تک ختم کر دیے گئے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ’اقوام خیبر پر مشتمل سیاسی اتحاد کا ایک نمائندہ وفد وادی تیراہ روانہ ہوچکا ہے اور ہم بھی صبح تیراہ جائیں گے جہاں پر پہلے پانچ ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی جس کے بعد اقوام اپنا جرگہ منعقد کر کے فیصلہ کریں گے کہ مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔‘

    دوسری طرف صحافی محمد زبیر خان سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر کی وادی تیراہ میں موجود پولیس اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا کہ تیراہ ہیڈ کوارٹر کے قریب مظاہرین کی جانب سے حساس عمارتوں پر پتھراؤ کیا گیا تھا۔

    ان کا دعویٰ تھا کہ مظاہرے کے دوران ’پہاڑوں سے‘ فائرنگ ہوئی جس سے افراتفری پھیل گئی تھی۔ فائرنگ کے بعد مظاہرین نے ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کے ساتھ وہیں دھرنا دیا جبکہ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا۔

    ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ مظاہرین کی جانب سے توڑ پھوڑ کی گئی تاہم موبائل نیٹ ورک کی بندش کے باعث اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

  19. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • اسرائیل کی جانب سے غزہ امداد پہنچانے کی اجازت کے بعد فضائی اور زمینی راستوں سے غزہ میں امداد پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔
    • اسرائیلی فوج نے غزہ کے کچھ حصوں میں اتوار کے روز سے روزانہ تقریباً 10 گھنٹے فوجی کارروائیوں میں وقفے کا اعلان کیا ہے۔
    • پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ اس سال اربعین کے موقع پر زائرین کو زمینی راستے سے عراق اور ایران جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد تھائی لینڈ اور کنبوڈیا جنگ بندی کے لیے ملائیشیا میں مذاکرات کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔
    • پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے ایک کارروائی کے دوران ایک ہزار کلو گرام گدھے کا گوشت اور 45 کے قریب زندہ گدھے برآمد کیے ہیں۔
  20. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔