آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

وفاقی بجٹ: تنخواہوں، پنشن میں سات فیصد اضافہ، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی جبکہ دفاعی بجٹ میں اضافہ

وفاقی حکومت نے بجٹ برائے مالی سال 27-2026 میں تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے جبکہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز پیش کی ہے۔ دفاعی بجٹ میں 17.6 فیصد اضافے جبکہ پراپرٹی کی منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز بھی ہے۔بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے بازی اور بعدازاں واک آؤٹ کیا گیا۔

خلاصہ

  • وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ پیش کر دیا ہے
  • وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے
  • حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز پیش کی ہے جبکہ پراپرٹی کی منتقلی پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں بھی کمی کی تجویز ہے
  • دفاعی بجٹ 17.6 فیصد اضافے کے بعد تین ہزار ارب روپے کرنے کی تجویز ہے
  • بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی تاہم بجٹ سیشن کے اختتام پر حزب اختلاف نے ایوان سے واک آؤٹ کیا ہے

لائیو کوریج

  1. 18 ہزار 771 ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ: تنخواہوں، پنشن میں سات فیصد اضافہ، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی اور دفاعی بجٹ میں 17.6 فیصد اضافے کی تجویز

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے مالی سال 2027-2026 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ پیش کر دیا ہے. سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز ہے جبکہ دفاعی بجٹ 17.6 فیصد اضافے کے بعد تین ہزار ارب روپے کرنے کی تجویز ہے۔

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اپوزیشن ارکان کے شور شرابے میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا، وزیرِ خزانہ کی تقریر سے قبل اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

    سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی بجٹ 27-2026 پیش کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے تنخواہ دار طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور ان مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    اُنھوں نے کہا ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی ینشن میں بھی سات فیصد اضافے کی تجویز ہے۔

    تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز

    وفاقی وزیرِ خزانہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے آمدنی کی چار سلیبز کے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ جو تنخواہ دار 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ کے درمیان کماتے ہیں ان کی ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کی جا رہی ہے۔

    32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    اسی طرح 41 سے 56 لاکھ روپے آمدن والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے 29 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    56 سے 70 لاکھ روپے تک تنخواہ پانے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    دفاعی بجٹ میں اضافے کی تجویز

    بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے آٹھ ہزار ارب اور دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    یہ گذشتہ برس کے مقابلے میں 17.6 فیصد اضافہ ہے، گذشتہ برس کے بجٹ میں دفاع کے لیے 2550 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔

    اضافے کا دفاع کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ کا اپنی تقریر میں کہنا تھا کہ ’خطے کی غیر یقینی صورتحال اور ملکی دفاع کو ناقابلَ تسخیر بنانے کے لیے دفاعی شعبے کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔‘

    سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور ٹک ٹاکرز کی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز

    فنانس بِل 2025-26 میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں (کنٹینٹ کری ایکٹرز) اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز سے موصول ہونے والی آمدنی پر ودہولڈنگ ٹیکس کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ اس نظام کے تحت بینکاری اور مالیاتی ادارے ایسی وصولیوں پر ٹیکس کٹوتی کریں گے۔

    ایف بی آر حکام نے صحافی سارہ حسن کو بتایا ہے کہ یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل آمدن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔

    پراپرٹی کی منتقلی پر ٹیکس میں کمی کی تجویز

    وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ نئے مالی سال میں پراپرٹی کی منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی بھی تجویز ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پراپرٹی کی منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کو معقول بناتے ہوئے فائلرز کے لیے خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا ٹیکس میں کمی سے تعمیراتی شعبے کی سرگرمیاں زور پکڑیں گی اور تعمیرات کا شعبہ فروغ پائے گا۔

    سپر ٹیکس میں کمی کی تجویز

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا ہے حکومت نے کاروبار سے 15 کروڑ روپے سے پچاس کروڑ روپے تک آمدنی کی چھ سلیبز پرعائد سیلز ٹیکس جو ایک فیصد سے لے کر ساڑھے سات فیصد تک تھا کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ 50 کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10فیصد سے کم کر کے آٹھ فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    سینٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز

    وفاقی حکومت نے نئے مالی سال میں خواتین کی صحت کے لیے ضروری اشیاء مثلاً سینٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر ٹیکس میں خاتمے کی تجویز دی ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ خواتین کی صحت کے لیے ضروری اشیاء مثلاً سینٹری پیڈز اور متعلقہ اشیاء روز مرہ زندگی کی ضروریات ہیں جو خواتین کی صحت، وقار اور معاشرتی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کے لیے لازم ہے۔

    اس لیے سینٹری پیڈز اور متعلقہ اشیاء پر ٹیکس پر خاتمے کی تجویز ہے۔

    اُنھون نے کہا ملک میں آبادی میں اضافے کی رفتار تشویشناک ہے اور خاندانی منصوبہ بندی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس لیے مانع حمل ادویات پر ٹیکس مکمل طور ختم کر دیے گئے ہیں۔

    2000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز

    • درآمد کی جانے والی 2000 سے 3000 سی سی کی ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کی جا رہی ہے۔ 3000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھائی جا رہی ہے۔ اس ٹیکس کا اطلاق دو کروڑ روپے سے مہنگی لگژری ای ویز پر بھی ہو گا۔
    • الیکٹرک موٹر سائیکلز، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں پر موجود رعایتی نظام اگلے سال بھی برقرار رہے گا۔
    • درآمد کی جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر بھی ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

    ڈیڑھ گھنٹے سے زائد تاخیر سے شروع ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس اپوزیشن کے احتجاج اور حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی 'ناراضگی' سے شروع ہوا۔

    صحافی سارہ حسن کے مطابق ایوان میں اتنا شور تھا کہ وزیرِ خزانہ کی بجٹ تقریر کو سننا ایک چیلنج سے کم نہیں تھا۔ حکومتی اراکین نے ہیڈ فونز لگا رکھے تھے جبکہ اپوزیشن ارکان سپیکر ڈائس کے قریب احتجاج کرتے رہے۔

    عموماً بجٹ اجلاس کے موقع پر اراکین کافی تعداد میں اجلاس میں شریک ہوتے ہیں لیکن ایوان میں اکثر کرسیاں خالی ہیں۔ حکومتی بینچز پر بھی اراکین کی تعداد کم تھی۔

    یہاں تک کہ جب وزیر خزانہ نے بجٹ میں دیے گئے ریلیف اقدامات کا اعلان کیا تو اُس وقت بھی اپوزیشن نے شور مچایا لیکن حکومتی ڈیسک پر موجود اراکین نے بھی ڈیسک بجانے کے بجائے خاموش رہنے پر ہی اکتفا کیا۔

    جہاز رانی کے فروغ اور ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے لیے ریلیف

    صحافی سارہ حسن کے مطابق پاکستانی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15264 ارب روپے مقرر کیا ہے۔ بجٹ میں جہاں ٹیکس کی شرح میں رد و بدل کیا گیا ہے وہیں جہاز رانی کی صنعت پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔

    حکومت نے ملک میں جہاز رانی کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے اس پر عائد 18 فیصد کی شرح کو ختم کر کے صفر کر دیا ہے۔

    ایف بی آر کے حکام کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ جنگ اور آبنائے حرمز کی بندش کے دوران حکومت کو یہ احساس ہوا ہے کہ پاکستان کے پاس جہاز کم ہیں اور اب حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان نیوی کے ساتھ مل کر جہاز رانی کی صنعت کو فروغ دیا جائے اور اسی مقصد کے تحت اس صنعت کو ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے۔

    آئندہ مالی سال میں پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس ہو رہا ہے۔ حکومت نے تجویز کیا ہے کہ اجلاس میں پاکستان آنے والے وفود کی سکیورٹی اور ٹرانسپورٹیشن کے لیے درکار گاڑیوں کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کی جائے۔

    حکومت نے پاکستان میں موجود آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن اور ماحول دوست ایندھن تیار کرنے کے لیے ریفائنریوں کو پانچ سال کے لیے ٹیکس میں چھوٹ دینے کی تجویز دی ہے اور اس کے لیے ریفائنری پر عائد 18 فیصد ٹیکس کو ختم کر کے صفر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    ایکسپورٹر پر عائد ٹیکس کی شرح 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دی گئی ہے۔

    حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کوریئر کمپنیز، ہوٹل، ٹرانسپورٹ، ایئر کارگو، رینٹل کار اور آؤٹ سورسنگ کی خدمات پر ٹیکس کی موجودہ شرح کو 6 فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔

    ٹرمینل اور پورٹ سروسز پر عائد ٹیکس کی شرح کو 15 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پروفیشنلز کی خدمات جیسے ڈاکٹرز، وکیل اور کنسلٹنٹس کی خدمات پر عائد 15 فیصد ٹیکس کی شرح کو برقرار رکھا گیا ہے لیکن ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس بار کوشش کی جائے گی کہ اس ٹیکس کے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے سینیٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔

    حکومت نے ملک میں کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کی ضرورت کے لیے الیکٹرولائٹس والی مشروبات پر عائد فیڈرل ایکسائز ختم کر دی ہے۔

  2. غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز

    بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ٹیکس غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہا تھا جو اس ٹیکس کے بنیادی مقصد کے منافی تھا۔ ظاہر کیا جانے والا اثاثہ ایک دستاویزی اثاثہ ہوتا ہے جس پر ٹیکس عائد ہوتا ہے۔

    ’اس ٹیکس کو ختم کرنے سے پاکستانیوں کو اپنے غیر ملکی اثاثے ریکارڈ پر لانے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اس سے کمپلائنس، ڈاکومنٹیشن اور اضافی ریونیو کا حصول ممکن ہوگا۔‘

  3. آئندہ مالی سال کے تجویز کردہ ٹیکس اور ڈیوٹیز کے ذریعے 600 سے 650 ارب روپے وصول ہوں گے: ایف بی آر, سارہ حسن، صحافی

    آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اعلان کے بعد پاکستان میں ٹیکس وصول کرنے والے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام نے ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی شرح میں ردوبدل کے حوالے سے ٹیکنکل بریفنگ دی ہے جس کے دوران بتایا گیا کہ بجٹ میں نئے ٹیکس نہیں لگائے گئے ہیں بلکہ کوشش کی گئی ہے جہاں زیادہ ٹیکس لیا جا رہا تھا یا جہاں ٹیکس کی چوری زیادہ ہو رہی ہے وہاں کچھ اقدامات کیے جائیں۔

    ٹیکس حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معشیت میں مزید ٹیکس لگانے کی گنجائش نہیں ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ معاشی استحکام کے بعد اب معاشی ترقی کی جانب بڑھا جائے، جس کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس کی شرح کو کم کیا جائے۔

    ایف بی آر کے حکام کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ اس بار بجٹ میں نئے ٹیکس لگانے کے بجائے ایڈجسمنٹس کی گئی ہیں اور ایف بی آر اپنی مانیٹرنگ اور دی گئی رعایت ختم کرنے کے آمدن بڑھائے گا۔

    انھوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران ایف بی آر نے اپنی انفورسمنٹ کے ذریعے 389 ارب وصول کیے ہیں اور اگلے مالی سال کے دوران بھی انھی اقدامات کے نفاذ سے 450 ارب روپے تک ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

  4. فری لانسرز اور آئی ٹی سیکٹر کے لیے ریلیف

    اپنی بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ فری لانسرز، سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل ایکسپورٹرز کو ریلیف دیا جا رہا ہے کیونکہ وہ ’ہمارا اثاثہ ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی کی برآمدات کی آمدن پر 0.25 فیصد ایف ٹی آر کی رعایت 30 جون 2026 کو ختم ہو رہی تھی تاہم اب اسے مزید تین سال کے لیے یعنی 30 جون 2029 تک جاری رکھنے کی تجویز ہے۔

    محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’اس اقدام سے ہماری آئی ٹی برآمدات، ریمیٹنسز اور نوجوانوں کو اس شعبے کی جانب راغب ہونے کی ترغیب ملے گی۔‘

  5. چھوٹے دکانداروں پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس کی تجویز

    وفاقی بجٹ میں 20 کروڑ روپے تک سالانہ مال فروخت کرنے والے چھوٹے دکانداروں اور تاجروں پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس لگانے کی بھی تجویز ہے۔

    وفاقی وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ اس سکیم کو فکسڈ ٹیکس آسان سکیم کا نام دیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ سکیم تاجر کمیونٹی کی مشاورت کے ساتھ متعارف کرائی گئی ہے۔

    فکسڈ ٹیکس آسان سکیم میں چھوٹے دکانداروں کو کتنا ٹیکس دینا پڑے گا اور یہ سکیم کیسے کام کرے گی۔ اس بارے میں مزید پڑھیے: دُکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی نئی کوشش اور جرمانوں کی تنبیہ: ’فکسڈ ٹیکس آسان سکیم‘ کیا ہے؟

  6. الیکٹرانک سگریٹس کے ای لیکوئیڈز پر ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز

    فنانس بِل کے مطابق الیکٹرانک سگریٹس (ای سگریٹس) میں استعمال ہونے والے ’ای لیکوئیڈ‘ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) فی کلوگرام 10000 روپے سے بڑھا کر 16500 روپے عائد کرنے کی تجویز ہے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ سابقہ نظام میں ریٹیل قیمت کے 65 فیصد پر عائد زیادہ ٹیرف کو اب ختم کرنے کی تجویز ہے۔

  7. سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور ٹک ٹاکرز کی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز

    فنانس بِل 2025-26 میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں (کنٹینٹ کری ایکٹرز) اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز سے موصول ہونے والی آمدنی پر ودہولڈنگ ٹیکس کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ اس نظام کے تحت بینکاری اور مالیاتی ادارے ایسی وصولیوں پر ٹیکس کٹوتی کریں گے۔

    ایف بی آر حکام نے صحافی سارہ حسن کو بتایا ہے کہ یوٹیورب اور دیگر ڈیجیٹل آمدن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔

  8. قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ کی اہم تجاویز کیا ہیں؟

    • 18 ہزار 771 ارب روپے سے زائد کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
    • مجموعی ترقیاتی بجٹ کے لیے 3675 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
    • دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ گذشتہ برس کے مقابلے میں 17 فیصد زائد ہے۔
    • تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کا اعلان
    • سینٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز
    • 2000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز
    • ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں (کنٹینٹ کری ایکٹرز) اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی آمدنی پر ودہولڈنگ ٹیکس کی تجویز
    • کریڈٹ ڈیبٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز
    • سپر ٹیکس میں کمی کا اعلان
    • 20 کروڑ روپے سالانہ مال فروخت کرنے والے دکانداروں پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس کی تجویز
  9. وزیرِ خزانہ کی بجٹ تقریر ختم ہونے سے قبل اپوزیشن کا واک آؤٹ

    اپوزیشن ارکان وزیرِ خزانہ کی تقریر کے دوران احتجاج کرتے رہے، تاہم اُن کی تقریر ختم ہونے سے قبل اپوزیشن ارکان نے بجٹ اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔

  10. وفاقی حکومت کا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافے کا اعلان, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی بجٹ 27-2026 پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مہنگائی کی وجہ سے تنخواہ دار طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور ان مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    اُنھوں نے کہا ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پینشن میں بھی سات فیصد اضافے کی تجویز ہے۔

  11. کریڈٹ ڈیبٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی, تنویر ملک، صحافی

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ملک میں بینکوں کے جاری کردہ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے بیرون ملک استعمال پر ہر ٹرانزیکشن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔

    ’اس ٹیکس کی وجہ سے رقم کی منتقلی کے لیے غیر روایتی ذرائع کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس کی حوصلہ شکنی کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی اس شرح کو صفر اعشاریہ پانچ فیصد (0.5) فیصد کرنے کی تجویز ہے تاکہ اسے معمولی مالیاتی ٹرانزیکشن کی سطح پر لایا جا سکے اور معیشت کو دستاویزی بنانے کی حکومتی کاوشوں کو تقویت مل سکے۔‘

  12. 2000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز

    بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آٹو سیکٹر کے بارے میں بتایا کہ:

    • درآمد کی جانے والی 2000 سے 3000 سی سی کی ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کی جا رہی ہے۔ 3000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھائی جا رہی ہے۔ اس ٹیکس کا اطلاق دو کروڑ روپے سے مہنگی لگژری ای ویز پر بھی ہو گا۔
    • الیکٹرک موٹر سائیکلز، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں پر موجود رعایتی نظام اگلے سال بھی برقرار رہے گا۔
    • درآمد کی جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر بھی ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز ہے۔
  13. اپوزیشن کا شور شرابہ، پیپلز پارٹی کی ’ناراضگی‘ اور خالی کرسیاں، قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا احوال, سارہ حسن، صحافی

    ڈیڑھ گھنٹے سے زائد تاخیر سے شروع ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس اپوزیشن کے احتجاج اور حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی ’ناراضگی‘ سے شروع ہوا۔

    ایوان میں اتنا شور ہے کہ وزیرِ خزانہ کی بجٹ تقریر کو سننا ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔ حکومتی اراکین نے ہیڈ فونز لگا رکھے ہیں جبکہ اپوزیشن سپیکر ڈیسک کے سامنے کھڑے احتجاج کر رہے ہیں۔

    حکومتی اتحادی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی بھی بہت کم تعداد ایوان میں موجود ہے جبکہ ایم کیو ایم کے اہم رہنما بھی دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

    عموماً بجٹ اجلاس کے موقع پر اراکین کافی تعداد میں اجلاس میں شریک ہوتے ہیں لیکن ایوان میں اکثر کرسیاں خالی ہیں۔ حکومتی بینچز پر بھی اراکین کی تعداد کم ہے۔

    یہاں تک کہ جب وزیر خزانہ نے بجٹ میں دیے گئے ریلیف اقدامات کا اعلان کیا تو اُس وقت بھی اپوزیشن نے شور مچایا لیکن حکومتی ڈیسک پر موجود اراکین نے بھی ڈیسک بجانے کے بجائے خاموش رہنے پر ہی اکتفا کیا۔

  14. وفاقی حکومت کا اگلے مالی سال میں سینٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت نے نئے مالی سال میں خواتین کی صحت کے لیے ضروری اشیاء مثلاً سینٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر ٹیکس میں خاتمے کی تجویز دی ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ خواتین کی صحت کے لیے ضروری اشیاء مثلاً سینٹری پیڈز اور متعلقہ اشیاء روز مرہ زندگی کی ضروریات ہیں جو خواتین کی صحت، وقار اور معاشرتی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کے لیے لازم ہے۔

    اس لیے سینٹری پیڈز اور متعلقہ اشیاء پر ٹیکس پر خاتمے کی تجویز ہے۔

    اُنھون نے کہا ملک میں آبادی میں اضافے کی رفتار تشویشناک ہے اور خاندانی منصوبہ بندی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس لیے مانع حمل ادویات پر ٹیکس مکمل طور ختم کر دیے گئے ہیں۔

  15. پراپرٹی کی منتقلی پر ٹیکس میں کمی کا اعلان

    وفاقی حکومت نے نئے مالی سال میں پراپرٹی کی منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ پراپرٹی کی منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کو معقول بناتے ہوئے فائلرز کے لیے خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کا تجویز ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا ٹیکس میں کمی سے تعمیراتی شعبے کی سرگرمیاں زور پکڑیں گی اور تعمیرات کا شعبہ فروغ پائے گا۔

  16. تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کا اعلان, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے آمدنی کی چار سلیبز کے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    اس سلسلے میں جو تنخواہ دار 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ کے درمیان کماتے ہیں ان کی ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کی جا رہی ہے۔

    32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    اسی طرح 41 سے 56 لاکھ روپے آمدن والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے 29 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    56 سے 70 لاکھ روپے تک تنخواہ پانے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

  17. سپر ٹیکس میں کمی کا اعلان, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے لیے سپر ٹیکس میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا ہے حکومت نے کاروبار سے 15 کروڑ روپے سے پچاس کروڑ روپے تک آمدنی کی چھ سلیبز پرعائد سیلز ٹیکس جو ایک فیصد سے لے کر ساڑھے سات فیصد تک تھا کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ 50 کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10فیصد سے کم کر کے آٹھ فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد چھوٹے کاروبار اور صنعتوں کو فروغ دینے کے علاوہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ تاہم بینکوں، تیل، گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور کھاد بنانے والے کارخانوں پر موجودہ سر چارج برقرار رہے گا۔

  18. آئندہ مالی سال کے لیے چار فیصد شرح نمو کا ہدف، مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد مقرر, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے چار فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ٹارگٹ رکھا ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ مالی سال میں اقتصادی سروے کے مطابق ملکی معیشت کی شرح نمو تین اعشاریہ سات فیصد رہی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ میں ملک میں مہنگائی کی شرح کا ہدف 8٫2 فیصد رکھا گیا ہے۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق ملکی مصنوعات کی برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر رکھا گیا ہے جب کہ دوسری جانب خدمات کے شعبے کی برآمدات کا ہدف 11.3 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔

    رواں مالی سال کے لیے مصنوعات کی درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر رکھا گیا ہے اور خدمات کے شعبے میں درآمدات کا ہدف 13.8 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔

    اگلے مالی سال کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ملک بھیجی جانے والی رقوم کا ہدف 42.4 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔

    وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 1000 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے جس کے تحت انفراسٹرکچر، سوشل، گورننس اور دوسرے شعبوں میں ترقیاتی بجٹ کے لیے رقم مختص کی گئی ہے۔

    وفاقی بجٹ میں صوبوں کے ترقیاتی بجٹ اور حکومتی تحویل میں چلنے والے اداروں کے ترقیاتی بجٹ شامل کرنے کے بعد ملک کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 3675 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔

    وفاقی بجٹ میں کراچی کوئٹہ شاہراہ کے لیے 100 ارب مختص کیے گئے ہیں۔

    سکھر-حیدرآباد موٹر وے کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مہمند ڈیم کے لیے 21 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور داسو ڈیم کے لیے 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وفاقی بجٹ میں ڈیجیٹل گورننس اور سروسز کے شعبے میں مختلف اقدامات کے لیے 30 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔

    وفاقی بجٹ میں اعلی تعلیم کے شعبے کے لیے 46 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

    ملک میں ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ملک میں 23 ہزار 775 گرین جابز کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

    اگلے مالی سال میں قابل تجدید توانائی شعبے میں پبلک انوسٹمنٹ کے لیے 151 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

    اگلے مالی سال میں وزیر اعظم کے یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے پانچ ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس کے تحت 120000 نوجوانوں کو ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کا دائرہ کار ایک کروڑ 20 لاکھ افراد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

  19. وفاقی حکومت کا 18 ہزار 771 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش، دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت نے مالی سال 2027-2026 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔

    بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے آٹھ ہزار ارب اور دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وفاقی بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی وفاقی بجٹ کا حجم 18 ہزار 771 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت قرضوں کی ادائیگی اور سود کی مد میں آٹھ ٹریلین پانچ ارب 40 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔

    پینشن کی ادائیگیوں کے لیے ایک ٹریلین 16 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ تین ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے مختلف شعبوں کے لیے مجوزہ مالی اہداف اور اخراجات کا خاکہ تیار کیا ہے۔

    دستاویزات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 15 ٹریلین 26 ارب 40 کروڑ روپے ٹیکس وصولی کا ہدف دیا گیا ہے۔

    حکومت کو توقع ہے کہ غیر ٹیکس آمدنی کی مد میں پانچ ٹریلین 33 ارب 60 کروڑ روپے حاصل ہوں گے، جبکہ نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تخمینہ چار ٹریلین ایک ارب 20 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

    دفاعی خدمات کے انتظامی امور کے لیے ایک ٹریلین سات ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    مالی سال 2027-2026 کے دوران سبسڈیز کی مد میں ایک ٹریلین نو ارب 10 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    دوسری جانب آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حجم ایک ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے۔