آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسرائیل نے امریکہ کو ایران جنگ میں نہیں گھسیٹا: نیتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران جنگ کے حوالے سے اسرائیل کے تین اہداف ظاہر کیے ہیں، یعنی ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ، بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کا خاتمہ اور ایرانی عوام کے لیے ’آزادی حاصل کرنے کے لیے‘ حالات پیدا کرنا۔

خلاصہ

  • اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ میں نہیں گھسیٹا
  • انھوں نے نیوز کانفرنس کے دوران ایران جنگ کے لیے تین اہداف ظاہر کیے اور کہا کہ ’کیا کوئی واقعی ٹرمپ کو بتا سکتا ہے کہ انھیں کیا کرنا ہے؟‘
  • انھوں نے کہا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی ’جتنی دیر تک ضروری ہو‘
  • ٹرمپ نے کہا تھا کہ خطے میں تاحال امریکی زمینی فوج تعینات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکی کارروائی ’شیڈول سے آگے‘ چل رہی ہے
  • قطر کے راس لفان انرجی کمپلیکس پر حملے کے بعد برطانیہ اور یورپ میں گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ قطر کے وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ اس تنصیب پر حملہ ایرانیوں کی جانب سے کشیدگی میں ’انتہائی خطرناک اضافہ‘ ہے
  • ایک سخت بیان میں ٹرمپ نے قطر میں مزید ایرانی حملوں کے خلاف خبردار کیا تھا۔ جبکہ ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ اگر ان کے انفراسٹرکچر پر مزید دھماکے یا حملے ہوئے تو تہران ’بالکل بھی تحمل نہیں‘ دکھائے گا

لائیو کوریج

  1. گیس تنصیبات میں آپریشن معطل، متعدد میزائل ناکارہ بنائے گئے: ابوظہبی انتظامیہ

    ابوظہبی کے میڈیا آفس کے مطابق میزائلوں کو ناکارہ بنانے کے بعد گرنے والے ملبے کے دو واقعات سے ہونے والے نقصان سے حکام نمٹ رہے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ میزائل حبشان گیس فیسلٹی اور باب آئل فیلڈ کی طرف جا رہے تھے کہ انھیں ناکارہ بنایا گیا۔

    ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم گیس تنصیبات پر آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔

    یہ حالیہ دنوں میں توانائی کے ایک اور مرکز کو نشانہ بنانے کا واقعہ ہے، اس سے قبل قطر کے راس لفان پر حملہ کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ ایران نے خبردار کیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں متعدد آئل فیلڈز کو نشانہ بنائے گا اور گزشتہ چند روز کے دوران ایران میں توانائی کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

  2. اسرائیلی ہوائی اڈے پر میزائل کے ملبے سے تین نجی طیاروں کو نقصان پہنچا ہے: ایئرپورٹس اتھارٹی

    اسرائیل کی نے تصدیق کی ہے کہ تل ابیب کے مرکزی بین گوریون ہوائی اڈے پر گزشتہ دنوں تین نجی طیاروں کو مُلک کے فضائی دفاعی نظام کی جانب سے فضا میں ناکارہ بنائے جانے والے میزائلوں کے ملبے سے نقصان پہنچا۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے قبل از وقت اس علاقے میں آپریشن اور اس کی وجہ سے لاحق خطرات سے متعلق آگاہ کر دیا گیا تھا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جس وقت تباہ شدہ میزائلوں کا ملبہ نجی طیاروں پر گرا اُس وقت ان میں کوئی بھی مسافر موجود نہیں تھا اور خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘

  3. امریکی صدر ایران کی توانائی کی تنصیبات پر مزید حملے نہیں چاہتے: وال سٹریٹ جنرل

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ آج اسرائیل کی جانب سے جنوبی پارس گیس فیلڈ سے منسلک تنصیبات پر حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی توانائی کی تنصیبات پر مزید حملے نہیں چاہتے۔

    اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے ایران کو سبق سکھانے کے ارادے سے اس حملے کی حمایت کی تھی۔ تاہم اب وہ اس طرح کے مزید حملوں کے خلاف ہیں۔

    امریکی حکام نے اخبار کو بتایا ہے کہ اگر ایران اہم تیل اور تجارتی راستوں میں رکاوٹ ڈالتا ہے یا انھیں بند کرنے کی دھمکی دیتا ہے تو ٹرمپ ایرانی توانائی کے اہداف پر مزید حملوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔

  4. اسرائیل کا ’پہلی مرتبہ‘ شمالی ایران پر فضائی حملے کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی ایران میں اہداف پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

    اسرائی فوج کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ سے جاری ایک مختصر پیغام میں کہا گیا ہے کہ تھوری دیر قبل، اسرائیلی فضائیہ نے بحریہ اور آئی ڈی ایف کی جانب سے مہیا کی گئی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر حالیہ آپریشن کے دوران پہلی بار شمالی ایران میں اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔

  5. قطر کا دو ایرانی سفارت کاروں کو عملے سمیت ملک چھوڑنے کا حکم

    قطر کی وزارت خارجہ نے ایران کے فوجی اور سکیورٹی اتاشیوں کو اپنے عملے سمیت ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

    قطر کی جانب سے یہ فیصلہ راس لافان انڈسٹریل سٹی پر ایرانی حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ قطر کی طرف سے ’ناپسندہ شخصیات‘ قرار دیے گئے افراد کے پاس ملک چھوڑنے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے ’دشمنانہ‘ کارروائیاں جاری رکھیں تو قطر کو اپنے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات کرنے ہوں گے۔

  6. متحدہ عرب امارات کے المنہاد ایئر بیس پر ایران کا حملہ

    برطانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا گیا ہے لیکن اس واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں۔

    المنہاد ایئر بیس پر برطانوی اور آسٹریلوی فوجی بھی تعینات ہیں۔

    حکام نے سکیورٹی خدشات کے باعث اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ المنہاد ایئر بیس پر کتنے اہلکار موجود ہیں یا وہاں کس قسم کا سامان ہے۔

  7. سعودی عرب میں بیلسٹک میزائل کا ملبہ گرنے سے چار افراد زخمی

    سعودی عرب کے حکام کا کہنا ہے کہ بیلسٹک میزائل کے ملبے کے ٹکرے لگنے سے چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    سعودی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ دارالحکومت ریاض اور الخرج کے لیے خطرے کے انتباہات اب اٹھا لیے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ سعودی عرب کی وزارت دفاع نے ’ریاض کی جانب داغے گئے‘ چار میزائلوں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

  8. میزائل حملے کے بعد راس لافان میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے، قطری وزارتِ داخلہ

    قطر کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ راس لافان انڈسٹریل سٹی پر میزائل کے نتیجے میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

    وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

    دوسری جانب، قطر کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ملک پر پانچ میزائل داغے گئے تھے۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق ان میں سے چار میزائلوں کو مار گرایا گیا تھا جبکہ پانچواں راس لافن انڈسٹریل سٹی میں گرا تھا۔

  9. قطر کے راس لافان انڈسٹریل سٹی پر میزائل حملہ: ’ایرانی پالیسیاں ایسے ممالک کو تنازع میں کھینچ رہی ہیں جو اس بحران میں فریق نہیں‘

    قطر کی سرکاری پیٹرولیم کمپنی کا کہنا ہے کہ راس لافان انڈسٹریل سٹی کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس علاقے میں قطر کے شمالی ساحل کا سب سے بڑا گیس کا پلانٹ واقع ہے۔

    قطر انرجی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ میزائل حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور حملے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر ایمرجنسی ٹیموں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔

    قطر کا کہنا ہے کہ راس لافان انڈسٹریل سٹی پر میزائل حملے اس کی قومی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔

    وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ: ’ایران اپنی شدت پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے جو خطے کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے اور ایسے ممالک کو اس تنازع میں کھینچ رہی ہے جو اس بحران کے فریق نہیں ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر ’جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے‘ اور یہ کہ وہ ’اپنی خودمختاری، سلامتی اور اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔‘

  10. سعودی عرب کا ’ریاض کی جانب داغے گئے‘ چار میزائل مار گرانے کا دعویٰ

    سعودی عرب کی وزارت دفاع نے ’ریاض کی جانب داغے گئے‘ چار میزائلوں کو روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    سعودی سول ڈیفنس کے جنرل ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی جائزوں کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

    بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ پورے دارالحکومت میں میزائلوں کا ملبہ بکھرا ہوا ہے۔

    سعودی سول ڈیفنس نے لوگوں کو ملبے کے گرد جمع ہونے یا فلم بندی نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ لوگوں کو کہا گیا ہے کہ وہ ’خطرناک جگہوں سے دور رہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کی اطلاع دیں۔‘

  11. قاتلوں کو جلد خون کے ہر قطرے کی قیمت ادا کرنی پڑے گی: علی لاریجانی کی ہلاکت پر مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام

    ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے وابستہ ٹیلی گرام چینل اور ایرانی ذرائع ابلاغ نے مجتبی خامنہ ای سے منسوب دو پیغامات شائع کیے ہیں۔

    خامنہ ای نے ان پیغامات میں ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی اور ان کے ساتھ ہلاک ہونے والے دیگر افراد اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت پر تعزیت کی ہے۔

    لاریجانی کی ہلاکت سے متعلق پیغام میں خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ’خون کے ہر قطرے کی قیمت ہے، جو شہدا کے مجرم قاتلوں کو جلد ادا کرنی پڑے گی۔‘

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی حیثیت سے یہ مجتبیٰ خامنہ ای کی طرف سے شائع کیے گئے تیسرے اور چوتھے پیغامات ہیں۔

    مجتبیٰ خامنہ ای کو 8 مارچ کو ان کے والد کے جانشین کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ تاہم آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے طور پر نامزد کیے جانے کے بعد سے وہ اب تک منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی تصویر یا ویڈیو سامنے آئی ہے۔

    دوسری جانب بدھ کے روز تہران میں علی لاریجانی اور ان کے ساتھ ہلاک ہونے والے دیگر افراد اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

  12. جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ، عراق کو ایران سے گیس کی سپلائی معطل

    عراقی میڈیا نے ملک کی وزارت بجلی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ایرانی گیس فیلڈ پر حملوں کے بعد ایران سے گیس کی درآمد روک دی گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، عراق اس وقت اپنی گیس اور بجلی کی ضروریات کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ ایران سے درآمد کرتا ہے۔

    وزارت بجلی کے ترجمان احمد موسی نے عراقی خبر رساں ایجنسی کو بتایا: ’خطے میں ہونے والی پیش رفت کے نتیجے میں ایران سے عراق درآمد کی جانے والی گیس کا بہاؤ مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔‘

  13. جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں: ایرانی میڈیا

    ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جنوبی پارس گیس فیلڈ میں ایران کے پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملوں کے نتیجے میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔

    پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق وزارت تیل کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کی کوششیں ابھی تک جاری ہیں۔

    تسنیم کی رپورٹ میں بدھ کے روز ہونے والے حملے کا الزام اسرائیل اور امریکہ پر لگایا گیا ہے۔

    قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری بھی کہہ چکے ہیں کہ جنوبی پارس کی تنصیبات کو اسرائیل نے نشانہ بنایا تھا۔

    دوسری جانب اس حملے کے جواب میں ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب اور قطر میں تیل اور گیس تنصیبات پر حملوں کی وارننگ جاری کر دی ہے۔

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں موجود تیل اور گیس تنصیبات کے قریب رہائش پزیر شہریوں، ملازمین اور دیگر افراد کو علاقے سے نکل جانے کا کہا ہے۔

  14. ایرانی صدر نے وزیر برائے انٹیلیجنس اسماعیل خطیب کی ہلاکت کی تصدیق کردی

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک کے وزیر برائے انٹیلی جنس اسماعیل خطیب کی ہلاکت تصدیق کردی ہے۔

    ایرانی صدر نے ایکس پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’میرے عزیز ساتھیوں اسماعیل خطیب، علی لاریجانی، اور عزیز ناصر زادہ کے ان کے خاندان کے کچھ افراد اور دیگر کے ہمراہ بزدلانہ قتل سے ہم سب سوگوار ہیں۔‘

    اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک حملے میں اسماعیل خطیب کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    اسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ رات ایران کے وزیرِ برائے انٹیلیجنس اسماعیل خطیب کا بھی خاتمہ کر دیا گیا تھا۔‘

    سنہ 2021 میں ایران کے سابق صدر ابراہیم رئیسی نے اسماعیل خطیب کو وزیر برائے انٹیلیجنس مقرر کیا تھا۔

    انھوں نے متعدد سینیئر علما سے فقہ کی تعلیم حاصل کی تھی، جن میں آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔

    اسماعیل خطیب وزارتِ انٹیلیجنس اور رہبرِ اعلیٰ کے دفتر میں بھی متعدد اعلیٰ عہدوں پر کام کر چکے تھے۔

  15. ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب اور قطر میں تیل اور گیس تنصیبات پر حملوں کی وارننگ جاری کر دی

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں موجود تیل اور گیس تنصیبات کے قریب رہائش پزیر شہریوں، ملازمین اور دیگر افراد کو علاقے سے نکل جانے کی وارننگ جاری کر دی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر ایجنسی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر لوگوں کے لیے ’فوری وارننگ‘ جاری کی ہے کہ وہ درج ذیل گیس اور آئل آئل تنصیبات سے دور چلے جائیں:

    • سعودی عرب کی سامرف ریفائنری
    • سعودی عرب کا الجبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس
    • متحدہ عرب امارات کی الحسن گیس فیلڈ
    • قطر کا مسيعيد پیٹروکیمیکل کمپلیکس اور ہولڈنگ کمپنی
    • قطر کی راس لفان راس لفان ریفائنری

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ: ’یہ تمام مراکز اب جائز ہدف بن گئے ہیں اور آئندہ چند گھنٹوں میں انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔‘

    ’تمام شہریوں، رہائشیوں اور ملازمین کو کہا جاتا ہے کہ وہ فوراً ان علاقوں سے دور بلا تاخیر محفوظ فاصلے پر چلے جائیں۔‘

  16. ایران میں دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ پر فضائی حملہ: سرکاری میڈیا

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق جنوبی پارس گیس فیلڈ میں ایران کے پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر فضائی حملے ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس کے مطابق گیس فیلڈ میں آگ لگی ہوئی ہے اور وہاں فائر اور ریسکیو اداروں کے اہلکار موجود ہیں۔

    جنوبی پارس دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ ہے، جہاں قطر اور ایران دونوں کے مراکز موجود ہیں۔

    تسنیم کے مطابق یہ حملہ بدھ کی صبح ہوا تھا۔

  17. عراق میں امریکی سفارتخانے کے قریب دھماکے کی تصدیق شدہ ویڈیو منظر عام پر آ گئی

    گذشتہ رات سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اور بی بی سی ویریفائی کی جانب سے تصدیق شدہ فوٹیج میں بظاہر عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفاتخانے کے قریب ایک دھماکا ہوتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

    دریائے دجلہ کے جنوبی کنارے سے شہر کے نام نہاد گرین زون کی طرف رُخ کر کے بنائی گئی ویڈیو میں ایک دھماکا دکھاتی ہے، جس کے بعد دور کہیں آگ کا ایک گولہ اُبھرتا ہوا نظر آتا ہے۔

    دھماکے کی درست جگہ کا تعین کرنا مشکل ہے، لیکن ویڈیو کے زاویے سے اندازہ ہوتا ہے کہ دھماکا امریکی سفارتخانے کے کمپاؤنڈ کے قریب ہوا تھا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی سفارتخانے کو ایک ڈرون حملے کے ذریعے ہدف بنایا گیا تھا اور علاقے میں دھماکے کی آواز بھی سنی گئی تھی۔

    اس حملے میں کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

    ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی ابتدا کے بعد عراق میں اس امریکی سفارتخانے پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

  18. ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا خطرہ: نیٹو نے ترکی میں پیٹریاٹ ڈیفینس سسٹم نصب کر دیا, بی بی سی عربی

    ترکی کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ نیٹو اس کے جنوبی صوبے آدانا میں ایک پیٹریاٹ میزائل ڈیفینس سسٹم نصب کر رہا ہے، جہاں انجرلک ایئر بیس پر امریکہ اور دیگر ممالک کے فوجی اہلکار تعینات ہیں۔

    ترکی میں نیٹو افواج کا ایک بڑا حصہ موجود ہے اور یہ ایران کے پڑوس میں واقع ہے۔ اس نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا کہ تھا نیٹو نے جنوب مشرقی صوبے ملاطیہ میں بھی ایک پیٹریاٹ میزائل سسٹم نصب کیا ہے۔

    ترکی کی فوج کا کہنا ہے کہ نیا پیٹریاٹ میزائل سسٹم نیٹو کی ریڈار بیس کے قرہیب کام کرے گا اور اس کا مقصد ایران جنگ کے دوران فضائی دفاع کو مضبوط کرنا ہے۔

    آدانہ میں واقع انجرلک ایئربیس میں امریکی، قطری، ہسپانوی اور پولینڈ کے فوجی اہلکار موجود ہیں۔

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کی ابتدا کے بعد نیٹو دفاعی نظام ترکی میں متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر چکے ہیں۔

  19. تہران میں علی لاریجانی اور میجر جنرل غلام رضا سمیت درجنوں افراد کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی

    ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی، بسیج کے کمانڈر میجر جنرل غلام رضا سلیمانی اور بحریہ کے درجنوں اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق ان افراد کی نمازِ جنازہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ہے۔

    علی لاریجانی 17 مارچ کو تہران میں اپنے بیٹے کے ہمراہ ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے، جبکہ بسیج کے کمانڈر کی ہلاکت بھی اسرائیلی فضائی حملے میں ہی ہوئی تھی۔

    اس کے علاوہ چار مارچ کو امریکی بحریہ کے حملے میں سری لنکا کے قریب ایرانی جہاز آئی آر آئی ایس دینا تباہ ہوا تھا، جس میں درجنوں ایرانی بحری اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

  20. ایران کے کلسٹر بم اسرائیل میں کتنی تباہی پھیلا رہے ہیں؟, لوسی ولیمز، رامات گان

    تلِ ابیب کے قریب واقع شہر رامات گان میں ایک عمارت کی بالائی منزل پر موجود فلیٹ کی کنکریٹ کی چھت ٹوٹی ہوئی ہے، لوہے کے سریے مُڑ چکے ہیں اور ایک بڑا شگاف واضح دکھائی دیتا ہے۔

    یہ وہ جگہ ہے جہاں گذشتہ رات ایک ایرانی کلسٹر بم چھت چیرتا ہوا ایک بزرگ جوڑے کے فلیٹ میں داخل ہوا اور اس حملے میں وہ دونوں ہلاک ہو گئے۔

    پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اس فلیٹ کے رہائشی مرد کو چلنے پھرنے میں پریشانی کا سامنا تھا اور اسی لیے وہ الارم بجنے کے بعد محفوظ مقام پر نہیں منتقل ہو سکے۔

    یہ اپارٹمنٹ دیکھ کر ہمیں کلسٹر بم سے ہونے والے نقصان کا پتا چلتا ہے۔ اس بم کے چھروں سے دیواروں میں سوراخ ہو چکے ہیں اور فلیٹ کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

    سگال عامر نامی ایک پڑوسی کا کہنا ہے کہ جب حملہ کے بعد وہ محفوظ مقام سے باہر آئی تو انھوں نے دیکھا کہ برابر والے فلیٹ کا دروازہ کنڈوں کے سہارے لٹکا ہوا ہے اور وہاں دھواں بھرا ہوا ہے۔

    اسرائیلی فضائی دفاعی نظام رہائشی علاقوں کی طرف فائر کیے گئے بیشتر ایرانی میزائلوں کو تباہ کر دیتا ہے اور ملک کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے 70 فیصد میزائل لانچر تباہ کر دیے ہیں۔

    ایران اب زیادہ تر ایسے میزائل استعمال کر رہا ہے جن میں کلسٹر بارودی مواد بھرا ہوا ہوتا ہے، یہ وسیع علاقوں تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انھیں روکنا بھی مشکل ہوتا ہے۔