آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

بطور وزیرِ اعلیٰ عمران خان کے منشور پر عمل کروں گا، احتجاج اور جلسے پارٹی کا کام ہے: سہیل آفریدی

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ اڈیالہ جیل عمران خان سے ملاقات کے لیے آئے تھے لیکن عدالتی حکم کے باوجود انھیں ان کے لیڈر سے نہیں ملنے دیا گیا۔ ’عدالتی حکم کے باوجود آج ہمیں اپنے لیڈر سے ملنے نہیں دیا گیا۔ اگر عدالتی احکامات نہیں مانے جا رہے تو یہ ہماری کمزوری نہیں ہے، یہ عدالتوں کی بے بسی ہے۔‘

خلاصہ

  • انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس 400 کلو گرام یورینیم کے ذخائر موجود ہیں جن کی افزودگی کی شرح 60 فیصد ہے۔
  • یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کے میزائل اور ڈرون حملوں میں دو بچوں سمیت کم سے کم سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
  • امریکہ نے روس پر نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے روس کی دو بڑی آئل کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
  • پاکستان اور افغانستان کے مابین جنگ بندی کے بعد بھی سرحدی آمدورفت مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی، مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
  • اگر حماس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو مشرقِ وسطیٰ اور آس پاس کے اتحادی ممالک غزہ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. پاکستان بحریہ کا بحیرہ عرب میں انسدادِ منشیات آپریشن، ایک ارب ڈالر مالیت کی آئس اور کوکین ضبط

    پاکستانی بحریہ کے جہاز پی این ایس یرموک نے شمالی بحیرہ عرب میں انسداد منشیات کے آپریشن کے دوران تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کی منشیات ضبط کر لیں۔

    پاکستان بحریہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پی این ایس یرموک نے کمبائنڈ میری ٹائم فورسز (سی ایم ایف) کی کمبائنڈ ٹاسک فورس 150 (سی ٹی ایف-150) کے تحت کارروائی کرتے ہوئے شمالی بحیرہ عرب میں انسداد منشیات کا ایک آپریشن کیا جس کے نتیجے میں تقریباً 97 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کی منشیات ضبط کر لیں۔

    پاک بحریہ کے جہاز یرموک نے سعودی قیادت میں کمبائنڈ میری ٹائم فورس 150 کی براہ راست معاونت میں کام کرتے ہوئے سی ٹی ایف 150 کے فوکسڈ آپریشن المسمک کے دوران بحیرہ عرب میں یہ منشیات ضبط کی گئیں۔

    کثیر القومی سی ٹی ایف-150 کا مقصد سمندروں میں استحکام کو یقینی بنانا اور دہشت گردی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔

    سی ٹی ایف 150 کا مشن بحر ہند، بحیرہ عرب اور خلیج عمان میں ہتھیار، منشیات اور دیگر غیر قانونی مادوں کی نقل و حرکت کے لیے غیر ریاستی عناصر کی صلاحیت کو روکنا اور اس میں تعطل ڈالنا ہے۔

    واضح رہے کہ سی ٹی ایف 47 ممالک کا ایک ایسا بحری اتحاد ہے جو دنیا کی کچھ اہم شپنگ لین پر محیط 3.2 ملین مربع میل پانی میں سلامتی اور استحکام کو فروغ دے کر بین الاقوامی قواعد پر مبنی نظام کو برقرار رکھتی ہے۔

    سی ٹی ایف 150 کے کمانڈر رائل سعودی نیول فورسز کے کموڈور فہد الجوید نے کہا کہ ’اس آپریشن کی کامیابی کثیر القومی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔‘

    کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، 18 اکتوبر کو پی این ایس یرموک نے ایک کشتی کے خلاف آپریشن کر کے دو ٹن سے زیادہ کرسٹل میتھ (آئس) ضبط کی جس کی مالیت تقریباً 82 کروڑ 24 لاکھ ڈالرز تھی۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کے محض 48 گھنٹے کے اندر ایک اور آپریشن میں پی این ایس یرموک نے ایک کشتی سے 350 کلو گرام آئس اور 50 کلو گرام کوکین برآمد کی جس کی کل مالیت 15 کروڑ ڈالرز ہے۔

    تفصلات کے مطابق فوکسڈ آپریشن المسمک نے 16 اکتوبر کو شروع کیا تھا اور اس نے علاقائی سلامتی اور سمندری تحفظ کو بڑھانے کے لیے ایک مربوط کثیر القومی نقطہ نظر کا کامیابی سے مظاہرہ کیا ہے، جس میں سعودی عرب پاکستان، فرانسیسی، ہسپانوی اور امریکی بحریہ کی معاونت شامل ہے۔

  2. علیمہ خان کے چوتھی بار ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری: ’علیمہ خان روپوش ہیں تو اڈیالہ جیل کے باہر سے انکی میڈیا ٹاکس کیسے نشر ہوتی ہیں؟‘

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج کے حوالے سے درج مقدمے کی سماعت کے دوران چوتھی مرتبہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    بدھ کے روز مقدمے میں نامزد 10 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے تاہم علیمہ خان ایک بار پھر غیر حاضر رہیں۔ علیمہ خان کی مسلسل عدم حاضری پر عدالت نے ان کے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے ضبط کرنے کا حکم دے دیا جبکہ ان کے ضامن عمر شریف کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 اکتوبر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

    عدالت نے چوتھی مرتبہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان کو دو نئے ضمانتی بانڈز اور دس دس لاکھ کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

    عدالت نے ایس پی راول سعد ارشد اور ڈی ایس پی نعیم کی جانب سے علیمہ خان کے روپوش ہونے کی رپورٹ کو بوگس قرار دیتے ہوئے انھیں توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔ دونوں افسران کو 24 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

    علیمہ خان کے متعلق پولیس رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے سوال کیا کہ اگر علیمہ خان روپوش ہیں تو اڈیالہ جیل کے باہر سے انکی میڈیا ٹاکس کیسے نشر ہوتی ہیں؟

    عدالت نے مقدمے میں شامل چار گاڑیوں کے 85 لاکھ روپے کے شورٹی بانڈز ضبط کرتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا اور آئی جی بلوچستان کو گاڑیاں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔

    مقدمے کی اگلی سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔

  3. بلوچستان حکومت نے تین خواتین کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کر دیے, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے تین خواتین سیاسی کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کردیے ہیں۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری ایک نوٹیفیکشن کے مطابق، جن خواتین کارکنوں کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے ان کا تعلق ایران سے متصل ضلع کیچ سے ہے۔

    ان خواتین سیاسی کارکنوں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں موجودہ مخلوط حکومت کے قیام کے بعد سے مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے مرد رہنمائوں اور کارکنوں کی بڑی تعداد کو پہلے ہی مبینہ طور پردہشت گرد تنظیموں سے تعلق کی بنیاد پر فورتھ شیڈول میں شامل کیا جا چکا ہے لیکن غالباً یہ پہلا موقع ہے کہ خواتین کارکنوں کے نام اس میں شامل کے گئے ہیں۔

    فورتھ شیڈول میں شامل کی جانے والی خواتین کون ہیں؟

    جن تین خواتین کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت سے ہے۔

    محکمہ داخلہ کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ان میں ڈاکٹر شلی بلوچ ، سید بی بی اور نازگل شامل ہیں۔

    ان میں سے ڈاکٹر شلی بلوچ بلوچستان وومن فورم کی آرگنائزر ہیں جبکہ باقی دونوں خواتین بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مقامی کارکن ہیں۔

    ڈاکٹر شلی بلوچ نے فون پر اس بات کی تصدیق کی کہ ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے اور اس حوالے سے تربت میں ان کے گھر پر نوٹس بھی آیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب نوٹس آیا تو اس وقت وہ خود تربت میں موجود نہیں تھیں اس لیے ان کے گھر والوں کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے بتایا کہ انھیں متعلقہ حکام کے سامنے پیش ہونا ہے۔

    ڈاکٹر شلی بلوچ کے مطابق، اہلکاروں کا مزید کہنا تھا کہ اگر وہ جمعے تک پیش نہیں ہوئیں تو ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جائیں گے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف یہ اقدام شبیربلوچ نامی ایک سیاسی کارکن کی جبری گمشدگی کے نو سال مکمل ہونے پر تربت شہرمیں منعقدہ ایک سیمینار میں شرکت کے بعد کیا گیا ہے۔

    انھوں نے محکمہ داخلہ کے نوٹیفیکیشن میں لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گی۔

    دوسری جانب محکمہ داخلہ کے ایک اور نوٹیفیکیشن کےمطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کے آبائی ضلع ڈیرہ بگٹی میں بھی 32 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں۔

    فورتھ شیدول کیا ہے؟

    فورتھ شیڈول ایک ایسی فہرست ہے جس میں ایسے افراد کے نام ڈالے جاتے ہیں جن پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دہشت گردی یا فرقہ واریت پھیلانے کا شبہ ہو۔

    ماضی میں وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق کسی بھی شخص کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کرنے سے متعلق مختلف مراحل طے کیے جاتے ہیں۔

    ان میں پہلے مرحلے میں کوئی بھی ایسا شخص جس پر شک ہو کہ وہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے تو اس کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کی وفعہ ای ون میں شامل کیا جاتا ہے۔ جس کے تحت اس شخص کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جاتی ہے جو کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ منسلک ہو یا اس کی ہمدردیاں کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ ہوں۔

    اہلکار کے مطابق پہلے مرحلے میں ایسے شخص کی نگرانی پولیس کے ادارے سپیشل برانچ اور سویلین خفیہ ادارے یعنی انٹیلیجنس بیورو کے اہلکار کرتے ہیں۔

    دوسرے مرحلے میں مذکورہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں ایسے شخص کا نام (ای ٹو) میں شامل کیا جاتا ہے جس کے تحت اس کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ ایسی کسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے گا جو کہ ریاست مخالف ہوں یا کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے بارے میں ہوں۔

    اہلکار کے مطابق ایسے شخص سے نہ صرف ضمانتی مچلکے جمع کراونے کے بارے میں کہا جاتا ہے بلکہ اُنھیں اس بات کا بھی پابند بنایا جاتا ہے کہ وہ متعلقہ تھانے کو اطلاع دیے بغیر علاقہ نہیں چھوڑ سکتے اور عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں اُن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت ایسا کوئی شخص جس کا نام ای ٹو کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہو تو وہ کسی پبلک مقام حتیٰ کہ سنیما دیکھنے بھی نہیں جا سکتے۔

  4. بنگلہ دیش میں عدالت کا جبری گمشدگیوں میں ملوث 15 حاضر سروس فوجی افسران کو جیل بھیجنے کا حکم

    بنگلہ دیش میں بین الاقومی جرائم کے ٹریبونل نے جبری گمشدگیوں سمیت انسانیت کے خلاف مختلف جرائم کے مقدمات میں نامزد بنگلہ دیشی فوج کے 15 افسران کو گرفتار کر کے جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت نے اخبارات کو حکم دیا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اور دیگر مفرور ملزمان کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے نوٹسز شائع کریں۔

    بدھ کے روز سماعت کے بعد چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے میڈیا کو بتایا کہ جیل حکام فیصلہ کریں گے کہ ملزمان کو کس جیل میں رکھا جائے گا۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل حکومت نے ایک خصوصی حکم نامے کے ذریعے چھاؤنی میں ایک عمارت کو خصوصی جیل کا درجہ دیا تھا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ شاید ان فوجی افسران یہیں رکھا جائے۔

    دوسری جانب زیرِ حراست افسران کے وکیل بیرسٹر محمد سرور حسین کا کہنا ہے کہ ’ان فوجی افسران نے قانون کے احترام میں عدالت کے سامنے گرفتاری پیش کی ہے۔ وہ بے قصور ہیں، اور یہ بات عدالت میں ثابت ہو جائے گی۔ جنھوں نے یہ جرم کیا تھا وہ انڈیا فرار ہو چکے ہیں۔‘

    ان افسران پر جبری گمشدگی کے دو مقدمات درج ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں سے کچھ افسران کو گذشتہ سال جولائی اور اگست میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران قتل کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔

    رواں ماہ کی آٹھ تاریخ کو ٹریبونل نے ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے آئی جی پولیس کو وارنٹ کی تکمیل کا حکم دیا تھا۔

    اس کے بعد 11 اکتوبر کو بنگلہ دیش آرمی نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں بتایا گیا کہ 15 حاضر سروس افسران کو فوجی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

    ملزمان کی عدالت میں پیشی کے بعد ان کے وکیل نے ایک درخواست دائر کی تھی کہ جب تک مقدمہ چل رہا ہے ان ملزمان کو فوجی بیرکوں میں قائم ایک سب جیل میں رکھا جائے۔

    سپریم کورٹ کے زاہد اقبال کا کہنا ہے کہ استغاثہ شاید ان ملزمان کو کسی سیف ہاؤس میں رکھ کر ان سے تفتیش کی مانگ کرے۔

  5. غزہ میں صحت کا بحران کئی نسلوں تک رہے گا، عالمی ادارہ صحت کا انتباہ

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ غزہ کو صحت کے تباہ کن بحران کا سامنا ہے اور اس سے آنے والی کئی نسلیں متاثر ہوں گی۔

    ڈاکٹر ٹیڈروس اڈانوم گریبیسس نے بی بی سی کے ریڈیو 4 بتایا کہ غزہ کی ابادی کو درپیش مسائل کے سدِباب کے لیے امداد میں بے تحاشہ اضافے کی ضرورت ہے۔

    اسرائیل نے 10 اکتوبر کو حماس کے ساتھ جنگ ​​بندی کے بعد سے مزید طبی سامان اور دیگر امداد کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے تاہم ڈاکٹر ٹیڈروس کا کہنا ہے کہ اس علاقے کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی تعمیر نو کے لیے اس سے کہیں زیادہ کی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ غزہ کے باشندوں کو قحط، بے تحاشہ زخموں، صحت کے دیکھ بھال کے نظام کی تباہی، اور پانی اور صفائی کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث پھیلنے والی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    ’اس کے اوپر سے امداد تک رسائی محدود ہے۔ یہ ایک بہت ہی خطرناک مجموعہ ہے، یہ [صورتحال] کو بہت تباہ کن بناتا ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘

  6. حماس نے مزید دو یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دیں

    اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ منگل کو حماس کی جانب سے حوالے کی جانے والی دو یرغمالیوں کی لاشوں کی شناخت آریہ زلمانووچ اور ماسٹر سارجنٹ تمیر ادار کے نام سے ہوئی ہے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ زلمانووچ کو نیر اوز میں ان کے گھر سے اغوا کیا گیا تھا اور 17 نومبر 2023 کو دوران قید 85 سال کی عمر میں مارے گئے تھے۔

    بیان کے مطابق، 38 سالہ ادار نیر اوز کے کمیونٹی سکیورٹی سکواڈ کے رکن تھے جو سات اکتوبر کے حملے کے دوران حماس کے جنگجوؤں سے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔

    امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت 28 مقتول یرغمالیوں میں سے اب تک حماس 15 کی لاشیں واپس کر چکا ہے۔

    یاد رہے کہ حماس کہتی آئی ہے کہ غزہ میں ہونے والی تباہی کے باعث اسے لاشیں ڈھونڈنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    منگل کے روز حماس کے رہنما اور چیف مذاکراتکار خلیل الحیا نے قاہرہ نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا وہ بھی چاہتے ہیں کہ یرغمالیوں کی لاشیں ان کے ورثا تک جلد از جلد پہنچا دی جائیں تاکہ ہمارے اپنوں کی لاشیں ہمارے حوالے کر دی جائیں اور ہم ان کی باعزت طریقے سے تدفین کر سکیں۔

    خلال الحیا کا کہنا تھا کہ انھیں لاشوں کی تلاش میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے بعد کئی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اِن لاشوں کو نکالنے کے لیے ’وقت اور بھاری مشینری کی ضرورت ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی یہ کام مکمل کر لیا جائے گا۔

  7. انڈیا نے کابل میں اپنے ’ٹیکنیکل مشن‘ کو سفارت خانے کی حیثیت دے دی

    انڈیا نے کابل میں اپنے ’ٹیکنیکل مشن‘ کی حیثیت کو فوری طور پر افغانستان میں انڈیا کے سفارت خانے کی حیثیت کے طور پر بحال کردیا ہے۔

    انڈیا کی جانب سے یہ اعلان افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورہ انڈیا کے ایک ہفتے بعد کیا گیا ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں افغان فریق کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو گہرا کرنے کے انڈیا کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔

    انڈین وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اس ماہ افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کے انڈین دورے کے دوران کابل میں انڈیا کے ٹیکنیکل مشن کو جلد ہی سفارت خانے کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا۔

    امیر خان متقی نے رواں ماہ 9 سے 16 تاریخ تک انڈیا کا چھ روزہ دورہ کیا تھا۔

    وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ کابل میں انڈیا کا سفارت خانہ افغان معاشرے کی ترجیحات اور خواہشات کو مدِنظر رکھتے ہوئے افغانستان کی جامع ترقی، انسانی امداد اور صلاحیت سازی کے اقدامات میں انڈیا کے تعاون کو مزید بڑھائے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ انڈیا نے باضابطہ طور پر افغانستان میں 2021 میں اقتدار میں آنے والی طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے لیکن یہ پیش قدمی اس سمت میں اہمیت کی حامل ہے۔

    اس سے قبل انڈیا کے دورے پر آئے افغانستان کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ انڈیا نے دہلی میں طالبان حکومت کو اپنے سفیر مقرر کرنے کی اجازت دی ہے۔

    خیال رہے کہ کابل میں چند ایک ممالک کے سفارت خانے کام کر رہے ہیں لیکن روس کے سوا کسی ملک نے افغانستان میں طالبان حکومت کو قبول نہیں کیا ہے۔

    امیر خان متقی کے دوے کے متعلق پر ہم نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں سینٹر آف پرشین اینڈ سینٹرل ایشین لینگویجز کے پروفیسر محمد مظہر الحق سے بات کی۔ انھوں نے بتایا کہ انڈیا اور افغانستان کے تعلقات بیک چینلز پر قائم ہیں اور یہ کہ حالیہ دنوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں اضافہ نظر آیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر لوگ اسے اہم پیش رفت بتا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد اب انڈیا افغانستان کا سب سے قریبی پڑوسی ہے۔

  8. ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات منسوخ: میں ایک بے معنی ملاقات نہیں چاہتا تھا، امریکی صدر

    یوکرین جنگ کے متعلق امریکی اور روسی صدور کے درمیان ممکنہ ملاقات کا منصوبہ منسوخ کیے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایک بے معنی ملاقات نہیں چاہتے تھے۔

    منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ اس معاملے میں ایک اہم نکتہ ماسکو کی جانب سے موجودہ محاذ پر لڑائی بند کرنے سے انکار ہے۔

    اس سے قبل، وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن کے درمیان مستقبل قریب میں ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے ہی ٹرمپ نے کہا تھا کہ آئندہ دو ہفتوں کے اندر وہ ہنگری میں پوتن سے ملاقات کریں گے۔

    ٹرمپ اور پوتن کے درمیان اگست میں امریکی ریاست الاسکا میں ملاقات ہوئی تھی تاہم دونوں سربراہوں کے درمیان اس بات چیت کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

    ممکن ہے کہ ٹرمپ اور پوتن کی دوسری ملاقات کو منسوخ کرنے کا مقصد اسی طرح کے ایک اور منظر نامے سے بچنے کی کوشش ہو۔

    دونوں سربراہوں کی ملاقات سے قبل اس ہفتے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے درمیان ملاقات طے تھی۔ تاہم اب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ’نتیجہ خیز‘ ٹیلیفونک گفتگو کے بعد اس ملاقات اب ضرورت نہیں رہی۔

    پیر کے روز، بظاہر ٹرمپ یوکرین اور یورپی رہنماؤں کی جانب سے دی گئی تجویز کہ لڑائی کو موجودہ محاذ پر منجمد کر کے جنگ بندی کی جائے پر راضی ہو گئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ لڑائی جہاں ہے، اسے وہیں روک دینا چاہیے۔ ’گھر جاؤ۔ لڑائی بند کرو، لوگوں کو مارنا بند کرو۔‘

    روس نے بارہا اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔

    منگل کے روز روسی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ماسکو صرف ’دیرپا اور پائیدار امن‘ میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس کے لیے اس تنازع کی اصل وجہ پر بات کرنے کی صرورت ہے۔

    روس دونباس کے علاقے پر اپنی مکمل خودمختاری اور یوکرین کو غیر مسلح کرنے کی مانگ کرتا آیا ہے جو یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں کے قابلِ قبول نہیں۔

  9. اگر حماس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو مشرقِ وسطیٰ اور آس پاس کے اتحادی ممالک غزہ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ اگر حماس نے غزہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ان کی درخواست پر مشرقِ وسطیٰ اور آس پاس کے اتحادی ممالک بھرپور طاقت کے ساتھ غزہ میں داخل ہو کر حماس کو ’سیدھا کرنے‘ کے لیے تیار ہیں۔

    اپنی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں امریکی صدر نے دعوی کیا کہ مشرق وسطیٰ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں موجود امریکہ کے اتحادیوں نے واضح طور پر انھیں مطلع کیا ہے کہ اگر حماس معاہدے نے خلاف ورزی کی تو وہ میری درخواست پر بھرپور طاقت کے ساتھ غزہ میں داخل ہونے اور ’حماس کو سیدھا کرنے‘ کے موقع کا خیرمقدم کریں گے۔

    ’میں نے ان ممالک اور اسرائیل کو کہا ہے کہ ابھی نہیں۔ ابھی بھی امید ہے کہ حماس وہ کرے گی جو صحیح ہے۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر حماس نے ایسا نہ کیا تو اس کا ’خاتمہ تیز، خطرناک اور بہیمانہ ہوگا۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ان تمام ممالک کے شکر گزار ہیں جنھوں نے مدد کی پیشکش کی ہے۔

  10. میں نے نریندر مودی سے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں ہونی چاہیے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ کوئی جنگ نہ کریں۔

    منگل کے روز دیوالی کے موقع پر اوول آفس میں بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی کچھ دیر قبل ہی انڈیا کے وزیرِ اعظم سے بات ہوئی ہے۔

    ’بہت اچھی بات چیت ہوئی، ہم نے تجارت کے بارے میں بات کی۔۔۔ وہ اس میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہم پہلے بات کر چکے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ہونی چاہیے۔

    ’کیونکہ تجارت کا معاملہ شامل تھا اس لیے میں اس بارے میں بات کر سکا۔ اور پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہے۔ یہ بہت ہی اچھی چیز ہے۔‘

    خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ رواں سال مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی جنگ رکوانے کا متعدد بار دعویٰ کر چکے ہیں۔

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے پاکستان اور انڈیا کو کہا تھا کہ اگر انھوں نے جنگ نہ روکی تو وہ ان کے ساتھ تجارت بند کر دیں گے جس کے بعد دونوں ملک جنگ بندی پر راضی ہوئے۔

    انڈیا امریکی صدر کے اس دعوے کی تردید کرتا آیا ہے۔

  11. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کا خواہاں ہے لیکن براہ راست یا بالواسطہ اپنی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
    • امریکہ اور آسٹریلیا نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد نایاب اور دیگر اہم معدنیات کی فراہمی کو بڑھانا ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ مارکیٹ میں چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہے۔
    • امریکی صدر کے داماد جیرڈ کُشنر نے غزہ کی تعمیرِ نو کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’تعمیرِ نو کے فنڈز حماس کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں نہیں بھیجے جائیں گے۔‘
    • پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر میں ہونے والے معاہدے کے متعلق بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مذاکرات تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے نہیں بلکہ افغانستان میں برسرِِاقتدار افغان طالبان سے ہوئے ہیں اور دوحہ میں افغان طالبان کے ساتھ ہونے والا معاہدہ خفیہ رہے گا۔
  12. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔