آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نوشکی بم حملے میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ ہلاک، جنوبی وزیرستان اور ٹانک کے کچھ علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ایک بم دھماکے میں کم ازکم پانچ افراد ہلاک اور 32 زخمی ہو گئے ہیں۔ ادھر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ٹانک اور جنوبی وزیرستان کے کچھ علاقوں میں 17 مارچ کو کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • یمن کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے یمن کے دارالحکومت صنعا پر کیے گئے فضائی حملوں کے باعث اب تک 31 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  • وائٹ ہاؤس کی جانب سے اتوار کو ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکہ فضائی حملوں میں یمن میں متعدد حوثی رہنما ہلاک ہوئے ہیں۔
  • ڈپٹی کمشنر ٹانک اور ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر 17 مارچ 2025 کو مختلف علاقوں میں مکمل کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
  • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں دو دنوں کے اندر مسلح شدت پسندوں کی جانب سے ایک درجن کے لگ بھگ حملے ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر کا نشانہ پولیس اہلکار تھے۔
  • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ایک بم دھماکے میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں۔
  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر شدت پسندوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کی جعفر ایکسپریس پر شدت پسندوں کے حملے کی مذمت

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر شدت پسندوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    ایک پریس بیان کے ذریعے سلامتی کونسل کے ارکان نے متاثرہ خاندانوں اور پاکستان کی حکومت اور عوام سے اپنی گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

    انھوں نے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ جمعہ کو ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ارکان نے کہا کہ ہر قسم کی دہشت گردی بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    ارکان نے دہشت گردی کی ان قابل مذمت کارروائیوں کے مجرموں، منتظمین، مالی معاونت کرنے والوں کا محاسبہ کرنے اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    انھوں نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اس سلسلے میں حکومت پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔

    بیان میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی، محرکات سے قطع نظر، جہاں بھی، جب بھی اور جس نے بھی اس کا ارتکاب کیا ہو، مجرمانہ اور بلاجواز ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ تمام ریاستوں کے لیے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون، بین الاقوامی پناہ گزینوں کے قانون اور بین الاقوامی انسانی ہمدردی قانون سمیت اقوام متحدہ کے چارٹر اور دیگر ذمہ داریوں کے مطابق بین الاقوامی قانون کے تحت دہشت گردی کی کارروائیوں سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات سے ہر طرح سے نبردآزما ہونے کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ جمعے کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران 354 مسافروں کو ریسکیو کیا گیا، جبکہ اس حملے میں 18 فوجی اور ایف سی اہلکاروں سمیت 26 افراد ہلاک ہوئے۔

  2. جعفر ایکسپریس حملے میں 354 مسافر بازیاب، 26 ہلاک: ٹرین میں سوار 45 افراد کہاں گئے؟

    پاکستانی فوج کی جانب سے جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والے 33 بلوچ شدت پسندوں کی ہلاکت اور آپریشن کی کامیابی کا اعلان تو کر دیا گیا ہے مگر بازیاب ہونے والے اور مبینہ طور پر لاپتہ مسافروں کی تعداد کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔

    جمعے کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران 354 مسافروں کو ریسکیو کیا گیا ہے جبکہ اس حملے میں 18 فوجی اور ایف سی اہلکاروں سمیت 26 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    خیال رہے دو روز قبل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا تھا کہ حملے کے دوران 21 مسافر ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم آج انھوں نے کہا کہ کچھ مسافروں کو ٹرین سے دور بھی اس وقت گولیاں لگیں جب وہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    ریسکیو کیے جانے والے اور ہلاک ہونے والے مسافروں کی تعداد کو دیکھا جائے تو مجموعی طور پر 380 کا ہندسہ سامنے آتا ہے، جبکہ دو روز قبل پاکستانی فوج کے ترجمان نے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کو بتایا تھا کہ جعفر ایکسپریس میں 440 مسافر سوار تھے۔

    تاہم وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کہتے ہیں کہ جعفر ایکسپریس میں سفر کے لیے 425 مسافروں کو ٹکٹ جاری کیے گئے تھے۔

    ایسے میں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ جعفر ایکسپریس میں سوار باقی 45 مسافر کہاں گئے؟

    ’شاید کچھ لوگوں نے سفر ہی نہ کیا ہو‘

    پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا آپریشن کی تفصیلات دیتے ہوئے کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے یرغمالیوں کے صرف ایک گروپ کو ٹرین میں رکھا تھا جبکہ انھوں نے باہر بھی چھوٹے چھوٹے گروپ بنا لیے تھے۔

    ان کے مطابق سکیورٹی فورسز اس سارے عمل کی نگرانی کر رہی تھی اور حملہ آور ’کسی بھی وقت کسی بھی مغوی کو اپنے کسی ٹھکانے کی طرف نہیں لے کر گئے۔‘

    خیال رہے اس سے قبل پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے منگل کی شب کہا تھا کہ شدت پسند کچھ مغویوں کو اپنے ساتھ پہاڑوں میں لے گئے ہیں لیکن انھوں نے بھی ان افراد کی تعداد نہیں بتائی تھی۔

    دوسری جانب مسافروں کی تعداد پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بُگٹی کہتے ہیں کہ جعفر ایکسپریس میں سفر کے لیے 425 مسافروں کو ٹکٹ جاری ہوئے تھے۔

    ’اب جن 425 مسافروں کو ٹکٹ جاری ہوئے وہ کسی بھی سٹیشن سے بیٹھ سکتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں نے ٹکٹ لے لیا لیکن سفر نہیں کیا اور وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ جو مغویوں کی تعداد میں فرق آ رہا ہے اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کچھ لوگوں نے سفر ہی نہیں کیا ہو، کچھ لوگوں نے اگلے سٹیشنوں سے بیٹھنا ہو۔ امکانات یہ بھی ہیں کہ ایک، دو لوگ جو بھاگے تھے وہ بھٹک بھی گئے ہوں یا دوبارہ اُن (حملہ آوروں) کے ہاتھ لگ گئے ہوں۔‘

    ’کل شام کو بھی دو لوگ تھے جو ایف سی کی چیک پوسٹ پر آئے کیونکہ وہ بھٹک گئے تھے۔‘

    پاکستانی فوج کے ترجمان کا اس پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے کیونکہ بازیاب ہونے والے 354 افراد میں سے 37 زخمی تھے اور وہ ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

  3. یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کے وعدے سے امریکہ روس مذاکرات تک کا سفر

    یوکرین پر روسی حملے کے تین سال سے زیادہ کا عرصہ بیت جانے کے بعد وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ہم کبھی بھی امن کے قریب نہیں رہے۔

    ہم نہیں جانتے کہ آگے کیا ہوگا، لیکن ہم جانتے ہیں کہ امن کے حصول کے لیے بڑے اقدامات کیے گئے ہیں۔

    آئیے نظر ڈالتے ہیں کہ صورتحال یہاں تک کیسے پہنچی۔

    2024 کے آخر میں:

    ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے وعدے پرانتخابی مہم چلائی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو ایک دن میں حل کر سکتے ہیں۔

    فروری کے اوائل میں: ٹرمپ نے پوتن کو فون کیا اور کہا کہ دونوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ اس کے چند روز بعد زیلنسکی نے کہا تھا کہ یوکرین اپنی شمولیت کے بغیر ہماری پیٹھ کے پیچھے کیے گئے معاہدوں کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔

    فروری کے اواخر میں:

    ٹرمپ نے زیلنسکی کو 'ڈکٹیٹر' قرار دیا۔ زیلنسکی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ماسکو کے زیر انتظام ’غلط معلومات کی جگہ میں رہ رہے ہیں۔‘

    3 مارچ: امریکہ نے یوکرین کو دی جانے والی تمام فوجی امداد معطل کر دی۔ دو دن بعد امریکہ نے تصدیق کی کہ اس نے یوکرین کے ساتھ انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے کو بھی روک دیا ہے۔

    11 مارچ: جدہ میں امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کے بعد یوکرین نے 30 روزہ عارضی جنگ بندی کی امریکی تجویز پر رضامندی ظاہر کی بدلے میں امریکہ انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے اور فوجی امداد کو دوبارہ شروع کرنے پر رضامند ہو گیا۔

    آج: ٹرمپ کی جانب سے یہ کہنے کے بعد کہ روس اور امریکہ کے درمیان ’نتیجہ خیز بات چیت‘ ہوئی ہے روس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے بارے میں ’محتاط امید‘ ہے۔ پوتن کا کہنا ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ 'ہم کبھی بھی امن کے قریب نہیں رہے۔'

  4. جعفر ایکسپریس میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین جاری, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے علاقے بولان میں جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

    جمعے کو کوئٹہ میں ریلوے پولیس کے اہلکار شمروز خان جبکہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار فدا حسین کی تدفین نصیر آباد ڈویژن کے علاقے صحبت پور میں ہوئی۔

    مچھ میں ریلوے سٹیشن کے ایک اہلکار کے علاوہ ایک رضاکار تنظیم سے تعلق رکھنے والے کارکن نے بتایا کہ جمعرات کو دوپہر ایک بجے تک 25 افراد کی لاشیں مچھ ریلوے سٹیشن پہنچائی گئی تھیں۔

    کوئٹہ میں سول ہسپتال کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ٹرین پر حملے میں ہلاک ہونے والے13 افراد کی لاشیں سول ہسپتال کوئٹہ لائی گئیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ان میں سے چھ افراد کی لاشیں تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہیں۔

    اہلکار کے مطابق ان میں سے زیادہ تر ہلاکتیں گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی ہیں اور ان کو دور سے گولیاں لگی ہیں۔

  5. روس امریکہ کے تجویز کردہ جنگ بندی کے معاہدے پر رضامندی دے: جی سیون کا مطالبہ

    جی سیون کے دو روزہ اجلاس کے حتمی بیان کے مسودے میں روس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے تجویز کردہ جنگ بندی کے معاہدے پر رضامند ہو۔

    جی سیون حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ رکن ممالک کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکا کے سینئر سفارت کاروں نے اس بیان کی منظوری دے دی ہے۔ لیکن ابھی اس پر جی سیون کے وزرائے خارجہ نے دستخط کرنے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ 'جی سیون کے رکن ممالک نے روس پر زور دیا کہ وہ برابری کی شرائط پر جنگ بندی پر رضامند ہو اور اس پر مکمل عمل درآمد کرے۔

    'انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط ’سیکیورٹی انتظامات‘ کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ماسکو کو متنبّہ کیا کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو اسے مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  6. امریکہ اور روس کے مابین ’اچھی اور تعمیری‘ بات چیت ہوئی ہے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان 'اچھی اور تعمیری بات چیت' ہوئی ہے۔

    انھوں نے یہ بات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہی اور اس پیش رفت کی تعریف کی۔

    لیکن ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ یوکرین کے ہزاروں فوجی روسی فوج کے گھیرے میں ہیں اور وہ 'بہت بری اور کمزور پوزیشن' میں ہیں۔

    انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انھوں نے پیوٹن سے کہا تھا کہ ’ان کی جانیں بچائی جائیں۔` انھوں نے مزید کہا کہ یہ ایک خوفناک قتل عام ہوگا، اس پیمانے پر جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے نہیں دیکھا گیا۔

  7. جعفر ایکسپریس حملے میں 18فوجی اور سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے: پاکستانی فوج

    پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر بلوچ شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 26 تک پہنچ گئی ہے جن میں فوج کے 18 اہلکار بھی شامل ہیں۔

    جمعے کو وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جن 354 یرغمالیوں کو بازیاب کروا گیا ان میں سے بھی 37 زخمی ہیں۔

    ہلاک شدگان کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ مرنے والوں میں 18 فوجیوں کے علاوہ ریلوے پولیس کے تین اہلکار اور پانچ عام شہری شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ چار سکیورٹی اہلکارشدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہوئے لیکن ان کا تعلق ٹرین کے مسافروں سے نہیں تھا۔

    خیال رہے کہ شدت پسندوں کے خلاف فوج کا آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہلاک ہونے والے مسافروں کی تعداد 21 بتائی گئی تھی اور یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ ان میں سے کتنے فوج کے اہلکار ہیں۔

    ابتدائی طور ہر کل مسافروں کی تعداد 440 بتائی گئی تھی۔

    ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شدت پسند کسی بھی یرغمالی کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔

  8. جعفر ایکسپریس حملہ: افغانستان مرکزی سپانسر ہے، اطلاعات کی جنگ کی قیادت انڈین میڈیا کر رہا تھا، آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ جفعر ایکسپریس پر حملے کے بعد انڈین میڈیا ویڈیوز کے ذریعے پروپیگنڈا کر رہا تھا۔

    فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فوج کی جانب سے اس دشوار گزار علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی گئی تاہم انھوں نے الزام عائد کیا کہ اس دوران ان دہشت گروں کی حمایت میں اطلاعات کی جنگ چل پڑی جس کی قیادت انڈین میڈیا کر رہا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈین میڈیا جعلی ویڈیوز کے ذریعے پروپیگنڈا کر رہا تھا۔

    خیال رہے کہ 11 مارچ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی، بی ایل اے نے بلوچستان کے علاقے بولان میں مسافر ٹرین کو یرغمال بنانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس بریفنگ کے دوران انڈین میڈیا کے مختلف کلپس بھی چلائے۔

    پاکستانی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی اور اس سے پہلے کی کارروائیوں کا مین سپانسر پڑوسی ملک افغانستان ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو ہر قسم کی جگہ مل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی جدید اسلحہ پاکستان میں کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

  9. پاکستان میں سونے کی قیمت 4700 روپے اضافے کے بعد 314000 روپے فی تولہ کی بلند ترین سطح پر

    پاکستان میں جمعے کے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کاروبار کے اختتام پر ایک تولہ سونے کی قیمت 4700 روپے اضافے کے بعد 314000 روپے کی سطح پر بند ہوئی جو ملک میں ایک تولہ سونے کی بلند ترین سطح ہے۔

    خیال رہے کہ مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، گذشتہ مہینے کے پہلے ہفتے میں سونے کی قیمت نے تین لاکھ فی تولہ کی سطح عبور کی تھی اور اس کے بعد بھی اس کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے جو آج کاروبار کے اختتام پر 314000 روپے فی تولہ تک پہنچ گئی۔

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی بڑھتی ہوئی قیمت کو قرار دیا جاتا ہے۔

    بین الاقوامی مارکیٹ میں اس وقت سونے کی قیمت 2988 ڈالر فی اونس ہے اور سونے کے کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اگلے چند مہینوں میں اس کی قیمت 3100 ڈالر فی اونس تک پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    امریکہ کے سنٹرل بینک کی جانب سے سونے کی زیادہ خریداری اس کی عالمی منڈی میں قیمت میں اضافے کی وجہ بنی ہے۔

    کراچی میں سونے کے تاجر عبداللہ چاند نے اس سلسلے میں بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافے کی ایک ہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی قیمت بڑھ رہی ہے اور اس کا اثر پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافے کی صورت میں ہو رہا ہے چاند نے بتایا کہ عالمی سطح پر امریکی سنٹرل بینک کی جانب سب سے زیادہ خریداری ہو رہی ہے۔

    انھوں نے کہا دنیا کہ غیر یقینی جیو پولیٹیکل حالات سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ بنے ہیں کیونکہ ایسے غیر یقینی حالات میں سونے میں سرمایہ کاری ہوتی ہے جو سب سے زیادہ محفوظ سرمایہ کاری سمجھیں جاتی ہے۔ انھوں نے کہا امریکہ کے سنٹرل بینک کی جانب سے بھی سونے کے ذخائر میں اضافے کے لیے خریداری کی جارہی ہ

  10. جنوبی وزیرستان کی مسجد میں دھماکہ، جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی امیر سمیت چار افراد زخمی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

    جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے اعظم ورسک میں مولانا عبدالعزیز مسجد میں بم دھماکہ ہوا ہے۔

    پولیس کے مطابق اس دھماکے میں جمعیت علمائے اسلام جنوبی وزیرستان لوئر کے ضلعی امیر مولانا عبداللہ ندیم سمیت چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں ہیں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا منتقل کیا جا رہا ہے۔

    ضلعی پولیس افسر آصف بہادر نے بتایا کہ بظاہر ایک دیسی ساختہ بم ممبر کے قریب نصب کیا گیا تھا اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس حملے میں مولانا عبد اللہ ندیم کو نشانہ بنانا تھا۔

  11. بنگلہ دیش میں ریپ سے متاثرہ آٹھ سالہ بچی کی ہلاکت کے بعد شدید مظاہرے, گوین بٹلر، بی بی سی نیوز، بنگلہ دیش

    بنگلہ دیش میں ریپ کا نشانہ بننے والی آٹھ سالہ بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی جس کے بعد ملک بھر میں شدید مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔

    ریپ کی جانے والی بچی کی ماں کی طرف سے درج کرائے گئے ایک مقدمے کے مطابق پانچ مارچ کی رات گئے ماگورا شہر میں بچی کا ریپ اس وقت ہوا جب وہ اپنی بڑی بہن کے گھر میں موجود تھی۔

    مقدمے کے اندراج کے بعد بچی کی بڑی بہن کے 18 سالہ شوہر کو اس کے والدین اور بھائی سمیت گرفتار کر کے ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔

    جمعرات کی رات بچی کی موت کی خبر سنتے ہی مشتعل ہجوم نے اس مکان پر دھاوا بول دیا جہاں یہ واقعہ مبینہ طور پر پیش آیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے مکان کو آگ لگا دی۔

    حکومت کے ایک محکمے کے بیان کے مطابق لڑکی جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق ہارٹ اٹیک کے بعد ہلاک ہو گئی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ڈاکٹرز نے دو بار اس کی حالت کو مستحکم کرنے کی کامیاب کوشش کی تاہم تیسی بار دل دوبارہ اپنا کام شروع ہونے میں ناکام رہا۔

    مقامی میڈیا کے مطابق لڑکی کی موت کے بعد اس کی والدہ نے کہا کہ ’میں نے سوچا کہ میری بیٹی بچ جائے گی اور اگر وہ مزید زندہ رہتی تو میں اسے دوبارہ کبھی اکیلے نہ جانے دیتی۔‘

    لڑکی کی لاش کو فوج کے ہیلی کاپٹر کے زریعے واپس ماگورا لے جایا گیا جہاں علاقہ مکین واقعے کے خلاف شدید احتجاج کر رہے تھے۔

    یاد رہے کہ یہ آٹھ مارچ کو ڈھاکہ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں تشویشناک حالت میں بچی کو داخل کیا گیا تھا جہاں اس نے تشویشناک حالت میں چھ دن گزارے۔

  12. آئی ایم ایف کی پاکستان میں ٹیکس وصولی کے ہدف میں کمی پر رضامندی, تنویر ملک، صحافی

    انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان جاری سات ارب ڈالر قرضہ پروگرام کے پہلے نظر ثانی جائزے لے لیے جاری مذاکرات میں عالمی ادارے کی جانب سے پاکستان کے موجودہ مالی سال میں ٹیکس وصولی کے ٹارگٹ میں کمی پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔

    عالمی ادارے اور پاکستان کے حکام کے درمیان جاری مذاکرات میں قرض پروگرام میں ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط جاری کرنے کے لیے پاکستان میں ٹیکس وصولیوں زیر بحث ہیں ۔ پاکستان میں موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں ٹیکس وصولی کے ہدف سے چھ سو ارب روپے کم جمع کیے گئے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف رنونیو کی جانب سے آئی ایم ایف کو تجویز پیش کی گئی ہے۔

    ملک میں موجودہ مالی سال میں ٹیکس وصولی کا ہدف 12.97 ٹریلین سے 12.35 ٹریلین روپے کیا جائے یعنی اس میں چھ سو ارب روپے کی کمی کی جائے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام کی تجویز پر میکرواکنامک اشاریوں اور مالیاتی فریم ورک میں نظر ثانی پر رضامندی ظاہر کی ہے جس میں ایف بی آر کے ٹیکس وصولی ہدف میں چھ سو ارب روپے کمی کی تجویز بھی شامل ہے۔

    مذاکرات میں موجودہ مالی سال میں جی ڈی پی گروتھ ریٹ کو 3.6 فیصد کے ہدف سے 2.25 فیصد تک لانے پر آئی ایم ایف نے رضامندی ظاہر کی ہے۔

  13. انڈیا کی پاکستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں کی مدد سمیت نسلی تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید, شکیل اختر، بی بی سی نیوز،دہلی

    انڈیا کی حکومت نے پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ پاکستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں کے ذریعے ٹرین ہائی جیکنگ کے تازہ واقعات سمیت نسلی تشدد کے واقعات میں ملوث ہے۔

    انڈیا نے یہ بیان پاکستان کی جانب سے یہ اشارہ کیے جانے کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انڈیا بلوچستان میں تخریب کاری کی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم پاکستان کی جانب سے لگائے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ پوری دنیا کو پتا ہے کہ عالمی دہشت گردی کا مرکز کہاں ہے۔ پاکستان کو اپنے اندرونی مسائل اور ناکامیوں کے لیے دوسروں پر الزام تراشی کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ایک بریفنگ میں کہا تھا کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کی سازش غیر ممالک میں تیار کی گئی تھی تاہم انھوں نے براہ راست انڈیا کا نام نہیں لیا تھا۔

    انھوں نے مزید کہا تھا کہ ٹرین پر قبضے کی پوری مدت کے دوران شدت پسند افغانستان میں میں اپنے ہینڈلرز سے مسلسل رابطے میں تھے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت پاکستان نے بلوچ علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں کے لیے انڈیا کو مورد الزام ٹھہرانے کی پالیسی تبدیل کر دی ہے تو ترجمان نے اس کی تردید کی اور کہا ’ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور انڈیا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی اعانت کر رہا ہے۔‘

    ترجمان نے مزید کہا کہ ’میں نے اس ٹرین کے مخصوص واقعے کا ذکر کیا تھا۔ ہمارے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ شدت پسند افغانستان سے کالز کر رہے تھے۔‘

  14. روسی صدر کی جنگ بندی معاہدے کے طریقہ کار پر کڑی تنقید، وہ معاہدہ مسترد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں: زیلنسکی

    روسی صدر ولادیمیرپوتن نے روس یوکرین میں جنگ بندی کے لیے امریکی تجاویز کی حمایت کا عندیہ دینے کے باوجود اس کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کئی سخت شرائط بھی سامنے رکھ دی ہیں۔

    صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس یوکرین میں جنگ بندی کے لیے امریکی تجاویز سے متفق ہے لیکن کسی بھی جنگ بندی کے لیے تنازع کی بنیادی وجوہات سے نمٹنا ہوگا۔

    روسی صدر کا یہ بیان یوکرین کے ساتھ 30 روزہ جنگ بندی کے اس منصوبے کے جواب میں سامنے آیا ہے جس پر یوکرین نے رواں ہفتے کے آغاز میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد اتفاق کیا تھا۔

    دوسری جانب یوکرینی صدرولادیمر زیلنسکی نے پوتن کے ردعمل کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکہ نے روس کے تیل، گیس اور بینکنگ سیکٹر پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    کیا یوکرین جنگ بندی کے دوران اپنی فوجی تیاری کرے گا: روسی صدر پوتن

    جمعرات کو ماسکو میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے جنگ بندی کی تجویز کے بارے میں کہا کہ یہ منصوبہ درست ہے اور ہم اس کی حمایت بھی کرتے ہیں تاہم ایسے خدشات موجود ہیں جن پر ہمیں بات کرنے کی ضرورت ہے۔

    صدر پوتن نے کہا کہ کسی بھی جنگ بندی کے لیے تنازع کی بنیادی وجوہات سے نمٹنا ہوگا تاکہ پائیدار امن قائم ہو سکے۔

    انھوں نے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے اپنے امریکی ساتھیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے انھوں نے صدر ٹرمپ سے رابطے کا عندیہ بھی دیا۔

    صدر پوتن نے مزید کہا کہ ’یہ یوکرین کے لیے اچھا ہو گا کہ وہ 30 دن کی جنگ بندی پر عمل کرے۔ ہم اس کے حق میں ہیں لیکن میں کئی خامیاں موجود ہیں۔

    پوتن نے کہا کہ تنازعے والے علاقوں میں سے ایک روس کا مغربی کرسک علاقہ ہے جہاں یوکرین نے گزشتہ اگست میں فوجی مداخلت کر کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ کرسک مکمل طور پر روس کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کرسک میں یوکرینی باشندوں کے لیے دو آپشن ہیں یا تو ہتھیار ڈال دیں یا مر جائیں۔‘

    صدر پوتن نے جنگ بندی کے مؤثر ہونے پر کئی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ 30 دن کیسے گزارے جائیں گے؟ کیا یوکرین اس دوران اپنی فوجی تیاری کرے گا؟یا صرف امن کے لیے وقت نکالا جائے گا؟

    ان کے مطابق سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی نگرانی کیسے کی جائے گی اور کون لڑائی روکنے کا حکم دے گا؟

    دوسری جانب صدر زیلنسکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پوتن اس جنگ بندی سے براہ راست انکار نہیں کر رہے لیکن عملی طور پر وہ اسے مسترد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    زیلنسکی کے مطابق صدر پوتن نے اتنی زیادہ شرائط رکھ دی ہیں کہ ’حقیقت میں کوئی معاہدہ ممکن نہیں ہوگا۔

    روسی حکام کو توقع ہے کہ پوتن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیووٹ کوف کے ساتھ جنگ ​​بندی پر بات کریں گے، جو جمعرات کو ماسکو گئے تھے تاہم یہ واصح نہ ہو سکا کہ یہ ملاقات واقعی ہوئی ہے یا نہیں۔

    جمعہ کے روز روس کے سرکاری میڈیا نے فضائی ٹریفک کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کے حوالے سے بتایا کہ یہ طیارہ جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ سٹیووٹ کوف کو لے کر ماسکو سے روانہ ہوا تھا۔

    تاہم ماسکو اور واشنگٹن نے اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    جمعرات کی رات گئے روس اور یوکرین دونوں نے دشمن کی جانب سے نئے ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    یوکرین نے کہا کہ شمال مشرقی شہر خارکیف میں روسی حملے میں بچوں سمیت سات افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ روس نے جنوبی شہر تواپسے میں ڈرون حملے کے باعث تیل کی ایک تنصیب میں آگ لگنے کا دعوی کیا ہے۔

  15. امریکن ائیرلائن کے طیارے میں آگ لگنے کے بعد مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا، بوئنگ طیارے کے پروں پر مسافر سامان اٹھائے دیکھے گئے, سیم سیونی، عائشہ علی اور ٹی مائیکل مرفی، بی بی سی نیوز

    امریکن ایئرلائنز کے ایک طیارے میں آگ بھڑک اٹھنے کے واقعے کے بعد کولوراڈو کے ہوائی اڈے پر ہنگامی طور پر مسافروں کو نکالا گیا ہے۔

    امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف ایف اے) کے مطابق یہ پرواز کولوراڈو سپرنگز سے ٹیکساس میں ڈیلاس فورٹ ورتھ انٹرنیشنل ایرپورٹ جا رہی تھی۔ اس دوران مقامی وقت کےمطابق شام 5:15 بجے عملے نے انجن میں خرابی کی اطلاع دی جس کے بعد طیارے کا رُخ ڈینور کی طرف موڑ دیا گیا۔

    ایف اے اے کے مطابق لینڈنگ کے بعد طیارے میں رن وے پر ٹیکسی کرتے وقت آگ لگ گئی جس کے بعد مسافروں کا فوری کامیاب ریسکیوآپریشن کیا گیا۔

    دوسری جانب امریکن ایئرلائنز کے مطابق طیارے میں 172 مسافر اور عملے کے چھ افراد سوار تھے جنھیں بحفاظت نکال لیا گیا۔ کمپنی نے بتایا کہ یہ بوئنگ 737-800 ماڈل کا طیارہ تھا اور اس میں انجن سے متعلق ایک مسئلہ پیش آیا تھا۔

    طیارے میں آگ بھڑکنے کے باعث دھواں آسمان میں بلند ہونے لگا تاہم اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    ریسکیو آپریشن کے دوران کی ویڈیوز میں میں بوئنگ طیارے کے پروں پر بیٹھے مسافروں کو دیکھا گیا جن میں سے کچھ اپنے سامان کو تھامے موجود تھے جبکہ طیارے کے نچلے حصے میں آگ لگی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے۔

    ایف ایف اے کے مطابق مسافروں کو جہاز سے ربر کی پھسلن والی سلائیڈز کے ذریعے بحفاظت نیچے اتارا گیا۔

    ایئرپورٹ کے ترجمان مائیکل کونپاسیک کے مطابق ہوائی اڈے کے مختلف دروازوں سے دھواں اور آگ دیکھی جا سکتی تھی تاہم آگ پر قابو پا لیا گیا اور دیگر پروازوں کے شیڈول میں تاخیر نہیں ہوئی۔

    ایئرپورٹ کے اندر موجود کچھ افراد نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز پوسٹ کیں جن میں طیارے کے مسافروں کو پروں کے کنارے کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ سیاہ دھواں فضا میں بلند ہو رہا تھا۔

    ویڈیوز میں زمینی سٹاف کو سیڑھیاں لے کر پروں کی طرف دوڑتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

    ایک اور ویڈیو میں طیارے کے دائیں انجن کے نیچے شعلے بھڑکتے ہوئے دکھائی دیے جبکہ پیچھے کے دروازے سے ایک ایمرجنسی سلائیڈ کھلتی ہوئی نظر آئی۔

    یہ واقعہ شمالی امریکہ میں حالیہ ہائی پروفائل فضائی حادثات کی ایک کڑی کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے ہوابازی کی حفاظت سے متعلق خدشات کو جنم دیا ہے۔

    اس سے قبل واشنگٹن ڈی سی میں ایک فضائی حادثے میں 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے جب امریکن ایئرلائنز کا ایک جیٹ امریکی فوج کے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر سے فضا میں ٹکرایا تھا۔

    امریکی دارالحکومت میں ہونے والے اس حادثے کے بعد ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی کمی اور ان کے کام کے بوجھ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حکومتی اخراجات میں کمی کے تحت ایف اے اے کے سینکڑوں زیر تربیت ملازمین کو بھی فارغ کر دیا ہے۔ یہ برطرفیاں ڈی سی کے مہلک حادثے کے چند ہفتوں بعد ہوئیں تھیں۔

  16. جعفر ایکسپریس حملہ: افغانستان کی جانب سے پاکستانی الزامات کی تردید ’پاکستان غیر ذمہ دارانہ بیانات کے بجائے اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دے‘

    افغانستان نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں شدت پسندوں کی جانب سے جعفر ایکسپریس پر کیے جانے والے حملے سے کسی بھی طرح کا تعلق ہونے سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان غیر ذمہ دارانہ بیانات کے بجائے اپنی سلامتی اور اپنے اندرونی مسائل کے حل پر توجہ دے۔‘

    افغانستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہم پاکستانی فوج کے ترجمان کی طرف سے صوبہ بلوچستان میں مسافر ٹرین پر حملے کو افغانستان سے جوڑنے کے بے بنیاد الزامات کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہیں اور پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ تبصروں کے بجائے اپنی سلامتی اور اندرونی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔‘

    یاد رہے کہ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملوں کا آپریشن مکمل ہونے پر پاکستان کی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے اپنی پریس ریلیز میں دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں افغانستان سے کام کرنے والے دہشت گرد گروہ ملوث ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ’انٹیلیجنس رپورٹس نے واضح طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ افغانستان سے کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں نے کیا تھا اور جو مسلسل اس پورے واقعے کے دوران دہشت گردوں کے ساتھ براہ راست رابطے میں بھی تھے۔‘

    اس پریس ریلیز میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ ’پاکستان توقع کرتا ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی اور پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔‘

    اب اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچ حزب اختلاف کے کسی رکن کی افغانستان میں موجودگی نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کبھی امارت اسلامیہ (افغانستان) سے کوئی تعلق رہا ہے اور نہ ہی ہے۔

    افغانستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس واقعے میں بے گناہوں کی جانوں کے ضیاع پر افسردہ ہیں۔ سیاسی مقاصد کے لیے شہریوں کی جان کی قربانی دینا غیر منصفانہ عمل ہے۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں بھی کہا تھا کہ جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملوں میں ملوث شدت پسندوں کے افغانستان میں ٹیلی فون کالز کرنے کے ثبوت ملے ہیں اور اس واقعے کے حوالے سے مذید شواہد اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ 11 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر کُل 440 مسافر سوار تھے اور نو بوگیوں پر مشتمل اس ریل گاڑی پر منگل کے روز بلوچستان کے درۂ بولان میں ڈھاڈر کے علاقے میں حملہ ہوا تھا۔

    پاکستانی فوج نے جعفر ایکپسریس حملے کے بعد کلیئرنس آپریشن میں 300 مغیوں کو بازیاب کروانے اور موقع پر موجود 33 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

  17. جنڈولہ میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ: فورسز کا دس شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    فوج کے محکمہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا دعویٰ ہے کہ شدت پسندوں نے جنڈولہ میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں جوابی کارروائی میں فورسز نے دس شدت پسندوں جن میں خودکش حملہ آور بھی شامل تھے کو ہلاک کر دیا۔

    جنڈولہ ضلع جنوبی وزیرستان اور ضلع ٹانک کا درمیانی علاقہ ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے چیک پوسٹ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تاہم وہاں موجود سکیورٹی فورسز نے تمام دس شدت پسندوں اور خودکش حملہ آور کو نشانہ بناتے ہوئے ہلاک کر دیا۔

  18. بلوچستان کے ضلع کچھی میں مسلح افراد نے سات مزدوروں کو اغوا کر لیا

    بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے شوران سے نامعلوم مسلح افراد نے سات مزدوروں کو اغوا کرلیا ہے۔

    مقامی لیویز فورس کے ایس ایچ او عبدالحئی نے بی بی سی کو بتایا کہ مغوی مزدور شوران کے مقام پر ایک ڈیم پر کام کررہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ شب وہاں نامعلوم امسلح افراد آئے اور وہاں ایک ڈمپر گاڑی کو نذرآتش کرنے کے علاوہ کھدائی کرنے والی مشین سمیت دو گاڑیوں پر فائرنگ کرکے ان کو نقصان پہنچایا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اغوا کار فرار ہوتے ہوئے ڈیم پر کام کرنے والے سات مزدوروں کو اغوا کر کے لے گئے۔

    لیویز فورس کے سینِئر اہلکار نے بتایا کہ اغوا کیے لیے جانے والے مزدور مقامی ہیں اور ان کا تعلق شوران سے ہے۔

  19. وزیراعظم اور آرمی چیف کوئٹہ میں، شہباز شریف کا بلوچستان کے مسئلے پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں امن وامان کی صورتحال پر اعلیٰ سطح کے اجلاس میں صوبے کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ختم نہ ہوئی تو ترقی کا سفر رک جائے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف اپنے وزرا اور فوج کے سربراہ سمیت جمعرات کے روز کوئٹہ میں موجود رہے۔

    دورہ کوئٹہ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ہمراہ ہسپتال میں متاثرین کی عیادت کی۔ اس دورے کے دوران وزیراعظم کو امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر مزید کہا کہ ’ہمیں ماضی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے دہشت گردی کے ناسور کو ختم نہ کیا تو پھر پاکستان کے وجود کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    تاہم انھوں نے بلوچستان میں موجود لیویز فورسز کو دستیاب ناکافی سہولیات پر بات کی ۔

    ان کا کہنا تھا ’پورے ملک کا اتنا بڑا صوبہ اور 33 ہزا لیویز جس کے پاس سازو سامان ہی نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسے کسی دوسرے حادثے کے متحمل نہیں ہو سکتے، ہم سب کو اس میں مل کر حصہ ڈالنا ہوگا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان میں اور سیف سٹی بننے چاہیے تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ افواج کے ساتھ مل کر بیٹھیں گے اور بات کریں گے کہ کیا کیا چیلنجز ہیں، میری نظر میں ہمیں مکمل اتفاق ہونا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے اس کا فقدان ہے، چھ مہینے پہلے جب کے پی میں زیادہ واقعات ہوئے تو ہماری کابینہ نے ایک پلان دیا تھا لیکن اس کی بھرپور مخالفت ہوئی۔‘

    ’جب تک کے پی اور بلوچستان میں مکمل طور پر دہشت گردی ختم نہیں ہو گی پاکستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ ’بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی جب تک باقی صوبوں کے ہم پلہ نہیں ہوگی، میں بلاخوف تردید یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ پاکستان کی ترقی نہیں ہوگی، پاکستان کی خوشحالی نہیں ہوگی۔‘

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دوبارہ اس ناسور نے سر کیوں اٹھایا؟

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس (دہشت گردی) کا سر کچلا جا چکا تھا، یہ وہ سوال ہے جو کئی بار اٹھا ہے، کسی پوائنٹ اسکورنگ میں جائے بغیر، اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں کہ جو طالبان سے اپنا دل کا رشتہ جوڑتے اور بتانے میں تھکتے نہیں، انھوں نے ہزاروں طالبان کو دوبارہ چھوڑا۔‘

    وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر سانحہ جعفر ایکسپریس کے بعد کی گئی تنقید پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’بدقسمتی سے اس واقعہ میں جس طرح کی گفتگو کی گئی وہ زبان پر نہیں لائی جاسکتی۔‘

    وزیراعظم نے انڈیا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مشرقی دشمن زہر اگل رہا ہے۔

    وزیراعظم نے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈکا کریڈٹ آصف علی زرداری ، محمد نواز شریف سمیت تمام قیادت کو جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کےلیے خیبرپختونخوا کو 600 ارب روپے دیے گئے، دیکھنا ہوگا کہ خطیر رقم کہاں خرچ ہوئی؟

  20. جعفر ایکسپریس حملہ: شدت پسندوں کے افغانستان میں ٹیلی فون کالیں کرنے کے ثبوت ملے ہیں، دفتر خارجہ

    پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملوں میں ملوث شدت پسندوں کے افغانستان میں ٹیلی فون کالیں کرنے کے ثبوت ملے ہیں۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے ابھی اس واقعہ کے حوالے سے مذید شواہد اکھٹے کیے جارہے ہیں، ابھی حکومت کا فوکس ریسکیو آپریشن مکمل کرنے پر ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ گذشتہ کچھ عرصے کے د وران پاکستان میں ہونے والے شدت پسندی کے واقعات سے متعلق تفصیلات افغانستان کے ساتھ شیئر کرتے رہے ہیں۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ماضی میں پاکستان میں جب بھی کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا تھا تو دفتر خارجہ اور پاکستان کے سکیورٹی ادارے انڈین خفیہ ایجنسی ’را‘ پر الزام عائد کرتے رہے ہیں جبکہ جعفر ایکسپریس حملے کے واقعہ کے حوالے سے بی ایل اے اور افغانستان پر عائد کیے جارہے ہیں تو کیا پہ پالیسی میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے؟

    اس پر ترجمان کا کہنا تھا کہ انڈیا پاکستان میں دہشت گردی کو سپانسر کرتا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان مخالف قوتین علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی اور دوست ممالک کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے معاملے پر تعاون موجود ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے کیونکہ دونوں ملکوں کی ثقافت اور رسم و رواج تقریباً ایک جیسے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان طورخم سرحد کو کھلا رکھنا چاہتا ہے اور یہ پروپیگنڈا ہے کہ پاکستان طورخم سرحد کو کھلنے نہیں دے رہا جبکہ افغانستان کی جانب سے پاکستانی سرحد کے اندر چوکی بنانے کی کوشیش کی جا رہی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت افغان حکام کو اجازت نہیں دے گی کہ وہ کوئی بھی تعمیرات کریں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان پر ہماری بنیادی ترجیح دوستانہ و قریبی تعلقات کا فروغ ہے۔