اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کی جعفر ایکسپریس پر شدت پسندوں کے حملے کی مذمت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر شدت پسندوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ایک پریس بیان کے ذریعے سلامتی کونسل کے ارکان نے متاثرہ خاندانوں اور پاکستان کی حکومت اور عوام سے اپنی گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
انھوں نے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ جمعہ کو ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ارکان نے کہا کہ ہر قسم کی دہشت گردی بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
ارکان نے دہشت گردی کی ان قابل مذمت کارروائیوں کے مجرموں، منتظمین، مالی معاونت کرنے والوں کا محاسبہ کرنے اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انھوں نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اس سلسلے میں حکومت پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔
بیان میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی، محرکات سے قطع نظر، جہاں بھی، جب بھی اور جس نے بھی اس کا ارتکاب کیا ہو، مجرمانہ اور بلاجواز ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تمام ریاستوں کے لیے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون، بین الاقوامی پناہ گزینوں کے قانون اور بین الاقوامی انسانی ہمدردی قانون سمیت اقوام متحدہ کے چارٹر اور دیگر ذمہ داریوں کے مطابق بین الاقوامی قانون کے تحت دہشت گردی کی کارروائیوں سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات سے ہر طرح سے نبردآزما ہونے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ جمعے کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران 354 مسافروں کو ریسکیو کیا گیا، جبکہ اس حملے میں 18 فوجی اور ایف سی اہلکاروں سمیت 26 افراد ہلاک ہوئے۔