امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے بعد اب بحیرہ ہند میں واقع ایک جزیرے ’ڈیاگو گارسیا‘ کا ذکر چھیڑا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جزیرے کا ذکر کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر کو بھی مخاطب کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کی جانب سے چاگوس جزائر ماریشس کے حوالے کرنے اور اہم فوجی اڈہ واپس لیز پر لینے کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ڈیگو گارشیا کو نہ چھوڑا جائے۔‘
صدر ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’یہ زمین برطانیہ کے ہاتھ سے نہیں جانی چاہیے اور اگر ایسا ہوا تو یہ ہمارے عظیم اتحادی کے لیے خطرناک موڑ ثابت ہوگا۔‘
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب منگل کے روز واشنگٹن نے باضابطہ طور پر لندن کے اس منصوبے کی حمایت کی تھی جس کے تحت برطانوی بحرِ ہند کے علاقے (برٹش انڈین اوشین ٹیریٹری) کی خودمختاری ماریشس کے حوالے کی جانی ہے۔
ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے برطانوی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چاگوس جزائر سے متعلق معاہدہ ’برطانیہ اور ہمارے اہم اتحادیوں کی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے اور برطانوی عوام کو محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔‘
برطانوی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم جس معاہدے تک پہنچے ہیں وہ اس اہم فوجی اڈے کے طویل المدتی مستقبل کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔‘
وزیراعظم سر کیئر سٹارمر اس سے قبل بھی زور دے چکے ہیں کہ یہ معاہدہ فوجی اڈے کی مسلسل فعال رہنے اور تحفظ کے لیے ناگزیر ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ ماریشس ماضی میں جزائر پر برطانوی خودمختاری کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتا رہا ہے۔
ڈیگو گارشیا اس جزیرہ نما سلسلے کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور اسے برطانیہ اور امریکا کی مسلح افواج مشترکہ فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
گزشتہ سال مئی میں اعلان کیے گئے معاہدے کے تحت برطانیہ ڈیگو گارشیا کو 99 برس کی مدت کے لیے دوبارہ لیز پر حاصل کرے گا۔
تاہم امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ماریشس کے درمیان آئندہ ہفتے مذاکرات متوقع ہیں۔
یہ جزائر سنہ 1814 سے برطانوی کنٹرول میں ہیں اور حکومت نے انہیں 30 لاکھ پاؤنڈ میں خریدا تھا، جس کے بعد 1965 میں انہیں باقاعدہ طور پر برطانوی سمندر پار علاقہ (اوورسیز ٹیریٹری) قرار دیا گیا۔
امریکہ ایران کشیدگی اور جزیرہ ڈیاگو گارسیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے انھیں بتایا ہے کہ ممالک کے معاملے میں لیز کا نظام موزوں نہیں ہوتا۔
ٹرمپ نے لکھا کہ ’میں برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر سٹارمر سے کہتا رہا ہوں کہ ممالک کے معاملے میں لیز کوئی اچھی چیز نہیں اور وہ 100 سالہ لیز کے معاہدے میں داخل ہو کر بڑی غلطی کر رہے ہیں۔‘
ایران کے متنازع جوہری پروگرام سے متعلق جاری امریکا ایران مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’اگر ایران نے معاہدہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو ممکن ہے کہ امریکا کو ایران پر ممکنہ حملے کے لیے ڈیگو گارشیا کا استعمال کرنا پڑے۔‘
جزیرہ ڈیاگو گارسیا اتنا اہم کیوں ہے؟
ڈیاگو گارسیا بحیرہ ہند میں واقع ایک جزیرہ ہے جہاں ہر طرف سبزہ، سفید ریت سے بھرپور خوبصورت ساحل اور چاروں طرف میلوں تک نیلا پانی پھیلا ہوا ہے۔
لیکن یہ کوئی سیاحتی مقام نہیں، بلکہ یہاں عام شہریوں کا داخلہ ممنوع ہے کیونکہ یہ وہ مقام ہے جس کے بارے میں دہائیوں سے یہ افواہیں پھیلتی رہی ہیں کہ یہاں امریکہ اور برطانیہ کا ایک خفیہ فوجی اڈہ موجود ہے۔
یہ جزیرہ برطانیہ کے زیرِانتظام ہے اور اس کی ملکیت پر ماریشس اور برطانیہ کے درمیان تنازع بھی رہا ہے۔ اس تنازع کو حل کرنے کے لیے طویل عرصہ سے مذاکرات جاری ہیں۔
ڈیاگو گارسیا چاگوس جزائر یا ’برٹش انڈین اوشین ٹیریٹری‘ کے 60 جزائر میں سے ایک ہے جو کہ برطانیہ نے 1965 میں ماریشس سے جُدا کیے تھے۔ یہ جزیرہ مشرقی افریقہ اور انڈونیشیا کے درمیان واقع ہے۔