آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کراچی میں چینی شہریوں پر حملے کی مذمت کرتے ہیں: ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان میں چینی سفارتخانے اور قونصلیٹ جنرل کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ چھ اکتوبر کو رات 11 بجے کے قریب پورٹ قاسم اتھارٹی الیکٹرک پاور کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ سے چینی عملے کو لانے والے ایک قافلے پر کیے گئے حملے میں دو چینی شہری ہلاک، ایک زخمی ہوا ہے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔

خلاصہ

  • صوبائی دارالحکومت کراچی میں چینی شہریوں کو لے جانے والے کانوائے پر ہونے پر ایک حملے میں دو چینی شہری ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا ہے، اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے
  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور لگ بھگ 24 گھنٹے ’لاپتہ‘ رہنے کے بعد پشاور پہنچ گئے ہیں جہاں اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ادارے اور سیاسی جماعتیں اپنی اصلاح کر لیں
  • اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ انھوں نے گذشتہ دو روز کے دوران 120 مبینہ افغان شہریوں سمیت تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے 878 مظاہرین کو گرفتار کیا ہے جبکہ انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت وفاقی دارالحکومت کے مختلف تھانوں میں مظاہرین کے خلاف 10 مقدمات درج کیے ہیں
  • وفاقی وزارتِ داخلہ نے پشتون تحفظ موومنٹ کو ملک میں امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس جماعت پر پابندی عائد کر دی ہے

لائیو کوریج

  1. اسلام آباد اور پنجاب میں تعینات فوجی دستوں کے پاس کیا اختیارات ہیں؟

    پاکستان کی وفاقی حکومت کے بعد پنجاب کی صوبائی حکومت کی جانب سے بھی آرٹیکل 245 کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے پاکستانی فوج کو طلب کیا گیا ہے۔

    دونوں حکومتوں کی جانب سے اس غیر معمولی اقدام کی وجہ رواں ماہ کے وسط میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے لیے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا بتائی گئی ہے۔

    تاہم یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اسلام آباد اور لاہور میں احتجاج کر رہی ہے اور پولیس کی جانب سے سابق وزیرِ اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت کی بہنوں سمیت متعدد کارکنان کو گرفتار کیے جانا کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

  2. بی بی سی کی ٹیم نے پی ٹی آئی احتجاج کے دوران اسلام آباد میں کیا دیکھا؟

    ’پریشان نہ ہوں، انھیں محاصرہ نہیں توڑنے دیں گے۔‘ پاکستانی فوج کے ایک افسر ریڈ زون میں سنیچر کی دوپہر اس وقت اپنے ہی ایک سینیئر افسر کو یہ بتا رہے تھے جب یہاں داخل ہونے کا واحد کھلا راستہ بھی بند کر دیا گیا۔

    ہم اپنی ٹیم کے ہمراہ اس وقت ریڈ زون میں موجود تھے اور پاکستانی فوج کے دستے اب منسٹر اور ججز کالونی سے باہر نکل کر کنٹرول سنبھال رہے تھے۔ اس سے تقریباً دس منٹ پہلے ہم پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ایک پولیس اہلکار کے پاس موجود تھے جب انھیں وائرلیس پر اطلاع دی گئی کہ ’پاکستان تحریک انصاف کا چالیس سے پچاس گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ مارگلہ روڈ پہنچ رہا ہے۔ ‘

    یہ سنتے ہی پولیس اہلکار نے ہمیں کہا کہ ’آپ لوگ جلدی سے مارگلہ روڈ کی طرف جائیں، وہیں مظاہرین آ رہے ہیں اور وہ راستہ بند کر دیا جائے گا‘۔

    اور اس سے پہلے کہ ہم وہاں پہنچتے، ریڈ زون کا یہ گیٹ بند کر دیا گیا۔

  3. سنیچر کو پی ٹی آئی کے اسلام آباد اور لاہور کے احتجاج کے دوران کیا ہوتا رہا؟

    شیلنگ، پتھراؤ، گرفتاریاں، پراسرار مبینہ گمشدگی اور دعوے۔ پاکستان میں سنیچر پانچ اکتوبر کا خلاصہ ان الفاظ میں کیا جا سکتا ہے۔

    گذشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان کے درمیان وقتاً فوقتاً تصادم دیکھنے کو ملتا رہا۔

    آئیے آپ کو گذشتہ روز کی چند اہم خبروں کے بارے میں بتاتے ہیں، جن میں سے سب سے زیادہ ڈرامائی وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی اچانک پی ٹی آئی کے مظاہرے سے روانگی اور پھر مبینہ طور اسلام آباد میں موجود خیبرپختونخوا ہاؤس سے گمشدگی کا دعویٰ ہے۔ تاحال یہ معلوم نہیں ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کہاں ہیں۔

    • وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کو مبینہ طور پر اسلام آباد میں حبس بے جا میں رکھے جانے پر خیبرپختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس آج دن دو بجے طلب کر لیا گیا ہے۔
    • پاکستان تحریکِ انصاف نے سنیچر کی شب ایک بیان میں کہا کہ جماعت کی پولیٹیکل کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی غیرموجودگی میں بھی احتجاج جاری رہے گا۔
    • وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے بارے میں دعویٰ کیا کہ ’اسلام آباد میں پابندی کے باوجود احتجاج کرنے والے 564 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں خیبرپختونخوا پولیس کے 11 اہلکار بھی شامل ہیں۔
    • اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلیو ایریا میں تاجر اسوسی ایشن کے نمائندے کی جانب سے دائر پیٹیشن پر جاری حکمنامے میں کہا کہ انتظامیہ یہ یقینی بنائے کہ وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی غیرقانونی احتجاج کے سبب شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران امن کو نقصان نہ پہنچے۔
    • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پی ٹی آئی کے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے دوران پی ایم جی چوک پر پتھر لگنے سے ایک پولیس اہلکار شدید زخمی ہوا جبکہ متعدد گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔
    • پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے احتجاج ’اسلام آباد پر ایک دشمن قوت کا حملہ‘ قرار دیا۔
  4. وزیر داخلہ محسن نقوی:’گرفتار افراد میں خیبرپختونخوا پولیس کے 11 اہلکار بھی شامل ہیں، ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو گی‘

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے بارے میں بتایا کہ ’اسلام آباد میں پابندی کے باوجود احتجاج کرنے والے 564 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں خیبرپختونخوا پولیس کے 11 اہلکار بھی شامل ہیں۔

    ڈی چوک اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ’یہ مسلح جتھے تھے، ان کے پاس پاس لانگ رینج ٹیئر گیس تھی، جو انھوں نے استعمال کی۔‘

    ان کی خواہش تھی کہ ہماری طرف سے فائرنگ ہو، جو نہیں ہوئی۔ ہماری ترجیح تھی کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو۔‘

    محسن نقوی نے کہا کہ ’اسلام آباد پر دھاوا بولا گیا۔ ہم اس دھاوے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آرڈر کرنے والے سے لے کر کارکن تک، ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہو گی اور یہ آپ کو اگلے آنے والے دنوں میں نظر آئے گا۔‘

    صحافی کے اس سوال پر کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کہاں ہیں؟ وزیرداخلہ محسن نقوی نے جواب دیا کہ آپ بتا دیں کہ وہ کہاں ہیں۔

  5. خیبرپختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس اتوار کے روز دن دو بجے طلب

    خیبرپختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس اتوار کے روز دن دو بجے طلب کر لیا گیا ہے۔

    صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری نوٹیفیکشن کے مطابق اجلاس میں علی امین گنڈا پور کی مبینہ گمشدگی اور اسلام آباد میں خیبرپختونخوا ہاؤس میں پیش آنے والے مبینہ واقعے پر بحث کی جائے گی۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے سیاسی جماعتوں کا جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اسد قیصر نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ’وزیراعلٰی کو حراست میں لینا پورے خیبرپختونخوا کی توہین ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے وزیراعلٰی خیبرپختونخوا کو فوری رہا کیا جائے۔‘

    خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا جمعے کے روز اسلام آباد کے ڈی چوک پر پی ٹی آئی کے احتجاج میں شامل ہونے کے لیے اپنے قافلے کے ہمراہ صوبے سے نکلے تھے۔ ایک رات مسلسل سفر کرنے کے بعد وہ سنیچر کی شام اسلام آباد کے جناح ایونیو پر نظر آئے اور پھر وہاں سے خیبرپختونخوا ہاؤس چلے گئے۔

    پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو حراست میں لیا گیا ہے تاہم اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

  6. پاکستان کی صورتحال پر بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    ْپاکستان کی صورتحال پر بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید!

    اس لائیو پیج میں ہم آپ کو پاکستان تحریکِ انصاف کے جلسے سے لے کر پاکستان کی عدلیہ، پارلیمان، معیشت، اور سکیورٹی سمیت دیگر اہم امور سے آگاہ رکھیں گے۔