اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی جانب سے سائفر مقدمے میں سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران سوال اٹھایا ہے کہ سائفر کیس درج ہوا تو کئی دیگر افراد نے بھی سائفر ’کاپیز‘ واپس نہیں کی تھیں، پھر صرف ان دونوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطلب یہ ہے کہ باقی لوگوں کا سائفر پاس رکھنا ٹھیک تھا؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر نے جواب دیا باقی شخصیات نے سائفر کاپیز واپس کر دیں تھیں لیکن عمران خان سے متعلق ہمیں معلوم تھا کہ انھوں نے سائفر کاپی گم کر دی ہے۔
انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نے سائفر کاپی دانستہ طور پر اپنے پاس رکھ لی اورکوتاہی برتتے ہوئے واپس نہیں کی۔
انھوں نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ سائفر کی کاپی ملزمان کے پاس پہنچی تھیں یا نہیں؟
چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان اور شاہ محمد قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا اس حد تک تو آپ تسلیم کریں گے کہ سائفر کاپی دانستہ واپس نہ کرنے اور غفلت برتتے ہوئے گم کرنے کے الزامات بیک وقت نہیں لگائے جا سکتے تھے۔
ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا عمران خان کے پاس جب سائفر آیا تو انھوں نے دانستہ طور پر اپنے پاس رکھ لیا، پھر کوتاہی برتتے ہوئے سائفر کاپی واپس نہیں کی۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں عمران خان نے یہ پبلک کر دیا، وہ کر دیا، آخر کیا پبلک کیا ہے؟ سائفر تو عدالتی ریکارڈ پر ہی نہیں ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ سائفر دستاویز موصول کرنے والا کہاں ہے؟ اسے لازمی طور پر معلوم ہونا چاہیے تھا کہ سائفر پاس رکھ لینے کے کیا نتائج ہیں؟ کیونکہ ’ڈاکیومنٹ‘ تو وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے وزیراعظم کو دینا تھا۔
ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا میں اس متعلق بعد میں عدالت کی معاونت کروں گا۔ ان کا کہنا تھا سائفر ایک قابلِ احتساب ’کلاسیفائیڈ‘ دستاویز ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی سفیر اسد مجید نے وزرات خارجہ کو سائفر بھجوایا، جس کی ’ماسٹر کاپی‘ رکھنے والے گواہ نے بتایا کہ ایک کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ تھا۔
سائفر ٹیلی گرام موصول کرنے والے افسر نے بتایا کہ انھوں نے ڈاؤن لوڈ کرکے اس پر نمبر لگایا تھا۔
سائفر کے مصنف نے بیان دیا کہ ایک ملاقات میں بات چیت کو سائفر کی صورت میں لکھا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سپیشل پراسیکوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ایک گواہ یہ کہہ رہا ہے، دوسرا گواہ وہ کہہ رہا ہے، تب مان لیں لیکن ڈاکیومنٹ تو ریکارڈ پر ہی نہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ تو وہی ہو گیا، قتل ہو گیا ڈیڈ باڈی نہیں دکھانی لیکن فلاں یہ کہہ رہا ہے فلاں وہ کہہ رہا ہے۔
پراسیکیوٹر نے کہا سائفر ایک ’کرپٹو فارم‘ میں تھا اور دوسرا اس پر خفیہ دستاویز کا نمبر بھی لگا ہوا تھا۔ سائفر کی موومنٹ سائفر گائیڈ لائن کے مطابق ایک حفاظتی کنٹینر میں ہوتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کنٹینر سے کیا مراد ہے؟
پراسیکیوٹر نے بتایا ڈاکیومنٹ ایک کنٹینر میں بھیجا جاتا جو چمڑے سے بنا ایک تھیلہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’سائفر کاپی اس لیے بھیجی جاتی ہے کہ وہ اس ڈاکیومنٹ کو پڑھ کر ایکشن لینے سے متعلق آگاہ کرے۔ جن کو سائفر کاپیاں واپس کرنے کے لیے کہا گیا تو ان کی جانب سے واپس کردی گئیں۔ وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے سائفر کاپی واپس نہیں آئی۔ ہمیں معلوم تھا کہ سائفر کاپی گم کر دی گئی ہے۔‘
ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ وہ تین سے چار سماعتوں میں دلائل مکمل کر لیں گے، جس کے بعد سماعت 30 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔