آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پی ٹی آئی سیاسی جماعت کا وجود رکھتی ہے تو دوسری جماعت میں شمولیت کیوں اختیار کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت سوموار کے دن سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ نے کی تو سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی اگر اب بھی پولیٹیکل پارٹی کا وجود رکھتی ہے تو انھوں نے دوسری جماعت میں کیوں شمولیت اختیار کی۔

خلاصہ

  • پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے مدین میں توہین قرآن کے الزام میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاح کے قتل کے واقعے پر مقامی پولیس کی جانب سے 23 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
  • پاکستان کی وفاقی حکومت نے اتوار کے روز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
  • وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد شائع ہونے والے اعلامیے کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز نے اتفاق رائے سے دہشتگردی کے خلاف ’عزم استحکام‘ آپریشن شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. عالمی بینک کی پاکستان میں دو منصوبوں کے لیے 53 کروڑ ڈالر سے زائد فنانسنگ کی منظوری, تنویر ملک، صحافی

    عالمی بینک نے پاکستان میں دو منصوبوں کے لیے 53 کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی منظوری دی ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ان منصوبوں میں ’کرائسسز ریزیلینٹ سوشل پروٹیکشن پروگرام‘ کے لیے اضافی فنانسنگ شامل ہے، جس کے ذریعے ملک میں سوشل پروٹیکشن نظام کی معاونت کی جائے گی تاکہ ملک میں غریب اور کمزور طبقات کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    عالمی بینک کی جانب سے جس دوسرے منصوبے کی معاونت کی جائے گی یہ سندھ لائیو سٹاک اور اکوا کلچر سیکٹرز ٹرانسفارمیشن ہے جس کے ذریعے ان شعبوں مین چھوٹے اور درمیانے درجے کے افراد کو سپورٹ کیا جائے گا۔

  2. ’اڈیالہ جیل میں بیٹھے میجر اور کرنل پر کیس کروں گا، ملک کے فائدے کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں گا‘: عمران خان کی گفتگو, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو سرجری کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان اس وقت بہت بڑے بحرانوں سے گزر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کو اصلاحات کی ضرورت ہے اور یہ اصلاحات عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت ہی کرسکتی ہے۔

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ جو ملک قرضے اتارنے کے لیے قرضے لے رہا ہو وہ آگے کیسے بڑھ سکتا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان کے لوگ پاکستان سے باہر سرمایہ کاری کررہے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دھاندلی زدہ الیکشن سے ایسا ہی بجٹ متوقع تھا جیسا پیش کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول بنانا تھا، انھوں نے ہر چیز پر ٹیکس لگا دیا۔

    عمران خان نے کہا کہ سارا کنٹرول ایس آئی ایف سی نے اپنے پاس رکھا ہے۔ ان کے مطابق جون اور جولائی کے بل آئیں گے تو حکومت کو لگ پتہ جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ میں پروفیشنلز اور عوام پر ٹیکسوں کی بارش کردی گئی ہے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ این آر او ٹو کے ذریعے ملک کے ساتھ بڑا فراڈ ہوا ہے۔ ان کے مطابق انھوں نے اپنی چوریاں بچانے کے لیے قانون سازی کروائی۔ انھوں نے کہا کہ شہباز شریف کے پانچ, نواز شریف کے چار، مریم نواز کے دو اور آصف زرداری کے 10 کیس ختم کرائے گئے۔

    عمران خان نے کہا کہ ’وائٹ کالر کرائم‘ کے دروازے کھول کے شہباز شریف لوگوں کو کہتا ہے قربانیاں دینی ہوں گی۔‘ ان کے مطابق ’مریم نواز اپنی تشہیر پر اربوں روپے خرچ کررہی ہیں اور دوسری طرف کہتے ہیں خزانہ خالی ہے۔‘

    ’اڈیالہ جیل میں ڈپٹی سپرینڈنٹ اور اسٹنٹ سپرینڈنٹ کو تبدیل کیا گیا وہ اچھے افسران تھے‘

    عمران خان نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں ڈپٹی سپرینڈنٹ اور اسٹنٹ سپرینڈنٹ کو تبدیل کیا گیا وہ اچھے افسران تھے۔ انھوں نے کہا کہ سپرینڈنٹ جیل میرے ملاقاتیوں کی فہرست سے نام نکال دیتا ہے۔

    عمران خـان نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں بیٹھے میجر اور کرنل پر کیس کروں گا۔

    عمران خـان نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر ’احسن اقبال نے مجھے پانچ سال جیل میں رکھنے کا بیان دے کر عدلیہ کی توہین کی ہے۔ ایک سینیئر وزیر کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں۔

    جب صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ آپ نے بیرسٹر گوہر خان کے ساتھ ملاقات میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے حامی بھری پھر کیوں پیچھے ہٹ گئے تو ان کا جواب تھا کہ ’ہم نے پارٹی سطح پر مذاکرات کی حامی نہیں بھری اور ہم نے محمود خان اچکزئی کو ضرور کہا ہے وہ مذاکرات کریں۔‘

    صحافی نے پوچھا کہ محمود خان اچکزئی اگر آپ کی طرف سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کرتے ہیں کیا وہ مذاکرات آپ کو قبول ہوں گے؟ عمران خـان نے کہا کہ ’محمود خان اچکزئی جب کوئی آفر لے کر آئیں گے تو ہم اس پر سوچیں گے‘۔

    ’ن لیگ سے ہم کیا مذاکرات کریں گے، ان کی تو حکومت ہی ختم ہو جائے گی‘

    عمران خان نے کہا کہ ’ن لیگ سے ہم کیا مذاکرات کریں گے، ان کی تو حکومت ہی ختم ہو جائے گی۔‘ عمران خان نے مزید کہا کہ ’ن لیگ سے کیا موسم کی بات کریں۔ پوری قوم اس وقت عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔‘

    صحافی نے پوچھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ اگر کوئی نمائندہ مقرر کرے تو کیا مذاکرات کریں گے؟ عمران خان نے اس کے جواب میں کہا کہ ’مذاکرات پاکستان کے لیے کرنا چاہتا ہوں۔ پہلے بھی کہا ہے میرے پیچھے ہٹنے سے اگر ملک کا فائدہ ہوتا ہے تو مجھے مطمئن کریں، پیچھے ہٹ جاوں گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’علی امین گنڈا پور کے ساتھ حکومت نے معاہدہ کیا خود ہی توڑ دیا۔ معاہدے حکومت توڑ دے اور گالیاں علی امین کو پڑ رہی ہیں۔‘

    عمران خان نے کہا کہ 22، 22 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے، لوگ گرمی سے مر رہے ہیں۔ 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا کہہ کر وفاقی حکومت 22 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کررہی ہے۔‘

    ان کے مطابق ’میرے کمرے میں پنکھا بند ہو تو وہ اوون بن جاتا ہے۔‘ اس سوال پر کہ جن فیڈرز پر بجلی چوری ہورہی ہے کیا وہاں لوڈ شیڈنگ نہیں ہونی چاہیے عمران خان نے کہا کہ بجلی چوری تو سارے صوبوں میں ہورہی ہے امتیازی سلوک کے پی سے ہی کیوں ہو رہا ہے۔‘

  3. بلوچستان سے اغوا ہونے والے دس افراد کی شناخت ہو گئی، ’بازیابی کی کوششیں جاری‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے سیاحتی مقام زرغون غر سے اغوا ہونے والے دس افراد کی شناخت ہو گئی ہے۔

    کوئٹہ میں محکمہ داخلہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان میں سے دو افراد کا تعلق پنجاب سے ہے۔

    محکمہ داخلہ کے اہلکار نے بتایا کہ باقی چھ افراد بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ’سیٹلرز‘ ہیں جبکہ باقی دو افراد میں سے ایک بلوچ اور ایک پشتون ہیں۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ اغوا ہونے والوں محکمہ کسٹمز کا اہلکار بھی شامل ہے۔

    محکمہ داخلہ کے اہلکار نے بتایا کہ ان افراد کی بازیابی کے سلسلے میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں ان کی بازیابی کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

    کمشنر سبی ڈویژن بشیر احمد بنگلزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ تاحال انتظامیہ کے علم میں تاوان کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔

    مغوی افراد بدھ کے روز پکنک کی غرض سے کوئٹہ سے ہرنائی میں زرغون غرکے علاقے شعبان گئے تھے۔

    ان افراد کو نامعلوم مسلح افراد جمعرات کی صبح شناخت پیریڈ کے بعد اغوا کرکے نامعلوم مقام کی جانب لے گئے تھے۔

    سرکاری حکام کے مطابق اغوا کاروں نے راستے میں ایک پک اپ گاڑی کو بھی چھوڑ دیا تھا، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مغویوں کو مارگٹ کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں لے جایا گیا ہے۔

    ان افراد کے اغوا کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

  4. خیبر پختونخوا کے عوام کی فلاح کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن مدد فراہم کرے گی: وزیر اعظم کی گورنر کو یقین دہانی

    وزیراعظم شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات میں یہ یقین دہانی کرائی کہ ان کی حکومت خیبر پختونخوا کی ترقی اور صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن مدد اور وسائل فراہم کرے گی۔

    جمعے کو وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں صوبہ خیبر پختونخوا سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔

    اس ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ گورنر خیبرپختونخوا نے وفاقی بجٹ میں چشمہ لفٹ کینال کے لیے رقم مختص کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ منصوبہ خطہ کی تقدیر بدلنے کا سبب بنے گا۔

    انھوں نے وزیر اعظم سے سی پیک منصوبہ کی ڈیرہ اسماعیل خان یارک سے آگے توسیع، ڈیرہ اسماعیل خان میں نئے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کام کے آغاز اور چکدرہ چترال روڈ سمیت صوبے کے دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بھی گفتگو کی۔

    اعلامیے کے مطابق ملاقات میں ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی امور اور عوام کو درپیش دیگر مسائل پر بھی وزیراعظم سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

  5. وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی آج راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے کانفرنس روم میں ملاقات سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے۔

    اس ملاقات میں خیبر پختونخوا کے معاملات سمیت موجودہ حالات پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔

  6. عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین کیس کی سماعت دو جولائی تک ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت دو جولائی تک ملتوی ہو گئی۔

    آج کی سماعت کے دوران دو گواہان کے بیان قلمبند کیے گئے اور اس کے بعد دونوں گواہان پر جرح مکمل ہو گئی ہے۔ آئندہ سماعت پر مزید دو گواہان کو طلب کر لیا گیا ہے۔

    اڈیالہ جیل میں نیب کی خصوصی عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے کی۔

  7. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہری کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت، اسلام آباد ہائیکورٹ کا آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سیکٹر کمانڈرز کو دستخط شدہ رپورٹ جمع کرانے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہری کی بازیابی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سیکٹر کمانڈرز کو اپنے دستخط کے ساتھ رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہری خواجہ خورشید کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی۔

    دوران سماعت سرکاری وکیل نے کہا کہ خواجہ خورشید کے خلاف پولیس کے پاس کوئی مقدمہ درج نہیں ہے۔

    جسٹس محسن کیانی نے استفسار کیا کہ پولیس اور ایف آئی اے کی رپورٹ آ گئی، وزارت دفاع کی رپورٹ کہاں ہے؟ نمائندہ وزارت دفاع بے بتایا کہ ہمیں کل نوٹس موصول ہوا ہے، تھوڑا وقت دے دیں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سیکٹر کمانڈرز سے کہیں اپنے دستخط کے ساتھ رپورٹ جمع کرائیں، سیکریٹری دفاع کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ہو کیا رہا ہے، دونوں افسران کے دستخط کے ساتھ پیر کو رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

    جسٹس محسن کیانی نے نمائندہ وزارتِ دفاع سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دستخط کے ساتھ رپورٹ اس لیے لے رہے ہیں کہ اس کے نتائج ہوں گے۔

    نمائندہ وزارت دفاع نے عدالت سے استدعا کی کہ پیر تک کا وقت دے دیا جائے، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ سوموار کو خالد خورشید کو 21 دن ہو جائیں گے، کسی دہشتگردی یا ریاست مخالف سرگرمی میں شامل ہے تو اسکے خلاف کارروائی کریں، اگر اسکا کوئی مجرمانہ فعل ہے تو کارروائی کریں، کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔

    عدالت نے کیس کی سماعت 24 جون تک ملتوی کر دی۔

  8. عدت نکاح کیس کی سماعت: ’27 جون سے پہلے سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کرنا ہے، کوئی فریق نہ بھی آیا تو ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کر دوں گا‘جج افضل مجوکا کے ریمارکس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے دوران عدت نکاح کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت 25 جون تک ملتوی کردی گئی ہے جس میں جج افضل مجوکا نے ریمارکس میں کہا ہے کہ انھیں ہر صورت 27 جون سے پہلے سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کرنا ہے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کی۔

    عمران خان کے وکیل عثمان ریاض گل ایڈووکیٹ اور خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔

    خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ سماعت پر وکالت نامہ بھی جمع کروا دیں گے۔

    جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کی سماعت ملتوی نہیں ہوسکتی، 25 جون کو مرکزی اپیلوں پر سماعت ہے اور اس دن لازمی دلائل مکمل کرنے ہیں، آپ موکل سے رابطہ کرلیں اور پاور آف اٹارنی واٹس ایپ کے ذریعے منگوا لیں۔

    بعد ازاں جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل سے استفسار کیا کہ دو سوالوں کے جواب دے دیں، اس کیس میں سزا مختصر نہیں ہے ، اس لیے مختصر دورانیے کی سزا سے متعلق عدالت کی معاونت کریںم سپریم کورٹ کی دو ججمنٹس ہیں ان میں سے ایک آپ کے حق میں ہے اور ایک آپ کے خلاف تو آپ کس ججمنٹ کو فالو کریں گے۔

    اس پرعمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہماری مخالفت میں کوئی بھی ججمنٹ موجود نہیں ہے۔

    جج افضل مجوکا کا کہنا تھا کہ آپ کے خلاف ایک ججمنٹ موجود ہے ۔

    بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انھیں میں نے اڈیالہ جیل جانا ہے۔

    وکیل سلمان اکرم راجا نے اپنے دلائل جاری کرتے ہوئے بتایا کہ شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار میں دیا گیا فیصلہ فائنل اتھارٹی ہے۔ عدت کے 39 دن گزر گئے تو اس کے بعد میں ہم نہیں جھانکیں گے۔ عدالت نے اس بنیاد پر مقدمہ خارج کردیا تھا کہ عدت کے 39 دن گزر گئے۔

    وکیل عمران خان کے مطابق عون چوہدری شکایات کے کرتا دھرتا ہیں، عون چوہدری کو بدلے میں استحکام نامی پارٹی کے ٹکٹ سے نوازا گیا۔

    جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ 27 جون سے پہلے سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کرنا ہے۔ کوئی فریق اگر نہ بھی آیا تو ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کر دوں گا۔ ابھی 25 جون کے لیے کیس رکھ رہا ہوں۔

    عدالت نے سزا معطلی کی اپیل پر سماعت 25 جون تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ 14 جون کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت دوران عدت نکاح کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے سزا معطلی اور جلد سماعت کی اپیلوں پر سماعت 21 جون تک ملتوی کردی گئی تھی۔

    اس دوران جج افضل مجوکا نے ریمارکس میں کہا تھا کہ اگر میں زندہ رہا تو 10 دن میں فیصلہ کروں گا۔

  9. بریکنگ, پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس بڑھ کر 80 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور انڈیکس میں کاروبار کے دوران 1250 پوائنٹس کا اضافہ سامنے آیا ہے جس کے بعد انڈیکس پہلی بار 79000 پوائنٹس کی سطح عبور کرنے کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار 80000 پوائنٹس کی سطح بھی عبور کر گیا۔

    کاروبار کے دوران انڈیکس ایک بار 80059 پوائنٹس کی سطح تک چلا گیا ہے جو ملکی تاریخ میں انڈیکس کی بلند ترین سطح ہے۔

    سٹاک مارکیٹ میں بجٹ کے بعد تیزی کا رجحان جاری ہے اور اب تک تین کاروباری دنوں میں انڈیکس میں چھ ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔

    سٹاک ایکسچینج کا انڈیکس اس وقت 79907 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیکس میں تیزی کی وجہ بجٹ میں اٹھائے جانے والے اقدامات ہیں اور بجٹ کے بعد آئی ایم ایف کے ساتھ ایک بڑے قرض پروگرام کے لیے راہ ہموار ہونے کے امکانات ہیں۔

    تجزیہ کار خرم شہزاد کے مطابق بجٹ کے بعد اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک بڑے قرض پروگرام کے لیے معاملات طے پا جائیں گے۔

    انھوں نے کہا اس امکان کی وجہ سے سٹاک ایکسچینج میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں موڈیز اور فچ کی جانب سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پروگرام کے لیے مثبت پیش گوئی کی گئی ہے کیونکہ بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہے جس نے مارکیٹ میں مثبت رجحان کو فروغ دیا۔

    انھوں نے کہا اسی طرح رئیل سٹیٹ کے شعبے پر بجٹ میں ٹیکس لگائے جانے کے بعد اس شعبے سے بھی سٹاک ایکسچینج کی جانب سرمائے کی منتقلی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں تیزی ہے۔

  10. بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے سیاحتی مقام زرغون غر سے دس افراد کو اغوا کرلیا گیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    کوئٹہ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ضلع ہرنائی کے سیاحتی مقام زرغون غر سے دس افراد کو جمعرات کے روز اغوا کرلیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ مغوی افراد پکنک منانے کے لیے زرغون غر کے مقام پر گئے تھے۔

    کمشنر سبّی ڈویژن بشیر احمد بنگلزئی نے بتایا کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    کوئٹہ میں انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ مغوی افراد گزشتہ روز پکنک کی غرض سے ہرنائی میں زرغون غر کے علاقے شعبان گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے جمعرات کو علی الصبح انھیں اغوا کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے مختلف مقامات سے لوگوں کے شناختی کارڈز کو دیکھنے کے بعد ان 10افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔

    ایسی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ مغویوں میں محکمہ کسٹمز کا ایک اہلکار بھی شامل ہے تاہم انتطامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ تاحال ان افراد کی شناخت کے حوالے سے کوئی مصدقہ بات سامنے نہیں آئی ہے۔

    ضلع ہرنائی انتظامی لحاظ سے بلوچستان کے سبّی ڈویژن کا حصہ ہے۔

    جب ان افراد کے اغوا کے حوالے سے کمشنر سبّی ڈویژن بشیر احمد بنگلزئی سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا ان افراد کو مختلف مقامات سے اٹھایا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ اغوا کاروں نے راستے میں ایک پک اپ گاڑی کو بھی چھوڑ دیا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مغویوں کو مارگٹ کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں لے جایا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ تاحال مغویوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔

    ان افراد کو اغوا کرنے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

    ہرنائی ضلع کوئٹہ سے متصل بلوچستان کا ضلع ہے اور یہ کوئٹہ شہر کے مشرق میں واقع ہے۔ ہرنائی اور اس سے متصل دیگر علاقے دشوار گزار پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہیں جہاں بڑے پیمانے پر کوئلے کے ذخائر ہیں۔

    ہرنائی کی آبادی کی اکثریت مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے تاہم اس میں مختلف بلوچ قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد بھی آباد ہیں۔ بلوچستان کے بعض دیگر علاقوں کی طرح ہرنائی کے بعض علاقے بھی شورش سے متاثر ہیں۔ اغوا کے واقعات کے علاوہ ہرنائی میں سیکورٹی فورسز پر حملوں اور بدامنی کے دیگر واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں۔

    تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے قیام امن کے لیے اقدامات کے باعث ماضی کے مقابلے میں ہرنائی میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

  11. پیپلزپارٹی کا مسلم لیگ ن سے اتحاد مجبوری تھی: گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر

    حسن ابدال میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب سرداد سلیم حیدر کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی کا مسلم لیگ ن سے اتحاد وقت کی مجبوری تھی۔ مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی کے بغیر حکومت نہیں بنا سکتی تھی اگر پیپلز پارٹی اتحاد نہ کرتی تو دوبارہ الیکشن ہوتا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’عوام کے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور بعد میں کوئی جماعت انتخابات تسلیم نہیں کرتی۔ حسن ابدال کے اکابرین کی پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت پر مبارکباد اور خوش آمدید کہتا ہوں۔ آپ اب تک غلط لوگوں کے ساتھ کھڑے تھے، اب آپ کو فرق نظر آئے گا۔‘

    گورنر پنجاب سرداد سلیم حیدر کا کہنا تھا کہ ’اٹک کا گورنر ہونا، پورے اٹک کے لیے فخر کا باعث ہے۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ملکی مفاد کے خاطر فیصلے کئے۔ اگر ملک نہیں ہوگا، تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ کوئی سیاسی جماعت اور عہدے پاکستان سے بڑھ کر نہیں ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عنقریب پاکستان معاشی طاقت بن کر ابھرے گا۔ اتحادی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی خدمت کرے۔ ملکی مفاد کے لیے ہم سب کچھ قربان کرسکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں حالات میں بہتری آ رہی ہے اگر کسی بھی سرکاری افسر یا اہلکار کی جانب سے عوام کو تکلیف دی گئی تو سختی سے نمٹا جائے گا۔‘

  12. سیاسی مذاکرات سے بلوچستان میں خوشحالی، ترقی اور امن آئے گا: صدرِ آصف علی زرداری

    صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں انسدادِ دہشت گردی کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد ِکار میں اضافہ ضروری ہے۔

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یہ بات بلوچستان میں سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال سے متعلق گوادر میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران کہی۔

    صدرِ پاکستان کی زیرِ صدارت بلوچستان میں ہونے والے اس اجلاس میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے علاوہ ایم این اے ملک شاہ گورگیج، وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

    صدرِ پاکستان کا اجلاس میں کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد ِکار بڑھانے کے ساتھ ساتھ صوبے میں قابل پولیس افسران تعینات کرنا ہوں گے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کا مؤثر مقابلہ کرنے کیلئے استغاثہ کا طریقہ کار بہتر بنانا ہوگا۔‘

    گوادر میں ہونے والے اس اجلاس کے دوران صدرِ مملکت کو صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کا کامیابی سے مقابلہ کرنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کے بارے میں بھی بتایا گیا۔

    بریفنگ میں صدرِ مملکت کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت چینی اور غیر ملکی شہریوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔

    صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ ’صوبے میں زائرین کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کو ہنر سکھانے کی بھی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں ماہی گیری کے پائیدار طریقے فروغ دینا ہوں گے تاہم غیر قانونی ماہی گیری کو روکنا ضروری ہے۔‘

    صدرِ پاکستان کا اجلاس کے دوران کہنا تھا کہ سیاسی مذاکرات سے بلوچستان میں خوشحالی، ترقی اور امن آئے گا۔

  13. الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کے خلاف الیکشن کمیشن کی استدعا مسترد،سپریم کورٹ نے معاملہ تین رکنی کمیٹی کو بھجوا دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کے خلاف الیکشن کمیشن کی استدعا مسترد کرتے ہوئے لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ تین رکنی کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ اگر آرڈیننس سے کام چلانا ہے تو پارلیمان کو بند کر دیں، آرڈیننس لانا پارلیمان کی توہین ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس نعیم اختر نے الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت کی۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر چیف جسٹس شہزاد ملک نے 12 جون کو آٹھ ٹربیونلز کی تشکیل کے احکامات جاری کیے تھے جبکہ 14 جون کو ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کا الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر اور پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجا عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    عدالت میں الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل میں کہا کہ 14 فروری کو الیکشن کمیشن نے ٹریبونلز کی تشکیل کے لیے تمام ہائیکورٹس کو خطوط لکھےاور ججز کے ناموں کی فہرستیں مانگی گئیں، خطوط میں ججز کے ناموں کے پینلز مانگے گئے، لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے 20 فروری کو 2 ججز کے نام دیے گئے، دونوں ججز کو الیکشن ٹربیونلز کے لیے نوٹیفائی کردیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ 26 اپریل کو مزید دو ججز کو بطور الیکشن ٹربیونلز تشکیل دیے گئے۔

    دوران سماعت ہائی کورٹ کے لیے قابل احترام کا لفظ کہنے پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ کو قابل احترام کہہ رہے ہیں، یہ ججز کے لیے کہا جاتا ہے۔ یہاں پارلیمنٹیرین ایک دوسرے کو احترام نہیں دیتے، ایک دوسرے سے گالم گلوچ ہوتی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ احترام ہو، الیکشن کمیشن کو قابل احترام کیوں نہیں کہتے؟ کیا الیکشن کمیشن قابل احترام نہیں؟

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چار ٹربیونلز کی تشکیل تک کوئی تنازع نہیں ہوا، جسٹس قاضی فائز عیسی نے دریافت کیا کہ کیا چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس ایک دوسرے سے ملاقات نہیں کرسکتے؟ کیا پاکستان میں ہر چیز کو متنازع بنانا لازم ہے؟ انتخابات کی تاریخ پر بھی صدر مملکت اور الیکشن کمیشن میں تنازع تھا، رجسڑار ہائی کورٹ کی جانب سے خط کیوں لکھے جا رہے ہیں؟

    جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تمام ہائی کورٹس کو خطوط لکھے، تنازع نہیں ہوا، لاہور ہائی کورٹ کے علاوہ کہیں تنازع نہیں ہوا، بلوچستان ہائی کورٹ میں تو ٹربیونلز کی کارروائی مکمل ہونے کو ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ کوئی انا کا مسئلہ ہے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ سمجھ نہیں آیا الیکشن کمیشن نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے بات کیوں نہیں کی؟ آئین میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ کسی جج سے ملاقات نہیں کرسکتے، ملاقات کرنے میں انا کی کیا بات ہے؟ دونوں ہی آئینی ادارے ہیں، الیکشن کمیشن متنازع ہی کیوں ہوتا ہے؟ آپ لوگ الیکشن کروانے میں ناکام رہے۔

    قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کی جانب سے جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوالات اٹھا دیے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر آرڈیننس سے کام چلانا ہے تو پارلیمان کو بند کر دیں ،آرڈیننس لانا پارلیمان کی توہین ہے، آئین بالکل واضح ہے الیکشن ٹربیونلز کا اختیار الیکشن کمیشن کو حاصل ہے، آرٹیکل 219 سیکشن سی نے بالکل واضح کر دیا ہے، ہم نے آئین و قانون کے تحت حلف اٹھا رکھا ہے، عدالتی فیصلوں پر حلف نہیں لیا۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ آرڈیننس کا دفاع نہیں کررہا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیسز کی ذمہ داری میری ہے، چیف جسٹس نے کہا وکیل سے مکالمہ کیا کہ اپنی کمزوری کو وجہ نہ بنائیں، وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ میں نے آخری بار سنا تھا تو لاہور ہائی کورٹ میں شاید 62 ججز تھے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے ٹربیونلز تشکیل سے متعلق صدارتی آرڈیننس پر ریمارکس دیے کہ ریٹائرڈ ججزکا قانون کب بنایا گیا؟ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تبدیلی کیسے کی جاسکتی ہے؟ ایک طرف پارلیمان نے قانون بنایا ہے، پارلیمان کے قانون کے بعد آرڈیننس کیسے لایا جاسکتا ہے؟ آرڈیننس لانے کی کیا وجہ تھی ؟ کیا ایمرجنسی تھی ؟ الیکشن ایکٹ توپارلیمان کی خواہش تھی، یہ آرڈیننس کس کی خواہش تھی؟

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پارلیمان کی وقعت زیادہ ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس آرڈیننس کے ذریعے ہائی کورٹ کے فیصلے کی نفی کی گئی ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ کیا آپ کو ہائی کورٹ کے کچھ ججز پر تحفظات ہیں؟ لاہور ہائی کورٹ کے حوالے سے ایسے ریمارکس کو ہم تسلیم نہیں کریں گے،پارلیمان کے قانون کے بعد آرڈیننس کدھر سے آگیا؟ کوئی ایمر جنسی ہوتی تو سمجھ میں آتا ہے، یہ بھی تو الیکشن میں مداخلت ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سلمان اکرم راجا سے استفسار کیا کہ کیا آرڈیننس کو چیلنج نہیں کیا؟

    سلمان اکرم راجا نے کہا کہ آرڈیننس کو لاہور، اسلام آباد ہائی کورٹس میں چیلنج کیا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ مختلف ہائی کورٹس کیوں؟ آرڈیننس تو پورے ملک میں لگے گا۔

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے نو امیدواروں کو فریق بنانے کی استدعا منظور کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے مشاورت کے لیے روک نہیں رہے،ممکنہ طور پر پیر کے روز چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بطور جج سپریم کورٹ حلف لیا جائے گا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں شامل دو ججز اس وقت کراچی اور لاہور رجسٹری میں ہیں، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس آئندہ ہفتے ہی ہوگا۔

  14. بریکنگ, پاکستان سٹاک ایکسچینج کا انڈیکس پہلی بار 78000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور انڈیکس میں اب تک 1501 پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    اس اضافے کے بعد انڈیکس پہلی بار 78000 پوائنٹس کی سطح عبور کر کے 78200 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔

    سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان عید سے قبل بھی جاری تھا جب گزشتہ ہفتے وفاقی بجٹ کے پیش ہونے کے بعد سٹاک ایکسچینج میں تیزی کے رجحان پیدا ہوا تھا۔

    عید کی چھٹیوں کے بعد پہلے کاروباری سیشن میں بھی تیزی کا تسلسل جاری رہا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں تیزی کی وجہ بجٹ میں لیے جانے والے اقدامات ہیں۔

    تجزیہ کار سمیع اللہ طارق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی سب سے بڑی وجہ حکومت کی جانب سے بجٹ میں دوسرے شعبوں پر لگایا جانے والا ٹیکس ہے جس میں خاص طور پر رئیل سٹیٹ کے شعبے میں لگایا جانے والا ٹیکس ہے اور سرمائے کا اس شعبے سے سٹاک ایکسچینج کی طرف آنے کا امکان ہے۔

    ان کے مطابق ’اب لگتا ہے کہ اس کے کچھ حصے کے آنا شروع کر دیا ہے کیونکہ سٹاک ایکسچینج پر کیپیٹل گین ٹیکس میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اس وقت سٹاک ایکسچینج سرمایہ کاری کے لیے سب سے زیادہ پر کشش ذریعہ بن چکا ہے۔‘

  15. حالیہ دورہ چین سے دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے: احسن اقبال

    منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ چین سی پیک کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد اس کا بلند معیار بڑھانے کے لیے تیار ہے ۔

    بدھ کی شام لاہور میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف کے چین کے حالیہ دورے سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ چین کے اشتراک سے پاکستان کی طرف سے ایم ایم ون سٹیلائٹ کو خلا میں بھیجنا ایک اہم سنگ میل ہے ۔

    احسن اقبال نے کہا کہ امن وامان کی صورتحال ، استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور اصلاحاتی ایجنڈا کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ کسی کو بھی ملک کی ترقی وخوشحالی کے سفر میں رکاوٹ ڈالنے نہیں دی جائے گی۔

  16. پنجاب میں صفائی کے عملے کو ایک ماہ کی تنخواہ بطور انعام دینے کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صفائی عملے کو ایک ماہ کی تنخواہ بطور انعام دینے کا اعلان کردیا ہے۔

    مریم نواز نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’آپ نے مثالی خدمت کرکے ستھرا پنجاب کی نئی تاریخ رقم کی۔ شدید گرمی میں عوام کی خدمت قابل تعریف اور قابل فخر ہے۔‘

    وزیر اعلیٰ نے میونسپل اداروں، ویسٹ منیجمنٹ کمپنیوں کے افسران اور عملے کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ منتخب نمائندوں، میڈیا اور عوام کا بھی شکریہ جنھوں نے اداروں کا ساتھ دے کر صفائی مہم کو کامیاب بنایا۔

  17. وزیر اعظم کا متحدہ عرب امارات کے صدر کو فون، شیخ محمد بن زید النہیان نے دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرلی

    متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے وزیراعظم شہباز شریف کی پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت قبول کرتے ہوئے جلد پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو ایک پائیدار اور باہمی طور پر فائدہ مند سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا ہے جس کا محور تجارت اور سرمایہ کاری ہوگا۔

    شہباز شریف نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کوعید الاضحیٰ کے پرمسرت موقع پر مبارکباد پیش کی، گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے عوام کی مسلسل ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کی پاکستان کیلئے مسلسل حمایت کے لیے صدر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا اور متحدہ عرب امارات کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

    وزیراعظم آفس کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے عید الاضحی ٰکے موقع پر ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کیا۔

    دونوں ممالک کے درمیان متواتر اعلیٰ سطحی تبادلوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے صدر متحدہ عرب امارات کو جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی جسے شیخ محمد بن زیدالنہیان نےقبول کرتے ہوئے جلد پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

    دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور قریبی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی اپنی مشترکہ خواہش کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

  18. قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آج سے بجٹ پر بحث کا آغاز ہو گا

    قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس آج سے دوبارہ شروع ہو رہے ہیں جس میں رواں مالی سال کے لیے بجٹ پر بحث کی جائے گی۔

    قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کی تقریر سے بجٹ پر بحث کا آغاز ہو گا جبکہ ایوان بالا میں بجٹ پر بحث اور سفارشات کی تیاری کا کام جاری رہے گا۔

    یاد رہے کہ 12 جون کو مالی سال 2024-25 کا بجٹ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب رمدے نے پیش کیا تھا اور اس دوران حزب اختلاف کی جانب سے مسلسل ہنگامہ آرائی جاری رہی تھی۔

    عید الاضحی کی چھٹیوں کے بعد جمعرات سے شروع ہونے والے موجودہ اجلاس میں فنانس بل منظوری کے لیے پیش ہو گا۔

    یاد رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 25-2024 کے لیے 6.9 فیصد خسارے کا بجٹ پیش کیا تھا۔

    انھوں نے بجٹ تقریر کے دوران قومی اسمبلی میں بتایا تھا کہ کہ اگلے مالی سال میں دفاعی اخراجات کے لیے 2112 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جب کہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 1400 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔

  19. خیبرپختونخوا میں بجلی کا بحران: وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی محسن نقوی کو گرڈ سٹیشنز کی حفاظت کی یقین دہانی

    خیبرپختونخوا میں 12 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے معاملے پر وفاق اور صوبے میں آئندہ دو روز کے دوران بات چیت پر اتفاق ہو گیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو گرڈ سٹیشنز کی حفاظت کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے لوڈشیڈنگ پر وزیر داخلہ محسن نقوی کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، محسن نقوی نے کہا کہ پوری کوشش ہے خیبر پختونخوا میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ جلد حل ہو، تاہم تمام وفاقی تنصیبات کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

    اس موقع پر علی امین گنڈا پور نے گرڈ سٹیشنوں کے تحفظ کی یقین دہانی کروائی۔

    واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا معاملہ سنگین ہو گیا ہے، گذشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور ڈیرہ اسمعیل خان کے گرڈ سٹیشن پہنچ گئے تھے اور لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول جاری کردیا تھا۔

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا تھا کہ اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ والے علاقوں کی بارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کر دی گئی ہے، انھوں نے آرڈر جاری کرتے ہوئے کہا میں جانوں اور شہباز شریف جانے تم نے گرڈ سٹیشن سے 12 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کرنی ہے۔

  20. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!یہاں آپ کے لیے پاکستان کی سیاسی، سماجی ، معاشی اور اقتصادی خبروں سمیت تمام اہم معاملات سے متعلق تفصیلات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    19 جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔